Safeena e Nijaat

Safeena e Nijaat Zikr. E. Mola Hussain. A. S This page is being admined by a student. Thank You !

who wants to learn , teach , share and explore his religion (i.e Islam)
you people can also take part with us , by sharing info in our messenger .

دعائے عہدامام آخر الزمانؑ کی زیاراتدعائے عہدامام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص چالیس روز تک ہر صبح اس دعائے عہد کو ...
29/12/2025

دعائے عہد
امام آخر الزمانؑ کی زیارات
دعائے عہد
امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص چالیس روز تک ہر صبح اس دعائے عہد کو پڑھے تو وہ امام ﴿عج﴾ کے مددگاروں میں سے ہو گا۔ اور اگر وہ امامؑ کے ظہور سے پہلے فوت ہو جائے تو خداوند کریم اسے قبر سے اٹھائے گا تاکہ وہ امام کے ہمراہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ اس دعا کے ہر لفظ کے عوض اسے ایک ہزار نیکیاں عطا کرے گا اور اس کے ایک ہزار گناہ محو کر دے گا۔ وہ دعائے عہد یہ ہے:

اَللّٰھُمَّ رَبَّ النُّوْرِ الْعَظِیْمِ
اے معبود اے عظیم نور کے پرودگار
وَرَبَّ الْكُرْسِیِّ الرَّفِیْعِ
اے بلند کرسی کے پرودگار
وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ
اے موجیں مارتے سمندر کے پرودگار
وَمُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالزَّبُوْرِ
اور اے توریت اور انجیل اور زبور کے نازل کرنے والے
وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُوْرِ
اور اے سایہ اور دھوپ کے پرودگار
وَمُنْزِلَ الْقُرْاٰنِ الْعَظِیْمِ
اے قرآن عظیم کے نازل کرنے والے
وَرَبَّ الْمَلَائِكَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَالْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ۔
اے مقرب فرشتوں اور فرستادہ نبیوں اور رسولوں کے پروردگار
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ٲَسْٲَلُكَ بِوَجْھِكَ الْكَرِیْمِ
اے معبود بے شک میں سوال کرتا ہوں تیری ذات کریم کے واسطے سے
وَبِنُوْرِ وَجْھِكَ الْمُنِیْرِ وَمُلْكِكَ الْقَدِیْمِ
تیری روشن ذات کے نور کے واسطے سے اور تیری قدیم بادشاہی کے واسطے سے
یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ، ٲَسْٲَلُكَ بِاسْمِكَ
اے زندہ اے پائندہ تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے
الَّذِیْ ٲَشْرَقَتْ بِہِ السَّمٰوَاتُ وَالْاَرَضُوْنَ
جس سے چمک رہے ہیں سارے آسمان اور ساری زمینیں
وَبِاسْمِكَ الَّذِیْ یَصْلَحُ بِہِ الْاَوَّلُوْنَ وَالْاٰخِرُوْنَ
تیرے نام کے واسطے سے جس سے اولین وآخرین نے بھلائی پائی
یَا حَیًّا قَبْلَ كُلِّ حَیٍّ، وَیَا حَیًّا بَعْدَ كُلِّ حَیٍّ
اے زندہ ہر زندہ سے پہلے اور اے زندہ ہر زندہ کے بعد
وَیَا حَیًّا حِیْنَ لَا حَیَّ
اور اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا
یَا مُحْیِیَ الْمَوْتٰی وَمُمِیْتَ الْاَحْیَاءِ
اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے زندوں کو موت دینے والے
یَا حَیُّ لَا اِلٰہَ اِلَّا ٲَنْتَ۔
اے وہ زندہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
اَللّٰھُمَّ بَلِّغْ مَوْلَانَا الْاِمَامَ الْہَادِیَ الْمَھْدِیَّ
اے معبود، پہنچا دے ہمارے مولا امام ہادی مہدیؑ کو
الْقَائِمَ بِٲَمْرِكَ صَلَوَاتُ ﷲِ عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰبَائِہِ الطَّاھِرِیْنَ
جو تیرے حکم سے قائم ہیں، ان پر اور ان کے پاک بزرگان پر خدا کی رحمتیں ہوں
عَنْ جَمِیْعِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ
اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی طرف سے
فِیْ مَشَارِقِ الْاَرْضِ وَمَغَارِبِہَا
جو زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں ہیں
سَھْلِہَا وَجَبَلِہَا وَبَرِّہَا وَبَحْرِہَا
میدانوں اور پہاڑوں اور خشکیوں اور سمندروں میں
وَعَنِّیْ وَعَنْ وَالِدَیَّ مِنَ الصَّلَوَاتِ
میری طرف سے میرے والدین کی طرف سے بہت درود پہنچا دے
زِنَۃَ عَرْشِ ﷲِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِہٖ
جو ہم وزن ہو عرش اور اس کے کلمات کی روشنائی کے
وَمَا ٲَحْصَاھُ عِلْمُہٗ وَٲَحَاطَ بِہٖ كِتَابُہٗ۔
اور جو چیزیں اس کے علم میں ہیں اور اس کی کتاب میں درج ہیں
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ٲُجَدِّدُ لَہٗ فِیْ صَبِیْحَۃِ یَوْمِیْ ہٰذَا
اے معبود میں تازہ کرتا ہوں ان کے لیے آج کے دن کی صبح کو
وَمَا عِشْتُ مِنْ ٲَیَّامِیْ
اور جب تک زندہ ہوں
عَھْدًا وَعَقْدًا وَبَیْعَۃً لَہٗ فِیْ عُنُقِیْ
باقی ہے یہ پیمان یہ بندھن اور ان کی بیعت جو میری گردن پر ہے
لَا ٲَحُوْلُ عَنْہَا وَلَا ٲَزُوْلُ ٲَبَدًا
نہ اس سے مکروں گا نہ کبھی ترک کروں گا
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنْ ٲَنْصَارِھٖ
اے معبود مجھے قرار دے ان کے مددگاروں،
وَٲَعْوَانِہٖ وَالذَّابِّیْنَ عَنْہُ
ان کے ساتھیوں اور ان کا دفاع کرنے والوں میں،
وَالْمُسَارِعِیْنَ اِلَیْہِ فِیْ قَضَاءِ حَوَائِجِہٖ
مجھے حاجت برآری کیلئے ان کی طرف بڑھنے والوں ،
وَالْمُمْتَثِلِیْنَ لِاَوَامِرِھٖ، وَالْمُحَامِیْنَ عَنْہُ
ان کے احکام پر عمل کرنے والوں، ان کی طرف سے دعوت دینے والوں
وَالسَّابِقِیْنَ اِلٰی اِرَادَتِہٖ
ان کے ارادوں کو جلد پورے کرنے والوں
وَالْمُسْتَشْھَدِیْنَ بَیْنَ یَدَیْہِ۔
اور ان کے سامنے شہید ہونے والوں میں قرار دے۔
اَللّٰھُمَّ اِنْ حَالَ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ الْمَوْتُ
اے معبود اگر میرے اور میرے امامؑ کے درمیان موت حائل ہو جائے
الَّذِیْ جَعَلْتَہٗ عَلٰی عِبَادِكَ حَتْمًا مَقْضِیًّا
جو تو نے اپنے بندوں کے لیے آمادہ کر رکھی ہے
فَٲَخْرِجْنِیْ مِنْ قَبْرِیْ مُؤْتَزِرًا كَفَنِیْ
تو پھر مجھے قبر سے اس طرح نکالنا کہ کفن میرا لباس ہ
شَاھِرًا سَیْفِیْ، مُجَرِّدًا قَنَاتِیْ
و میری تلوار بے نیام ہو، میرا نیزہ بلند ہو
مُلَبِّیًا دَعْوَۃَ الدَّاعِیْ فِی الْحَاضِرِ وَالْبَادِیْ
داعئ حق کی دعوت پر لبیک کہوں شہر اور گاؤں میں
اَللّٰھُمَّ ٲَرِنِی الطَّلْعَۃَ الرَّشِیْدَۃَ، وَالْغُرَّۃَ الْحَمِیْدَۃَ
اے معبود مجھے حضرت کا رخ زیبا، آپ کی درخشاں پیشانی دکھا
وَاكْحُلْ نَاظِرِیْ بِنَظْرَۃٍ مِنِّیْ اِلَیْہِ
ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ بنا
وَعَجِّلْ فَرَجَہٗ، وَسَہِّلْ مَخْرَجَہٗ
ان کی کشائش میں جلدی فرما، ان کے ظہور کو آسان بنا
وَٲَوْسِعْ مَنْھَجَہٗ، وَاسْلُكْ بِیْ مَحَجَّتَہٗ
ان کا راستہ وسیع کر دے اور مجھ کو ان کی راہ پر چلا
وَٲَنْفِذْ ٲَمْرَھٗ، وَاشْدُدْ ٲَزْرَھٗ۔
ان کا حکم جاری فرما ان کی قوت کو بڑھا۔
وَاعْمُرِ اللّٰھُمَّ بِہٖ بِلَادَكَ، وَٲَحْیِ بِہٖ عِبَادَكَ
اور اے معبود ان کے ذریعے اپنے شہر آباد کر اور اپنے بندوں کو عزت کی زندگی دے
فَاِنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ
کیونکہ تو نے فرمایا اور تیرا قول حق ہے کہ
ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ ٲَیْدِی النَّاسِ
ظاہر ہوا فساد خشکی اور سمندر میں یہ نتیجہ ہے لوگوں کے غلط اعمال و افعال کا
فَٲَظْھِرِ اللّٰھُمَّ لَنَا وَلِیَّكَ وَابْنَ بِنْتِ نَبِیِّكَ
پس اے معبود! ظہور کر ہمارے لیے اپنے ولیؑ اور اپنے نبیؐ کی دخترؑ کے فرزند کا
الْمُسَمّٰی بِاسْمِ رَسُوْلِكَ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
جن کا نام تیرے رسول کے نام پر ہے
حَتّٰی لَا یَظْفَرَ بِشَیْءٍ مِنَ الْبَاطِلِ اِلَّا مَزَّقَہٗ
یہاں تک کہ وہ باطل کا نام و نشان مٹا ڈالیں
وَیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُحَقِّقَہٗ۔
حق کو حق کہیں اور اسے قائم کریں
وَاجْعَلْہُ اللّٰھُمَّ مَفْزَعًا لِمَظْلُوْمِ عِبَادِكَ
اے معبود قرار دے ان کو اپنے مظلوم بندوں کیلئے جائے پناہ
وَنَاصِرًا لِمَنْ لَا یَجِدُ لَہٗ نَاصِرًا غَیْرَكَ
اور ان کے مددگار جن کا تیرے سوا کوئی مددگار نہیں
وَمُجَدِّدًا لِمَا عُطِّلَ مِنْ ٲَحْكَامِ كِتَابِكَ
بنا ان کو اپنی کتاب کے ان احکام کے زندہ کرنے والے جو بھلا دیئے گئے
وَمُشَیِّدًا لِمَا وَرَدَ مِنْ ٲَعْلَامِ دِیْنِكَ
ان کو اپنے دین کے خاص احکام کو راسخ کرنے والے بنا
وَسُنَنِ نَبِیِّكَ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
اور اپنے نبیؐ کے طریقوں کو، ان پر اور ان کی آلؑ پر خدا کی رحمت ہو
وَاجْعَلْہُ اللّٰھُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَہٗ مِنْ بَٲْسِ الْمُعْتَدِیْنَ۔
اور اے معبود انہیں ان لوگوں میں رکھ جن کو تو نے ظالموں کے حملے سے بچایا
اَللّٰھُمَّ وَسُرَّ نَبِیَّكَ مُحَمَّدًا صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ بِرُؤْیَتِہٖ
اے معبود خوشنود کر اپنے نبی محمدؐ کو ان کے دیدار سے
وَمَنْ تَبِعَہٗ عَلٰی دَعْوَتِہٖ
اور جنہوں نے ان کی دعوت میں ان کا ساتھ دیا
وَارْحَمِ اسْتِكَانَتَنَا بَعْدَھٗ۔
اور ان کے بعد ہماری حالت زار پر رحم فرما
اللّٰھُمَّ اكْشِفْ ہٰذِھِ الْغُمَّۃَ عَنْ ہٰذِھِ الْأُمَّۃِ بِحُضُوْرِھٖ
اے معبود ان کے ظہور سے امت کی اس مشکل اور مصیبت کو دور کر دے
وَعَجِّلْ لَنَا ظُھُوْرَھٗ
اور ہمارے لیے جلد ان کا ظہور فرما
اِنَّھُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا وَنَرَاھُ قَرِیْبًا
کہ لوگ ان کو دور اور ہم انہیں نزدیک سمجھتے ہیں
بِرَحْمَتِكَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
پھر تین بار دائیں ران پر ہاتھ مارے اور ہر بار کہے:

الْعَجَلَ الْعَجَلَ یَامَوْلَایَ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ۔
جلد آئیے جلد آئیے اے میرے آقا اے زمانہ حاضر کے امامؑ

30/09/2025

پیامِ محمدؐ کا عنوان بن ...!
نہ شیعہ نہ سنی مسلمان بن

ابھی صرف قاری کی حد میں ہے تو
کبھی بے کراں ہو کے قرآن بن

التماس سورہ فاتحہ برائے جناب صہبا اختر
مرحوم
(( 30 ستمبر 1931ء جموں --- 19 فروری 1996ء کراچی ))


#قیصرعابدی
#ستمبر30
#صہبااختر

20/09/2025
01/09/2025

رہتا مِرے گھر ماہِ منور . . .کوئی دن اور
جنت سا سجا رہتا مرا گھر کوئی دن اور

مصروف یونہی گریے میں رہتیں مِری آنکھیں
بہتا مری آنکھوں سے یہ کوثر کوئی دن اور

ہر سمت سے آتیں یونہی نوحے کی صدائیں
دل کرتا یونہی ماتمِ سرورؑ . . . کوئی دن اور

مجھ کو غمِ دنیا سے بچائے ہوئے رکھتا . . .!
اے کاش میں رہتا یونہی مضطر کوئی دن اور

یہ فرشِ عزا یونہی بچھا رہتا تو رہتیں
مہمان مری بنتِ پیمبرؑ . . . کوئی دن اور

سانسوں میں بسا لیجے عزا خانے کی خوشبو
رکھیے یونہی سانسوں کو معطر کوئی دن اور

اب اگلے برس کون کہاں ہو گا عزیزو . !
آنکھوں میں بسالیجے یہ منظر کوئی دن اور

(( جناب عقیلؔ عباس جعفری ))


#عقیلؔ_عباس_جعفری



امام محمد باقرؑ کا فرمان...اے جابر! یہ کافی نہیں کہ کوئی شخص کہے؛ میں شیعہ ہوں اور مجھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسل...
03/06/2025

امام محمد باقرؑ کا فرمان...

اے جابر! یہ کافی نہیں کہ کوئی شخص کہے؛ میں شیعہ ہوں اور مجھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت اور ائمہ سے محبت ہے۔

اللہ کی قسم، شیعہ وہ ہے جو مکمل پرہیزگار ہو اور اللہ کے احکامات کا فرمانبردار ہو۔

اس کے علاوہ کوئی بھی شیعہ نہیں، چاہے وہ کتنا ہی کہے کہ اسے امام علی علیہ السلام سے محبت ہے اور خود کو کچھ بھی کہے۔

اے جابر! ہمارے شیعہ ان نشانیوں سے پہچانے جاتے ہیں:

وہ سچے، امانت دار اور وفادار ہوتے ہیں؛

وہ ہمیشہ اللہ کو یاد کرتے ہیں؛

وہ اپنی نمازیں ادا کرتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں؛

وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں؛

وہ اپنے پڑوسیوں کی مدد کرتے ہیں، یتیموں کا خیال رکھتے ہیں، اور لوگوں کے بارے میں اچھی بات کے سوا کچھ نہیں کہتے؛

وہ لوگوں کے بھروسے اور اعتماد کے لائق ہوتے ہیں۔

جابر توجہ سے سن رہے تھے۔

جب امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنی بات مکمل کی تو جابر نے کہا: "اے فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، مسلمانوں میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جن میں یہ خوبیاں پائی جاتی ہیں۔"

امام محمد باقر علیہ السلام نے جواب دیا: "اللہ نہ کرے کہ تم یہ گمان کرو کہ صرف ہم سے محبت کا دعویٰ کرنا شیعہ ہونے کے لیے کافی ہے۔ ہرگز نہیں۔ جو شخص کہتا ہے کہ مجھے امام علی علیہ السلام سے محبت ہے لیکن عمل میں امام علی علیہ السلام کی پیروی نہیں کرتا، وہ امام علی علیہ السلام کا شیعہ نہیں۔ اسی طرح، اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ مجھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہے لیکن وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعمال کی پیروی نہیں کرتا، تو اس کا دعویٰ اس کے لیے کسی کام کا نہیں ہوگا۔"

اے جابر! ہمارے حقیقی دوست اور شیعہ اللہ کے احکامات کے فرمانبردار ہیں، اور جو بھی اللہ کا نافرمان ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔

اے جابر! ہمیشہ پرہیزگار اور پاک دامن رہو، اور نیک اعمال کرو تاکہ جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکو۔ جان لو کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہترین اور سب سے زیادہ عزت والے پرہیزگار اور پاک دامن ہیں۔

اے جابر! اطاعت اور فرمانبرداری کے بغیر کوئی بھی اللہ کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ ہم انہیں اپنا دوست کہلانا پسند نہیں کرتے اگر وہ تمام شرائط پوری نہ کریں۔ ایک گنہگار شخص ہمارا دشمن ہے۔ نیک اعمال اور گناہوں سے پرہیز کے بغیر، ہم سے دوستی کا کوئی بھی دعویٰ بے فائدہ ہے۔

O Jabir! It is not enough that a person says; I am a Shia and I love Prophet Muhammad SAWW and the Ahlul Bayt and the Imams.
By Allah, a Shia is the one who is perfectly pious and obedient to Allah's commands.
Anyone else is not a Shia no matter how much they say they love Imam Ali AS and no matter what they call themselves."

"O Jabir! Our Shias are known by these signs:

They are truthful, trustworthy and loyal;

They always remember Allah;

They offer their Prayers, observe fasts, and recite the Holy Qur'an;

They act nicely towards their parents;

They help their neighbours, take care of orphans, and say nothing but good of people;

They are worthy of people's trust and confidence."

Jabir was listening attentively.

When Imam Muhammad al-Baqir AS finished, Jabir said: "O son of the Holy Prophet Muhammad SAWW among the Muslims there are very few who possess these qualities."

Imam Muhammad al-Baqir AS replied: "Allah forbid you imagine that just to claim to love us is enough to be a Shia. No not at all. A person who says I love Imam Ali AS but doesn't follow Imam Ali AS in actions is not the Shia of Imam Ali AS. Similarly, if a person says I love the Holy Prophet Muhammad SAWW but doesn't follow the actions of the Holy Prophet Muhammad SAWW, his claim will be of no use to him."

"O Jabir! Our real friend and Shias are obedient to the commands of Allah, and everyone who is disobedient to Allah is our enemy."

"O Jabir! Always be pious and chaste, and perform good deeds so as to enjoy the blessings of the Paradise. Know that the best and most honourable before Allah are the pious and the chaste."

"O Jabir! Without obedience and submission, nobody can attain proximity to Allah. We do not like them to claim to be our friends if they do not fulfil all the conditions. A sinful person is our enemy. Without good deeds and abstinence from sins, any claim of friendship to us is of no avail."

Imam Muhammad Al-Baqir AS.

This 784 pages book is the most detailed account of Shia kingdoms and empires which existed in history that I came acros...
03/06/2025

This 784 pages book is the most detailed account of Shia kingdoms and empires which existed in history that I came across.

If you are interested to know about the History of Political Power wielded by Shia Muslims throughout history in Urdu language then it's a good suggestion.

Link to read:

History

07/05/2025

تم دخل دے رہے ہو عقیدت کے باب میں
دیکھو معاملہ یہ ہمارا علی کا ہے
منقبت مولا علی علیہ السلام🌹
پیر سید نصیر الدین نصیر
منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
جس سمت دیکھتا ہوں نظارہ علی کا ہے

مرحب دو نیم ہے سر خیبر پڑا ہوا
اٹھنے کا اب نہیں کہ یہ مارا علی کا ہے

کُل کا جمال جزو کے چہرے سے ہے عیاں
گھوڑے پہ ہیں حسین نظارہ علی کا ہے

اصحابی کالنجوم کا ارشاد بھی بجا
سب سے مگر بلند ستارا علی کا ہے

ہم فقر مست چاہنے والے علی کے ہیں
دل پر ہمارے صرف اجارا علی کا ہےِ

اہلِ ہوس کی لقمہ تر پر رہی نظر
نان جویں پہ صرف گزارا علی کا ہے

تم دخل دے رہے ہو عقیدت کے باب میں
دیکھو معاملہ یہ ہمارا علی کا ہے

اے ارض پاک تجھ کو مبارک کہ تیرے پاس
پرچم نبی کا چاند ستارا علی کا ہے

آثار پڑھ کے مہدی دوراں کے یوں لگا
جیسے ظہور وہ بھی دوبارہ علی کا ہے

تو کیا ہے اور کیا ہے تیرے علم کی بساط
تجھ پر کرم نصیر یہ سارا علی کا ہے

پیر سید نصیر الدین نصیر

*ہر پرہیزگار صاحبِ بصیرت نہیں ہوتا* کبھی یہ گمان مت کیجیے کہ خوارج شراب‌خوار، فسق و فجور کے رسیا یا ظاہر میں بدکردار تھے...
06/05/2025

*ہر پرہیزگار صاحبِ بصیرت نہیں ہوتا*

کبھی یہ گمان مت کیجیے کہ خوارج شراب‌خوار، فسق و فجور کے رسیا یا ظاہر میں بدکردار تھے۔
نہیں…!
ان کا اصل مرض نہ پیالہ تھا، نہ نوالہ بلکہ وہ درد جس کی دوا نہ تھی: بصیرت کا فقدان تھا ۔
وہ سیاسی شعور سے عاری تھے؛ تجزیے کے جوہر سے محروم تھے !

میں نے عبداللہ بن خبّاب بن ارت کی المناک شہادت کی وہ داستان پڑھی ، جو دل کو دہلا گئی اور روح کو تڑپا گئی۔
وہ مولا کا ایک سچا عاشق تھا محبتِ علیؑ میں سرشار، وفا کے پیکرتھا

خوارج نے انہیں، اور ان کی حاملہ زوجہ کو بصرہ سے کوفہ جاتے ہوئے قید کر لیا۔
عبداللہ کا ایک دوست درخت کی شاخ پر چھپا سب منظر دیکھتا رہا ایک زندہ گواہ جو بیک وقت بینا بھی تھا اور بے بس بھی تھا
اور تب وہ لمحہ آیا…

جب ظلم نے حیا کی چادر چاک کی
جب تلوار نے نہ صرف مردِ باوفا کا سر تن سے جدا کیا،
بلکہ اُس کے وجود سے جُڑی زندگی ایک معصوم جنین کو بھی ماں کے شکم سے نکال کر بے دردی سے قتل کر ڈالا۔

پھر وہی ہاتھ جن پر خون کی بو تھی، وضو کے پانی سے تر ہو گئے۔
وہی زبانیں جن پر نفرت کا زہر تھا، طویل سجدوں میں تسبیح پڑھتی رہیں۔
راوی کہتا ہے:
“ان کی نماز اتنی طویل تھی کہ میں درخت پر بیٹھے بیٹھے نیند آنے لگی…”

اور تب وہ لمحۂ حیرت آیا
جب ایک کھجور زمین پر گری، ایک خارجی نے اٹھا کر منہ میں رکھی۔
دوسرے نے چیخ کر کہا:
“اے شخص! کیا تُو جانتا ہے کہ درخت کے مالک نے تجھے اس کا حق دی ہے حرام کھاتے ہو !

وہ شخص فوراً کھجور تھوکتا ہے، جیسے گناہِ کبیرہ سرزد ہو گیا ہو…

کیسی عجیب تمثیل ہے…
حرام مال سے بچنے والے،
مگر حرام خوں بہانے میں ذرہ برابر تردد نہیں!
یہی وہ خوارج تھے،
جو صفین کے میدان میں امامِ وقتؑ کے خلاف شمشیر بکف ہوئے۔
وہی تھے جنہوں نے علیؑ کو حکمیت پر مجبور کیا۔
اور وہی تھے جنہوں نے تاریخ کی سیاہ ترین شب میں علیؑ کے قاتل کو جنم دیا۔

یاد رکھیے:
قاتلِ علیؑ نہ ابتدا میں کافر تھا،
نہ کسی گمراہی میں پہچانا گیا۔
وہ علیؑ کا بیعت گزار تھا،
جمل میں ان کے ساتھ لڑا…
مگر جب نفس غالب آیا،
تو راہِ علیؑ چھوڑ کر راہِ خوارج اختیار کی۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
“ابنِ ملجم پر صبحِ قیامت تک ملائکہ لعنت کرتے رہیں گے…”

حق و باطل کے درمیان پردہ باریک ہے
کبھی عقیدت کی چادر اوڑھ کر باطل چھپ جاتا ہے،
کبھی حق کے لباس میں فریب بولتا ہے۔

یاد رکھو
گزشتہ قربت، آئندہ کی نجات کی ضمانت نہیں!
علیؑ کے ساتھ ہونا اہم نہیں… علیؑ کے ساتھ باقی رہنا اصل ہنر ہے۔

تاریخ گواہ ہے:
اہلِ بیتؑ کے قرب میں رہنے والے بہت تھے،
مگر اہلِ بیتؑ کے ساتھ چلنے والے کم۔

جب بھیڑیا حملہ کرتا ہے، تو دھاڑتا ہے۔ آواز دیتا ہے۔ تمہیں سنبھلنے کا موقع دیتا ہے۔
لیکن جب دیمک چڑھتی ہے،
وہ چپ چاپ، خامشی سے، جڑوں سے تمہاری متاعِ حیات کو چاٹنے لگتی ہے۔

بھیڑیے کا مقابلہ کرنا ہمت مانگتا ہے،
اور دیمک کو روکنا بصیرت چاہتا ہے۔

بصیرت، فقط تعلیم نہیں، بینش ہے — وہ روشنی جو آنکھ سے نہیں، دل سے دیکھتی ہے۔
بصیرت، علم کا انبار نہیں، شعور کا مینار ہے
یہ محض پڑھنا نہیں، درست زاویے سے دیکھنا ہے۔

بصیرت، تعلیم کا نام نہیں، فکر کی وہ سچائی ہے جو انسان کو دیکھنے کے بجائے سمجھنے کا ہنر عطا کرتی ہے۔”

بصیرت محض الفاظ کا علم نہیں، یہ شعور کی وہ روشنی ہے جو تاریکی میں بھی حق و باطل کے درمیان فرق دکھا دیتی ہے۔ تعلیم آنکھوں کو کھولتی ہے، مگر بصیرت دل کی بینائی بناتی ہے

تعلیم عقل کو راہ دیتی ہے، بصیرت دل کو منزل دکھاتی ہے۔ بصیرت وہ زاویۂ نظر ہے جو ظاہر سے باطن تک رسائی دیتا ہے، ا
الغرض
تعلیم وہ ہے جو سکھائے،
بصیرت وہ جو جگائے۔
بصیرت یہ ہے کہ نگاہیں شخصیات پر نہ ہوں،
نشانِ راہ، اصول و اقدار پر جمی ہوں۔

بصیرت یہ جاننے کا نام ہے کہ مسجد بھی “مسجدِ ضرار” بن سکتی ہے،
اور نبی اکرم ﷺ اسے ڈھا سکتے ہیں۔

بصیرت یہ شعور ہے کہ صفین کا مجاہد، کربلا
میں حسین کا قاتل بن سکتا ہے۔

میزان، انسان کا موجودہ کردار ہے، ماضی نہیں۔

بصیرت یہ آگہی ہے کہ فتنہ کی جنگ تم شروع نہ بھی کرو،
مگر جب وہ چھڑ جائے، تو اسے جڑ سے اکھاڑ دینا لازم ہو جاتا ہے۔

بصیرت یہ ہے کہ تم “مالک اشتر” کو شدت پسند نہ کہو
اور “ابوموسی اشعری” کو میانہ رو نہ سمجھو۔

بصیرت یہ سمجھ ہے کہ معاویہ، علیؑ کے لشکر کے کمزور دل سپاہیوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔

آج جب ہم ظہورِ موعودؑ کے قریب ہیں،
تو یہ خوف دامن گیر ہوتا ہے کہ…
کہیں ہم بھی اُن جیسے نہ بن جائیں
جو امامِ وقت کے ساتھ تو تھے،
مگر بصیرت سے عاری، تجزیے سے محروم، اور جذبے میں نادان اور جاہل تھے
سو آج بھی ضرورت ہے کہ “آتشِ اختیار” میں دانش کی لکڑیاں شامل کریں۔

جو ہمیں پسند ہے، وہی تجزیہ نہ کریں…
بلکہ جو حق ہے، وہی اختیار کریں۔
بس ایک دعا…
ہماری گردنیں تو جھکیں، مگر بصیرت بلند ہو
اور جب وقت کے علیؑ کی صدا آئے،
ہم صرف سننے والے نہ ہوں،
بلکہ لبیک کہنے والے بھی
والسلام 🙏🏻

21/03/2025

انشراحِ کتاب اور محراب
منبرِ باریاب اور محراب

سرخ رُو ہو چکے ہیں فجر کے وقت
اک شہادت مآب اور محراب

اک مصلّے پہ ایک جا دیکھے
آسماں ، بوتراب اور محراب

ضربتِ نامُراد اور خنجر
سجدۂ کامیاب اور محراب

کب کھُلے دیدۂ غنودہ پر؟
یہ حضور و غیاب اور محراب

کاکلِ عشق نے پسند کیے
موجِ خوں سے خضاب اور محراب

استعارے کسی جبیں کے ہیں
شہرِ دانش کا باب اور محراب

بعدِ گریہ جو سو گیا تو مجھے
ایک جیسے تھے خواب اور محراب

(( جناب عارف امام ))





21/03/2025

نبیؐ کے علم کے ابواب …………سر شگافتہ ہیں
تمام منبر و محراب…………………سر شگافتہ ہیں

سرِ رسولؐ پہ ضربت ہے ………مرتضیٰؑ پر وار
فقط علیؑ نہیں اصحاب ……………سر شگافتہ ہیں

خموش ہونے کو ہے ………سازِ مستی و عرفان
تمام نغمہ و مضراب……………… سر شگافتہ ہیں

وہی جو شیرِ خدا ہیں……… خدا کے مظہر ہیں
خدا سے ملنے کو بے تاب …… سر شگافتہ ہیں

سو کشتِ معدنِ اسلام…………… پر بہار رہے
رہے نہ بنجر و بے آب………سر شگافتہ… ہیں

انہی کے خون سے تر ہے زمینِ مقتلِ عشق
ابو ترابؑ ہیں سیراب ………… سر شگافتہ ہیں

کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے………دھاڑیں مار کے رو
سفینے والوں پہ گرداب………… سر شگافتہ ہیں

سراغِ دینِ مبیں…………… کون اب بتائے گا
تمام حیلہ و اسباب…………………سر شگافتہ ہیں

مکان اپنے مکیںؑ پر ہے …… مرثیہ خواں آج
جدارِ کعبہ و میزاب ………………سر شگافتہ ہیں

فلک پہ نوحہ کناں ہیں……… شگافِ سینہ لیے
نجوم و خاور و مہتاب …………… سر شگافتہ ہیں

ہم اپنا چاکِ گریباں …………لیے کہاں جائیں
گلی گلی ترے القاب ………………سر شگافتہ ہیں

سوائے نادِ علیؑ اور کچھ ……………… مداوا نہیں
ہمارے حوصلے اعصاب ………… سر شگافتہ ہیں

لہو لہو ہوئی جاتی ہیں…………………آیتیں محمودؔ
کتابِ دین کے اعراب …………سر شگافتہ ہیں

(( جناب م م مغلؔ ))




Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Safeena e Nijaat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Safeena e Nijaat:

Share