Al-Islah Institute

Al-Islah Institute The Islamic Education Center

Where you knOw about QURAN & Our Peacefull religion ISLAM.

⚠️ Don’t panic if you didn’t collect pebbles in MuzdalifahMost pilgrims collect them in Muzdalifah 🤍And this is the Sunn...
02/05/2026

⚠️ Don’t panic if you didn’t collect pebbles in Muzdalifah

Most pilgrims collect them in Muzdalifah 🤍
And this is the Sunnah.
The Prophet ﷺ collected pebbles there.

But many don’t realize…

🟢 It is not required to collect them there.

You can collect pebbles anywhere in Mina
or within the Haram area.

🟢 What actually matters:

• Small pebbles (about the size of a bean)
• Easy to throw
• No need to wash them

🟢 If you didn’t collect enough in Muzdalifah,
don’t panic.

You can collect them later in Mina.

🟢 And today, things are different.
Many pilgrims are even given prepared pebbles
by authorities or their Hajj group.

👉 Focus on what matters:

being prepared, not stressed.

Save this before Hajj 🤍

__ Saerah Sukanto

⚠️ Most people pack WRONG for Hajj (8–13 Dhul Hijjah)From 8 Dhul Hijjah, you leave your hoteland move between Mina → Ara...
01/05/2026

⚠️ Most people pack WRONG for Hajj (8–13 Dhul Hijjah)

From 8 Dhul Hijjah, you leave your hotel
and move between Mina → Arafah → Muzdalifah → Mina

👉 Some pilgrims go to Mina on the 8th (Tarwiyah),
while others move later depending on their group.

These are the most physically demanding days of Hajj.

👉 What you ACTUALLY need:

• Small backpack (keep it light)
• 2 light outfits (quick-dry)
• Small towel (for heat + cooling)
• Water bottle (you’ll need it constantly)
• Snacks (food timing is unpredictable)
• Slippers (easy on/off)
• Unscented wipes + tissues
• Toothbrush + small toiletries
• Basic meds (pain, flu, stomach)
• Sunscreen + lip balm (non-perfume)
• Power bank (electricity is limited)
• Important documents (always with you)

❌ What people OVERPACK:

Too many clothes
Full toiletry kits
“Just in case” items
Full suitcase mindset

👉 Reality check:

You will walk a lot.
You will wait a lot.
You will get tired.

And the ones who struggle most…
are not the weak.
It’s the ones who came unprepared.

👉 Important:

Some things are provided (food, mattress, basic setup)…
but don’t depend on it.

👉 The best preparation:
👉 You will repeat clothes.
Space and energy matter more than outfits.

👉 The smoothest Hajj is not for the strongest…
but for the most prepared.

Travel light.
Stay patient.
Focus on your ibadah.

Save this before Hajj 🤍

__ Saerah Sukanto

🌸 Al-Islah Institute Online Presents 🌸📘 One Year Diploma in Fehm-e-Deen✨ "Rozana madrasa mumkin nahi?To ye course aap ke...
30/04/2026

🌸 Al-Islah Institute Online Presents 🌸

📘 One Year Diploma in Fehm-e-Deen

✨ "Rozana madrasa mumkin nahi?To ye course aap ke liye hai — asaan, mukhtasir aur ba-maqsad!" ✨

📅 Starting Date: 23 April 2026🗓 Days: Every Thursday⏰ Time: 9:00 AM – 11:00 AM

💻 Platform: WhatsApp & Zoom🎓 Certificate: E-Certificate (on completion)

📚 Syllabus:

Tarjuma & Tafseer: Juzz Amma

Hadees: Bulugh ul Maram (Kitab-ul-Jami‘)

Aqeedah: Imaniyat ki bunyadi sharaait par mukammal guide

Hifz: Selected Azkar

Grammar: Basic Nahv & Sarf

Basic Tajweed

🌷 Only for Sisters

📩 Register Now & Start Your Journey Towards Understanding Deen!
whatsapp : 03162569460

Monthly Fee Structure
🇵🇰 Pakistan Students:
👉🏻 admission fees 500/=
✔ Rs. 1000 / month
🌍 International Students (India & Others):
✔ $20 / month

🎁 Free trial class (1 week)
👩‍🎓 family discount (20%)
🆓 Scholarship seats (limited)

Online course ke liye tayar kiya gaya form tamam students ke liye available hai. Tamam students se darkhwast hai ke woh is form ko mukammal taur par fill karein aur apni maloomat theek tareeke se darj karne ke baad usay submit kar dein, taake unki registration process asaani se mukammal ki ja sake. Agar form fill karte waqt kisi qisam ki dushwari pesh aaye to barah-e-karam is number par rabta karein:
+92 316 2569460
Admin Al-Islah Institute

21/02/2026
خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِندَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ"(Sahih al-Bukhari، Sahih Muslim)ترجمہ:“روزہ دار کے م...
21/02/2026

خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِندَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ"
(Sahih al-Bukhari، Sahih Muslim)
ترجمہ:
“روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔”
📖 مستند تشریح
1️⃣ “خلوف” کا مطلب کیا ہے؟
“خلوف” سے مراد وہ بو ہے جو خالی معدے اور بھوک کی وجہ سے منہ میں پیدا ہوتی ہے۔
یہ عام حالات میں ناگوار سمجھی جاتی ہے، لیکن چونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور عبادت کی وجہ سے ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہے۔
2️⃣ اللہ کے نزدیک محبوب ہونے کا مطلب
علماء (مثلاً امام نوویؒ رحمہ اللہ، شرح صحیح مسلم) نے وضاحت کی ہے کہ:
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بو حقیقتاً دنیا میں مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔
بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا اجر اور قدر مشک سے زیادہ ہے۔
کیونکہ یہ بو عبادت اور اخلاص کا نتیجہ ہے۔
یعنی اللہ تعالیٰ بندے کی ظاہری شکل نہیں بلکہ نیت اور اطاعت کو دیکھتا ہے۔
3️⃣ اخلاص کی اہمیت
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ:
روزہ صرف ظاہری بھوک پیاس کا نام نہیں۔
جو تکلیف اللہ کے لیے برداشت کی جائے وہ قیمتی ہو جاتی ہے۔
عبادت کی وجہ سے پیدا ہونے والی چیزیں اللہ کے نزدیک محبوب ہیں۔
4️⃣ کیا منہ صاف کرنا منع ہے؟
نہیں۔
نبی ﷺ روزے کی حالت میں مسواک کیا کرتے تھے۔
(Sahih al-Bukhari)
لہٰذا منہ صاف کرنا سنت ہے، اور حدیث کا مطلب صفائی چھوڑ دینا نہیں ہے۔
✨ خلاصہ
روزہ دار کے منہ کی بو عبادت کی علامت ہے۔
اللہ کے نزدیک اس کا اجر بہت عظیم ہے۔
یہ حدیث اخلاص اور نیت کی فضیلت بیان کرتی ہے۔
صفائی اور مسواک کرنا سنت ہے اور جائز ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤍

"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"(Sahih al-Bukhari، Sahih Muslim)تر...
21/02/2026

"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"
(Sahih al-Bukhari، Sahih Muslim)
ترجمہ:
“جس نے رمضان کے روزے ایمان اور ثواب کی نیت سے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
📖 حدیث کی تشریح
1️⃣ "ایمانًا" کا مطلب
یعنی:
اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتے ہوئے
روزے کی فرضیت کو سچا مانتے ہوئے
اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ کا حکم ہے
یعنی روزہ صرف رسم یا مجبوری میں نہیں بلکہ عقیدے اور یقین کے ساتھ رکھا جائے۔
2️⃣ "احتسابًا" کا مطلب
"احتساب" کا مطلب ہے:
خالص اللہ کے لیے روزہ رکھنا
صرف اللہ سے اجر کی امید رکھنا
دکھاوے، شہرت یا مجبوری کے بغیر عبادت کرنا
یعنی نیت خالص ہو — نہ لوگوں کو دکھانے کے لیے، نہ صرف عادت کے طور پر۔
3️⃣ "پچھلے گناہ معاف" ہونے کا مطلب
علماء کی وضاحت کے مطابق:
اس سے مراد صغیرہ گناہ (چھوٹے گناہ) ہیں
کبیرہ گناہوں کے لیے سچی توبہ ضروری ہے
جب بندہ اخلاص کے ساتھ رمضان گزارے تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ چھوٹے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
✨ عملی پیغام
روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں
اصل مقصد ایمان کی تازگی اور اخلاص ہے
نیت درست ہو تو عبادت کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان اور اخلاص کے ساتھ روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری مغفرت فرمائے۔ آمین 🤍

حدیث کا متنرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجًّا"اور ایک روایت میں ہے: "تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي"📚...
21/02/2026

حدیث کا متن
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجًّا"
اور ایک روایت میں ہے: "تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي"
📚 یہ حدیث Sahih al-Bukhari اور Sahih Muslim میں موجود ہے۔
یہ بات نبی کریم ﷺ نے ایک انصاری خاتون (امِّ سنان رضی اللہ عنہا) سے فرمائی تھی جب وہ کسی وجہ سے حج میں شریک نہ ہو سکیں۔
حدیث کی تشریح
1️⃣ کیا واقعی عمرہ حج کے برابر ہو جاتا ہے؟
علماء وضاحت کرتے ہیں:
یہاں ثواب (reward) کی برابری مراد ہے
فرضیت یا ذمہ داری میں برابری مراد نہیں
یعنی:
✅ رمضان کا عمرہ کرنے سے حج جتنا اجر ملتا ہے
❌ لیکن وہ فرض حج کا بدل نہیں بنتا
اگر کسی پر حج فرض ہے تو وہ ساقط نہیں ہوگا۔
2️⃣ رمضان میں اجر زیادہ کیوں؟
رمضان کی خصوصیات:
یہ مہینہ نزولِ قرآن کا ہے
نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے
ہر عبادت کی فضیلت بڑھ جاتی ہے
اس لیے عام عمرہ بھی رمضان میں غیر معمولی اجر رکھتا ہے۔
3️⃣ "حج میرے ساتھ" والی روایت کی وضاحت
کچھ روایات میں ہے:
"میرے ساتھ حج کے برابر"
علماء کہتے ہیں:
اس سے مراد اجر کی عظمت بیان کرنا ہے
یہ خاص طور پر اس خاتون کے لیے تسلی بھی تھی
لیکن فضیلت عمومی ہے، یعنی سب کے لیے ہے
4️⃣ فقہی نکتہ
اہم بات:
رمضان کا عمرہ = ثواب میں حج
لیکن:
حج کے ارکان الگ ہیں
حج کی مشقت الگ ہے
حج کی فرضیت الگ حکم رکھتی ہے
اس لیے اگر کسی نے صرف رمضان میں عمرہ کیا ہو تو اس کا فرض حج ادا نہیں ہوگا۔

📖 آیت کا حصہ اور ترجمہوَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ م...
21/02/2026

📖 آیت کا حصہ اور ترجمہ
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ
(Quran، Surah Al-Baqarah: 187)
ترجمہ:
“اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے فجر کے وقت سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے نمایاں ہو جائے۔”
📖 مستند تفسیر (صحیح احادیث کی روشنی میں)
1️⃣ “سفید دھاگا اور سیاہ دھاگا” سے کیا مراد ہے؟
حضرت عدی بن حاتمؓ نے اس آیت کو سن کر واقعی سفید اور سیاہ دھاگا رکھ لیا اور رات میں دیکھنے لگے۔ جب معاملہ سمجھ میں نہ آیا تو نبی ﷺ سے پوچھا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے۔”
(Sahih al-Bukhari، Sahih Muslim)
یعنی یہاں حقیقی دھاگے مراد نہیں بلکہ صبح صادق کی روشنی مراد ہے جو افق پر پھیلتی ہے۔
2️⃣ فجر کی دو قسمیں
احادیث میں آیا ہے کہ فجر دو ہوتی ہیں:
ایک جھوٹی فجر (فجر کاذب) — جو اوپر کی طرف ستون کی طرح ظاہر ہوتی ہے، اس پر سحری بند نہیں ہوتی۔
دوسری سچی فجر (فجر صادق) — جو افق پر پھیل جاتی ہے، اسی سے روزہ شروع ہوتا ہے۔
(حوالہ: Sahih Muslim)
3️⃣ سحری میں تاخیر کرنا سنت ہے
نبی ﷺ نے فرمایا:
“سحری کیا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔”
(Sahih al-Bukhari)
اور صحابہؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سحری میں تاخیر فرماتے تھے یہاں تک کہ فجر کا وقت قریب ہو جاتا۔
(Sahih Muslim)
✨ خلاصہ
سحری فجر صادق تک جائز ہے۔
“سفید دھاگا” سے مراد صبح کی روشنی ہے، نہ کہ حقیقی دھاگا۔
فجر صادق ظاہر ہوتے ہی کھانا پینا بند کرنا ضروری ہے۔
سحری میں تاخیر کرنا سنت اور باعثِ برکت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح وقت پر روزہ رکھنے اور سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤍

وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(Quran، Surah Al-Baqarah 185)ترجمہ:“اور جو شخص بی...
21/02/2026

وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ
(Quran، Surah Al-Baqarah 185)
ترجمہ:
“اور جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔”
📖 صحیح احادیث کی روشنی میں مختصر تفسیر
1️⃣ بیماری کی صورت میں رخصت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى عَزَائِمُهُ"
(Sahih Ibn Hibban)
ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اس کی دی ہوئی رخصتوں پر عمل کیا جائے، جیسے وہ اپنی مقرر کردہ عبادات کو پسند کرتا ہے۔”
اس سے معلوم ہوا کہ اگر بیماری ایسی ہو جس میں روزہ رکھنے سے نقصان ہو یا بیماری بڑھنے کا اندیشہ ہو تو روزہ چھوڑنا جائز ہے، بلکہ اللہ کی دی ہوئی آسانی قبول کرنا بہتر ہے۔
2️⃣ سفر کی حالت میں روزہ
حضرت حمزہ بن عمرو اسلمیؓ نے عرض کیا کہ میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں، کیا میں روزہ رکھوں؟
نبی ﷺ نے فرمایا:
"هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ"
(Sahih Muslim)
ترجمہ:
“یہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے، جو اس پر عمل کرے وہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔”
یعنی سفر میں روزہ چھوڑنا بھی جائز ہے اور اگر مشقت نہ ہو تو رکھنا بھی جائز ہے۔
3️⃣ شدید مشقت کی صورت
ایک سفر میں نبی ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص روزے کی وجہ سے مشقت میں ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ"
(Sahih al-Bukhari، Sahih Muslim)
ترجمہ:
“سفر میں (شدید مشقت کے ساتھ) روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔”
اس سے معلوم ہوا کہ اگر سفر میں روزہ تکلیف اور کمزوری کا سبب بنے تو چھوڑ دینا بہتر ہے۔
✨ خلاصہ
بیماری یا سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت اللہ کی طرف سے آسانی ہے۔
بعد میں اتنے ہی روزے قضا رکھنا ضروری ہے۔
اگر روزہ نقصان یا شدید مشقت کا سبب بنے تو چھوڑ دینا افضل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کو صحیح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤍

Address

Universty Road. . Karachi
Karachi
47021

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al-Islah Institute posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share