30/08/2025
📝 عنوان:
اسلامی ریاست یا فرعونیت؟ – پاکستانی عوام کی بے بسی کی سچی داستان
✍️ مکمل تحریر :
پاکستان… ایک نام جو امید کا تھا۔
ایک خواب تھا جس کی تعبیر "اسلامی فلاحی ریاست" تھی۔
جہاں قرآن و سنت کی روشنی میں عدل، انصاف، مساوات اور رحم کا نظام ہونا تھا۔
لیکن آج…
اسی پاکستان میں عام انسان دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہے۔
سرکاری ادارے عوام کو سہولت دینے کے بجائے تنگ کرتے ہیں۔
انٹرنیٹ ہو یا بجلی، پانی ہو یا تعلیم — سب کچھ یا تو مہنگا ہے یا ناکارہ۔
یہ ریاست "اسلامی" کہلاتی ہے،
مگر یہاں حکمرانوں کا رویہ فرعون اور یزید سے کم نہیں لگتا۔
عوام فریاد کرتی ہے، لیکن جواب نہیں آتا۔
عدالتیں انصاف دینے میں سست، اسپتال علاج دینے سے قاصر، اور نظام صرف طاقتور کے لیے ہے۔
حکومت عوام سے ٹیکس تو باقاعدگی سے لیتی ہے،
لیکن وہ ٹیکس عوامی سہولت کے بجائے حکمرانوں کی عیاشیوں، کرپشن اور ذاتی مفاد میں برباد ہو جاتا ہے۔
قوم کو بنیادی حقوق نہیں، لیکن حکمرانوں کے لیے محل، پروٹوکول اور بیرونِ ملک دورے سب کچھ موجود ہیں۔
کوئی مزدور ہو یا طالب علم، کسان ہو یا استاد —
سب ہی اندر سے ٹوٹے ہوئے ہیں۔
نہ نظام ساتھ دیتا ہے، نہ حکمران سنتے ہیں۔
ہم یہ سب صرف شکایت کے لیے نہیں لکھ رہے —
ہم انصاف، رحم، اور بیداری کی مانگ کر رہے ہیں۔
ہم یہ نہیں چاہتے کہ تختے اُلٹے جائیں،
بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ ضمیر جاگے، اللہ کا خوف پیدا ہو،
اور اس وطن میں واقعی وہ نظام آئے
جس کا خواب علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ نے دیکھا تھا۔
---
🤲 آخر میں صرف ایک دعا:
"اے اللہ! ہمارے ملک کو عدل، انصاف، ہدایت اور برکت سے بھر دے۔
ظالموں کو ہدایت دے، یا اُن سے عوام کو نجات دے۔
اور ہمیں اتنی عقل، حوصلہ اور طاقت دے کہ ہم خود کو بھی بدل سکیں، اور اپنے اردگرد کو بھی۔ آمین!"