18/12/2022
عارفِ ربانی امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ
شخصیت اورعلمی واصلاحی خدمات
علامہ محمد اکمل سعیدی
اس جہانِ خوش رنگ میں ایسی شخصیات بہت کم ہوتی ہیں کہ جن پر قدرت اپنی عطاؤں کی خوب فیاضی فرماتے ہوئے خلقت کے لیے فیض رساں بنا دیتی ہے ورنہ تو بہت سارے قد آور لوگ اپنی صلاحیتوں سمیت مٹی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں اور مخلوق خدا کو ان کی قابلیت کا نشان تک میسر نہیں آتا،ایسے عظیم المرتبت انسان جن کا وجود دیگر انسانوں کے لیے عطیہ خداوندی سے کم نہیں ہوتا ان میں سے ایک دسویں صدی ہجری کی بلند پایہ شخصیت حضرت امام عبد الوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں جو ایک ماہر فقیہ،کامل محدث اور تصوف کے بے مثال پیشوا تھے ا ن کی لائقِ تقلید اور قابلِ رشک مبارک زندگی کے چند ضروری احوال پیش خدمت ہیں:
ولادت اور ابتدائی حالات :
علامہ زرکلی کی کتاب ’’الاعلام‘‘ کے مطابق آپ کی پیدائش و افزائش 898 ہجری میں مصر کے نواحی علاقے ’’ قلقشندہ‘‘ اور’’ ساقیہ ابی شعرہ ‘‘میں ہوئی شعرہ ہی کی نسبت کے باعث آپ کو شعرانی اور شعراوی کہا جاتا ہے،آپ شرافت نسبی کے بھی حامل تھے کیونکہ آپ کا سلسلہ نسب سیدنا محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کے توسط سے شیرخدا سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے ملتا ہے جس کی وجہ سے آپ کو حنفی بھی کہا جاتا ہے آپ کے نسب میں بہت سارے اجداد ریاستی اور حکومتی اہم عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں
حضرت امام شعرانی کم سِنی کے وقت ہی سے صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے اور تقریباً سات برس کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر چکے تھے زمانۂ بچپن میں عبادات کی استقامت ایسی تھی ’’کان یتلوالقرأن کلہ فی الرکعۃ الواحدۃ قبل ان یبلغ سن الرشد ‘‘ یعنی بلوغت سے بھی پہلے صرف ایک رکعت میں مکمل قرآن پڑھا کرتے تھے بارگاہِ خداوندی سے چھوٹی عمر میں ایسی توجہات آپ کو حاصل ہوگئی تھیں جو بزرگی، ولایت اور مقبولیت کے لیے مقدمۃالجیش کا درجہ رکھتی تھیں۔
تحصیل علم و عرفان :
ـ12سال کی عمر میں آبائی گاؤں سے قاہرہ مصر کی طرف آپ نے ہجرت کی اور اس فیصلے کو انعامات الٰہیہ اور نوازشات نبویہ سمجھا کرتے تھے کیونکہ یہ نقل مکانی علوم ظاہرہ و باطنہ حاصل کرنے کا سبب ٹھہری، آپ نے یہاں علوم شرعیہ کی تکمیل کی لیکن یہ زمانۂ تحصیل ِ علم عامیانہ روایت سے الگ نوعیت کا تھا یہ جہد مسلسل اور جسم کو تھکا دینے کا دورانیہ تھا تعلیم و تعلّم کے دوران موسم سرما میں اپنے کپڑوں پرٹھنڈا پانی ڈال دیتے اور کوڑا اپنے پاس رکھتے تھے نیند کے غلبے کے وقت وہ کوڑا اپنی پنڈلیوں پر مارتے رہتے تھے یوں پوری رات کتب بینی میں گزر جاتی یہاں تک کہ اونگھ سے بھی خود کو محفوظ رکھنے کے لیے کمرے کی چھت سے رسی لٹکا کر گلے میں اس کا طوق ڈال دیتے تاکہ پڑھنے میں نیند خلل نہ ڈالے، آپ نے علومِ قرآن و حدیث، فقہ،علم الکلام اور کتب ِ تصوف کا وسیع مطالعہ کیا بلکہ مجلدات پر مشتمل ضخیم کتابوں کو ایک سے زائد بار پڑھا ۔امام شافعی علیہ الرحمہ کی کتاب الامّ تین بار امام نووی کی شرح مسلم پندرہ بار اور شرح مہذب پچاس بار شیخ زکریا انصاری کی شرح الروض اور معروف درسی کتاب تفسیر جلالین جیسی کتب کو تیس تیس بار پڑھا اور فرماتے کہ ہر بار علم کے نئے اسرار منکشف ہوئے۔ لطائف المِنن والاخلاق کتاب میں آپ نے تمام کتبِ فنون کی ایک طویل فہرست مرتب فرمائی ہے جن کا آپ نے مطالعہ فرمایا۔ تحصیل ِ علم کے متعلق آپ نے کتب ِ دینیہ کے مطالعہ پر دن رات ہمیشگی، علمی ضرورت کی تکمیل کے لیے ہجرت کا وجوب اور عالِم ہوجانے کے باوجود بھی علماء کی ہم نشینی کا التزام، ان تین فرائض کورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیے گئے مقدس عہد و پیمان قرار دئیے ، آپ نے اپنی کتاب ’’لواقح الانوار القدسیہ ‘‘میں ان کی تفصیل بیان کی اور اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت امام شعرانی نے ان تینوں عہود کی ثابت قدمی کے ساتھ پاسداری فرمائی ہے۔
ویسے تو آپ نے دو سو کے قریب اساتذہ کرام سے علم حاصل کیا لیکن شیخ الاسلام قاضی القضاۃ حضرت زکریا انصاری جن کی صحبت میں آپ نے بیس سال کا عرصہ گزارا، امام قسطلانی شیخ زین الدین محلی سے خصوصی طور پر استفادہ کیا اسی طرح علم طریقت میں بھی اگرچہ آپ نے دسیوں شیوخ سے راہنمائی لی مگر امام مرصفی، امام محمد شناوی ،شیخ نور الدین اور خاص طور پر حضرت سیدی علی خواص رحمہم اللہ اجمعین سے بالاہتمام اکتسابِ فیض کیا۔
حضرت سیدی علی خواص رحمۃاللہ علیہ ‘اُمی عالمِ شریعت اور عارفِ طریقت تھے علمی و روحانی اسرار و رموز میں قلبی تشفی امام شعرانی نے حضرت علی خواص رحمۃ اللہ علیہ ہی سے حاصل کی۔ اس پر امام شعرانی کا رسالہ ’’الجواہر والدرر‘‘ بہترین دستاویز ہے اس رسالے میں صرف وہ سوالات ہیں جو امام شعرانی نے حضرت علی خواص رحمۃ اللہ علیہ سے کیے اور ان کے جوابات صرف صاحبِ علمِ لدنی ہی سے ممکن تھے بڑے بڑے مصادر و مآخذ ایسی نفیس ابحاث سے عاری ہیں صاحبانِ ذوق کے لیے یہ رسالہ خزینۃ المعارف سے کم نہیں۔
فقہی مسلک :
فروعی مسائل میں امام شعرانی علیہ الرحمہ مسلکًا اگرچہ شافعی تھے لیکن آپ کا یہ امتیازی وصف تھا کہ عمل میں ایسی صورت کو ترجیح دیتے جس میں سب کا اتفاق یا پھر سب کااحترام ملحوظ رہے، مذہب معیّن کی تقلید کے سلسلے میں آپ کے نظریات و افکار تعصب سے یکسر پاک تھے متقدمین و متاخرین میں یہ انفرادیت آپ ہی کو حاصل ہے کہ امت مسلمہ پر احسان فرماتے ہوئے آپ نے ایک عمدہ ترین علمی و تحقیقی کاوش پیش کی جس میں واضح کیا کہ تمام فقہی احکام اور ائمہ اربعہ کے اقوال میزانِ شریعت پر پورا اترتے ہیں اور ایک امام کی راہ ہر چند کہ دوسرے امام کی راہ سے ضرور مختلف ہے تاہم شرعی توجیہ تمام اماموں کے اقوال کی بڑی مضبوط ہے اور کوئی بھی موقِف، مزاجِ شریعت کے ہر گز خلاف نہیں ہے اس موضوع پر آپ کی کتاب کشف الغمہ اور بالخصوص بے نظیر تالیف المیزان الکبریٰ ہے جو فلسفۂ اختلاف بین الفقہاء سمجھنے کے لیے بے حد مفید کتاب ہے۔ علم و عرفان کے میدان میں حضرت شعرانی علیہ الرحمہ جامع الشریعہ والطریقہ یعنی علومِ ظاہرہ و باطنہ پر کامل دسترس رکھنے والے امام تھے۔
نمونۂ سیرت و کردار:انسان نے جو امانت الٰہیہ کی بھاری اور نازک ذمہ داری اپنے کندھوں پر ڈالی ہے ۔ ’’اتیان ما ینبغی و ترک مالا ینبغی ‘‘ یعنی ہر مناسب کو اپنا کر، ہر نامناسب سے بچ جانا، اس امانت کا حاصل و نچوڑ ہے، امام شعرانی علیہ الرحمہ کے معمولاتِ زندگی اس اصول کے ترجمان تھے ہر خصلتِ محمودہ آپ کا لباس تھی اور عاداتِ ذمیمہ سے آپ کو دور تک بھی واسطہ نہیں تھا ہر فضیلت سے آراستہ اور تمام رذائل نفسانیہ سے محفوظ تھے کردار کے اعتبار سے بڑا کمال آپ کے قول و فعل میں یکسانیت تھی آپ کی خلوتی اور اجتماعی زندگی میں خصوصاً پاکیزہ عنصر یہ تھا کہ آپ کا مزاج شریعت محمدیہ کے قالب میں مکمل سما گیا تھا کتنے ہی اوصاف و محاسن ایسے ہیں جن کے بارے سراپا عجز و انکسار ہوکر شکر بجا لاتے ہوئے فرمایا کرتے تھے:’’ لا اعلم احدا من اقرانی تخلّق بھذا الخُلق‘‘ کہ میں اپنے کسی ہم عصر کو نہیں جانتا جسے یہ نعمت ملی ہو۔الغرض! آپ کی حیات سعید پڑھ کرادب عربی کا یہ شعر بے ساختہ زباں پر جاری ہوجاتا ہے
لولا عجائب صنع اللّٰہ مانبتت
تلک الفضائل فی لحم ولا عصب
یعنی کارخانۂ قدرت کے کرشمے اگر نہ ہوتے تو ایسی خوبیاں گوشت پوست کے ڈھانچے میں کہاں جمع ہوسکتی تھیں آپ کی سوانح عمری پر خامہ فرسائی کرنے والے کے لیے بڑی آزمائش یہی ہے کہ وہ کیا لکھے اور کیاچھوڑے کیوںکہ یہاں ہر گوشۂ حیات قابلِ ذکر لائقِ رقم ہے،چند ایسے پہلو ذیل میں ذکر کیے جارہے ہیں جو عوام کے لیے بالعموم اور خواص کے لیے بالخصوص زادِ راہ ہونے کے ساتھ ساتھ نشان منزل بھی ہیں ۔
ایک مرتبہ کسی صالح آدمی کا نام سن کر اس کی ملاقات کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئے لیکن وہ حسد کے باعث باہر نہ آیا بلکہ اس نے پیغام بھیجا کہ وہ گھر میں نہیں جبکہ آپ نے آواز سے پہچان لیا کہ وہ گھر میں ہے ۔آپ فرماتے ہیں ذرہ برابر بھی میرے دل میں ا س کے لیے ملال نہیں کیونکہ قرآن مجید میں حکم شرعی ہے کہ کوئی تمہیں گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے اور واپس لوٹ جانے کا بولے تو لوٹ ہی جاؤ اس میں تمہارے دل کی پاکیزگی ہے (سورۃ النور: آیت 28)۔
وہ اُمور حسنہ جن میں عموماً تصنع یا تکلف سے کام لیا جاتا ہے حالانکہ قلب اس پر مائل نہیں ہوتا ایسے امور میں حضرت امام شعرانی کی فطرت سلیمہ ڈھل چکی تھی یوں آپ اخلاق کریمانہ میں یگانۂ روزگار تھے اس دعوے پر شہادت کئی واقعات دیتے ہیں بطور مثال یہ واقعہ ہے کہ ایک آدمی شکل وشباہت کی غلط فہمی کے باعث آپ کے ساتھ انتہائی گستاخانہ رویے سے پیش آیا گلے میں رسی ڈال کر شارع عام پر گھسیٹتا رہا آپ تحمل سے کام لیتے رہے حقیقت واضح ہو جانے پر اس نے معافی چاہی اس لیے کہ یہ سب غلط فہمی میں ہوا تھا تو نہ صرف آپ نے معاف کیا بلکہ فرمایا:’’ استغفر اللہ فی حقک‘‘ یعنی میں خدا کے حضور تیرے لیے بخشش کی سفارش کروں گا اس سے بڑھ کر یہ بات فرمایا کرتے تھے کہ رضائے الٰہی کے لیے یہ تکلیف سہنے اور مسلم بھائی کو معاف کرنے میں مجھے عجیب ایمانی مٹھاس محسوس ہوئی۔ یہ دو واقعات اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ حضرت اپنے نفس کے تزکیے اور اپنے اخلاق کے تصفیے میں اپنی مثال آپ ہی تھے، اسلامی اخوت کا لحاظ اس قدر عزیز تھا فرماتے تھے کراھتی للاکل وحدی کما اکرہ الصلاۃ فرادی یعنی جیسے بغیر عذر شرعی کے اکیلے نماز پڑھنے کو میں ناپسند جانتا ہوں یوں بغیر مہمان اور مسلمان بھائیوں کے اکیلے طعام کھانا بھی ناپسند جانتا ہوں اور مجھے کھانے میں لذت و راحت حاصل ہی تب ہوتی جب کثیر لوگ میرے ساتھ کھانا کھاتے، رحمدلی اور وفورِ شفقت کا حال یہ تھا کہ انسان کیا جانوروں کی ایذاء رسانی سے بھی حد درجہ محتاط رہتے جس اونٹ وغیرہ پر سوار ہوتے تو اکیلے ہی سوار ہوتے تاکہ اس پر زیادہ بوجھ نہ پڑے، ہانکنے کے لیے اپنے پاس کوڑا یا لاٹھی نہ رکھتے تاکہ جانور وحشت زدہ نہ ہو اور حسن سلوک کی رعایت میں کبھی جانور کو گالی تک نہ دی۔
حضرت امام شعرانی علیہ الرحمہ کے اوراقِ حیات پڑھنے کے بعد یقین ہوجاتا ہے کہ کمیابی اور نایابی صرف اشیاء میں نہیں ہوتی اشخاص میں بھی ہوتی ہے دنیا کے عجائب گھروں میں نوادرات کی قدر و قیمت سے کہیں زیادہ وہ نوادر روزگار عظیم افراد قیمتی ہوتے ہیں جن پر زمین و زماں ناز کرتے ہیں۔
تعلیمات اور افکارِ تصوف:روحانیت کے فروغ اور تبلیغِ تصوف وسلوک میں امام شعرانی علیہ الرحمہ کی خدمات و تعلیمات مسلمہ اور مقبول عام ہیں بلکہ آپ کے بعد حقائقِ تصوف پر ہر معتبر کاوش آپ کے حوالے کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے، کیونکہ علوم ظاہرہ و باطنہ میں معتدل فکر و عمل کو آپ نے ترجیح دی ہے، ناقابلِ تردید دلائل سے آپ نے ثابت کیا ہے کہ علم لدنی کبھی علم شرعی کی مخالفت نہیں کرتا، علم باطن دراصل علم ظاہر ہی کی غایت ہے، اہل حقیقت اور اہل شریعت کی الگ تقسیم یا صوفی اور فقیہ کے درمیان حد فاصل قائم کرنا حق سے ناشناسی کی دلیل ہے، جیسے آپ نے بے عمل علماء کی بیخ کنی کی ہے یوں آپ نے بے علم صوفیاء کو بھی مضر و مفسد قرار دیا ہے، حضرت امام شعرانی علیہ الرحمۃ صوفی صادق ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیشہ داعی للعلم بھی رہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ آپ نے راہ ِسلوک کی تمام منازل چراغِ شریعت کی روشنی میں طے فرمائیں اور سلیم العقل اور سالم الحواس شخص کے لیے اتباعِ شریعت کو بلند مقام پر رسائی کے باوجود بھی لازم قرار دیا۔ اپنی کتاب الیواقیت والجواہر میں یہ عقیدہ ٔشرعیہ بیان کرتے ہیں کہ ولی کو بذریعہ کشف معلوم ہو بھی جائے کہ فلاں گناہ پر مواخذہ نہیں ہوگا تب بھی اس کو وہ گناہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ متقدمین متصوفین میں مسلمہ شخصیات کی طرف ایسی روایات کی نسبت جو اصولِ شرع کے خلاف ہیں ان کے بارے آپ کا واضح موقف تھا کہ وہ دَس یعنی کسی حاسد یا جاہل صوفی کی سازش و ملاوٹ کا شاخسانہ ہے یہ صرف موقف نہیں تھا بلکہ آپ کے پاس شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کے ایسے تصنیفی نسخے موجود تھے جن میں قابلِ اعتراض وہ اقوال و افکار نہیں تھے جو دیگر لوگوں کے پاس موجود نسخوں میں تھے، امام شعرانی خود چونکہ محسود زمانہ تھے یوں آپ بھی المعاصرہ سبب المنافرہ کے شکار ہوئے اور آپ کی کتاب کشف الغمۃ کا مقدمہ اور معروف رسالہ’’ البحر المورود‘‘عاریۃً لے کر اس میں خلاف شرع عبارات کا اضافہ کرکے حضرت شعرانی پر تہمت لگائی گئی لیکن خدا نے آپ کو ہر آزمائش میں سرخرو فرمایا۔
ایسی عارفانہ باتیں جو عوام یا سفرِ سلوک کے مبتدی مسافروں کے لیے بھاری اور اجنبی ہوں ان کے بارے امام شعرانی علیہ الرحمہ معتدل راہ کے حامل تھے یعنی کلام عارفین کو عارفوں ہی کے سامنے پیش کرنے کے قائل تھے شیخ ابوالحسن الشاذلی علیہ الرحمہ کا فرمان اپنی لاجواب اور شریعت و طریقت کے دفاع میں لکھی گئی کتاب’’الاجوبۃ المرضیۃ عن الفقہاء والصوفیۃ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ وہ اپنے اصحاب کو سختی سے تاکید کرتے کہ لا تذکروا کلامنا الا لمن یؤمن بطریقنا یعنی ہماری بات ہمارے طریق سے آشنا فرد ہی سے کی جائے اور امام شاذلی کبھی اپنے مریدین کو گہری بات بتا بھی دیتے تو راز افشاء کرنے سے منع فرما دیتے۔ سنجیدہ طبقہ جانتا ہے کہ ’’کتابی اور صدری علم ‘‘کے نعروں کی گونج میں قائم کی گئی خود ساختہ صف بندی نے دین کا شیرازہ کیسے بکھیر دیا ہے ایسے ماحول میں فکر شعرانی اور طریقِ شعرانی کی تفہیم و تفہم کی شدید ضرورت ہے، امام شعرانی علیہ الرحمہ اگرچہ وظائف و اذکار میں خود بے پناہ مصروف رہتے، اپنے اوراد اور معمولات لطائف المِنن والاخلاق کتاب میں آپ نے تفصیل سے بیان بھی کیے ہیں لیکن آپ کے نزدیک تصوف فقط اسی مشغلہ یا صوفیانہ جبہ چغہ پہننے کا نام نہیں بلکہ اخلاص اور استقامت کے ساتھ حقوق اللہ اور سخت نگرانی میں حقوق العباد کی ادائیگی کا نام ہے، تصوف کی تشریحات میں آپ کی عبارات و توضیحات کا حاصل یہی ہے کہ صوفیاء کرام دنیا سے بے رغبت تو ہوتے ہیں لیکن بے خبر ہرگز نہیں ہوتے اور بارگاہ اقدس میں مقرب ہونے کے باوجود بھی خشیت الہٰی اور قدیر ذات کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں رہتے۔
حضرت امام شعرانی علیہ الرحمۃ خود روحانیت کے بلند ترین مقام پر فائز تھے کشف و کرامات کے بے شمار ذاتی واقعات و مشاہدات تحدیث نعمت میں آپ نے خود بیان فرمائے ہیں سخت سردی میں وضو کے وقت پانی از خود گرم ہو جاتا، حلال میسر نہ ہونے کی وجہ سے اگر کبھی مٹی کھانے پر مجبور ہو بھی جاتے تو مٹی منہ میں جا کر گوشت بن جاتی، قبورِ صالحین پر حاضر ہوتے تو احوال قبر و میت منکشف ہوجاتے ایسی نوازشات ربانیہ کے باوجود فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوشخبری سنائی کہ پروردگار نے میرے سارے گناہ معاف فرما کر بخشش لکھ دی ہے لیکن پھر بھی زمین میں زندہ دھنسا دیے جانے اور مسخِ صورت کا مجھے ہر وقت خوف لگا رہتا ہے، الغرض! طرقِ تصوف میں طریقِ شعرانی اصح الطرق ہے جس کی پیروی اہل علم و معرفت کے لیے فلاحِ دارین کا باعث ہے ۔آپ کی وفات سولہویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف بمطابق 973 ہجری قاہرہ میں ہوئی ہے۔ نوّر اللّٰہ مرقدہ ووسّع مدخلہ واکرم نزلہ
٭…٭…٭