Mufti Muhammed Ahtesham Qadri

Mufti Muhammed Ahtesham Qadri islamic research scholar

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ"جس نے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کی، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے"۔(سنن ابنِ ماجہ: 3123)
25/05/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
"جس نے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کی، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے"۔
(سنن ابنِ ماجہ: 3123)

22/04/2026

احسان فراموشی ناشکری کی ایک شکل ہے، جس میں انسان دوسروں کی بھلائی کو بھلا دیتا ہے۔ یہ دل کی سختی اور تکبر کی علامت ہے ۔
اس کے برعکس، احسان شناسی ایمان کی مضبوطی، عاجزی اور محبت کا سبب بنتی ہے، اور انسان کو اللہ اور لوگوں کے قریب کر دیتی ہے۔

21/08/2025

*فاتحِ قادیانیت*
برصغیر کی تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے وقت کے سب سے بڑے فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہی میں ایک نام ہے *تاجدارِ گولڑہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی* رحمۃ اللہ علیہ کا، جنہیں دنیا *"فاتحِ قادیانیت"* کے لقب سے یاد کرتی ہے۔ آپ نے نہ صرف اپنے علم وتقویٰ سے لوگوں کے دلوں کو منور کیا بلکہ مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوے کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن گئے۔
1859ء میں گولڑہ شریف کے علمی وروحانی گھرانے میں پیدا ہونے والے سید مہر علی شاہ کا سلسلہ نسب براہِ راست حضرت سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور پھر امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ بچپن ہی میں قرآن مجید حفظ کر لیا اور پھر فقہ، حدیث، منطق اور تفسیر جیسے علوم میں مہارت حاصل کی۔ تعلیم کے بعد گولڑہ واپس آکر تدریس وارشاد کا سلسلہ شروع کیا۔
بیعت وخلافت آپ کو خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ سے نصیب ہوئی۔ آپ کی زندگی زہد وعبادت، قناعت اور سخاوت کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کے قلم سے "شمس الہدایہ"، "سیفِ چشتیائی" اور "فتاویٰ مہریہ" جیسی علمی شاہکار تصانیف وجود میں آئیں۔
انیسویں صدی میں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو سب سے بھرپور علمی وروحانی رد پیر مہر علی شاہ ہی نے دیا۔ آپ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ حقیقت واضح کر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ آپ نے مناظرہ قبول کیا مگر قادیانی فریق سامنے آنے کی جرات نہ کر سکا۔ آپ کی تصنیف "سیفِ چشتیائی" نے قادیانیت کے نظریات کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔
آپ کا اندازِ فکر یہ تھا کہ *دنیاوی اقتدار اور حکمرانوں کی قربت سے بچنا ہی اللہ والوں کا شیوہ ہے۔ آپ فرمایا کرتے: "علم وہی ہے جو دوسروں کو فائدہ دے، اور درویشی محض نام کی نہیں بلکہ مسلسل مجاہدے کا تقاضا کرتی ہے"۔*
پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے چند ایسے ہی اَقوالِ زَریں حسبِ ذیل ہیں:
(1) دنیا اور حکمرانوں سے بے رغبتی اللہ والوں کا خاص وطیرہ ہے۔
(2) درویشی مُجاہدہ کا نام ہے۔
(3) درویشوں کو شاہی دربار کی حاضری مناسب نہیں۔
(4) مرید کہلانے کا مستحق وہی شخص ہے جو پیر کی ہدایت پر عمل پَیرا ہو۔
(5) پیر کے معنی یہ ہیں کہ ہر ایک کو آسمانی کتاب (قرآنِ کریم) کے مُطابق ہدایت دے۔
(6) جو شخص علم پڑھ کر تعلیم نہیں دیتا، اس کی مثال درخت بےثمر کی سی ہے۔
(7) انسان کو ہمیشہ خود کو باجمال رکھنا چاہیے؛ کیونکہ اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔
(8) دشمنوں کی اِیذا رَسانی پر صبر کرو، اللہ تعالی تمہیں اس پر بےحساب اجر دے گا۔
(9) سیادت اعلیٰ شرف ہے، اسے حقیر دنیا کے (حُصول) لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
(10) بغیر علمِ دین اور تعلیمِ شارع (تعلیماتِ نبوی کے) ایسے راستے کا معلوم کر لینا، جس سے اپنے خالق عزوجل کی رضا حاصل کی جائے، نا ممکن ہے۔
(11) بغیر علم کے انسان گویا مُردہ ہوتا ہے۔
(12) باہم اِخلاص اور محبت واُلفت کا ہونا اہلِ اسلام کی اعلیٰ صفات میں سے ہے۔
(13) جب تک اپنے سر سے بزرگی کی بُو نہیں نکالو گے، بارگاہِ بزرگِ حقیقی میں کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکو گے۔
(14) بہت سے لوگ (رُوحانی اعتبار سے) محض اس لیے خالی اور خشک رہ جاتے ہیں، کہ ہر وقت اپنی خودی اور فخر پر نظر رکھتے ہیں۔
1937ء میں آپ اس دنیا سے رخصت ہوئے مگر گولڑہ شریف آج بھی روحانیت اور فیضان کا مرکز ہے۔ لاکھوں لوگ وہاں حاضری دے کر سکون حاصل کرتے ہیں۔
حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ دین کی سربلندی صرف قلم اور زبان سے نہیں بلکہ کردار سے بھی قائم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے آپ کو ہمیشہ "فاتحِ قادیانیت" کے طور پر زندہ رکھا ہے۔
(ماخوذ: "سیرت حضرت پیر مہر علی شاہ"، "مہرِ منیر"، "فیضانِ پیر مہر علی شاہ"، " اِعلاءُ کلمۃ اللہ وما اُھِلّ بہ لِغیر اللہ "، "تحریکِ ختم ِ نبوّت میں حضرت پیر مہر علی شاہ کا مجدِّدانہ کردار"، "حضرت پیر مہر علی شاہ اور ردّ قادیانیت")

از: مفتی محمد احتشام قادری
ہنگورو عبد الرزاق
M***i Zaman Noori Shazli
M***i Furqan Madani Furqan
M***i Azhar Madni
M***i Mohammad Rashid Masoodi
M***i Muhammad Arif Hussain
M***i Zahoor Ahmed Qadri
Abdul Hai Muhammadi
Muhammad Kashif Mahmood

19/08/2025

امام احمد رضا خان بریلوی: آفتابِ علم وعرفان

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت تاریخِ اسلام میں ایک ایسا درخشندہ ستارہ ہے جس کی روشنی صدیوں تک قلوب کو منور کرتی رہے گی۔ آپ کی ذات وہ گلِ سرسبد ہے جس میں علم وعرفان کی خوشبو بھی ہے اور عشقِ رسول ﷺ کی مہک بھی۔
ولادت اور نام ونسب:
۱۴ جون ۱۸۵۶ء مطابق ۱۰ شوال ۱۲۷۲ھ کو بریلی شریف کے محلہ جسولی میں وہ دن طلوع ہوا جب آسمانِ ہند پر علم کا سورج چمک اٹھا۔ والد ماجد علامہ نقی علی خان اور دادا حضور نے آپ کا نام "احمد رضا" رکھا، اور یہی نام تاریخ میں روشن ہو گیا۔
کم عمری میں تکمیلِ علوم:
جب عمر صرف تیرہ برس تھی تو آپ نے تمام علومِ مروجہ پر دسترس حاصل کر لی۔ وہی دن تھا جب آپ نے پہلا فتویٰ دیا، اور والدِ گرامی نے مسندِ افتاء آپ کے سپرد کر دی۔ اس دن سے آخر دم تک آپ کی زندگی کا ہر لمحہ علم، فتویٰ اور خدمتِ دین میں گزرا۔
حج و زیارتِ مدینہ:
اعلیٰ حضرت نے دو مرتبہ حرمین شریفین کی سعادت پائی۔ مکہ معظمہ میں جب مفتی شافعیہ حسین جمل اللیل نے آپ کی پیشانی کو تھام کر فرمایا:
"بے شک اس پیشانی میں اللہ کا نور جھلکتا ہے"
تو یہ آپ کی علمی اور روحانی عظمت کی شہادت تھی۔
مدینہ منورہ میں جاگتی آنکھوں سے بارگاہِ رسالت ﷺ کی زیارت آپ کی زندگی کا سب سے حسین لمحہ تھا، جو آپ کے عشقِ رسول ﷺ کی معراج بھی ہے۔
علمی تبحر اور تصانیف:
اعلیٰ حضرت صرف ایک مفتی نہیں بلکہ علوم کے سمندر تھے۔
فقہ میں "فتاویٰ رضویہ" اور "جد الممتار"۔
حدیث میں "منیر العین" اور "شمائم العنبر"۔
عقائد میں "المعتمد المستند" اور "تمہید ایمان"۔
فلسفہ، سائنس اور فلکیات میں بے شمار شاندار تصنیفات۔
نعتیہ شاعری میں "حدائقِ بخشش" جیسا عظیم شاہکار، جسے اردو ادب کے بلند ترین دیوانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
آپ کی تصانیف صرف دلائل سے مزین نہیں بلکہ عشق وحکمت کی روشنی سے جگمگاتی ہیں۔
مرجعِ فتاویٰ اور عالمی مقام:
اعلیٰ حضرت کی علمی وفقہی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ ہند وپاک سے لے کر حجاز، برما، چین، افریقہ اور یورپ تک کے مسلمان مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے۔ آپ کا قلم صرف کاغذ پر نہیں بلکہ دلوں پر فیصلہ لکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مرادآبادی نے فرمایا:
"اس صدی میں دنیا بھر کا ایک ہی مفتی تھا، جس کی طرف سب رجوع کرتے تھے، اور وہ تھے امام احمد رضا خان"۔
وفات اور مزارِ انوار:
۲۵ صفر ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۹۲۱ء، بروز جمعہ، عین وقتِ اذانِ جمعہ جب مؤذن نے صدا دی "حَیَّ عَلَی الفَلَاح"، تو ادھر اعلیٰ حضرت نے ربِّ کائنات کے بلاوے پر لبیک کہا۔
آج بھی آپ کا مزار بریلی شریف میں مرجعِ خلائق ہے، جہاں عاشقانِ رسول ﷺ فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔
امام احمد رضا خان صرف ایک فقیہ یا محدث نہیں، بلکہ وہ مجددِ وقت، عاشقِ رسول ﷺ، صوفیِ باصفا، اور علومِ عقلیہ و نقلیہ کے جامع امام تھے۔ سو برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی آپ کی تصانیف دنیا بھر میں چراغ کی طرح روشنی پھیلا رہی ہیں۔ آپ کے فیضان سے پی ایچ ڈی اور ایم فل کی تحقیقیں جاری ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کے سمندرِ علم کا کنارہ آج تک کسی کو نہ ملا۔
🌹 امام احمد رضا خان بریلوی کا نام جب لیا جاتا ہے تو زبان پر یہ شعر بے ساختہ آ جاتا ہے:
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اُس سے سِوا تم ہو
قسیمِ جامِ عرفاں اے شہِ احمد رضا تم ہو
یہ ہے وہ جادوئی حقیقت کہ امام احمد رضا خان بریلوی صرف ایک شخصیت نہیں، بلکہ وہ عہد ساز فکر ہیں، ایک روشن مینار ہیں، اور اہلِ سنت کے لیے قیامت تک مشعلِ راہ ہیں۔
از: مفتی محمد احتشام قادری ہنگورو عبد الرزاق قادری

فرامین حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ
15/08/2025

فرامین حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ

09/08/2025

islamic research scholar

23/07/2025

یوں ہی اعلی حضرت اعلیٰ حضرت نہیں

[اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے فقاہت کے معنی لکھتے ہیں]

"فقہ یہ نہیں کہ کسی جزئیہ کے متعلق کتاب سے عبارت نکال کر اس کا لفظی ترجمہ سمجھ لیا جائے یوں تو ہر اعرابی ہر بدوی فقیہ ہوتا کہ ان کی مادری زبان عربی ہے بلکہ
فقہ بعد ملاحظه اصول مقرره و ضوابط محرره ووجوہ تکلم و طرق تفاهم و تنسیخ مناط و لحاظ انضباط ومواضع یسر واحتیاط و تجنب تفریط و افراط و فرق روایات ظاہرہ و نادره و تمیز در آیات غامضه و ظاہر و منطوق و مفہوم و صریح و محتمل وقول بعض وجمهور ومرسل و معلل ووزن الفاظ مفتین وسیر مراتب ناقلین و عرف عام و خاص وعادات بلاد واشخاص و حال زمان و مکان واحوال رعایا و سلطان و حفظ مصالح دین و دفع مفاسدین و علم وجوه تجریح و اسباب ترجیح و منابع توفیق و مدارک تطبیق و مسالک تخصیص و مناسک تقیید و مشارع قيود وشوارع مقصود و جمع کلام و نقد مرام فہم مراد کا نام ہے کہ تطلع تام واطلاع عام و نظر دقیق و فکر عمیق و طول خدمت علم و ممارست فن و تيقظ وافی وذہن صافی معتاد تحقیق موید توفیق کا کام ہے، اور حقیقتہ وہ نہیں مگر ایک نور کہ رب عزوجل بمحض کرم اپنے بندہ کے قلب میں القا فرماتا ہے".
(فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 376 /377 )

جی کچھ سمجھ لگی ؟؟؟؟
جس بندے کو یہ عبارت سمجھ لگ جائے وہ کچھ نہ کچھ علم والا ہو گا۔
اور جس میں یہ سب ہوں وہ فقیہ ہو گا۔
اور *اعلیٰ حضرت افقہ الفقہاء ہیں* 🥰😍

17/03/2025

درگزر: دلوں کو جیتنے کا ہنر

کسی کی غلطی کو نظر انداز کرنا، محض ایک عمل نہیں بلکہ ایک عظیم صفت ہے۔ یہ کمزوری نہیں، بلکہ اس دل کی وسعت کا ثبوت ہے جو زخم کھا کر بھی مسکراتا ہے، جو دوسروں کی لغزشوں کو اپنے صبر کے سمندر میں اتار دیتا ہے۔

غلطیوں پر سختی کرنا آسان ہے، مگر محبت سے سمجھانا ایک فن ہے، ایک سحر ہے، جو دلوں کو جوڑ دیتا ہے، فاصلے مٹا دیتا ہے، اور روحوں میں ایسی مٹھاس بھر دیتا ہے جس کا ذائقہ زندگی بھر باقی رہتا ہے۔ درگزر کرنے والا دراصل وہ چراغ ہوتا ہے جو اندھیروں میں روشنی بکھیرتا ہے، نفرتوں کو مٹا کر محبت کے بیج بوتا ہے۔

اگر ہر غلطی پر طوفان اٹھا دیا جائے، تو رشتے کمزور ہو جاتے ہیں، مگر درگزر کی روش اپنانے والا دل ایسا باغ بن جاتا ہے جہاں صرف مہک باقی رہتی ہے، جہاں صرف سکون کا بسیرا ہوتا ہے۔

یاد رکھو! درگزر کرنے والا صرف دوسروں پر احسان نہیں کرتا، بلکہ اپنی روح کو بھی ہلکا کر لیتا ہے۔ کیونکہ معاف کرنا دل کی وہ پرواز ہے جو انسان کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔ اس لیے جہاں غلطی دیکھو، وہاں نرمی اور محبت کے ساتھ راستہ دکھاؤ، کیونکہ سختی بگاڑ دیتی ہے، جبکہ شفقت سنوار دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین

03/03/2025

خوشبو جب قرآن سے نکلتی ہے تو روح کو پاکیزہ کر دیتی ہے، جب نماز سے نکلتی ہے تو مومن کی معراج بن جاتی ہے اور جب دل سے نکلتی ہے تو پوری دنیا کو مہکا دیتی ہے، اللہ ﷻ سے دعا ہے آپ کو خانہ کعبہ اور روضہ نبی کریمﷺ کی خوشبو نصیب فرمائے۔
لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے رہیں، اس انتظار میں نہیں کہ وہ تمہاری نیکی لوٹائیں گے بلکہ اس عقیدہ کے ساتھ کہ اللہ ﷻ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے، اللہ ﷻ آپ کو اور آپ سے منسلک ہر شخص کو عزت وسکونِ قلب نصیب فرمائے اور تاحیات ایمان وعافیت کے ساتھ تندرست، سلامت اور شاد وآباد رکھے، کسی کا محتاج نہ کرے اور ہر وقت اپنی پناہ میں رکھے۔

اے اللہ میری ان تمام دعاؤں کو اپنے پیارے محبوب محمّد مصطفیٰ صلى الله تعالی علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے طفیل قبول فرما آمین یارب العالمین

"دار العلوم حنفیہ غوثیہ" کے روح پرور اور پرشکوہ تقسیم اسناد و دستارِ فضیلت کی تقریب، جہاں علم و عرفان کے چراغ روشن کیے ج...
21/02/2025

"دار العلوم حنفیہ غوثیہ" کے روح پرور اور پرشکوہ تقسیم اسناد و دستارِ فضیلت کی تقریب، جہاں علم و عرفان کے چراغ روشن کیے جاتے ہیں، ایک ایسا مبارک اجتماع ہوتا ہے جہاں اکابر اساتذہ، جلیل القدر علماء، اور مشائخ عظام سے شرفِ ملاقات نصیب ہوتا ہے۔

یہ موقع نہ صرف مکتب کے دیرینہ رفقاء سے تجدیدِ محبت کا باعث بنتا ہے، بلکہ اس پرنور محفل میں جب جید علماء، ممتاز قراء، اور حفاظ کرام کو عزت و تکریم سے نوازا جاتا ہے، تو وہ لمحات رحمت و برکت کا ایسا مظہر بن جاتے ہیں کہ دل و روح سرشار ہو جاتے ہیں۔

علم و فضیلت کی یہ تابناک تقریب، نہ صرف علمائے کرام کی محنت کا اعتراف ہے بلکہ امت کے لیے رشد و ہدایت کا پیغام بھی ہے!!

محمد احتشام قادری

میرا مادرِ علمی(دارالعلوم حنفیہ غوثیہ)عقیدت کے چند الفاظالحمد للہ! دارالعلوم حنفیہ غوثیہ، طارق روڈ، کراچی میرا مادرِ علم...
19/02/2025

میرا مادرِ علمی
(دارالعلوم حنفیہ غوثیہ)
عقیدت کے چند الفاظ

الحمد للہ! دارالعلوم حنفیہ غوثیہ، طارق روڈ، کراچی میرا مادرِ علمی ہے، جہاں سے میں نے دینِ متین کی روشنی پائی اور علمی پیاس بجھائی۔ یہ وہ عظیم علمی وروحانی مرکز ہے جہاں قرآن وسنت کی خوشبو سے دل ودماغ معطر ہوئے، اور ایمان کو جِلا ملی۔
میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنے محسن ومربی ومہرباں استاذ فضیلۃ الشیخ حضرت علامہ قاری عبدالقیوم محمود نقشبندی صاحب (مدظلہ العالی) اور نائب مہتمم حضرت علامہ صدیق صاحب زیدمجدہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کی قیادت، محنت اور خلوص کی بدولت یہ ادارہ علمی وروحانی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ ان کی شفقت، رہنمائی اور تربیت نے نہ صرف مجھے بلکہ سینکڑوں طلبہ کو علم وعمل کی دولت سے سرفراز کیا ہے اورآج تک کئی تشنگانِ علم اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیےزانوئے تلمذ ہیں۔
الحمدللہ! 16 فروری 2025ء کو "جلسۂ دستارِ فضیلت وتقسیمِ اسناد" کا کامیاب پروگرام اسی عظیم علمی مرکز میں منعقد ہوا، جس میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی علمی کاوشوں کا اعتراف کیا گیا اور انہیں دستارِ فضیلت واسناد سے نوازا گیا۔ یہ روح پرور محفل علم وعرفان کی روشنی سے منور رہی، جس میں علماء ومشائخ کی علمی وفکری خطابات نے ایمان کو تازگی بخشی اور حاضرین کے قلوب کو منور کیا۔
اس عظیم الشان تقریب میں مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی منیب الرحمٰن صاحب (دامت برکاتھم العالیہ) نے خصوصی خطاب فرمایا۔ آپ نے علمِ دین کی اہمیت، علماء کی ذمہ داری اور امت کی فلاح وبہبود کے لیے دینی تعلیمات کی ضرورت پر بصیرت افروز کلمات ارشاد فرمائے، جن سے سامعین کے دلوں میں حصولِ علمِ دین کی محبت مزید گہری ہوئی۔
اسی طرح میرے مربی ومشفق استاذ قبلہ شیخ الحدیث پروفیسر ڈاکٹر نور احمد شاہتاز صاحب (مدظلہ العالی) نے فکر انگیز اور مدلل خطاب فرمایا، جس میں علم وعمل کی ہم آہنگی، اخلاقی تربیت اور معاشرتی اصلاح پر مفید نکات بیان کیے۔ آپ کی گفتگو نے طلبہ اور حاضرین کو یہ پیغام دیا کہ علم کے ساتھ عمل اور اخلاص کو لازم وملزوم سمجھنا چاہیے تاکہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی ممکن ہو سکے۔
یہ عظیم شخصیات علم کے چراغ روشن کر رہی ہیں اور اُمت مسلمہ کو ایسے باصلاحیت علماء فراہم کر رہی ہیں جو دینِ اسلام کے خادم اور سفیر بن کر معاشرے میں خیر وبرکت کا سبب بن رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس مادرِ علمی کو دن دُگنی، رات چُگنی ترقی عطا فرمائے!
اللہ ربّ العالمین ہمارے شفیق اساتذۂ کرام کی عمر، صحت، علم اور عرفان میں مزید برکتیں اور وسعتیں عطا فرمائے، ان کا سایۂ عاطفت ہم پر تا دیر قائم رکھے، انہیں صحت وسلامتی کے ساتھ درازئ عمر بالخیر سے نوازے، اور ہمیں ان کے طفیل ملنے والی برکتوں، رحمتوں اور نعمتوں سے مستفید ہونے کی خوب توفیق مَرحمت فرمائے، آمین بجاہِ طہ الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم! والسلام مع الاکرام

محمد احتشام قادری
فاضل: دار العلوم حنفیہ غوثیہ
ریسرچ اسکالر ادارۂ اہل سنت کراچی
ایم فل اسکالر جامعہ کراچی
19 شعبان المعظم 1446ھ/ 18 فروری 2025ء

Address

Karachi

Telephone

+923464229577

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Muhammed Ahtesham Qadri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Mufti Muhammed Ahtesham Qadri:

Share