Mufti Muhammed Ahtesham

Mufti Muhammed Ahtesham islamic research scholar

25/08/2026

لمحہ فکریہ!
اب 295-C پر حملہ ہوا ہے۔ اس وقت نہ ب ا ب ا جی ہیں، نہ ان کے بیٹے۔ اس صورتِ حال میں یہ اُن لوگوں کے لیے بہترین موقع ہے، جنہیں ب ا ب ا جی اور ک ر ی ن پارٹی کے طریقۂ کار سے اختلاف تھا۔

اب وہ پیرانِ طریقت، ساداتِ کرام، مفتیانِ عظام اور علمائے ربانیین آگے آئیں اور ناموسِ رسالت ﷺ پر پہرہ دیں۔ جو بھی، جس مسلک سے بھی، آقا ﷺ کی ناموس پر پہرے داری کا اعلان کرے گا، ہم ان شاء اللہ اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

پاکستان کی اساس اسلام ہے۔ قائداعظمؒ کے نزدیک مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمۂ توحید تھی اور قیامِ پاکستان کا بنیادی محرک ...
14/08/2026

پاکستان کی اساس اسلام ہے۔ قائداعظمؒ کے نزدیک مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمۂ توحید تھی اور قیامِ پاکستان کا بنیادی محرک اسلام تھا۔ وہ پاکستان میں اسلامی اصولوں کے مطابق عدل، مساوات، جمہوریت اور رواداری پر مبنی معاشرہ چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک اسلام ہماری زندگی اور قومی وجود کا بنیادی سرچشمہ ہے۔

حوالہ: قائداعظمؒ، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، 8 مارچ 1944ء؛ اسلامیہ کالج پشاور، 13 جنوری 1948ء؛ 14 فروری 1947ء؛ 26 مارچ 1948ء۔

17/07/2026

نکاح میں کفو کی اہمیت، دیندار رشتہ کی ترجیح اور بروقت نکاح کی ترغیب

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے نکاح میں کفو (برابری)، دینداری، حسنِ اخلاق اور بروقت نکاح کی اہمیت کو اپنی شہرۂ آفاق تصنیف فتاویٰ رضویہ میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ آپ نے واضح کیا ہے کہ نکاح کے مقاصد کی تکمیل، خاندانی استحکام اور معاشرتی امن کے لیے مناسب اور موزوں رشتے کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ اسی طرح بلاوجہ تاخیر سے بچنے اور دیندار و خوش اخلاق رشتوں کو قبول کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔

یہ مضمون امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کی کتاب فتاویٰ رضویہ، کتاب النکاح سے ماخوذ ہے، جو فتاویٰ رضویہ، جلد 11، صفحہ 598 تا 600، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور میں مذکور ہے۔

اسلام نے نکاح کو ایک مضبوط اور پائیدار خاندانی نظام کی بنیاد قرار دیا ہے۔ نکاح کے مقاصد عموماً اس وقت بہتر انداز میں حاصل ہوتے ہیں جب میاں بیوی کے درمیان دینی، اخلاقی اور معاشرتی مناسبت اور ہم آہنگی موجود ہو۔ اسی مناسبت اور برابری کو فقہ کی اصطلاح میں "کفو" کہا جاتا ہے۔ اسی لیے اولیاء کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی زیرِ ولایت لڑکیوں کے لیے مناسب اور موزوں رشتہ تلاش کریں، کیونکہ بعض اوقات اگر اچھا رشتہ ضائع ہو جائے تو دوبارہ ویسا رشتہ میسر نہیں آتا۔

رسول اللہ ﷺ نے بروقت نکاح کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

«یا عليُّ! ثلاثٌ لا تؤخِّرها: الصلاةُ إذا أتت، والجنازةُ إذا حضرت، والأیمُ إذا وجدتَ لها کفئاً»

"اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرنا: نماز جب اس کا وقت آ جائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے، اور ایسی عورت کی شادی جب اس کے لیے مناسب رشتہ مل جائے۔"

ایک اور موقع پر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إذا جاءکم الأکفاءُ فأنکحُوهنّ، ولا تربّصوا بهنّ الحدثان»

"جب تمہارے پاس مناسب اور برابر کا رشتہ آئے تو لڑکیوں کا نکاح کر دو اور انہیں حالات و واقعات کے انتظار میں نہ رکھو۔"

اس ارشادِ نبوی کا مقصد یہ ہے کہ بلاوجہ تاخیر بعض اوقات ایسے مسائل اور مشکلات کو جنم دیتی ہے جن سے بچنا ممکن نہیں رہتا، اس لیے مناسب رشتہ ملنے پر نکاح میں غیر ضروری تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

اسی طرح *اسلام نے رشتہ قبول کرنے کے لیے مال و دولت، حسب و نسب اور دنیاوی وجاہت کے بجائے دین داری اور اچھے اخلاق کو بنیادی اہمیت دی ہے*۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«إذا أتاکم مَن تَرضَون خُلقَه ودِینَه فزوِّجوه، إلّا تفعلوا تکن فتنةٌ في الأرض وفسادٌ عریضٌ»

"جب تمہارے پاس ایسا شخص رشتہ لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کر دو، اور اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد پیدا ہو جائے گا۔"

یہ حدیث اس بات کی واضح رہنمائی کرتی ہے کہ دیندار اور خوش اخلاق شخص کا رشتہ محض دنیاوی وجوہات کی بنا پر رد کرنا معاشرے میں بے راہ روی، فتنہ اور سماجی خرابیوں کا سبب بن سکتا ہے۔

فقہائے کرام نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ اگر کسی لڑکی کے لیے مناسب اور موزوں رشتہ موجود ہو اور قریبی ولی کی آمد یا رائے کا انتظار کرنے سے اس رشتے کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں لڑکی کے مفاد اور مصلحت کو مقدم رکھا جائے گا، تاکہ اس کا حق ضائع نہ ہو اور اس کے لیے مناسب رشتہ ہاتھ سے نہ نکل جائے۔

خلاصہ

اسلام نکاح میں دینی، اخلاقی اور معاشرتی ہم آہنگی کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور مناسب رشتہ ملنے کے بعد بلاوجہ تاخیر کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ والدین اور اولیاء کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین دار، خوش اخلاق اور مناسب رشتوں کو ترجیح دیں تاکہ فرد، خاندان اور پورا معاشرہ فتنہ و فساد سے محفوظ رہ سکے۔

10/07/2026

کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ تنظیمیں، گروہ بندیاں اور سیاسی ونگز موجود ہوتے ہیں۔ آئے دن جھگڑے، تصادم اور تشدد کے واقعات پیش آتے ہیں، جن میں کبھی قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں اور کبھی نوجوان عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب مدارس ہیں، جہاں نہ طلبہ تنظیموں کی کشمکش، نہ سیاسی گروہ بندی اور نہ ہی اس نوعیت کے تصادم دیکھنے کو ملتے ہیں۔

پھر آخر ایسا کیوں ہے کہ تنقید کا ہدف زیادہ تر مدارس ہی بنتے ہیں؟

الحمد للہ رب العالمین!اللہ کے فضل و کرم سے میرا ایم فل (M Phil) کا تعلیمی سفر شعبۂ قرآن وسنہ، کلیۂ معارفِ اسلامیہ، جامعہ...
02/07/2026

الحمد للہ رب العالمین!
اللہ کے فضل و کرم سے میرا ایم فل (M Phil) کا تعلیمی سفر شعبۂ قرآن وسنہ، کلیۂ معارفِ اسلامیہ، جامعہ کراچی میں کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا اور یہ ڈگری محض ایک سند نہیں، بلکہ ایک امانت ہے۔
یہ کامیابی میرے والدین کی راتوں کی جاگتی دعاؤں، ان کی چپ چاپ قربانیوں اور بے انتہا حوصلہ افزائی کا ثمر ہے۔ ان کے سایۂ شفقت کے بغیر یہ منزل ناممکن تھی۔
میں اپنے اساتذۂ کرام کا دل سے شکرگزار ہوں بالخصوص پروفیسر ڈاکٹر نور احمد شاہتاز، ڈاکٹر سید غضنفر احمد، ڈاکٹر مفتی عمران الحق کلیانوی، شعبۂ قرآن وسنہ کی سربراہ ڈاکٹر زینت ہارون اور ڈاکٹر مہربان باروی جن کی علمی رہنمائی، شفقت اور وقت کی قربانی نے مجھے نہ صرف کتابیں پڑھائیں، بلکہ سوچنا، سمجھنا اور پرکھنا سکھایا۔
میرے تمام ساتھیوں، دوستوں اور ہر اس ہستی کا بھی شکریہ جس نے دعا دی، حوصلہ بڑھایا یا ساتھ دیا چاہے وہ ایک لمحہ ہو یا ایک عمر۔
دعا ہے کہ اللہ میرے والدین، اساتذہ، احباب اور تمام محسنین کو بہترین بدلہ عطا فرمائے اور مجھے اس علم کو دینِ اسلام کی خدمت میں لگانے کی توفیق دے، تاکہ یہ محض ایک ڈگری نہ رہے، بلکہ ایک راستہ بنے۔
آمین یا رب العالمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ وآلہ وصحبہ أجمعین۔

20/06/2026

اسلام میں نسل پرستی، غرور، تکبر، اور کسی کی ذات، غربت یا نسل پر طنز و تنقید کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے متعدد مواقع پر اس حقیقت کو واضح فرمایا:

فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمایا:
«ألحمد ﷲ الذی أذهب عنکم عيبة الجاهلية و تکبرها. بأباها الناس رجلان برتقی کريم علی اﷲ وفاجر شقی هين علی اﷲ، والناس بنو آدم و خلق اﷲ آدم من تراب»
"شکر ہے اس خدا کا جس نے تم سے جاہلیت کا عیب اور غرور دور فرمایا۔ لوگو! تمام انسان دو قسم کے ہیں: نیک پرہیزگار جو اللہ کے نزدیک عزت والا، اور فاجر بدبخت جو اللہ کے نزدیک ذلیل۔ سب آدم کی اولاد ہیں، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے۔"

حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:
«يٰا أيّها الناس ان ربکم واحد لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لأسود علی أحمر ولا لا حمر علی أسود إلا بالتقوی إن أکر مکم عند اﷲ أتقٰــکم ألا هل بلغت؟ قالوا بلی يا رسول اﷲ قال فليبلغ الشاهد الغائب»
"لوگو! تمہارا رب ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر، عجمی کو عربی پر، کالے کو سرخ پر، یا سرخ کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کے ذریعے۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟" صحابہ نے کہا: ہاں۔ فرمایا: "جو حاضر ہیں وہ غیر حاضرین تک پہنچا دیں"۔

ایک اور حدیث میں ہے:
«إن اﷲ لا ينظر إلی صورکم وأموالکم ولکن ينظر إلی قلوبکم و أعما لکم»
"بے شک اللہ تمہاری صورتیں اور مال نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دل اور اعمال دیکھتا ہے"۔

اسلام نے ان اصولوں کو عملی جامہ پہنایا ایک ایسی عالمگیر برادری قائم کی جہاں رنگ، نسل، زبان، وطن یا قومیت کی کوئی تفریق نہیں، نہ چھوت چھات ہے اور نہ تعصب۔ ہر انسان، خواہ کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، مکمل مساوی حقوق کا حامل ہے۔ یہاں تک کہ مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انسانی مساوات کا یہ عملی نمونہ دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتا۔ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس نے مختلف قوموں کو ملا کر ایک امت بنایا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ"جس نے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کی، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے"۔(سنن ابنِ ماجہ: 3123)
25/05/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
"جس نے استطاعت کے باوجود قربانی نہ کی، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے"۔
(سنن ابنِ ماجہ: 3123)

22/04/2026

احسان فراموشی ناشکری کی ایک شکل ہے، جس میں انسان دوسروں کی بھلائی کو بھلا دیتا ہے۔ یہ دل کی سختی اور تکبر کی علامت ہے ۔
اس کے برعکس، احسان شناسی ایمان کی مضبوطی، عاجزی اور محبت کا سبب بنتی ہے، اور انسان کو اللہ اور لوگوں کے قریب کر دیتی ہے۔

21/08/2025

*فاتحِ قادیانیت*
برصغیر کی تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے وقت کے سب سے بڑے فتنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہی میں ایک نام ہے *تاجدارِ گولڑہ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی* رحمۃ اللہ علیہ کا، جنہیں دنیا *"فاتحِ قادیانیت"* کے لقب سے یاد کرتی ہے۔ آپ نے نہ صرف اپنے علم وتقویٰ سے لوگوں کے دلوں کو منور کیا بلکہ مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوے کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن گئے۔
1859ء میں گولڑہ شریف کے علمی وروحانی گھرانے میں پیدا ہونے والے سید مہر علی شاہ کا سلسلہ نسب براہِ راست حضرت سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور پھر امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ بچپن ہی میں قرآن مجید حفظ کر لیا اور پھر فقہ، حدیث، منطق اور تفسیر جیسے علوم میں مہارت حاصل کی۔ تعلیم کے بعد گولڑہ واپس آکر تدریس وارشاد کا سلسلہ شروع کیا۔
بیعت وخلافت آپ کو خواجہ شمس الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ سے نصیب ہوئی۔ آپ کی زندگی زہد وعبادت، قناعت اور سخاوت کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کے قلم سے "شمس الہدایہ"، "سیفِ چشتیائی" اور "فتاویٰ مہریہ" جیسی علمی شاہکار تصانیف وجود میں آئیں۔
انیسویں صدی میں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو سب سے بھرپور علمی وروحانی رد پیر مہر علی شاہ ہی نے دیا۔ آپ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ حقیقت واضح کر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ آپ نے مناظرہ قبول کیا مگر قادیانی فریق سامنے آنے کی جرات نہ کر سکا۔ آپ کی تصنیف "سیفِ چشتیائی" نے قادیانیت کے نظریات کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔
آپ کا اندازِ فکر یہ تھا کہ *دنیاوی اقتدار اور حکمرانوں کی قربت سے بچنا ہی اللہ والوں کا شیوہ ہے۔ آپ فرمایا کرتے: "علم وہی ہے جو دوسروں کو فائدہ دے، اور درویشی محض نام کی نہیں بلکہ مسلسل مجاہدے کا تقاضا کرتی ہے"۔*
پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے چند ایسے ہی اَقوالِ زَریں حسبِ ذیل ہیں:
(1) دنیا اور حکمرانوں سے بے رغبتی اللہ والوں کا خاص وطیرہ ہے۔
(2) درویشی مُجاہدہ کا نام ہے۔
(3) درویشوں کو شاہی دربار کی حاضری مناسب نہیں۔
(4) مرید کہلانے کا مستحق وہی شخص ہے جو پیر کی ہدایت پر عمل پَیرا ہو۔
(5) پیر کے معنی یہ ہیں کہ ہر ایک کو آسمانی کتاب (قرآنِ کریم) کے مُطابق ہدایت دے۔
(6) جو شخص علم پڑھ کر تعلیم نہیں دیتا، اس کی مثال درخت بےثمر کی سی ہے۔
(7) انسان کو ہمیشہ خود کو باجمال رکھنا چاہیے؛ کیونکہ اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔
(8) دشمنوں کی اِیذا رَسانی پر صبر کرو، اللہ تعالی تمہیں اس پر بےحساب اجر دے گا۔
(9) سیادت اعلیٰ شرف ہے، اسے حقیر دنیا کے (حُصول) لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
(10) بغیر علمِ دین اور تعلیمِ شارع (تعلیماتِ نبوی کے) ایسے راستے کا معلوم کر لینا، جس سے اپنے خالق عزوجل کی رضا حاصل کی جائے، نا ممکن ہے۔
(11) بغیر علم کے انسان گویا مُردہ ہوتا ہے۔
(12) باہم اِخلاص اور محبت واُلفت کا ہونا اہلِ اسلام کی اعلیٰ صفات میں سے ہے۔
(13) جب تک اپنے سر سے بزرگی کی بُو نہیں نکالو گے، بارگاہِ بزرگِ حقیقی میں کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکو گے۔
(14) بہت سے لوگ (رُوحانی اعتبار سے) محض اس لیے خالی اور خشک رہ جاتے ہیں، کہ ہر وقت اپنی خودی اور فخر پر نظر رکھتے ہیں۔
1937ء میں آپ اس دنیا سے رخصت ہوئے مگر گولڑہ شریف آج بھی روحانیت اور فیضان کا مرکز ہے۔ لاکھوں لوگ وہاں حاضری دے کر سکون حاصل کرتے ہیں۔
حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ دین کی سربلندی صرف قلم اور زبان سے نہیں بلکہ کردار سے بھی قائم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے آپ کو ہمیشہ "فاتحِ قادیانیت" کے طور پر زندہ رکھا ہے۔
(ماخوذ: "سیرت حضرت پیر مہر علی شاہ"، "مہرِ منیر"، "فیضانِ پیر مہر علی شاہ"، " اِعلاءُ کلمۃ اللہ وما اُھِلّ بہ لِغیر اللہ "، "تحریکِ ختم ِ نبوّت میں حضرت پیر مہر علی شاہ کا مجدِّدانہ کردار"، "حضرت پیر مہر علی شاہ اور ردّ قادیانیت")

از: مفتی محمد احتشام قادری
ہنگورو عبد الرزاق
Mufti Zaman Noori Shazli
Mufti Furqan Madani Furqan
Mufti Azhar Madni
Mufti Mohammad Rashid Masoodi
Mufti Muhammad Arif Hussain
Mufti Zahoor Ahmed Qadri
Abdul Hai Muhammadi
Muhammad Kashif Mahmood

19/08/2025

امام احمد رضا خان بریلوی: آفتابِ علم وعرفان

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت تاریخِ اسلام میں ایک ایسا درخشندہ ستارہ ہے جس کی روشنی صدیوں تک قلوب کو منور کرتی رہے گی۔ آپ کی ذات وہ گلِ سرسبد ہے جس میں علم وعرفان کی خوشبو بھی ہے اور عشقِ رسول ﷺ کی مہک بھی۔
ولادت اور نام ونسب:
۱۴ جون ۱۸۵۶ء مطابق ۱۰ شوال ۱۲۷۲ھ کو بریلی شریف کے محلہ جسولی میں وہ دن طلوع ہوا جب آسمانِ ہند پر علم کا سورج چمک اٹھا۔ والد ماجد علامہ نقی علی خان اور دادا حضور نے آپ کا نام "احمد رضا" رکھا، اور یہی نام تاریخ میں روشن ہو گیا۔
کم عمری میں تکمیلِ علوم:
جب عمر صرف تیرہ برس تھی تو آپ نے تمام علومِ مروجہ پر دسترس حاصل کر لی۔ وہی دن تھا جب آپ نے پہلا فتویٰ دیا، اور والدِ گرامی نے مسندِ افتاء آپ کے سپرد کر دی۔ اس دن سے آخر دم تک آپ کی زندگی کا ہر لمحہ علم، فتویٰ اور خدمتِ دین میں گزرا۔
حج و زیارتِ مدینہ:
اعلیٰ حضرت نے دو مرتبہ حرمین شریفین کی سعادت پائی۔ مکہ معظمہ میں جب مفتی شافعیہ حسین جمل اللیل نے آپ کی پیشانی کو تھام کر فرمایا:
"بے شک اس پیشانی میں اللہ کا نور جھلکتا ہے"
تو یہ آپ کی علمی اور روحانی عظمت کی شہادت تھی۔
مدینہ منورہ میں جاگتی آنکھوں سے بارگاہِ رسالت ﷺ کی زیارت آپ کی زندگی کا سب سے حسین لمحہ تھا، جو آپ کے عشقِ رسول ﷺ کی معراج بھی ہے۔
علمی تبحر اور تصانیف:
اعلیٰ حضرت صرف ایک مفتی نہیں بلکہ علوم کے سمندر تھے۔
فقہ میں "فتاویٰ رضویہ" اور "جد الممتار"۔
حدیث میں "منیر العین" اور "شمائم العنبر"۔
عقائد میں "المعتمد المستند" اور "تمہید ایمان"۔
فلسفہ، سائنس اور فلکیات میں بے شمار شاندار تصنیفات۔
نعتیہ شاعری میں "حدائقِ بخشش" جیسا عظیم شاہکار، جسے اردو ادب کے بلند ترین دیوانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
آپ کی تصانیف صرف دلائل سے مزین نہیں بلکہ عشق وحکمت کی روشنی سے جگمگاتی ہیں۔
مرجعِ فتاویٰ اور عالمی مقام:
اعلیٰ حضرت کی علمی وفقہی بصیرت کا یہ عالم تھا کہ ہند وپاک سے لے کر حجاز، برما، چین، افریقہ اور یورپ تک کے مسلمان مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرتے۔ آپ کا قلم صرف کاغذ پر نہیں بلکہ دلوں پر فیصلہ لکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ صدر الافاضل علامہ نعیم الدین مرادآبادی نے فرمایا:
"اس صدی میں دنیا بھر کا ایک ہی مفتی تھا، جس کی طرف سب رجوع کرتے تھے، اور وہ تھے امام احمد رضا خان"۔
وفات اور مزارِ انوار:
۲۵ صفر ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۹۲۱ء، بروز جمعہ، عین وقتِ اذانِ جمعہ جب مؤذن نے صدا دی "حَیَّ عَلَی الفَلَاح"، تو ادھر اعلیٰ حضرت نے ربِّ کائنات کے بلاوے پر لبیک کہا۔
آج بھی آپ کا مزار بریلی شریف میں مرجعِ خلائق ہے، جہاں عاشقانِ رسول ﷺ فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔
امام احمد رضا خان صرف ایک فقیہ یا محدث نہیں، بلکہ وہ مجددِ وقت، عاشقِ رسول ﷺ، صوفیِ باصفا، اور علومِ عقلیہ و نقلیہ کے جامع امام تھے۔ سو برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی آپ کی تصانیف دنیا بھر میں چراغ کی طرح روشنی پھیلا رہی ہیں۔ آپ کے فیضان سے پی ایچ ڈی اور ایم فل کی تحقیقیں جاری ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کے سمندرِ علم کا کنارہ آج تک کسی کو نہ ملا۔
🌹 امام احمد رضا خان بریلوی کا نام جب لیا جاتا ہے تو زبان پر یہ شعر بے ساختہ آ جاتا ہے:
تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اُس سے سِوا تم ہو
قسیمِ جامِ عرفاں اے شہِ احمد رضا تم ہو
یہ ہے وہ جادوئی حقیقت کہ امام احمد رضا خان بریلوی صرف ایک شخصیت نہیں، بلکہ وہ عہد ساز فکر ہیں، ایک روشن مینار ہیں، اور اہلِ سنت کے لیے قیامت تک مشعلِ راہ ہیں۔
از: مفتی محمد احتشام قادری ہنگورو عبد الرزاق قادری

Address

Karachi

Telephone

+923464229577

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Muhammed Ahtesham posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Mufti Muhammed Ahtesham:

Shortcuts

Share