17/08/2026
🕋 3 ربیع الاول — کعبۂ معظمہ پر حملہ
امام حسینؑ کی شہادت کے بعد عبداللہ بن زبیر نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اور مکہ میں پناہ لی۔
یزید نے مخالفت ختم کرنے کے لیے شامی فوج مکہ کی طرف روانہ کی، جس کی قیادت بعد میں حصین بن نمیر نے کی۔
مکہ کے محاصرے کے دوران تاریخی روایات کے مطابق منجنیقوں سے مکہ پر پتھر اور آتش گیر چیزیں پھینکی گئیں۔
3 ربیع الاول 64ھ کے قریب کعبہ کو آگ لگی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔
کعبہ کا غلاف جل گیا اور عمارت کے بعض حصے متاثر ہوئے۔
بعض تاریخی روایات میں حجرِ اسود کے ٹکڑے ہونے کا بھی ذکر ملتا ہے۔
شیعہ مؤرخین و علماء اس واقعے کو یزید کی حکومت کے دور کا ایک سنگین جرم اور بیت اللہ کی بے حرمتی قرار دیتے ہیں۔
یہ واقعہ یزید کے دور کے ان بڑے سانحات میں شمار کیا جاتا ہے جن میں:
واقعۂ کربلا
واقعۂ حرّہ اور مدینہ کی تباہی
مکہ کا محاصرہ اور کعبہ کو پہنچنے والا نقصان
📚 اہم تاریخی مراجع:
تاریخ الطبری
البدایہ والنہایہ — ابن کثیر
الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر