21/03/2023
سوال:
1- اگر چار رکعت والی فرض نماز اکیلے پڑھتے ہوئے تیسری یا چوتھی کسی ایک یا دونوں رکعت میں فاتحہ کے بعد سورت ملا دی جائے تو سجدہ سہوہ ادا کرنا پڑے گا؟
2- اگر چار رکعت سنت میں تیسری یا چوتھی کسی ایک یا دونوں رکعت میں فاتحہ کے بعد سورت ملانا بھول جائیں تو وہاں بھی سجدہ سہوہ لازم ہو گا یا نہیں؟
جواب:
1- فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرنا مسنون ہے، سنت یہ ہے کہ سورت نہ ملائی جائے، لیکن اگر کوئی بھولے سے سورت بھی پڑھ لیتا ہے تو اس سے سجدۂ سہو واجب نہ ہو گا، البتہ جان کر ایسے نہیں کرنا چاہیے، ورنہ مکروہ ہوگا۔
2- نفل سنت وتر کی تمام رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا واجب ہے، اگر نفل کی تیسری یا چوتھی رکعت میں یا دونوں میں سورت پڑھنا بھول گیا تو سجدۂ سہو واجب ہوگا۔
وفي الفتاوى الهندية:
"ولو قرأ في الأخريين الفاتحة والسورة لايلزمه السهو، وهو الأصح".
(1/ 126ط:دار الفكر)
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين :
"(واكتفى) المفترض (فيما بعد الأوليين بالفاتحة) فإنها سنة على الظاهر، ولو زاد لا بأس به.
(قوله: ولو زاد لا بأس) أي لو ضم إليها سورةً لا بأس به؛ لأنّ القراءة في الأخريين مشروعة من غير تقدير".
(رد المحتار1/ 511ط:)
وفي الفتاوى الهندية :
"وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق وفي جميع ركعات النفل والوتر. هكذا في البحر الرائق."
(1/ 71ط:دار الفكر
واللہ اعلم باالصواب دارالافتاء مظہر العلوم طالب دعا مولوی عبدالستار حسنی صاحب