26/07/2026
*"زبان اور قلم ایک امانت "*
سوشل میڈیا پر گردش کردہ حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کے بارے میں ایک سطحی مضمون کے اوپر رد
قلم اور لفظ اللہ رب العزت کی عطا کردہ وہ عظیم امانتیں ہیں، جن کی حرمت کا پاس رکھنا ہر صاحبِ قلم پر فرض ہے۔ جب تاریخ کے اوراق پر کسی ایسی عظیم ہستی کا نقش کھینچا جا رہا ہو جس نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی ترویج اور تقویٰ کے سائے میں گزاری ہو، تو یہ ذمہ داری مزید بھاری ہو جاتی ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تحریر گردش کرتی نظر آئی جس کا عنوان تھا: "وہ بندہ جس سے گولیاں بھی شرما گئیں"۔ یہ تحریر شہیدِ جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن و سابق مہتمم، حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کے بارے میں تھی۔ بظاہر یہ مضمون عقیدت میں لکھا گیا ہے، لیکن اس کا سطحی انداز، لسانی بے ربطی اور حقائق کو سنسنی خیز ڈرامے کا رنگ دینے کی کوشش دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تحریر تحقیق کے بجائے محض "مصنوعی ذہانت" (AI) کے ذریعے جوڑ توڑ کر تیار کی گئی ہے۔
کسی عظیم شخصیت سے عقیدت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تاریخ کو افسانوی رنگ دے کر من گھڑت واقعات گھڑے جائیں۔ اس تحریر میں کئی ایسی فکری، تاریخی اور لسانی غلطیاں موجود ہیں جن کی اصلاح دیانتِ علمی کا تقاضا ہے:
سب سے پہلے تو مضمون کا لسانی سقم ہی اس کے غیر معیاری ہونے کی دلیل ہے۔
مضمون کا عنوان ہی غلط ہے کیونکہ گولیاں اگر شرما جاتیں ہیں تو شہید نہ کرتیں۔ نانا ابو رحمہ اللہ کے علمی ذوق اور مطالعے کی کثرت کو "کتابیں کھاتا تھا" جیسے عجیب اور مضحکہ خیز الفاظ سے بیان کیا گیا۔ اردو زبان و ادب میں یہ کوئی محاورہ نہیں، بلکہ یہ سراسر ایک بھونڈا ترجمہ محسوس ہوتا ہے۔ علم سے محبت کو ایسی تشبیہ دینا جس سے کسی بیماری (کاغذ کھانے) کا گمان ہو، قلم کی بے بسی ہے۔
اسی طرح تحریر میں بچپن کے واقعات کو بھی بے جا مبالغہ آرائی کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ ہجرت کے وقت آپ کی عمر تین سال نہیں بلکہ دو سال تھی۔ والدین کے درمیان "حکیم بنے گا یا عالم" کے مکالمے اور جیب میں پیسے نہ ہونے کے باوجود "دماغ میں آگ" ہونے جیسی فلمی منظر کشی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مہاجرین جو کچھ لا سکتے تھے، ساتھ لائے تھے،اس لیے یہ کہنا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔
دارالعلوم کراچی میں داخلے کے وقت اسباق کا فوراً یاد ہوجانا، یا بنوری ٹاؤن میں ایک ہی نظر میں کتاب یاد کر لینے کی شہرت کے واقعات مکمل طور پر غیر ثابت شدہ ہیں۔ حضرت شہیدؒ پر شائع ہونے والے ضخیم "خاص نمبر" میں ایسی کسی بات کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اسی طرح، محدثِ العصر حضرت علامہ بنوری رحمہ اللہ کی طرف مدینہ بھیجتے وقت یہ قول منسوب کرنا کہ "وہاں سے آگ لے کر آؤ"، سراسر من گھڑت اور اکابرین کے انداز کے خلاف ہے۔ اسی طرح مدینہ منورہ میں عرب اساتذہ کے مبالغہ آمیز مکالمے بھی محض کہانی میں رنگ بھرنے کے لیے گھڑے گئے ہیں۔
مضمون کی سب سے بڑی فکری خامی اور افسوسناک پہلو وہ انداز ہے جس میں علماء کے منصب کو "مولوی والی ٹوپی" کہنا اور پھر اس کا "ڈاکٹر والی ڈگری" کے ساتھ موازنہ کیا گیا ہے۔ مضمون نگار نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ شاید اصل عزت پی ایچ ڈی کی ڈگری کی ہے۔
"اور لوگ ان پر ہنستے تھے"۔ یہ صریحاً علمائے کرام کے مقام سے ناواقفیت اور ایک طرح کے بغض کی عکاسی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علمائے حق کے نزدیک اصل وقار ان کا علمِ دین اور ان کا اتباع سنت ہے۔ نانا ابو رحمہ اللہ خود لفظ "ڈاکٹر" کہلانے کو ناپسند فرماتے تھے۔ حضرت بنوریؒ نے تو پی ایچ ڈی پر یہاں تک فرمایا تھا کہ "زیادہ سے زیادہ تمہارے گھر کے باہر ڈاکٹر کی تختی لگ جائے گی"، اس قول کو حضرت شہید رحمہ اللہ نے خود نقل فرمایا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکابرین ان دنیاوی ڈگریوں کو دین پر فوقیت نہیں دیتے تھے۔ آپ نے یہ ڈگری بغیر کسی یونیورسٹی کی کلاسز لیے، اپنے علمی رسوخ کی بنیاد پر حاصل کی تھی اور کوئی ان پر ہنسا نہیں تھا، کیونکہ وہ اس وقت بھی بنوری ٹاؤن کے ایک مایہ ناز عالم تھے۔
تحریر میں دینی مناصب کے لیے "باس" اور "سلطنتوں" جیسے بازاری اور دنیاوی الفاظ کا استعمال بھی شدید نامناسب ہے۔ مدینہ سے واپسی اور 30 ہزار مدارس کی ذمہ داری آنے کے درمیان ایک طویل عرصہ اور حضرت بنوریؒ و مفتی احمد الرحمنؒ کا دور گزرا ہے۔ مزید یہ کہ ان مناصب کا فیصلہ کسی بیرونی "پنچایت" یا بزرگوں کے مجمع نے نہیں، بلکہ جامعہ کی مستند اور باوقار "مجلسِ شوریٰ" نے متفقہ طور پر کیا تھا۔
شہادت کے واقعے کی منظر کشی میں بھی حقائق کو بری طرح مسخ کیا گیا۔ یہ واقعہ کورنگی روڈ پر نہیں، بلکہ جامعہ کے قریب بزنس ریکارڈر روڈ پر پیش آیا تھا۔ قاتلوں نے صرف شیشے نہیں توڑے تھے، بلکہ سیدھی فائرنگ کی تھی، جس کے بعد کی صورتحال کو "خون میں لت پت مسکراہٹ" کہہ کر ایک ڈرامائی شکل دینا شہداء کے ورثاء کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ قاتلوں کے حوالے سے یہ دعویٰ کہ وہ آج تک نہیں پکڑے گئے، اسی طرح وفاق المدارس کی فائلوں پر آج بھی "منظور شدہ از مختار شہید" لکھے ہونے کی باتیں سو فیصد جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔
عقیدت کا اظہار تاریخ کو بگاڑ کر نہیں، بلکہ سچائی کو عام کر کے کیا جاتا ہے۔ بڑی شخصیات کی زندگی اور ان کے کارناموں میں بذاتِ خود اتنی کشش اور نور ہوتا ہے کہ انہیں کسی سستی مبالغہ آرائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
میرا مضمون نگار اور قارئین کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ اگر وہ واقعی حضرت ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی عظیم شخصیت، ان کے علمی مقام، ان کے تقویٰ اور ان کی خدمات کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو سنی سنائی باتوں پر انحصار کرنے کے بجائے جامعہ کے شعبہ " بینات" کی طرف سے شائع کردہ ان کے مستند "خاص نمبر" کا مطالعہ کریں۔ وہاں انہیں معلوم ہوگا کہ اکابرین کی زندگیاں کیسی ہوتی ہیں اور تاریخ کو کس احتیاط اور ادب کے ساتھ محفوظ کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقائق کو سمجھنے، امانتِ قلم کا پاس رکھنے اور اکابرین کا ذکر ان کے شایانِ شان طریقے سے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
از : نواسۂ حضرت شہید رحمہ اللہ و طالب علم جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن