Discover Islam - Knowledge and Inspiration

Discover Islam - Knowledge and Inspiration The aims of the page:
"Discover Islam - Knowledge and Inspiration"

With Azizen – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
21/01/2026

With Azizen – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

11/01/2026

سلسلۂ تدبّرِ قرآنِ حکیم و آیاتِ بیّنات
قسط 4 | سورۃ البقرہ: آیات 8–16
#ترجمہ
8. اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم

اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے، حالانکہ وہ ایمان والے

نہیں ہوتے۔

9. وہ اللہ کو اور اہلِ ایمان کو دھوکا دینا چاہتے ہیں، مگر

درحقیقت وہ خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں، اور انہیں

اس کا شعور نہیں۔

10. ان کے دلوں میں ایک روگ ہے، تو اللہ نے ان کے اس روگ

کو اور بڑھا دیا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، اس وجہ

سے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے۔

11. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ

پھیلاؤ، تو وہ کہتے ہیں: ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔

12. خبردار! حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں،

مگر وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔

13. اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح دوسرے لوگ

ایمان لائے ہیں تم بھی ایمان لے آؤ، تو کہتے ہیں: کیا ہم

ویسے ایمان لائیں جیسے نادان لوگ ایمان لائے ہیں؟ خبردار! نادان تو یہی لوگ ہیں، مگر وہ جانتے نہیں۔

14. اور جب وہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم

ایمان لے آئے، اور جب اپنے شیطانوں (سردارانِ باطل) کے

پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو

صرف ان سے مذاق کرتے ہیں۔

15. اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، اور انہیں ان کی سرکشی

میں ڈھیل دیے جا رہا ہے، اور وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

16. یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی

خرید لی، پس ان کی تجارت نہ نفع بخش ہوئی اور نہ ہی

وہ ہدایت پانے والے بن سکے۔

#تفسیر
جو لوگ زندگی میں فائدے اور مصلحت کو سب سے بڑی

قدر سمجھ لیتے ہیں، ان کے نزدیک یہ سراسر نادانی ہوتی

ہے کہ کوئی شخص بغیر کسی تحفظ کے، پوری سچائی کے

ساتھ، خود کو حق کے حوالے کر دے۔ ایسے لوگوں کی اصل

وفاداریاں ان کے دنیوی مفادات کے ساتھ ہوتی ہیں۔ البتہ وہ

بظاہر حق کے ساتھ بھی ایک تعلق قائم رکھتے ہیں، اور اسے

اپنی عقل مندی سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ اس

طرح ان کی دنیا بھی محفوظ رہے گی اور حق پرستی کا

نام بھی حاصل ہو جائے گا۔

مگر یہ محض ایک خوش فہمی ہوتی ہے، جس کا وجود

صرف انسان کے اپنے ذہن میں ہوتا ہے، حقیقت کی دنیا میں

اس کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ آزمائش کا ہر موقع انہیں

سچے دین سے مزید دور اور اپنے خود ساختہ، مفاد پرستانہ

دین کے مزید قریب کر دیتا ہے۔ یوں رفتہ رفتہ ان کے نفاق

کا مرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔

جب یہ لوگ سچے اہلِ ایمان کو دیکھتے ہیں تو انہیں یوں

محسوس ہوتا ہے کہ وہ محض سچائی کی خاطر اپنی

زندگی کو خواہ مخواہ خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اس کے

مقابلے میں اپنے طرزِ عمل کو وہ اصلاح کا راستہ قرار دیتے

ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک اس طریقے میں نہ کسی سے

ٹکراؤ ہے اور نہ قربانی کی ضرورت۔ مگر یہ محض بے

شعوری ہے۔

اگر وہ سنجیدگی سے غور کریں تو ان پر واضح ہو جائے کہ

اصل اصلاح یہ ہے کہ بندہ پوری طرح اپنے رب کا ہو جائے۔

اس کے برعکس، فساد یہ ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان

صحیح تعلق قائم کرنے کی کوشش میں رکاوٹیں ڈالی

جائیں۔ ان کا یہ بظاہر نفع بخش سودا درحقیقت سراسر

گھاٹے کا سودا ہے، کیونکہ وہ خالص حق کو چھوڑ کر

ملاوٹ شدہ حق کو اختیار کر رہے ہوتے ہیں، جو نہ دنیا میں

کام آتا ہے اور نہ آخرت میں۔

دنیوی معاملات میں حد درجہ ہوشیاری اور آخرت کے

معاملے میں سرسری امیدوں پر تکیہ کرنا، گویا اللہ کے

حضور جھوٹا دعویٰ کرنا ہے۔ جو لوگ اس روش پر قائم

رہتے ہیں، انہیں بہت جلد معلوم ہو جاتا ہے کہ ایسی دو

رخی زندگی اللہ کے ہاں عذاب کے سوا کسی اور انجام کی

مستحق نہیں۔
#تفیہم #قران #قرانكريم #قرآن

سلسلۂ تدبّرِ قرآنِ حکیم و آیاتِ بیّناتقسط 3 | سورۃ البقرہ: آیات 6–7 #ترجمہ 6. جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے برابر ہے کہ...
09/01/2026

سلسلۂ تدبّرِ قرآنِ حکیم و آیاتِ بیّنات
قسط 3 | سورۃ البقرہ: آیات 6–7

#ترجمہ
6. جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے برابر ہے کہ آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
7. اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے، اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔



جس طرح کوئی شخص اپنی آنکھیں بند کر لے تو آنکھیں رکھتے ہوئے بھی سورج کو نہیں دیکھ پاتا، اور جس طرح کوئی اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لے تو کان ہونے کے باوجود آواز نہیں سن سکتا، اسی طرح حق کا معاملہ بھی ہے۔ حق کا اعلان خواہ کتنا ہی واضح کیوں نہ ہو، وہ اسی وقت قابلِ فہم اور قابلِ قبول بنتا ہے جب انسان اپنے دل کے دروازے اس کے لیے کھلے رکھے۔ جو شخص اپنے دل کو بند کر لیتا ہے، اس کے لیے کائنات میں پھیلی ہوئی خدا کی خاموش پکار بھی بے اثر ہو جاتی ہے اور داعی کی زبان سے ہونے والا واضح اعلان بھی بے سود ثابت ہوتا ہے۔
حق کی دعوت جب اپنی خالص اور بے آمیز صورت میں سامنے آتی ہے تو وہ اس قدر حقیقت پر مبنی اور فطرت سے ہم آہنگ ہوتی ہے کہ کھلے ذہن والا کوئی شخص اس کی نوعیت کو سمجھنے سے عاجز نہیں رہتا۔ جو بھی اسے غیر جانبدارانہ نگاہ سے دیکھتا ہے، اس کا دل خود گواہی دیتا ہے کہ یہ حق ہے۔ مگر عملی صورتِ حال یہ ہوتی ہے کہ ایک طرف زمانے کا وہ ڈھانچہ ہوتا ہے جو صدیوں کے عمل سے ایک خاص شکل اختیار کر چکا ہوتا ہے۔
اس ڈھانچے کے تحت بعض مذہبی یا غیر مذہبی گدیاں قائم ہو جاتی ہیں جن پر کچھ لوگ براجمان ہوتے ہیں۔ عزت، شہرت اور برتری کی مخصوص صورتیں وجود میں آ جاتی ہیں، جن کے سہارے بعض افراد وقت کے اکابر بنے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کاروباری مفادات اور دنیوی فائدے بھی ایک نظام کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جن سے وابستہ ہو کر لوگ مطمئن زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔
ایسے حالات میں جب اللہ کسی گمنام گوشے سے اپنے ایک بندے کو کھڑا کرتا ہے اور اس کی زبان سے اپنی مرضی کا اعلان کراتا ہے، تو بہت سے لوگوں کو اپنی بنی بنائی دنیا ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ حق کے پیغام کی سچائی کے باوجود دو چیزیں انہیں اس کو قبول کرنے سے روکے رکھتی ہیں: تکبر اور دنیا پرستی۔
جو لوگ مروجہ نظام میں برتری کے مقامات پر بیٹھے ہوتے ہیں، انہیں ایک ’’چھوٹے‘‘ اور غیر معروف شخص کی بات ماننے میں اپنی عزت خطرے میں پڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ احساس ان کے اندر گھمنڈ کی نفسیات کو بیدار کر دیتا ہے، اور وہ داعی کو حقیر سمجھ کر اس کی دعوت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اسی طرح دنیوی مفادات بھی قبولِ حق میں بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں، کیونکہ حق کا داعی مروجہ سماجی روایت کا نمائندہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک نئی اور غیر مانوس آواز کے ساتھ اٹھتا ہے، جسے قبول کرنے کی صورت میں لوگوں کو اپنے مفادات کا پورا ڈھانچہ منہدم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
یہی وہ ذہنی کیفیت ہے جسے قرآن دلوں پر مہر لگ جانا قرار دیتا ہے۔ جو لوگ دعوتِ حق کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، اور جو تکبر اور دنیا پرستی کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ان کے ذہنوں پر ایسے غیر محسوس پردے پڑ جاتے ہیں جو حق بات کو اندر داخل ہونے نہیں دیتے۔ جب کسی چیز کے بارے میں انسان کے اندر ضد اور مخالفت کی نفسیات جاگ اٹھیں، تو پھر وہ اس کی معقولیت کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے، خواہ اس کے حق میں کتنے ہی واضح دلائل کیوں نہ پیش کیے جائیں۔
#قران #قرآن #تفیہم #قرانكريم #قرآن

آج جمعہ کا مبارک دن ہے۔سب سے پہلے دردو پاک کی کثرت کریں۔ اور دوسری اور سوچنے کی بات کہ کیا ہماری دعائیں صرف لفظوں تک محد...
09/01/2026

آج جمعہ کا مبارک دن ہے۔
سب سے پہلے دردو پاک کی کثرت کریں۔
اور دوسری اور سوچنے کی بات کہ کیا ہماری دعائیں صرف لفظوں تک محدود ہیں،
یا ہم انہیں عمل کا لباس بھی پہناتے ہیں؟
کیونکہ جب دل خالی اور عمل سے غافل ہو جائے
تو پھر لفظ بھی بوجھ بن جاتے ہیں۔
#جمعہ #عمل #دعاء

08/01/2026

07/01/2026

سلسلۂ تدبّرِ قرآنِ حکیم و آیاتِ بیّنات | قسط نمبر 2 | سورہ البقرہ آیت 5-1

#ترجمہ
1. الم۔
2. یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، یہ

ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لیے۔

3. جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو

کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

4. اور جو ایمان رکھتے ہیں اس پر جو (اے نبی) تم پر نازل

کیا گیا، اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا، اور وہ

آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

5. یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں، اور یہی

لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

#تفسیر

اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے، لیکن

یہ ہدایت ہر اس شخص کے لیے نہیں جو محض الفاظ پڑھ

لے، بلکہ اس کے لیے ہے جو حقیقتاً ہدایت کا طالب ہو، جو

دل میں کھٹک، سنجیدگی اور جواب دہی کا احساس رکھتا

ہو۔ سچی طلب، جو انسان کی فطرت کی زمین پر اُگتی ہے،

خود پانے کی ابتدا ہوتی ہے۔ درحقیقت سچی طلب اور

سچی یافت ایک ہی سفر کے دو مرحلے ہیں۔ ایک آغاز،

دوسرا انجام۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے انسان اپنی فطرت کے بند دریچوں کو

کھول دے۔ جب آدمی سچے ارادے کے ساتھ حق کی طرف

متوجہ ہوتا ہے تو فطرت کی ہم آہنگی اور اللہ کی نصرت

فوراً اس کا ساتھ دینے لگتی ہے، اور اسے اپنی فطرت کی

مبہم پکار کا واضح جواب ملنا شروع ہو جاتا ہے۔

انسان کے اندر سچی طلب کا بیدار ہونا، عالمِ ظاہر کے

پیچھے عالمِ باطن کو دیکھنے کی کوشش ہے۔ یہی تلاش

جب پختگی اختیار کرتی ہے تو ایمان بالغیب بن جاتی ہے۔

جو کیفیت ابتدا میں برتر حقیقت کے سامنے خود کو سپرد

کر دینے کی بے قراری ہوتی ہے، وہی آگے چل کر نماز کی

صورت اختیار کر لیتی ہے۔ جو جذبہ آغاز میں خیرِ اعلیٰ کے

لیے خود کو وقف کرنے کا نام تھا، وہی بعد میں اللہ کی راہ

میں خرچ کرنے میں ڈھل جاتا ہے۔ اور جو کھوج انسان کو

اپنے انجام کے سوال تک لے جاتی ہے، وہی بالآخر آخرت پر

یقین کی صورت میں اپنے جواب کو پا لیتی ہے۔

سچائی کو پا لینا دراصل اپنے شعور کو حقیقتِ اعلیٰ کے ہم

سطح کر لینا ہے۔ ایسے لوگ نفسیاتی گرہوں، جمود، تقلید اور

تعصب سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ وہ حق کو اس کے خالص اور

بے آمیز روپ میں پہچان لیتے ہیں، خواہ وہ حق جہاں سے

بھی ظاہر ہو اور جس بندۂ خدا کی زبان سے بھی بیان کیا

جائے۔ یہی لوگ فوراً لبیک کہتے ہیں۔

جن لوگوں میں یہ اوصاف پیدا ہو جائیں، وہ اللہ کے سایۂ

رحمت میں آ جاتے ہیں۔ اللہ کا قائم کردہ نظام انہیں قبول

کر لیتا ہے، انہیں دنیا میں صراطِ مستقیم پر چلنے کی

توفیق ملتی ہے، اور اسی راستے کی آخری منزل آخرت کی

ابدی کامیابی ہے۔

حق کو وہی پا سکتا ہے جو اس کا سچا طالب ہو، اور جو

سچے دل سے تلاش کرے، وہ لازماً پا لیتا ہے۔ ڈھونڈنے اور

پانے کے درمیان دراصل کوئی فاصلہ نہیں۔

#قرآن #فہم

سلسلۂ تدبّرِ قرآنِ حکیم و آیاتِ بیّنات | قسط نمبر 1 | سورہ الفاتحہآج ہم قرآنِ مجید کی عظیم ترین سورت سورۃ الفاتحہ کی تفس...
06/01/2026

سلسلۂ تدبّرِ قرآنِ حکیم و آیاتِ بیّنات | قسط نمبر 1 | سورہ الفاتحہ

آج ہم قرآنِ مجید کی عظیم ترین سورت سورۃ الفاتحہ کی

تفسیر آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ اس سورت

میں بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق، بندگی کے شعور،

شکر، دعا اور ہدایت کی طلب کو نہایت جامع اور مؤثر انداز

میں بیان کیا گیا ہے۔

بندے کے لیے کسی بھی کام کا سب سے بہترین آغاز یہ ہے کہ

وہ اسے اپنے رب کے نام سے شروع کرے۔ وہ رب جو تمام

رحمتوں کا خزانہ ہے اور جس کی رحمتیں ہر آن جوش میں

ہیں۔ اس کے نام سے کسی کام کا آغاز کرنا درحقیقت اس

سے یہ دعا کرنا ہے کہ:

اے پروردگار! اپنی بے پایاں رحمتوں کے ساتھ میری مدد

فرما، اور میرے کام کو خیر و عافیت کے ساتھ انجام تک

پہنچا دے۔

یہی عمل بندے کی جانب سے اپنی بندگی کے اعتراف کا

اظہار ہے، اور اسی کے ساتھ اس کے لیے کامیابی کی ایک

الٰہی ضمانت بھی۔

قرآنِ مجید کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ مومن کے

قلب میں پیدا ہونے والے احساسات کے لیے نہایت درست اور

فطری الفاظ مہیا کرتا ہے۔ بسم اللہ اور سورۃ الفاتحہ اسی

نوعیت کا دعائیہ کلام ہیں۔ سچائی کو پا لینے کے بعد انسان

کے دل میں جو فطری جذبات اور کیفیات ابھرتی ہیں، قرآن

انہیں الفاظ کا جامہ پہنا دیتا ہے۔

انسان کا وجود بذاتِ خود اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس

نعمت کی قدر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر

کسی شخص سے کہا جائے کہ وہ اپنی دونوں آنکھیں نکلوا

دے یا اپنے دونوں پاؤں کٹوا دے، اور اس کے بدلے اسے پوری

مملکت کی بادشاہی دے دی جائے، تو کوئی بھی اس پر

آمادہ نہ ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ابتدائی فطری

عطیے بھی دنیا کی کسی بھی بادشاہت سے کہیں زیادہ

قیمتی ہیں۔

جب انسان اپنے اردگرد کی دنیا پر نظر ڈالتا ہے تو اسے ہر

سمت اللہ کی ربوبیت اور رحمت کے آثار نمایاں دکھائی

دیتے ہیں۔ ہر چیز میں ایک غیر معمولی اہتمام جھلکتا ہے۔

اسے محسوس ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر شے حیرت انگیز

طور پر انسانی زندگی کے موافق بنائی گئی ہے۔ یہ مشاہدہ

انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اتنا عظیم نظام ہرگز بے مقصد

نہیں ہو سکتا۔

لازماً ایک ایسا دن آنا ہے جب ناشکروں سے ان کی ناشکری کا

حساب لیا جائے گا اور شکر گزاروں کو ان کے شکر کا صلہ

عطا کیا جائے گا۔ یہی شعور انسان کو بے اختیار پکارنے پر

مجبور کر دیتا ہے:

اے اللہ! تو ہی یومِ جزا کا مالک ہے۔ میں خود کو تیرے سپرد

کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔ ہمیں اپنی پناہ

میں لے لے، ہمیں وہ راستہ دکھا جو تیرے نزدیک سیدھا اور

سچا ہے۔ ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تو نے انعام

فرمایا، اور ہمیں ان راستوں سے محفوظ رکھ جو گمراہوں

کا راستہ ہیں یا ان لوگوں کا جو اپنی سرکشی کے باعث

تیرے غضب کے مستحق بنے۔

اللہ کے نزدیک مطلوب بندہ وہی ہے جو انہی احساسات اور

کیفیات کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارے۔ سورۃ الفاتحہ

ایسے ہی ایک بندۂ مومن کی مختصر مگر جامع تصویر ہے،

جبکہ پورا قرآن اسی بندۂ مومن کی تفصیلی اور مکمل

تصویر پیش کرتا ہے۔

اویس احمد

#قرآن

05/01/2026

قرآن محض ایک کتاب نہیں، یہ ایک زندہ خطاب ہے۔ ایسا

خطاب جو ہر دور کے انسان سے، اس کی عقل، دل اور ضمیر

سے ہم کلام ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم میں سے بہت سے

لوگ اسے پڑھ تو لیتے ہیں مگر سمجھنے کی فرصت کم ہی نکالتے ہیں۔

اسی احساس کے تحت اس پیج پر ایک نئے سلسلے کا آغاز

کر رہا ہوں، جس میں قرآنِ مجید کی منتخب آیات کی

مختصر تشریح و سادہ تفسیر پیش کی جائے گی۔ اس

سلسلے کا مقصد نہ علمی پیچیدگیاں پیدا کرنا ہے، نہ طویل

مباحث چھیڑنا۔ بلکہ یہ کوشش ہے کہ قرآن کے پیغام کو عام

فہم انداز میں، روزمرہ زندگی سے جوڑ کر پیش کیا جائے۔

ہر تحریر میں یہ سعی ہوگی کہ آیت کا مرکزی مفہوم واضح

ہو، اس کا اخلاقی و فکری پیغام سامنے آئے، اور قاری کو یہ

احساس ہو کہ قرآن آج بھی اسی طرح ہماری رہنمائی کر رہا

ہے جیسے نزول کے وقت کرتا تھا۔

اگر یہ چند سطور بھی ہمیں قرآن کے قریب لے آئیں، سوچ کو

جگا دیں، یا دل میں سوال اور جستجو پیدا کر دیں، تو یہی

اس سلسلے کی اصل کامیابی ہوگی۔

اللہ کرے یہ کاوش قبول ہو، اور ہم سب کے لیے ہدایت، فہم

اور عمل کا ذریعہ بنے۔

والله يهدي من يشاء إلى صراط مستقيم
#قرآن #قران #فہم

 کچھ لوگ شور نہیں مچاتے۔وہ شکوہ نہیں کرتے، اپنی تھکن کو لفظوں میں نہیں ڈھالتے۔ وہ بس دن گزارتے رہتے ہیں، کام کرتے ہوئے، ...
04/01/2026



کچھ لوگ شور نہیں مچاتے۔

وہ شکوہ نہیں کرتے، اپنی تھکن کو لفظوں میں نہیں ڈھالتے۔

وہ بس دن گزارتے رہتے ہیں، کام کرتے ہوئے، ذمہ داریاں

نبھاتے ہوئے، مسکراتے ہوئے۔ مگر اندر کہیں وہ مسلسل بکھر

رہے ہوتے ہیں۔

ایسے لوگ اکثر مضبوط سمجھے جاتے ہیں، حالانکہ وہ صرف

عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ عادی اس بات کے کہ ہر بار خود کو

ہی سمجھانا ہے، ہر بار خود کو ہی سنبھالنا ہے۔ ان کے لیے

تھکن کا مطلب آرام نہیں، بلکہ اگلے دن کے لیے خود کو

دوبارہ جوڑنا ہوتا ہے۔

دنیا ان لوگوں کی خاموشی کو آسانی سمجھ لیتی ہے۔ کوئی

نہیں پوچھتا کہ جو شخص کم بولتا ہے، وہ کیا سوچتا ہے۔

حالانکہ بعض اوقات سب سے زیادہ شور انسان کے اندر ہوتا

ہے۔

زندگی ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ کب رکنا ہے۔ یہ ہنر انسان

کو خود سیکھنا پڑتا ہے۔ اور جو لوگ کبھی نہیں رکتے، وہ

ایک دن اندر سے خالی ہو جاتے ہیں، بغیر کسی اعلان کے۔

شاید اسی لیے کبھی کبھی خاموشی کو بولنے دیا جانا

چاہیے۔

کیونکہ ہر مضبوط نظر آنے والا شخص واقعی مضبوط نہیں

ہوتا۔

اویس احمد

#خاموشی
#احساسات #سوچ

03/01/2026

اکثر انسان یہ سمجھتا ہے کہ دین اسے سوال کرنے سے روکتا

ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسلام سوال کو

دبانے نہیں آیا، بلکہ اسے درست سمت دینے آیا ہے۔ یہ عقل

کو معطل نہیں کرتا بلکہ اسے ذمہ دار بناتا ہے، اور دل کو

اندھا نہیں کرتا بلکہ اسے بیدار کرتا ہے۔

یہ دین انسان سے یہ تقاضا نہیں کرتا کہ وہ سب کچھ فوراً

سمجھ لے، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ سچائی کی تلاش میں

اخلاص ہو۔ اسلام میں یقین اندھی تقلید کا نام نہیں، بلکہ

ایسا اطمینان ہے جو غور و فکر کے بعد دل میں اترتا ہے۔

اسلام انسان کو کامل ہونے کا نہیں، بہتر ہوتے رہنے کا راستہ

دکھاتا ہے۔ یہاں اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان غلطی نہ

کرے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی کو پہچان لے اور اصلاح

کی طرف بڑھ جائے۔
جب انسان اپنے اندر جھانکنا سیکھ لیتا ہے تو وہ دوسروں

کو بدلنے کی جلدی چھوڑ دیتا ہے۔ یہی اندرونی سفر اصل

عبادت کی بنیاد بنتا ہے، اور یہی وہ خاموش تبدیلی ہے جو

انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔

اویس احمد











#الحاد #ملحد #ملحدین

Neither I am me, nor you are you, nor you are me.Also, I am me, you are youand you are me.We have become one in such a w...
12/09/2025

Neither I am me,
nor you are you,
nor you are me.
Also, I am me,
you are you
and you are me.

We have become one
in such a way,
That I am confused whether
I am you,
or you are me.

~ Rumi♡

08/09/2025

Address

Karachi

Telephone

+923483903979

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Discover Islam - Knowledge and Inspiration posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Discover Islam - Knowledge and Inspiration:

Share