27/05/2025
منبرِ حسینیؑ پر فتنہ: شعور کی جنگ، جہالت کے خلاف
تحریر: ایڈمن تاریخ تشیع
منبرِ حسینیؑ، وہ مقدس مقام ہے جو امام حسینؑ کی قربانی، پیغامِ کربلا، اور حق و باطل کی تمیز کی آواز ہے۔ یہ وہ منبر ہے جہاں حضرت زینبؑ اور امام سجادؑ جیسے ہستیاں یزیدیت کے ایوانوں میں بھی لرزہ طاری کر دینے والے خطبے دیتے ہیں۔ یہ منبر فقط رونے یا مرثیہ گوئی کا ذریعہ نہیں، بلکہ اصلاحِ امت اور معرفتِ دین کی بنیاد ہے۔
لیکن آج یہ منبر کچھ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آ چکا ہے جنہیں نہ علم ہے، نہ بصیرت، نہ دینی تربیت۔ کچھ افراد نے منبرِ حسینی کو جذبات فروشی، شخصیت پرستی، اور فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
1. منبر کا مقام: سنتِ معصومؑ کی روشنی میں
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
"احیوا امرنا رحم اللہ من احییٰ امرنا"
(ہمارے امر کو زندہ رکھو، اللہ اس پر رحم کرے جو ہمارے امر کو زندہ رکھے۔)
اہل بیتؑ کا "امر" صرف ذکرِ مصائب نہیں، بلکہ تعلیمِ توحید، تفسیرِ قرآن، اور سیاسی و اجتماعی بیداری ہے۔ امام سجادؑ، کوفہ و شام کے درباروں میں فقط مرثیہ نہیں سناتے تھے، بلکہ دلائل و حکمت سے باطل کو رسوا کرتے تھے۔
تو سوال یہ ہے: آج ہم منبر کو کس کام میں لگا رہے ہیں؟
2. من گھڑت روایات: دین کی بنیاد یا تباہی کا ذریعہ؟
اکثر ذاکرین ایسی "روایات" پیش کرتے ہیں جن کا نہ کوئی سند ہے، نہ اصولِ حدیث میں مقام، نہ عقل انہیں قبول کرتی ہے، نہ تاریخ۔ مثلاً:
غیر معقول واقعات جیسے "حضرت عباسؑ نے پانی کا مشکیزہ پھاڑ دیا تاکہ وفا کا امتحان ہو"
جھوٹے خواب یا کرامات جن کا مقصد صرف ہجوم کو متاثر کرنا ہوتا ہے
کرداروں کی غلط تصویر کشی: بعض معصومینؑ کو جذباتی کمزور، یا دوسروں پر منحصر دکھایا جاتا ہے
یہ سب باتیں دین کو کمزور، منبر کو مشکوک، اور شیعت کو طنز و تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔
3. فتنہ پروری اور اندرونی تقسیم: شیعت کے اصل دشمن
یہ گروہ نہ صرف من گھڑت باتیں بیان کرتے ہیں بلکہ:
مراجعِ کرام پر حملے کرتے ہیں (خصوصاً جن کے فتاویٰ ان کے ذاتی مفاد سے نہ ٹکرائیں)
علمی خطباء کو “خشک عالم” کہہ کر حقارت میں مبتلا کرتے ہیں
وحدتِ شیعہ سنی یا حتیٰ شیعہ شیعہ ہم آہنگی کو “سازش” کہتے ہیں
فقہی اختلاف کو کفر یا نفاق کا درجہ دیتے ہیں
ایسے لوگ شیعت کے ظاہری خادم اور باطنی دشمن ہیں۔ ان کے الفاظ میں محبت ہے مگر نیت میں تفرقہ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں امام علیؑ نے فرمایا:
“کلمۃُ حقٍ یُرادُ بہا الباطل”
(حق کی بات کہی جاتی ہے مگر مقصد باطل ہوتا ہے)
4. منبر کی اہلیت: کیا ہر بولنے والا حق پر ہے؟
حدیثِ نبویؐ ہے:
"من قال فی دینی ما لا یعلم فلیتبوأ مقعده من النار"
(جو دین میں وہ بات کہے جو وہ جانتا نہیں، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے۔)
منبر پر بیٹھنے والا شخص اگر:
اصولِ دین، فقہ، تاریخ اور حدیث سے ناواقف ہو
عربی عبارت پڑھنا اور سمجھنا نہ جانتا ہو
تقلید اور اجتہاد کے فرق کو نہ سمجھتا ہو
تو وہ قوم کو کیا راہ دکھائے گا؟ ایسے افراد صرف "احساس" فروخت کرتے ہیں، "علم" نہیں۔
5. حل: علم، احتساب اور شعور کی تحریک
الف) دینی تربیت:
ہر ذاکر یا خطیب کو اجازتِ تبلیغ دی جائے صرف اس صورت میں جب وہ دینی تعلیمی ادارے (حوزہ یا کم از کم مستند نصاب) سے تعلیم یافتہ ہو۔
ب) منبر کا احتساب:
مجالس کی کمیٹیاں، ٹرسٹ، اور قوم کے باشعور افراد ایسے ذاکرین کا بائیکاٹ کریں جو دین کو کھیل بناتے ہیں۔
ج) عوام میں بیداری:
قوم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ منبر صرف "روانا" یا "مزاحیہ" انداز کے لیے نہیں، بلکہ شعور، علم اور تربیت کے لیے ہے۔
د) علما کا کردار:
علمائے کرام منبر کو واپس لیں، اسے اجارہ داری سے نکال کر دلیل، علم اور تحقیق کا محور بنائیں۔
نتیجہ: شعور کی روشنی، فتنہ کی تاریکی سے نجات
منبرِ حسینیؑ ایک امانت ہے، تجارت نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں امام حسینؑ کا نام لیا جاتا ہے—اس پر جھوٹ بولنا، فتنہ پھیلانا، یا تفرقہ پیدا کرنا خود امامؑ کی قربانی کی توہین ہے۔
وقت آ چکا ہے کہ ہم اصلی دشمن کو پہچانیں: نااہل ذاکر، فتنے کے بیوپاری، اور دین کے تاجر۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو آنے والی نسلیں صرف نام کی شیعت کے وارث ہوں گی، روح کی نہیں۔
اللہ ہمیں بصیرت، اتحاد، اور سچ کی پہچان عطا کرے۔
آمین یا رب العالمین۔