Mufti Muhammad Arshad Jahangiri

Mufti Muhammad Arshad Jahangiri Personal Page of Muft Muhammad Arshad Jahangiri.

19/02/2025

جو شخص اللہ کا وفادار نہیں ہو سکتا، وہ میری بیٹی کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک نوجوان ڈاکٹر، جس نے حال ہی میں اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کی تھی، ایک فلسطینی طالبہ سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ طالبہ پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے غزہ سے آئی تھی۔ نوجوان نے جب اپنی نیت ظاہر کی، تو طالبہ نے نرمی سے کہا کہ وہ اپنے والد سے مشورہ کرے گی، پھر فیصلہ کرے گی۔
طالبہ نے اپنے والد کو اس معاملے سے آگاہ کیا، جو غزہ میں رہتے تھے۔ وہ ایک دانا شخص تھے، جنہوں نے اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں جلد بازی سے فیصلہ کرنے کی بجائے، اس معاملے کی مکمل تحقیق کی ضرورت محسوس کی۔
انہوں نے اس شخص سے تفصیل مانگی، جو غزہ کے طلبہ کو پاکستان لانے میں مددگار تھا، تاکہ اس نوجوان کی ساکھ اور حالات کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔
وہ شخص نوجوان ڈاکٹر کے بارے میں بتاتے ہوئے اس کی تعلیم، کامیاب پیشہ ورانہ کیریئر، اور مالی حالت کو تفصیل سے بیان کر رہا تھا۔ اس نے کہا کہ نوجوان نے میڈیکل کی ڈگری مکمل کی ہے، اسلام آباد میں رہتا ہے، اس کے پاس ایک خوبصورت گھر ہے، کئی پلاٹ ہیں اور اس کی مالی حالت بھی بہت مستحکم ہے۔ لیکن اچانک طالبہ کے والد نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا:
"آپ مجھے کیا بتا رہے ہیں؟ یہ سب باتیں چھوڑ دیں۔ مجھے صرف یہ بتائیں کہ کیا وہ فجر کی نماز ادا کرتا ہے؟ کیا وہ اللہ کا وفادار ہے؟ مجھے اس کی دولت یا تعلیم سے کوئی غرض نہیں۔"
اس سوال کی سادگی اور شدت نے معلومات دینے والے شخص کو بے آواز کر دیا۔ اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا، کیونکہ اس کی نظر میں کامیابی صرف دنیاوی پہلو سے ہی جانی جاتی تھی، لیکن وہ سوال کچھ اور تھا، ایک روحانی معیار پر مبنی تھا۔
آخرکار، طالبہ کے والد نے ان تمام دنیاوی کامیابیوں کے باوجود اس رشتہ سے انکار کرتے ہوئے کہا:
"جو شخص اللہ کا وفادار نہیں ہو سکتا، وہ میری بیٹی کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟"
یہ الفاظ نہ صرف اس نوجوان ڈاکٹر کے لیے ایک سوال تھے بلکہ وہ ہم سب کے لیے ایک سبق بن گئے، جو زندگی میں مادی کامیابیوں کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔
اس واقعے میں ایک گہرا پیغام دیا گیا ہے کہ انسان کی حقیقی عظمت اور وفاداری اس کے ایمان اور اللہ کے ساتھ تعلق پر منحصر ہے، اور یہ ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔ دنیا کے جاہ و حشم میں ڈوبے ہوئے لوگ اکثر اس حقیقت سے غافل ہو جاتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی رضا کے راستے پر نہیں چلتا، وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سے محروم ہوتا ہے۔
> مسلم فورم

19/02/2025

‏*40 تا 60 سال کے لوگوں کے لیے نصیحت*

نصیحت ان لوگوں کو کرتا ہںوں جو 40، 50، 60 سال یا اس سے اوپر کی عمر کو پہنچ چکے ہیں ، حتی کہ 80 سال کی عمر تک بھی !
اللہ آپ کو فرمانبرداری، صحت، اور عافیت عطا فرمائے۔

1. *پہلی نصیحت:*
ہر سال حجامہ کروائیں ، چاہںے آپ بیمار نہ ہںوں یا کوئی مرض نہ ہںو ۔

2. *دوسری نصیحت:*
ہمیشہ پانی پیئیں ، چاہںے پیاس نہ لگے ۔ بہت سی صحت کے مسائل جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہںوتے ہیں ۔

3. *تیسری نصیحت:*
جسمانی سرگرمی کریں ، چاہںے آپ مصروف ہںوں ۔ اپنے جسم کو حرکت دیں ، چاہںے وہ صرف چلنا ہںو یا تیراکی کرنا ہںو ۔

4. *چوتھی نصیحت:*
کھانے میں کمی کریں ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا،
*"آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں۔"*
زیادہ کھانے سے پرہیز کریں؛ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہںے ۔

5. *پانچویں نصیحت:*
جتنا ممکن ہو، گاڑی کا استعمال نہ کریں جب تک کہ ضرورت نہ ہںو ۔ اپنے مقامات تک پیدل چل کر جائیں ، جیسے مسجد ، دکان ، یا کسی سے ملنے ۔

6. *چھٹی نصیحت:*
غصے کو پیچھے چھوڑ دیں ...
غصہ اور فکر آپ کی صحت کو ختم کرتے ہیں اور آپ کی روح کو کمزور کرتے ہیں ۔
اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے ساتھ رکھیں جو آپ کو سکون دیتے ہیں۔

7. *ساتویں نصیحت:*
جیسا کہ کہا جاتا ہںے ، "اپنے پیسے کو دھوپ میں رکھو اور خود سایہ میں بیٹھو۔" یعنی حتیٰ الوسع پیسے کو استعمال میں لائیں اور سہولیات حاصل کریں یہ نہیں کہ پیسے بچائیں اور خود مشقت اٹھائیں ۔ اپنے آپ کو یا اپنے ارد گرد کے لوگوں کو محروم نہ رکھیں ، پیسہ زندگی کو سہارا دینے کے لیے ہںے ، خود زندگی نہیں ہںے ۔

8. *آٹھویں نصیحت:*
اپنی روح کو کسی کے لیے ، کسی ایسی چیز کے لیے جسے آپ حاصل نہیں کر سکتے ، یا کسی ایسی چیز کے لیے جو آپ حاصل نہیں کر سکے ، افسوس میں نہ ڈوبنے دیں ۔ اسے بھول جائیں —
اگر یہ آپ کے لیے مقدر ہںوتا ، تو یہ آپ کے پاس آ جاتا ۔

9. *نویں نصیحت:*
عاجزی اختیار کریں ، کیونکہ دولت ، مرتبہ ، طاقت ، اور اثر و رسوخ سب غرور کے ساتھ زوال پذیر ہںو جاتے ہیں ۔ عاجزی آپ کو لوگوں کے قریب لاتی ہںے اور اللہ کے ہاں آپ کے مقام کو بلند کرتی ہںے ۔

10. *دسویں نصیحت:*
اگر آپ کے بال سفید ہںو گئے ہیں ، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی ختم ہںو گئی ہںے ۔ یہ ایک نشانی ہںے کہ زندگی کا بہترین حصہ ابھی شروع ہںو رہا ہںے ۔
پر امید رہیں ، اللہ کی یاد کے ساتھ جئیں ، سفر کریں ، اور حلال طریقوں سے لطف اندوز ہںوں ۔

**آخری اور سب سے اہم نصیحت:**
کبھی بھی نماز نہ چھوڑیں ، یہ آپ کے جیتنے کا کارڈ ہںے اس زندگی میں اور اس دن میں جب نہ دولت کام آئے گی اور نہ اولاد ۔

اگر آپ کو یہ مفید لگے ، تو اسے پھیلائیں ، اور دوسروں کو محروم نہ کریں جو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں !!!
*حضور خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ " لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے نفع بخش اور فائدہ مند ہو "* !!!
اس لیے دوسروں کیلئے ہر طرح نفع مند ثابت ہوں !!!!
منقول

14/06/2024

عرفہ کے دن کا روزہ کس ملک کے حساب سے ہوگا؟
سوال
ایک میسج چل رہا ہے کہ احادیث کے مطابق عرفہ کے دن کا روزہ ہے (نہ کہ 9 ذالحج کا) اور عرفہ کا تعلق وقوفِ عرفات سے ہے، اور وقوف ہمارے پاکستان کے اعتبار سے 8 ذوالحجہ کو ہو گا؛ لہٰذا ہمیں بھی اپنی 9 ذو الحجہ کے بجائے سعودیہ کا اعتبار کرتے ہوئے اپنی 8 کو روزہ رکھنا چاہیے۔ وہ میسج بھی بھیج رہا ہوں۔

جواب
یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت:

احادیث میں یومِ عرفہ کے روزے کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے. حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
''صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ ''. (مسلم:1162،ابوداؤد:2425،ترمذی:749،ابن ماجه: 1730، احمد:22530)
ترجمہ:مجھے اللہ تعالی کی ذات سے امید ہے کہ وہ یوم عرفہ کے روزے رکھنے کی صورت میں گزشتہ سال اور اگلے سال کے گناہ بخش دے گا۔

نو ذوالحجہ کو یومِ عرفہ کہنے کی وجوہات:
نو(۹)ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘کہنے کی فقہاء نے تین وجوہات بیان کی ہیں:
(1) حضرت ابراہیم کو آٹھ(۸) ذی الحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں، تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا، پھرنو(۹)ذی الحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے، چوں کہ حضرت ابراہیم کویہ معرفت اور یقین نو(۹)ذی الحجہ کو حاصل ہوا تھا، اسی وجہ سے نو(۹) ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔
(2) نو ذی الحجہ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نےحضرت ابراہیم علیہ السلام کوتمام "مناسکِ حج" سکھلائے تھے، مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’یومِ عرفہ‘ کہتے ہیں۔

(3) نو(۹) ذی الحجہ کو حج کرنے والے حضرات چوں کہ میدانِ عرفات میں وقوف کے لیے جاتے ہیں،تو اس مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو "یومِ عرفہ" بھی کہہ دیتے ہیں۔

مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ تسمیہ کے اعتبار سے’یومِ عرفہ‘کوصرف وقوفِ عرفہ کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف وجوہات کی بنا پر (۹)ذی الحجہ کادوسرا نام ہے، لہٰذا یہ دن ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا،یعنی دیگر ممالک میں جس دن نو(۹) ذی الحجہ ہوگی وہی دن ’یومِ عرفہ ‘کہلائے گا، خواہ اس دن سعودی عرب میں یومِ عرفہ نہ ہو۔

ہر ملک کی چاند کی تاریخ کے اعتبار سے نو ذوالحجہ کا اعتبار کرنے کے دلائل:
نیز یہ بھی واضح رہے کہ :

1۔۔مذکورہ مسئلہ کا دارومدار ا س بات پر ہے کہ سعودی عرب کی رؤیتِ ہلال دیگر ممالک کے حق میں معتبرہے یا نہیں؟ اس بارے میں احناف کا راجح قو ل یہ ہے کہ بلادِبعیدہ جن کےطلوع وغروب میں کافی فرق پایاجاتا ہے ان کی رؤیت ایک دوسرے کے حق میں معتبر نہیں ہے، اور سعودی عرب اور دیگر ممالک کے مطلع میں کا فی فرق ہونا بار بار کے مشاہدہ سے ثابت ہے، لہذا جس طرح نماز وں کے اوقات تہجد اور سحر و افطاروغیرہ میں ہر ملک کا اپنا وقت معتبر ہے، سعودی عرب میں نمازوں کے اوقات کو دیگر ممالک میں نمازوں کے لیے معیار قرار نہیں دیا جاسکتا ، اسی طرح عید ،روزہ اور قربانی میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت کا اعتبارہوگا ،اور عرفہ کے روزہ کے بارے میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت معتبرہوگی، لہذا جس دن دیگر ممالک کے حساب سے ذی الحجہ کی نویں تاریخ ہوگی اسی دن روزہ رکھنے سے ’یومِ عرفہ‘ کے روزے کی فضیلت حاصل ہوگی،اگر چہ اس دن مکہ مکرمہ میں عید کا دن ہو۔

2۔۔بعض احادیث میں روزے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے یوم عرفہ کے بجائے 9 ذی الحجہ کے الفاظ مذکور ہیں. مثلاً بعض امہات المؤمنین بیان کرتی ہیں:
''کَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صلی الله علیه و سلم یَصُومُ تِسْعَ ذِی الحِجَّةِ وَیَومَ عَاشُورَاء'' . (ابوداؤد :2437، نسائی :2372،2417، احمد: 22334،27376)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذی الحجہ کے 9 دن اور عاشوراء کے روزے رکھا کرتے تھے."یعنی یہ روزہ در اصل 9 ذی الحجہ کا ہے، کیوں کہ عشرہ ذی الحجہ کے ابتدائی نو دن میں سے ہر روزے کی فضیلت احادیث میں مستقل طور پر آئی ہے، اور ظاہر ہے کہ ایک سے آٹھ تاریخ تک کے روزوں کی فضیلت پوری دنیا کی اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہے، لہٰذا نو ذوالحجہ کے روزے کی فضیلت بھی ہر ملک کی اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگی۔

3۔۔ صومِ یوم عرفہ کے لیے سعودی عرب کے 9 ذی الحجہ کا اعتبار کرنے سے ایک پیچیدگی لازم آئے گی، دنیا کے بعض ممالک کی تاریخیں سعودی عرب سے ایک دن پہلے کی ہوتی ہیں، (یعنی وہ ممالک جہاں چاند کی پیدائش اور طلوع وغروب سعودی عرب سے پہلے ہو) مثلاً: جس دن سعودی عرب میں 9 ذی الحجہ ہے، اس دن بعض ممالک میں 10 ذی الحجہ ہوگا. 10 ذی الحجہ کو اس ملک کے مسلمان عید الاضحٰی منائیں گے اور اس دن ان کے لیے روزہ رکھنا ناجائز ہوگا، پھر وہ اس دن کو سعودی عرب کی متابعت میں 'یوم عرفہ' مان کر اس میں روزہ کیسے رکھ سکتے ہیں؟

4 ۔۔ اسلام صرف اکیسویں صدی کا مذہب نہیں ہے، جدید ذرائعِ ابلاغ سے آج کل معلوم ہوجاتا ہے کہ سعودی عرب میں کس دن "یومِ عرفہ" ہے. پہلے کی صدیوں میں، جب یہ جاننے کے ذرائع نہیں تھے، اس وقت بھی لوگ "یومِ عرفہ" کا روزہ اپنے یہاں کی تاریخ کے حساب سے رکھتے تھے. آج کل بھی دنیا کے تمام خطوں میں ہر شخص کو جدید ترین سہولیات حاصل نہیں ہیں، تمام لوگوں کے لیے اب بھی دوسرے علاقوں کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا، اس لیے اب بھی مناسب، آسان اور قابلِ عمل یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر ملک کے لوگ اس دن عرفہ کا روزہ رکھیں جس دن ان کے یہاں 9 ذی الحجہ ہو.

5 ۔۔ 'یوم' (دن) کا اطلاق طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک کے وقت پر ہوتا ہے اور 'صوم' (روزہ) طلوعِ فجر سے شروع ہوتا اور غروبِ آفتاب پر مکمل ہوتا ہے. اگر 'صومُ یومِ العرفۃ' (یوم عرفہ کا روزہ رکھنے) میں سعودی عرب کی نوذوالحجہ کا اعتبار کیا جائے؛ اس لیے کہ اس دن وہاں وقوفِ عرفہ ہے تو پھر روزہ کے آغاز و اختتام کے سلسلے میں بھی سعودی عرب کے اوقات کی پابندی ہونی چاہیے۔ پھر تو عرفہ کا روزہ دنیا کے ہر خطے میں اس وقت شروع کیا جائے جب سعودی عرب میں 9 ذی الحجہ کو طلوعِ فجر کا وقت ہو اور اُس دن اُس وقت افطار کر لیا جائے جب سعودی عرب میں 9 ذی الحجہ کو غروبِ آفتاب کا وقت ہو، حال آں کہ یہ بات بالکل ہی غیر معقول ہوگی، اس وقت مشرقِ بعید اور مغربِ بعید میں رات کا وقت ہوگا، اور قطبِ شمالی اور قطبِ جنوبی میں یا تو مسلسل رات ہوگی یا مسلسل دن ہوگا، اور سعودی عرب کی تاریخ کے اعتبار سے یوم عرفہ کا روزہ رکھنے میں ان ممالک میں شرعی احکام کی مخالفت اور حرج لازم آئے گا؛ لہٰذا روزے کے اوقات کے معاملے میں لوگ اپنے اپنے علاقے کے پابند ہوں گے.

خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے مسلمان "یومِ عرفہ" کا روزہ سعودی عرب کی تاریخ کے حساب سے رکھنے کے پابند نہیں ہیں، سعودی عرب کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذی الحجہ ہو، اور دوسرے ممالک کے مسلمان اس دن روزہ رکھیں جب ان کے یہاں 9 ذی الحجہ ہو. البتہ پاکستان اور وہ مشرقی ممالک جو سعودی عرب سے ایک تاریخ پیچھے ہوتے ہیں، وہاں کے مسلمانوں کے لیے بہتر ہے کہ وہ آٹھ اور نو ذوالحجہ دونوں دن روزہ رکھ لیا کریں، کیوں کہ عشرہ ذوالحجہ کے ہر روزے کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور ان ممالک کے لوگوں کے لیے اس دن روزہ رکھنے میں کوئی ممانعت بھی نہیں ہے۔

البناية شرح الهداية - (4 / 211)
''وإنما سمي يوم عرفة؛ لأن جبريل -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - علم إبراهيم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المناسك كلها يوم عرفة، فقال: أعرفت في أي موضع تطوف؟ وفي أي موضع تسعى؟ وفي أي موضع تقف؟ وفي أي موضع تنحر وترمي؟ فقال: عرفت؛ فسمي يوم عرفة''.
تبيين الحقائق وحاشية الشلبي - (2 / 23)
'' قَوْلُهُ: أَيْ تَفَكَّرَ أَنَّ مَا رَآهُ مِنْ اللَّهِ) أَيْ أَمْ مِنْ الشَّيْطَانِ؟ فَمِنْ ذَلِكَ سُمِّيَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، فَلَمَّا رَأَى اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ عَرَفَ أَنَّهُ مِنْ اللَّهِ؛ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَلَمَّا رَأَى اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ هَمَّ بِنَحْرِهِ؛ فَسُمِّيَ يَوْمَ النَّحْرِ، كَذَلِكَ فِي الْكَشَّافِ''.

العناية شرح الهداية - (3 / 452)
''فَلَمَّا أَمْسَى رَأَى مِثْلَ ذَلِكَ ، فَعَرَفَ أَنَّهُ مِنْ اللَّهِ تَعَالَى ؛ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ.... وَإِنَّمَا سُمِّيَ يَوْمُ عَرَفَةَ بِهِ؛ لِأَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَّمَ إبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَ لَهُ : أَعَرَفْت فِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَطُوفُ ؟ وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَسْعَى ؟ وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَقِفُ ؟ وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَنْحَرُ وَتَرْمِي ؟ فَقَالَ عَرَفْت ، فَسُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَسُمِّيَ يَوْمُ الْأَضْحَى بِهِ؛ لِأَنَّ النَّاسَ يُضَحُّونَ فِيهِ بِقَرَابِينِهِمْ'' .

تفسير البغوي - (7 / 48)
'' أمر في المنام أن يذبحه، وذلك أنه رأى ليلة التروية كأن قائلاً يقول له: إن الله يأمرك بذبح ابنك هذا، فلما أصبح روی في نفسه أي: فكر من الصباح إلى الرواح أمِنَ الله هذا الحلم أم من الشيطان؟ فمن ثم سمي يوم التروية، فلما أمسى رأى في المنام ثانيًا، فلما أصبح عرف أن ذلك من الله عز وجل؛ فمن ثم سمي يوم عرفة''.

الإنصاف - (3 / 244)
''سمي يوم عرفة؛ للوقوف بعرفة فيه، وقيل: لأن جبريل حج بإبراهيم عليه الصلاة والسلام، فلما أتى عرفة، قال: عرفت، قال: عرفت، وقيل: لتعارف حواء وآدم بها''.

المغني - ابن قدامة - (3 / 112)
''فأما يوم عرفة فهو اليوم التاسع من ذي الحجة، سمي بذلك؛ لأن الوقوف بعرفة فيه، وقيل: سمي يوم عرفة؛ لأن إبراهيم عليه السلام أري في المنام ليلة التروية أنه يؤمر بذبح ابنه، فأصبح يومه يتروى هل هذا من الله أو حلم؟ فسمي يوم التروية، فلما كانت الليلة الثانية رآه أيضاً، فأصبح يوم عرفة، فعرف أنه من الله؛ فسمي يوم عرفة، وهو يوم شريف عظيم، وعيد كريم، وفضلة كبير، وقد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم أن صيامه يكفر سنتين''.

تبيين الحقائق وحاشية الشلبي - (1 / 321)
''قال - رحمه الله - :(ولا عبرةباختلاف المطالع) وقيل: يعتبر، ومعناه أنه إذا رأى الهلال أهل بلد ولم يره أهل بلدة أخرى يجب أن يصوموا برؤية أولئك كيفما كان على قول من قال: لا عبرة باختلاف المطالع، وعلى قول من اعتبره ينظر فإن كان بينهما تقارب بحيث لا تختلف المطالع يجب، وإن كان بحيث تختلف لا يجب، وأكثر المشايخ على أنه لا يعتبر حتى إذا صام أهل بلدة ثلاثين يوماً وأهل بلدة أخرى تسعة وعشرين يوماً يجب عليهم قضاء يوم، والأشبه أن يعتبر؛ لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم، وانفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف باختلاف الأقطار، كما أن دخول الوقت وخروجه يختلف باختلاف الأقطار، حتى إذا زالت الشمس في المشرق لا يلزم منه أن تزول في المغرب''.

بدائع الصنائع - (2 / 83)
''هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع، فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر؛ لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف، فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر''.

العرف الشذي للعلامةالكشميري (2/ 217)
''وقال الزيلعي شارح الكنز : إن عدم عبرة اختلاف المطالع إنما هو في البلاد المتقاربة لا البلاد النائية ، وقال كذلك في تجريد القدوري ، وقال به الجرجاني ، أقول : لا بد من تسليم قول الزيلعي، وإلا فيلزم وقوع العيد يوم السابع والعشرين أو الثامن والعشرين أو يوم الحادي والثلاثين أو الثاني والثلاثين؛ فإن هلال بلاد قسطنطنية ربما يتقدم على هلالنا بيومين ، فإذا صمنا على هلالنا، ثم بلغنا رؤية هلال بلاد قسطنطنية يلزم تقديم العيد ، أو يلزم تأخير العيد إذا صام رجل من بلاد قسطنطنية ثم جاءنا قبل العيد، ومسألة هذا الرجل لم أجدها في كتبنا ، وظني أنه يمشي على رؤية من يتعيد ذلك الرجل فيهم ، وقست هذه المسألة على ما في كتب الشافعية : من صلى الظهر ثم بلغ في الفور بموضع لم يدخل فيه وقت الظهر إلى الآن أنه يصلي معهم أيضاً، والله أعلم وعلمه أتم ، وكنت قطعت بما قال الزيلعي، ثم رأيت في قواعد ابن رشد إجماعاً على اعتبار اختلاف المطالع في البلدان النائية ، وأما تحديد القرب والنائي فمحمول إلى المبتلى به، ليس له حد معين وذكر الشافعية في التحديد شيئاً''.فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 143909201961

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

29/05/2024
29/05/2024

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ کی زندگی پر بنائی گئی مختصر سی ڈاکو منٹری. احباب سے گذارش ہے کہ اپنے قیمتی اوقات میں سے 4 منٹ نکال کر اس ڈاکو منٹری کو ضرور سنیں تاکہ ہم شیخ الاسلام صاحب کی قدر و منزلت سے متعارف ہوسکیں. شکریہ

29/05/2024

جواب
جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد یہ درود شریف

’’ أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ‘‘

اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھنا ثابت ہے، اس عمل کی فضیلت اور اس کے ثبوت کے دلائل آگے ذکر کیے جارہے ہیں، اس درود شریف کو عام دن میں بھی چلتے پھرتے بھی پڑھ سکتے ہیں، سب سے افضل درود شریف درود ابراہیمی ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے، اس لیے آپ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ،ہر وقت اس درود شریف کو پڑھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ آپ کسی مختصر درود شریف مثلاً ’’ اللهم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد‘‘اور ’’صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کو بھی اپنا معمول بنا سکتے ہیں۔

جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اسی (۸۰ ) مرتبہ پڑھے جانے والے درود شریف کی فضیلت اور ثبوت:
رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں صلاۃ وسلام پیش کرنا افضل ترین عبادت اور دربارِ خداوندی میں قرب کا بہترین ذریعہ ہے۔ صلاۃ وسلام کے مختلف طریقے و صیغے ہیں جن کا احادیثِ مبارکہ میں ذکر ملتا ہے، اس پر محدثین نے مستقل کتابیں لکھیں ہیں۔ درج ذیل درود شریف اکابر علماءِ کرام اور مشائِخ عظام کے معمول میں سے ہے، جسے حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی رحمہ اللہ نے ’’فضائل درود شریف‘‘ میں نقل کیا ہے اور اکثر اسی کتاب کے حوالے سے اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔حدیث مبارک ہے:

’’من صلّٰی صلاةَ العصر من یوم الجمعة فقال قبل أن یقوم من مکانه : أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیمًا ثمانین مرةً، غفرت له ذنوبُ ثمانین عامًا، وکتبت له عبادة ثمانین سنةً.‘‘ (القول البدیع، ص:۳۹۹، ط:دارالیسر)

’’جو شخص جمعہ کے دن عصر کے بعد اپنی جگہ سے کھڑا ہونے سے پہلے یہ درود شریف اَسّی(۸۰)مرتبہ پڑھے:

’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلٰی أٰله وسلم تسلیماً‘‘.

اس کے اَسی(۸۰)سال کے گناہ معاف کردیےجاتے ہیں اور اَسی (۸۰)سال کی عبادت کا ثواب لکھا جاتا ہے۔‘‘

ذیل میں اس حدیث کی علمی و فنی تحقیق پیش کی جاتی ہے۔ ہماری زیرِ بحث حدیث میں جمعہ کے دن عصر کے بعد خاص درود شریف پڑھنے پر۸۰؍ سا ل کے گناہ کی معافی اور۸۰؍ سال کی عبادت کی بشارت ہے۔ذخیرہ احادیث میں اس قسم کی دو موقوف روایات ملتی ہیں:

پہلی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے جوابھی ذکر کی گئی۔ دوسری روایت حضرت سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں:

’’وعن سهل بن عبداللّٰه ؓ قال:من قال في یوم الجمعة بعد العصر: ’’أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي و علی أٰله وسلم‘‘ ثمانین مرةً، غفرت له ذنوبُ ثمانین عاماً.‘‘

ان دو روایات میں تین فرق ہیں:

۱:۔۔۔۔۔ پہلی روایت میںـ’’قبل أن یقوم من مکانہٖ‘‘ کے الفاظ ہیں، جب کہ دوسری اس سے خالی ہے۔

۲:۔۔۔۔۔ اسی طرح پہلی میں ’’وسلم تسلیما‘‘ ہے، جب کہ دوسری روایت میں ’’تسلیما‘‘ کا لفظ نہیں ہے۔

۳:۔۔۔۔۔ پہلی میں ’’کتبت لہٗ عبادۃُ ثمانین سنۃً‘‘کے الفاظ بھی ہیں، جب کہ دوسری میں صرف

’’غفرت لہٗ ذنوبُ ثمانین عامًا‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔

بہر حال ہر دو حدیث کا مضمون دوسرے کی تائید کرتا ہے۔ ذیل میں ان کی تخریج پیش کی جاتی ہے:

۱:۔۔۔۔۔ حضرت سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ والی روایت کو محدث ِ اندلس حافظ ابن بشکوال (المتوفی۵۷۸ھ) نے اپنی کتاب ’’القربۃ إلی رب العالمین بالصلاۃ علی محمد سید المرسلین‘‘ صفحہ:۱۱۴میں ذکر کیا ہے، جب کہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ والی روایت مذکورہ کتاب میں نہیں ملی، ملاحظہ ہو:

’’قال شیخنا أبو القاسم : وروینا عن سهل بن عبداللّٰه قال: من قال في یوم الجمعة بعد العصر :’’ أللّٰهم صل علٰی محمد النبي الأمي وعلی أٰله وسلم‘‘ ثمانین مرةً ، غفرت له ذنوبُ ثمانین عاماً‘‘.

حدیث پر کلام کرنے والے حضرت حافظ ابن بشکوال رحمہ اللہ نے چوں کہ اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی، اس بنا پر کسی بھی محدث یا مخرج نے اس پر صحت ،حسن یا ضعف کا حکم نہیں لگایا۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ کسی محدث نے اُسے موضوع بھی نہیں کہا۔موقوفاََ یہ روایت اسی طرح بیان کی جاتی ہے۔ لیکن درج ذیل سطروں میں جس طرح حافظ ابن بشکوال رحمہ اللہ کے استادشیخ ابو القاسم احمد بن بقی رحمہ اللہ (المتوفی۵۳۲ھ) سے امام مالک رحمہ اللہ تک کے رواۃ کا تذکرہ کیا گیا، اس سے اس حدیث کی صحت خوب واضح ہے۔ سند ِ حدیث ملاحظہ ہو: حافظ ابن بشکوال رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند میں ’’شیخنا أبو القاسم‘‘ کہنے پر اکتفا کیا ہے،اس سے ان کی مراد کون ہے؟چناں چہ ابن بشکوال رحمہ اللہ خود ہی اپنی تاریخ کی کتاب ’’الصلۃ‘‘ میں ان کا تذکرۂ خیر فرماتے ہیں:

’’أحمد بن محمد بن أحمد بن مخلد بن عبد الرحمٰن بن أحمد بن بقی بن مخلد بن یزید من أہل قرطبة یکنی: أبا القاسم ... وکان من بیئة علم و نباهة وفضل و صیانة، وکان ذاکراً للمسائل والنوازل، دربًا بالفتوٰی، بصیرًا بعقد الشروط و عللها، مقدماً في معرفتها۔ أخذ الناس عنه واختلفت إلیه و أخذت عنه بعض ما عنده ، وأجاز لي بخطه غیر مرة.‘‘

’’موصوف کا تعلق انتہائی شریف ،علمی اور پاکیزہ خاندان سے تھا۔ نِت نئے مسائل کا خوب استحضار اور فتویٰ نویسی میں خوب مہارت رکھتے تھے۔ شرائط اورعللِ حدیث میں بصیر ت انتہاکو تھی۔ لوگوں نے ان سے خوب علم حاصل کیا۔ میں نے بھی ان سے استفادہ کیا اور انہوں نے کئی مرتبہ اپنے ہاتھ سے لکھ کر مجھے اجازت دی۔‘‘ موصوفؒ کی ولادت۴۴۶ھ کی اور وفات۵۳۲ھ کی ہے۔(۱)شیخ ابو القاسم اپنے استاد،بقیۃ الشیوخ، محدثِ اندلس، فقیہ وقت ابو عبداللہ محمد بن الف*ج قرطبی مالکی طلاعی رحمہ اللہ (۴۰۴ھ -۴۹۷ھ)کے شاگردوں میں سے تھے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ ان کے بارے میں رقم طراز ہیں: ’’و کان شدیدًا علی أھل البدع، مجانبا لمن یخوض فی غیر الحدیث۔‘‘(۲) ’’بدعتیوں کے سخت خلاف تھے،حدیث کے علاوہ دوسری ابحاث میں نہیں پڑتے تھے۔‘‘ ابو بکر محمد بن خیر اموی اشبیلی رحمہ اللہ(۵۰۲ھ -۵۷۵ھ) اپنی کتاب جو ’’فہرست ابن خیر‘‘ کے نام سے مشہورہے، میں موصوف کی کتاب الاحکام کی سند ذکر کرتے ہیں، جو اس بات کی شاہد ہے کہ شیخ ابو القاسم اپنے استاد ا بو عبداللہ محمد بن الف*ج رحمہ اللہ کے علوم کے حامل تھے،ملاحظہ ہو: ’’کتاب أحکام رسول اللّٰہ ﷺ ، تألیف الفقیہ أبی عبد اللّٰہ محمد بن ف*ج رحمہٗ اللّٰہ، وکتاب الوثائق المختصرۃ من تألیفہ أیضا، حدثنی بھما الشیخ الفقیہ أبو القاسم أحمد بن محمد بن بقی رحمہ اللّٰہ قراء ۃ منی علیہ فی منزلہ، قال: حدثنی بہما أبوعبداللّٰہ محمد بن ف*ج مؤلفہما-رحمہٗ اللّٰہ- قراء ۃً علیہ۔‘‘(۳)اس کے بعد سند کا یہ سلسلہ کدھر جاتا ہے؟ چنانچہ فہرست ابن خیر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فقیہ ابوعبداللہ محمد بن الف*ج روایت کرتے ہیں :ابو الولیدیوسف بن عبداللہ بن المغیث (۳۳۸ھ -۴۲۹ھ) سے، جن کا تذکرہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان الفاظ:’’الإمام الفقیہ، المحدث شیخ الأندلس، قاضی القضاۃ، بقیۃ الأعیان‘‘ سے کیا ہے۔ (۴)اوریہ روایت کرتے ہیں مسند الاندلس ابو عیسی یحییٰ بن عبداللہ اللیثی رحمہ اللہ (المتوفی۳۶۷ھ) سے اور یہ اپنے والد کے چچا ابو مروان عبیداللہ بن یحییٰ لیثی رحمہ اللہ (المتوفی۲۹۸ھ) سے جن کی قبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ بقول حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے: ’’اندلس میں ان کے جنازے سے بڑا کوئی جنازہ نہیں ہوا، حتیٰ کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے بھی ان کے جنازے میں شرکت کی۔‘‘ (۵)اور یہ اپنے والد، راویِ موطا، فقیہ کبیر یحییٰ بن یحییٰ بن کثیرالمصمودی الاندلسی القرطبی رحمہ اللہ (المتوفی۲۹۸ھ)رحمھم اللّٰہ تعالٰی أجمعین سے کرتے ہیں، جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔اس سے آگے امام مالک رحمہ اللہ سے سند واضح ہے۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ ابن بشکوال رحمہ اللہ نے اس درود کو اگر چہ تعلیقاً ذکر کیا ہے، لیکن سند کا سلسلہ جو ذکر کیا گیا اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان تک جو حدیث پہنچتی رہی وہ اسی سلسلے کی مرہونِ منت ہے، جس میں وقت کے بڑے بڑے علماء و محدثین شامل ہیں۔ شیخ ابو القاسم رحمہ اللہ کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ بات اور آشکارا ہوجاتی ہے، لہٰذا اس تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر یہ روایت موضوع و من گھڑت ہوتی تو اس قسم کا سلسلہ اس کو کیسے روایت کرتا؟!

۲:۔۔۔۔۔ متأخرین علماء میں سے محقق العصر،حافظ عبد الرحمن سخاوی رحمہ اللہ (المتوفی۹۰۲ھ) نے بھی ان دونوں روایات کو ’’القول البدیعـ‘‘ میں ذکر کیا ہے۔ملاحظہ ہو: ’’وفی لفظ عند ابن بشکوال من حدیث أبی ہریرۃؓ أیضا:من صلی صلاۃ العصر من یوم الجمعۃ فقال قبل أن یقوم من مکانہ :’’ أللّٰھم صل علٰی محمد النبی الأمی وعلٰی أٰلہ وسلم تسلیما‘‘ ثمانین مرۃ غفرت لہ ذنوبُ ثمانین عاما و کتبت لہ عبادۃُ ثمانین سنۃً۔ وعن سہل بن عبداللّٰہ قال: من قال فی یوم الجمعۃ بعد العصر :’’ أللّٰھم صل علٰی محمد النبی الأمی وعلٰی أٰلہٖ وسلم‘‘ ثمانین مرۃ غفرت لہ ذنوبُ ثمانین عاما۔ أخرجہ ابن بشکوال۔ انتھٰی کلام السخاویؒ۔‘‘(۶)موصوف اپنے وقت کے محدث، محقق اور حافظ حدیث تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (المتوفی۸۵۲ھ) کے شاگردوں میں ان کا کوئی سہیم و شریک نہیں، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ھو أمثل جماعتی‘‘ یعنی وہ میرے شاگردوں میں سب سے زیادہ ممتاز ہیں۔ سخاوی رحمہ اللہ عللِ حدیث کے ماہر تھے۔ علمِ جرح وتعدیل کی ان پر انتہا ہوگئی، یہاں تک کہا گیا ہے کہ ذہبی رحمہ اللہ کے بعد کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہوا جو اُن کی راہ پر چلا ہو۔ تفصیلی حالات کے لیے ملاحظہ ہو: محقق العصر استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عبد الحلیم چشتی صاحب کی کتاب’’ فوائدِ جامعہ، ص:۵۰۸اور عربی زبان میں ’’الحافظ السخاویؒ و جہودہٗ فی علوم الحدیث‘‘ (د۔بدر بن محمد بن محسن العماش، مجلدین ، مکتبۃ الرشد، ریاض) قابلِ غور بات یہ ہے کہ علامہ سخاوی رحمہ اللہ جیسے بلند پایہ عالم جنہوں نے معتبر و غیر معتبر روایات میں فرق اور فتاویٰ حدیثیہ کے بارے میں دو کتابیں لکھیں: ’’المقاصد الحسنۃ‘‘ اور ’’ الأجوبۃ المرضیۃ‘‘ وہ کس طرح اپنی کتاب میں ایسی حدیث ذکر کرسکتے ہیں جو موضوع ہو اور اُسے ذکر کرنا تحقیق کے خلاف ہو۔ اس قسم کے محقق سے یہ با ت بعید ہے۔ موصوف کی کتاب ’’القول البدیع‘‘ کو اللہ تعا لیٰ نے بڑی قبولیت اور جامعیت سے نوازا ہے، چنانچہ ابن حجر ہیتمی مکی شافعی رحمہ اللہ (۹۰۹-۹۷۴ھ) ’’الدر المنضود‘‘ کے مقدمہ میں رقم طراز ہیں: ’’فلا تری منھم من أحاط ببعض کتب ھذا المقصد الأسنی إلا الشاذ النادر، الذی خلصہٗ اللّٰہ من الحظوظ و العنا لاشتمالھا علٰی بعض البسط و زیادۃ التأصیل و التفریع، ککتاب الحافظ السخاویؒ المسمی ب’’القول البدیع‘‘ ، ھذا مع أنہٗ أحسنھا جمعا، وأحکمھا وضعا، و أحقھا بالتقدیم، وأولاھا بالإحاطۃ، لما فیہ من التحقیق والتقسیم۔‘‘ (۷)یعنی یہ کتاب ترتیب اور وضع کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور تحقیق اور ابحاث کی تقسیم کے اعتبار سے سب سے آگے ہے۔ حافظ مرتضیٰ زبیدی حنفی رحمہ اللہ (المتوفی۱۲۰۵ھ) ’’شرح احیاء العلوم‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’ہو أحسن کتاب صنف فی الصلاۃ علیہ، صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔‘‘(۸) ’’درود شریف کے باب میں یہ کتاب سب سے بہترین تصنیف ہے۔‘‘ شیخ الشیوخ علامہ نبھانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’سعادۃ الدارین‘‘میں حافظ سخاوی رحمہ اللہ کی کتاب کا یوں تعارف کرایا ہے: ’’و أجمل ھٰذہٖ الکتب و أجمعھا، و أفضلھا فی علم ھذا الفن و أنفعھا: القول البدیع۔‘‘(۹) ’’اس فن کی تمام کتب میں سب سے عمدہ،جامع،افضل اور فائدہ مند کتاب ’’القول البدیع‘‘ ہے۔‘‘ موصوف کے علمی کمالات و کارناموں پر ایک علمی مقالہ لکھا گیا جس پر مصنف کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے۱۴۱۹ھ میں دکتوراہ (پی- ایچ - ڈی) کی ڈگری سے نوازا گیا۔ اسی طرح موصوف کی تصنیفات و تالیفات پر ایک کتاب بہ نام ’’مؤلفات السخاویؒ‘‘ لکھی گئی جو دار ابن حزم سے۱۹۹۸ء میں شائع ہوئی۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اس حدیث کو موضوع کس نے قرار دیا؟ اب تک ایسی کتاب یا کسی محدث کی عبارت نظر وں سے نہیں گزری جس نے اسے موضوع قرار دیا ہو۔بالفرض اگر کسی کے ذہن میں اس کے موضوع ہونے کا خیا ل آتا ہے تو شاید اس کے ذہن میں ہو کہ اتنے چھوٹے سے عمل پر اتنا بڑا ثواب کیسے مل سکتا ہے؟ جیسا کہ محدثین نے موضوع حدیث کے پہچاننے کے لیے اسے علامت کے طور پر لکھا ہے، ملاحظہ ہو:تدریب الراوی، ص:۲۴۰، ط:دار الحدیث،چنانچہ شیخ محمد عوامہ -حفظہٗ اللہ- نے ’’القول البدیع‘‘ کے مقدمہ میں عارف باللہ ابن عطاء اللہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے: ’’من فاتہٗ کثرۃ الصیام والقیام فعلیہ أن یشتغل نفسہٗ بالصلاۃ علٰی رسول اللّٰہ ﷺ فإنک لو فعلتَ فی جمیع عمرک کلَّ طاعۃ ثم صلی اللّٰہ علیک صلاۃ واحدۃ، رجحت تلک الصلاۃ الواحدۃ علی کل ما عملتہٗ فی عمرک کلہٖ من جمیع الطاعات، لأنک تصلی علٰی قدر وسعک وہو یصلی حسبَ ربوبیتہٖ۔‘‘ ’’جس شخص کے بہت سے (نفلی)نماز روزے قضا ہوگئے ہوں،اُسے چاہیے کہ درود شریف پڑھنے کو اپنا مشغلہ بنالے، اس لیے کہ اگر تم ساری زندگی نیکیاں کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ تم پر ایک دفعہ رحمت کی نگاہ ڈال دے تو بے شک یہ نگاہِ رحمت تمہاری عمر بھر کی نیکیوں سے بہتر ہے، اس لیے کہ ایک تمہاری کوشش ہے اور ایک اس کی شانِ ربوبیت ہے۔‘‘ ہم معنی روایت جمعہ کے دن مطلقاً اَسّی(۸۰)مرتبہ درود شریف پڑھنا بھی حدیث شریف سے ثابت ہے، جس پر۸۰؍ سال کے گناہوں کی معافی کا وعدہ ہے،ملاحظہ ہو: ’’عن أبی ھریرۃ ؓ قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ : الصلاۃ علیَّ نورٌ علٰی الصراط، و من صلّٰی علیَّ یوم الجمعۃ ثمانین مرۃً غفرت لہٗ ذنوبُ ثمانین عامًا۔‘‘ ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا:مجھ پر درود پاک پڑھنا پل صراط پر نور کا باعث ہوگا۔ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر۸۰مرتبہ درود بھیجے گا اس کے۸۰سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ ‘‘ درج بالاحدیث مبارک کو مندرجہ ذیل محدثین نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے:۱:۔۔۔۔۔ابو حفص عمر بن احمد بن عثمان بغدادی المعروف بابن شاہین رحمہ اللہ(۲۹۷-۳۸۵ھ) نے اپنی کتاب ’’الترغیب فی فضائل الأعمال وثواب ذلک ‘‘میں یہ حدیث نقل کی ہے۔(۱۰)واضح رہے کہ ابنِ شاہین رحمہ اللہ اپنے وقت کے حافظ، عالم اورملک عراق کے بڑے شیخ تھے۔ موصوف کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ (المتوفی۷۴۸ھ) سیر اعلام النبلاء میں رقم طراز ہیں: ’’الشیخ الصدوق، الحافظ العالم، شیخ العراق و صاحب التفسیر الکبیر، أبو حفص عمر بن أحمد بن عثمان بن أحمد بن محمد بن أیوب بن ازداز البغدادی الواعظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال أبو الفتح بن أبی الفوارس: ثقۃ مأمون صنف ما لم یصنفہ أحد۔ وقال أبو بکر الخطیب: کان ثقۃ أمینا، یسکن بالجانب الشرقی۔ قال حمزۃ السھمی: سمعت الدارقطنیَ یقول:ابن شاہین یلح علی الخطأ، وہو ثقۃ۔‘‘ ’’ ابوالحفص عمر بن احمد بن عثمان بن احمد بن محمد بن ایوب بن ازداز بغدادی واعظ، شیخ ، صدوق ، حافظ اور عالم، عراق کے شیخ اورایک بڑی تفسیر کے مصنف تھے۔ موصوف کے بارے میں ابن ابی الفوارس فرماتے ہیں: قابل بھروسہ او ر اعتماد والی شخصیت ہیں۔ یہ وہ لکھ گئے جو کوئی نہیں لکھ پایا۔ ابوبکر خطیبؒ لکھتے ہیں: یہ بااعتماد اور امانت دار انسان تھے، مشرقی جانب سکونت پذیر تھے۔ حمزہ سہمیؒ‘ دارقطنی کا قول نقل کرتے ہیں: ابن شاہین اگر چہ معتمد تھے، لیکن اپنی غلطی پر جمے رہتے تھے۔‘‘ آخر میں امام ذہبی رحمہ اللہ نتیجہ نکالتے ہوئے اپنی تحقیق یوں پیش کرتے ہیں: ’’ماکان الرجل بالبارع فی غوامض الصنعۃ ولکنہٗ راویۃ الإسلام - رحمہ اللّٰہ-۔‘‘(۱۱) ’’اگر چہ فن حدیث کی باریکیوں سے بے خبر تھے، لیکن ’’راویۃ الاسلام‘‘کا لقب ان کا حق ہے۔‘‘۲۔ محدثِ اندلس ابو القاسم خلف بن عبدالملک ابن بشکوال رحمہ اللہ (المتوفی۵۷۸ھ) نے اپنی پوری سند کے ساتھ اس حدیث کو اپنی کتاب ’’القربۃ إلی اللّٰہ‘‘میں ذکر کیا ہے۔(۱۲)ابن بشکوال رحمہ اللہ کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ یہ الفاظ استعمال فرماتے ہیں، ملاحظہ ہو: ’’الإمام العالم الحافظ، الناقد المجود، محدث الأندلس، أبو القاسم خلف بن عبد الملک۔‘‘(۱۳)

۳:۔۔۔۔۔۔ ابو شجاع شیرَوَیہ بن شَھرَدار الدیلمی رحمہ اللہ (۴۴۵-۵۰۹ھ) نے اپنی کتاب ’’الفردوس بمأثور الخطاب‘‘ میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے۔(۱۴)

۴:۔۔۔۔۔ محقق العصر علامہ محمد بن عبد الرحمن سخاوی رحمہ اللہ (المتوفی۹۰۲ھ) نے اپنی کتاب ’’القول البدیع‘‘ میں اس درود پاک کو ذکر کر کے اس کی نہایت عمدہ تحقیق پیش کی ہے اور ضعف کا حکم لگا کر اس حدیث کے طرق پیش کیے ہیں۔ ملاحظہ ہو:(القول البدیع:ص:۳۹۹)(۱۵)

خلاصۂ تحقیق:

۱:۔۔۔۔۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد پڑھے جانے والے خاص درود شریف کا ثبوت(موقوفاً) احادیث کی کتابوں سے ملتا ہے۔(۱۶)

۲:۔۔۔۔۔ ثواب کی نیت سے اس کو پڑھ سکتے ہیں۔

۳:۔۔۔۔۔ اس کو بیان بھی کرسکتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

۴:۔۔۔۔۔ جو لوگ اس حدیث کو موضوع کہتے ہیں ان کی رائے تحقیق کے خلاف ہے۔

۵:۔۔۔۔۔ حدیث مبارک میں۸۰؍ کے عدد سے تعیین وتحدید مقصد نہیں، بلکہ یہ ایک تعبیر ہے، درود شریف کی کوئی نہایت نہیں، اس میں زیادتی خیر کا باعث ہے، چنانچہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے آپﷺ سے پوچھا کہ: میں اپنی دعاؤں میں کتنا حصہ درود کے لیے مقرر کروں؟ جواباً ارشاد فرمایا: جتنا تم چاہو، جتنا زیادہ پڑھوگے اتنا ہی فائدہ ہوگا۔ (۱۷)

حوالہ جات:

۱:۔۔۔۔۔ کتاب الصلۃ،ج:۱، ص:۱۳۴، ط:دار الکتاب المصری۔

۲:۔۔۔۔۔ سیر اعلام النبلائ،ج:۱۹، ص:۱۹۹، الصلۃ،ج:۳،ص:۸۲۳۔

۳:۔۔۔۔۔ فہرست ا بن خیر،ص:۲۴۶،ط:مؤسسۃ الخانجی۔القاہرۃ۔

۴:۔۔۔۔۔ سیر،ج:۱۷،ص:۵۶۹۔

۵:۔۔۔۔۔ تاریخ الاسلام،ج:۶،ص:۹۷۹، ط:دارالغرب۔

۶:۔۔۔۔۔ القول البدیع، ص:۳۹۹،ط:دار الیسر۔

۷:۔۔۔۔۔ الدر المنضود، ص:۳۴، الناشر:دار المنہاج،جدۃ ،الاولیٰ،۱۴۲۶ھ۔

۸:۔۔۔۔۔شرح احیاء العلوم،ج:۳،ص:۲۹۰، طـ:بیروت،۱۴۱۴ھ۔

۹:۔۔۔۔۔ القول البدیع، ص:۸۔

۱۰:۔۔۔۔۔الترغیب فی فضائل الاعمال وثواب ذلک، ص:۱۴، ط:دار الکتب العلمیۃ۔

۱۱:۔۔۔۔۔ سیر اعلام النبلاء ،ج:۱۶،ص:۴۳۱،ط:مؤسسۃ الرسالۃ،بیروت۔

۱۲:۔۔۔۔۔ملاحظہ ہو:باب فضل الصلاۃ علی النبی ﷺعشیۃ الخمیس ویوم الجمعۃ، ص:۱۱۱،ط: دار الکتب العلمیۃ،الطبعۃ الاولیٰ،۱۴۲۰ھ۔

۱۳:۔۔۔۔۔ سیر،ج:۲۱،ص:۱۳۹۔

۱۴:۔۔۔۔۔ ملاحظہ ہو: الفردوس للدیلمی،ج:۲،ص:۴۰۸، رقم الحدیث:۳۸۱۴، ط:دار الکتب العلمیۃ۔

۱۵:۔۔۔۔۔ تحقیق:محمد عوامہ، ط:دار الیسر۔

۱۶:۔۔۔۔۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ یہ حکماً مرفوع ہے، اس لیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے وہ اقوال جو ثوابِ مخصوص یا عقابِ مخصوص کے بارے میں ہوں مرفوع کے حکم میں ہوتے ہیں۔انظر:تدریب الراوی، بحث :قول الصحابیؓ:کنانقول کذا، ص:۱۶۲، ط:قدیمی۔

۱۷:۔۔۔۔۔رواہ الترمذی فی کتاب صفۃ القیامۃ، باب:۲۳، وأخرجہ السخاوی وأحال إلی الترمذی، انظر القول البدیع،ص:۲۶۰۔ فقط واللہ اعلم

مأخوذ از ماہنامہ بینات، شمارہ رجب المرجب ۱۴۳۷ بمطابق مئی ۲۰۱۶

فتوی نمبر : 144003200476

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Address

Nagenah Santar
Karachi
092

Telephone

+923218256531

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Muhammad Arshad Jahangiri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Mufti Muhammad Arshad Jahangiri:

Share