19/02/2025
جو شخص اللہ کا وفادار نہیں ہو سکتا، وہ میری بیٹی کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک نوجوان ڈاکٹر، جس نے حال ہی میں اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کی تھی، ایک فلسطینی طالبہ سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا۔ یہ طالبہ پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے غزہ سے آئی تھی۔ نوجوان نے جب اپنی نیت ظاہر کی، تو طالبہ نے نرمی سے کہا کہ وہ اپنے والد سے مشورہ کرے گی، پھر فیصلہ کرے گی۔
طالبہ نے اپنے والد کو اس معاملے سے آگاہ کیا، جو غزہ میں رہتے تھے۔ وہ ایک دانا شخص تھے، جنہوں نے اپنی بیٹی کے مستقبل کے بارے میں جلد بازی سے فیصلہ کرنے کی بجائے، اس معاملے کی مکمل تحقیق کی ضرورت محسوس کی۔
انہوں نے اس شخص سے تفصیل مانگی، جو غزہ کے طلبہ کو پاکستان لانے میں مددگار تھا، تاکہ اس نوجوان کی ساکھ اور حالات کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔
وہ شخص نوجوان ڈاکٹر کے بارے میں بتاتے ہوئے اس کی تعلیم، کامیاب پیشہ ورانہ کیریئر، اور مالی حالت کو تفصیل سے بیان کر رہا تھا۔ اس نے کہا کہ نوجوان نے میڈیکل کی ڈگری مکمل کی ہے، اسلام آباد میں رہتا ہے، اس کے پاس ایک خوبصورت گھر ہے، کئی پلاٹ ہیں اور اس کی مالی حالت بھی بہت مستحکم ہے۔ لیکن اچانک طالبہ کے والد نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا:
"آپ مجھے کیا بتا رہے ہیں؟ یہ سب باتیں چھوڑ دیں۔ مجھے صرف یہ بتائیں کہ کیا وہ فجر کی نماز ادا کرتا ہے؟ کیا وہ اللہ کا وفادار ہے؟ مجھے اس کی دولت یا تعلیم سے کوئی غرض نہیں۔"
اس سوال کی سادگی اور شدت نے معلومات دینے والے شخص کو بے آواز کر دیا۔ اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا، کیونکہ اس کی نظر میں کامیابی صرف دنیاوی پہلو سے ہی جانی جاتی تھی، لیکن وہ سوال کچھ اور تھا، ایک روحانی معیار پر مبنی تھا۔
آخرکار، طالبہ کے والد نے ان تمام دنیاوی کامیابیوں کے باوجود اس رشتہ سے انکار کرتے ہوئے کہا:
"جو شخص اللہ کا وفادار نہیں ہو سکتا، وہ میری بیٹی کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟"
یہ الفاظ نہ صرف اس نوجوان ڈاکٹر کے لیے ایک سوال تھے بلکہ وہ ہم سب کے لیے ایک سبق بن گئے، جو زندگی میں مادی کامیابیوں کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں۔
اس واقعے میں ایک گہرا پیغام دیا گیا ہے کہ انسان کی حقیقی عظمت اور وفاداری اس کے ایمان اور اللہ کے ساتھ تعلق پر منحصر ہے، اور یہ ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔ دنیا کے جاہ و حشم میں ڈوبے ہوئے لوگ اکثر اس حقیقت سے غافل ہو جاتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی رضا کے راستے پر نہیں چلتا، وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سے محروم ہوتا ہے۔
> مسلم فورم