Pakistan Hajj & Umrah Guide_\PH&UG/

Pakistan Hajj & Umrah Guide_\PH&UG/ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pakistan Hajj & Umrah Guide_\PH&UG/, Religious Center, Karachi.

24/02/2025

"مدینہ پاتھ" کے ذریعے #آگاہی ـ پلیٹ فارم پر ایک منفرد تعلیمی سفر کا آغاز کریں اور اسلام کے پہلے دارالحکومت کے بارے میں اپنی علمی بصیرت میں اضافہ کریں۔

دریافت کریں اور سیکھیں یہاں سے:
https://learn.haj.gov.sa/home/tracks


24/02/2025

300 سال، سفر دن بہ دن آسان ہوتا گیا، اور حجاج و معتمرین کی رضا سال بہ سال حاصل ہوتی رہی 🇸🇦۔


سکون کے ساتھ

24/02/2025

#عمرہ کے مناسک مغفرت اور رضائے الٰہی کے سفر کی منازل ہیں؛ انہیں جانیں اور صحیح طریقے سے ادا کریں۔


24/02/2025
07/02/2025
04/02/2025
28/01/2025

اولین اڑان یا آخری پروازوں کا انتخاب:-
تحریر : اسد اللہ غوری

دیکھنے میں آیا ہے کہ جب سرکاری حج اسکیم کے تحت ضیوف الرحمان کی درخواست کامیاب قرار پاتی ہے تو خاندان بھر میں مبارک سلامت کے شادیانے بجائے جاتے ہیں، محلے ، پڑوس سے مرد و خواتین، دوست احباب گھر آکر مبارکبادیں پیش کرتے ہیں اور اپنی دعاؤں ، التجاؤں کی عرضی تھما جاتے ہیں۔

اگر تو قسمت سے ضیوف الرحمان کا یہ پہلا سفر حج ہو تو پھر ہر کوئی جانا ، انجانا ، تجربہ کار یا نا تجربہ کار اپنے اپنے طور ثواب کمانے کی نیت سے ناصحانہ لب و لہجہ اختیار کرلیتا ہے اور پھر بن مانگے مشوروں اور خود ساختہ ہدایات کے ڈھیر لگ جاتے ہیں۔

انہی قیمتی ٹوٹکوں میں ایک عمومی سوال جو تواتر سے کیا جاتا ہے وہ یہ کہ " کب کی فلائٹ ہے؟" اگر ضیوف الرحمان اسکا فوری جواب دے دے تو سمجھیں یہی وہ نکتہ آغاز سے جہاں سے وہ اپنے لئے بلاوجہ کی ذہنی کوفت و خلجانی کیفیت مفت مول لے لیتا ہے۔۔۔

ارے بھئی شروع میں کیوں جارہے ہو؟ درمیانی اڑانوں میں جاو، ۔۔۔۔۔ بہن جی آپ بھائی صاحب کو سمجھائیں کہ آخری پروازوں میں جائیں۔۔۔۔۔۔ارے میاں کیا ہوگیا تمھیں؟ ، ہم سے پوچھ تو لیتے ؟ ہر صورت اولین فلائیٹ پکڑو۔۔۔۔یہ وہ عمومی رویے ہیں جو بہت سے ضیوف الرحمان کی جانب سے راز داری کیساتھ اپنی فلائیٹ کے وقت کا انکشاف کرنے کے بعد ان کو سہنے اور سننے کو مل سکتے ہیں۔

اسکے علاؤہ ہمارے معاشرتی رویوں کی ہی مناسبت سے ضیوف الرحمان کا بنا مقصد و بلا منطق ذاتی تجسس بھی انکو اس جانب مائل کرتا ہے کہ وہ لوگوں سے پوچھ گچھ کرکے اس سرکاری اختیار کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جو انکے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

ہاں البتہ ان چند ایک ضیوف الرحمان کو چھوڑ کر جنکی حقیقی مجبوریاں آڑے آرہی ہوں جیساکہ انکے بچوں کے اہم امتحانات چل رہے ہوں یا خدانخواستہ انکی نوکری ، کاروبار پر کسی قسم کی آنچ آرہی ہو وغیرہ وغیرہ تو اور بات ہے۔ دوسری جانب دیگر افراد کی جانب سے بنا سوچے سمجھے ذاتی پسند یا ناپسند کی کسوٹی پر پرکھی دھڑا دھڑ بھیجی جانی والی فلائٹ تبدیلی کی درخواستیں اور حاجی کیمپ کے دفاتر میں لگائے جانے والے انکے چکروں پر چکر اور انکے نتیجے میں افسران سے مسلسل گردان جو آگے چل کر تکرار کی شکل اختیار کرجائے اور اسطرح ایک مربوط نظام کے تحت بنایا گیا شیڈیول متاثر کرنے کی یہ معصومانہ کوشش یقیناً احسن اقدام کی حیثیت سے تسلیم نہیں کی جاسکتی۔

اس ضمن میں چند زمینی حقائق و مشاہدات کی روشنی میں آپکی خدمت میں تین دورانیے پیش کرتے ہیں، امید ہے کہ آپ بات سمجھ پائیں گے۔

1) اولین پروازیں:-

یکم ذی قعدہ کے قریب قریب روانہ ہونے والی یہ سرکاری پروازیں ضیوف الرحمان کو وطن عزیز کے مختلف علاقوں سے لیکر مدینہ منورہ پہنچاتی ہیں۔ یہاں ہوائی اڈے پر حجاز مقدس کی سرزمین پر سجدہ شکرانہ یا لاونج میں نماز دوگانہ ادا کرتے ہوئے حاجیوں کا جذبہ ایمانی قابل دید ہوتا ہے۔

یہاں مدینہ شریف میں ان دنوں میں ہجوم کم کم ہوتا ہے اور ضیوف الرحمان خوب ذوق و شوق اور اعلیٰ آداب کیساتھ زیارت مدینہ منورہ کرتے ہیں، روضہ رسول عربیﷺ پر انتہائی احترام کیساتھ پیش ہوتے ہیں، سلام عرض کرتے ہیں اور مسجد نبوی کے گوشہ گوشہ خصوصا ریاض الجنہ تک رسائی ملنے پر اپنی قلبی مناجات رب العالمین کے حضور پیش کرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ مدینہ کی پاکیزہ آب و ہوا کی برکات سے خود کو مزین کرتے ہیں۔ مسجد قبا کی راہیں بھی خوب کشادہ ملتی ہیں اور باذوق افراد بازاروں کی رونق بھی خوب بڑھاتے ہیں۔

یہاں کے ایک ہفتے کا قیام پلک جھپکتے ہی گزر جاتا ہے اور مسجد نبوی میں قرآن ، آذان اور نماز سے تعلق قائم کرکے اس پر ڈٹ جانے والے اسی دوران مکہ مکرمہ کی حدود میں عزیزیہ وغیرہ منتقل کردیے جاتے ہیں۔ یہاں بھی دیدار کعبہ کا شرف حاصل کرنے والے پہلی نظر میں مستجاب الدعوات بالخیر کہلاتے ہیں۔ یہاں بھی مدینہ منورہ کے قیام کی طرح سبق حج کی روزانہ کی بنیادوں پر دہرائی جاری رہتی ہے کیونکہ حج مبرور کی خواہش تو ہر دل کی خواہش ہوتی ہے ساتھ ہی ساتھ سرکاری و مختلف تنظیموں سے جڑے خدام الحجاج مختلف نشستوں میں ضیوف الرحمان کی دہلیز پر یعنی انکی رہائش گاہوں پر حج کی تیاری کراتے نظر آتے ہیں۔گو کہ یہاں ہجوم کچھ زیادہ ہونے کی باعث انہیں وہ آزادی حاصل نہیں ہوتی جو مدینہ منورہ میں تھی کیونکہ ہجوم کی باعث راستوں کی بندش جیسی سختیاں بتدریج اپنے اگلے درجوں پر ترقی کرتی محسوس ہوتی ہیں۔بہر کیف ۔۔۔۔حج مبرور کی تکمیل پر یہ اولین پروازوں کے مسافرین جلد ہی کامیاب و کامران اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور اپنی روز مرہ کی مصروفیات کا سلسلہ وہیں سے شروع کر دیتے ہیں جہاں پر انہیں روک کر سفر حج پر روانہ ہوئے تھے۔

2) درمیانی پروازیں:-

یہ ضیوف الرحمان بھی اپنی بساط میں اولین پرواز سے آنے والوں کی طرح فایدے میں رہتے ہیں بس دیکھنے اور پرکھنے کا سلیقہ بدل جاتا ہے۔

انہیں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی رونقیں جوبن پر دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔۔ یہاں مسجد نبوی انکی آمد سے لیکر مکہ مکرمہ روانگی کے دن تک تیزی سے آباد ہوتی نظر آتی ہے۔ یہاں کے بازار پوری طرح سج چکے ہوتے ہیں ۔ کھانے پینے کے اسٹال سے لیکر سوغات و تحفہ جات کی ہر دکان پر بھاؤ تاؤ پر خوب مناظرے ہوتے ہیں، ابھی قیمتوں میں بھی چڑھاؤ ہے، لیکن مسجد نبوی کی صفیں شاد و آباد اور بعد از نماز عصر ان پر لگنے والے طویل دسترخوان مدینہ کے میزبانوں کے وسیع اسلوب اور باسلیقہ ہونے کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جو معصوم مہمان یہ اعلان نہیں سمجھ پاتا اسے میزبان کی جانب سے مسجد نبوی میں داخلے کیساتھ ہی لپک کر سینے سے لگایا جاتا ہے اور پھر پیشانی پر بوسہ دے کر اور گرم جوشی سے ہاتھ تھام کر اس محبت و اخلاص سے اپنے پہلو میں بیٹھنے کی دعوت دی جاتی ہے کہ صائم تو صائم ، جسکا پیر و جمعرات کا روزہ نہ ہو وہ بھی بیٹھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

الغرض یہ بھی اپنے اولین ساتھیوں کی روش پر چلتے ہوئے مدینہ شریف سے رحمتوں و نعمتوں کے خزانے سمیٹے ہوئے مکہ مکرمہ روانہ ہوتے ہیں اور میقات ذوالحلیفہ سے احرام باندھ کر سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے آگے کی منزلیں طے کرتے ہیں۔ ان میں سے چیدہ چنندہ حج قران کا احرام باندھ کر اپنے سفر کے لطف کو دوبالا کرتے نظر آتے ہیں۔

وہاں مکہ شریف اور عزیزیہ میں بھی رونقیں عروج پر ہوتی ہیں اور ہر جانب ضیوف الرحمان کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نگاہوں کو خوب بھاتا ہے۔ انکو بھی خدام الحجاج سبق ادائیگی حج پکا کراتے نظر آتے ہیں۔ یہ حج مبرور کی ادائیگی کے بعد کئی کئی عمرے کرلیتے ہیں اور میقات و حدود حرم کے بارے میں خوب آگاہی حاصل کرتے ہیں، البتہ کچھ نا سمجھ محض معلومات نہ ہونے کی باعث طائف کی سیاحت سے ایسا لوٹتے ہیں کہ ساتھ میں احرام لے جانا ہی بھول جاتے ہیں اور پھر وہی ہوتا ہے جو علماء کرام کا مشورہ یا درد کی دوا ہوتی ہے یعنی پھر سے میقات جاکر احرام باندھ کر آتے ہیں اور عمرہ کرتے ہیں ۔

حج کے بعد چند ایک کو وطن کی اور بچوں کی یاد ستاتی ہے اور انکے دن بھی تیزی سے گزرتے ہیں اور جلد ہی یہ بھی بخشے بخشائے اپنے اپنے آشیانوں کو لوٹ جاتے ہیں۔

3) آخری پروازیں :-

یہ ضیوف الرحمان ایام حج سے کوئی ہفتہ بھر پہلے ہی مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں۔ کبھی کبھی تو بس تین , چار دن کے فرق سے منی روانگی ہوجاتی ہے۔ بہرکیف شروع میں انکی مصروفیات اس مد میں زیادہ ہوتی ہیں کہ شدید ہجوم میں انہیں اپنے عمرہ کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے۔ راستوں کی بندش بھی ان نووارد مسافروں کو خوب تھکاتی ہے۔ انکو بھی حج تربیت پروگرام میسر آتے ہیں لیکن شاید انکو سفری تھکاوٹ دور کرنے کا مناسب وقفہ نہیں مل پاتا۔۔

فریضہ حج سے فراغت کے بعد جوں جوں دن گزرتے ہیں انہیں عمرہ کرنے کے بہترین مواقع میسر آتے ہیں، ایک طرف مطاف خالی ملنے لگتا ہے تو دوسری طرف فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد ذہنی فکر کافور ہوجاتی ہے نتیجتا اب بیوی بچوں کی یاد دل میں گھر بناتی ہے۔

یہاں سے خوب فیضیاب ہوکر یہ بخشے بخشائے حجاج کرام مدینہ شریف تشریف لے جاتے ہیں اور آقائے نامدار ﷺ کے دربار اقدس میں پاک و صاف جسمانی و روحانی کیفیت میں سلام پیش کرتے ہیں۔ انکو بھی اولین پروازوں کے مسافرین کی طرح رحمتوں کے خزینے سمیٹنے کے خوب خوب مواقع میسر آتے ہیں اور ہجوم کمی انکی جسمانی کارکردگی کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔۔کیونکہ حج بیت اللہ کی ادائیگی کے بعد جذبہ ایمانی اپنے عروج پر پہنچا ہوا ہوتا ہے لہذہ انمیں سے اکثر کی کوشش یہی رہتی ہے کہ ہر فرض نماز کی اذان بھی مسجد نبوی کی چھت کے سایے تلے سماعت میں رنگ گھولے۔۔۔بعضے پختہ ذہن تو ایسے جذبہ کے زیر اثر آجاتے ہیں کہ اپنے قیام مدینہ کے دوران ہر صورت ایک قرآن کریم کی تکمیل کرنے پر جت جاتے ہیں۔

پھر وہ معصوم جو شاہراہ ہجرت کے راستے بھر یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہورہے تھے کہ حرم مکی میں تو طواف اور عمرہ کی مصروفیات ہیں لیکن مسجد نبوی میں بیٹھے بیٹھے وقت کیسے گزرے گا وہ یہاں پہنچ کر انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں کہ ہائے یہ قیمتی وقت کب ، کہاں اور کیسے اڑ گیا۔ گزرے وقت کیساتھ اشیاء ضروریہ بھی اب ارزاں قیمت پر دستیاب ہیں۔ یہاں سے کھجوریں خرید کر یہ قافلے اپنے وطن پلٹنے کو تیار ہیں۔ لوٹتے وقت شدت غم سے نڈھال مڑ مڑ کر مسجد نبوی کو تکنے والے بہت سوں کی بے ترتیب سانسوں سے مزین دل کی دھڑکنوں کے دوش آنے والی اچانک صدا " اے معاذ! واپسی میں شاید تم مجھ سے نہ مل سکو گے" ،سن کر بڑے بڑوں کے اشک رواں ہوجاتے ہیں۔ اپنے علاقوں کے معزز و معتبر اشخاص جنکی پگڑیوں نے کبھی داغ نہ دیکھا تھا، جنکا کلف کبھی نرم نہ ہوا تھا ، جنکی گرجدار آواز سے علاقہ کانپتا تھا ، آج غم جدائی میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے ہیں ۔ کیا خبر یہی وہ مقام ہو جہاں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوکر یمن کے لئے رخصت ہوئے تھے ۔ یا یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ دن کی وہی گھڑی ہو جسکا سورج گواہ ہے۔ رخت سفر باندھا جاچکا یے، بس چل پڑی ہے۔۔۔۔پہلے چند گلیوں کے جھروکوں سے مسجد نبوی کا صحن و چھتریاں نظر آتی ہیں، پھر جنت البقیع پر سلام عرض کرتے ہوئے کچھ آگے بڑھ کر صرف سبز گنبد دکھائی دیتا ہے۔۔۔رخصتی کے موقع پر زائر اس گنبد کو نگاہوں میں سمونا چاہتا ہے، یہ دلفریب منظر دو تین بار رستہ میں پلٹ پلٹ کر آتا ہے ۔ پھر کچھ آگے چل کر یہ بھی نظروں سے اوجھل ہوا۔۔۔۔لیکن ابھی بھی امید دید کو نیک شنید ہے۔ ابھی ابھی بلند و بالا روشن مثال مینار پھر سے نگاہوں کا مرکز بنے ہیں۔ پھر ایک نئی امید جاگی ہے۔۔۔اب یہ مینارے بھی دور ہوتے چلے گئے۔ اب مسجد نبوی دور سے ایسے لگ رہی ہے جیسے جبل احد نے اپنی آغوش میں سمو لیا ہو۔ یہاں سے بس بائیں جانب ہوائی اڈے کی جانب مڑ گئی اور بلااخیر ایک پہاڑی نے تڑپتے ہوئے زائر کے سامنے پردہ سا تان دیا۔۔۔۔۔

اے مدینے کے زائر خدا کے لیے داستان سفر مجھ کو یوں مت سنا
بات بڑھ جائے گی دل تڑپ جائے گا میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے۔

المختصر ! کسی بھی دورانیے میں جانے والا حاجی کبھی بھی گھاٹے میں نہیں رہتا ، لیکن بہرحال مدینہ منورہ سے وطن واپسی بڑے دل گردے کا کام ہے

*Vaccination requirements for travel to SAUDIA*
25/01/2025

*Vaccination requirements for travel to SAUDIA*

28/07/2024

مختلف زمینی راستوں سے عمرہ کے لیے آنے والے افراد، پرائیویٹ کاروں سمیت نقل و حمل کے مختلف ذرائع استعمال کر سکتے ہیں۔

شوق_ آپ_کے_منتظر_ہیں۔

Address

Karachi
0092

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Hajj & Umrah Guide_\PH&UG/ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share