Will of Allah

Will of Allah "WiLL oF ALLAH" is a purposeful journey of Connecting Islamic youth & impart them the beauty & per

سورہ العادیاتکیا  آپ نے کبھی کسی گھوڑے کو پوری رفتار سے دوڑتے دیکھا ہے؟سانس پھولا ہوا، نتھنے پھیلے ہوئے، سینہ اوپر نیچے ...
11/03/2026

سورہ العادیات
کیا آپ نے کبھی کسی گھوڑے کو پوری رفتار سے دوڑتے دیکھا ہے؟
سانس پھولا ہوا، نتھنے پھیلے ہوئے، سینہ اوپر نیچے ہوتا ہوا—
لیکن قدم رک نہیں رہے۔

یہ محض ایک جانور کی دوڑ نہیں،
یہ وفاداری کی فزکس ہے۔

قرآن کی مختصر مگر دھماکہ خیز سورت، سورۂ العادیات، اسی منظر سے شروع ہوتی ہے۔
یہ کوئی نرم تمہید نہیں، کوئی تدریجی تعارف نہیں—
یہ براہِ راست ایک “ہائی اسپیڈ سین” ہے۔

جنگ کا شور… اور اخلاق کا کورٹ روم

اللہ فرماتا ہے:

وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا
قسم ہے ان گھوڑوں کی جو ہانپتے ہوئے دوڑتے ہیں۔

لفظ “ضبحًا” صرف سانس لینے کی آواز نہیں—
یہ سینے کی گہرائی سے نکلنے والی وہ بھاری، دباؤ والی دھمک ہے
جو اس وقت پیدا ہوتی ہے
جب جسم اپنی حد سے آگے جا چکا ہو۔

یہ “Full Capacity Output” ہے۔

گھوڑا جانتا ہے کہ سامنے نیزے ہیں، تلواریں ہیں، موت ہے—
مگر وہ رک نہیں رہا۔

کیوں؟

کیونکہ اس کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا مالک
اسے ایڑ لگا رہا ہے۔

یہ ہے Loyalty Protocol:
حکم ملے تو جان بھی حاضر۔

توانائی کی ٹکر… اور چنگاریوں کا علم

پھر قرآن منظر کو اور تیز کرتا ہے:

فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا
پھر وہ جو (سموں سے) چنگاریاں نکالتے ہیں۔

یہ کوئی شاعرانہ مبالغہ نہیں۔
یہ کائنیٹک انرجی کا تھرمل انرجی میں بدلنا ہے۔
رفتار، رگڑ، ٹکراؤ—
اور زمین سے آگ نکلتی ہے۔

گھوڑا صرف دوڑ نہیں رہا،
وہ اپنی طاقت کو نچوڑ رہا ہے۔

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ
وفاداری آدھی رفتار سے نہیں ہوتی۔
یا تو پوری شدت سے،
یا پھر نہیں۔

سرپرائز اٹیک… اور اطاعت کی انتہا

فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا

صبح کے دھندلکے میں چھاپہ۔

رات بھر سفر کے بعد،
جب جسم آرام مانگ رہا ہو،
اسی وقت حملہ۔

یہ ہے Obedience Beyond Comfort Zone۔

گھوڑا یہ نہیں کہتا:
“میں تھک گیا ہوں”
“کل کر لیں گے”
“آج موسم ٹھیک نہیں”

وہ بس دوڑتا ہے۔

ل

گرد و غبار… اور نفسیاتی دباؤ

فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا

گرد کا بادل۔
دشمن کے حواس باختہ۔

Modern Warfare میں اسے کہتے ہیں:
Disorientation Strategy

گھوڑے صرف جسمانی طاقت نہیں دکھاتے،
وہ ماحول بدل دیتے ہیں۔

وفاداری جب حرکت میں آتی ہے
تو فضا کا رنگ بدل جاتا ہے۔

اور پھر دل میں گھس جانا…

فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا

لشکر کے بیچ میں داخل ہونا۔

یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہے۔
چاروں طرف دشمن۔
واپسی کا راستہ بند۔

پھر بھی وہ گھوڑا پیچھے نہیں ہٹتا۔

کیوں؟

کیونکہ مالک کا حکم آگے ہے،
اور موت پیچھے رہ گئی۔

اب کیمرہ گھوڑے سے ہٹتا ہے… اور انسان پر آ جاتا ہے

یہ پانچ آیات محض جانوروں کی تعریف نہیں تھیں۔
یہ ایک اخلاقی مقدمہ تھا۔

اب فیصلہ سنایا جاتا ہے:

إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ

بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔

لفظ “کنود”
یہ عربی کا نفسیاتی شاہکار لفظ ہے۔

کنود وہ ہے جو:
• ایک تکلیف کو یاد رکھے
• ہزار نعمتیں بھول جائے

یہ Cognitive Bias ہے—
Negativity Bias۔

انسان کہتا ہے:
“میرے پاس کیا نہیں ہے”
وہ یہ نہیں گنتا:
“میرے پاس کیا کچھ ہے”

گھوڑا تھوڑی سی گھاس کے بدلے جان دے رہا ہے،
اور انسان بے شمار نعمتوں کے بدلے شکایت کر رہا ہے۔

یہ ہے اخلاقی تضاد۔

انسان خود گواہ ہے

وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ

وہ خود جانتا ہے۔

ضمیر ایک خاموش عدالت ہے۔
لاشعور سب کچھ ریکارڈ کرتا ہے۔

Self Awareness موجود ہے—
مگر Self Reform نہیں۔

اصل بیماری: مال کی محبت

وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ

“خیر” یہاں مال ہے۔
انسان نے دولت کو ہی “Ultimate Good” بنا لیا۔

وہ بھی ہانپ رہا ہے—
لیکن اللہ کے لیے نہیں،
مال کے لیے۔

گھوڑا مالک کے لیے دوڑتا ہے،
انسان مارکیٹ کے لیے۔

گھوڑا وفادار ہے،
انسان سرمایہ پرست۔

پھر آتا ہے قیامت کا فرانزک آڈٹ

إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ
وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ

دو مرحلے:
1. جسم باہر نکالے جائیں گے۔
2. دل کے راز بھی نکالے جائیں گے۔

یہ صرف Resurrection نہیں—
یہ Forensic Exposure ہے۔

Hidden Intentions Recovery.

تم نے نماز کیوں پڑھی؟
صدقہ کیوں دیا؟
خاموش کیوں رہے؟
غصہ کیوں کیا؟

فائلیں ڈیلیٹ نہیں ہوں گی—
Recover ہوں گی۔

آخری ضرب

إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ

“خبیر” — اندر کی خبر رکھنے والا۔

وہ صرف عمل نہیں دیکھے گا،
نیت بھی دیکھے گا۔

Surface نہیں،
Core۔

العادیات ہمیں ایک سادہ مگر لرزا دینے والا سوال دیتی ہے:

اگر ایک گھوڑا معمولی مالک کے لیے
اپنی جان خطرے میں ڈال سکتا ہے—

تو کیا انسان اپنے رب کے لیے
اپنا غرور نہیں چھوڑ سکتا؟

کیا ہم اتنی وفاداری بھی نہیں دکھا سکتے
جتنی ایک جانور دکھاتا ہے؟

آخری جھنجھوڑ

ہم سب دوڑ رہے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہم ہانپ رہے ہیں یا نہیں۔

سوال یہ ہے:
ہم کس کے لیے ہانپ رہے ہیں؟

اگر ہماری دوڑ مال کے لیے ہے،
تو ہم کنود ہیں۔

اگر ہماری دوڑ مالک کے لیے ہے،
تو ہم وفادار ہیں۔

اور جس دن سینوں کے راز کھل گئے—
وہاں کوئی بہانہ قبول نہیں ہوگا۔

پس گھوڑے سے سبق سیکھو۔
مالک کو پہچانو۔
اور وفاداری کی دوڑ شروع کرو
اس سے پہلے کہ
قبروں کا دروازہ کھل جائے۔

07/03/2026

نماز کا ایک انوکھا اور حیران کن پہلو:
آج فجر کے بعد ‏میں تلاوت کر رہا تھا تو سورہ المعارج کی ایک آیت پر آ کر رک سا گیا
بات انسان کی تخلیق کے بارے میں تھی کہ انسان اصل پیدا کیسا ہوا ہے
ایسی کوئی بھی آیت آئے تو میں رک کر تھوڑا سا سوچنے لگتا ہوں۔
آیت تھی:
"اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ھلوعا"
حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے ‏
میں نے انگریزی ترجمہ دیکھا، تو ”ھلوعا“ کا مطلب اینگوئش لکھا تھا،
اب اینگوئش کا مطلب اردو میں سمجھوں تو یہی لگتا ہے کہ ایسا انسان جس میں بے چینی، تشویش، یا بے صبری سی ہو
بہرحال میں نے”کم ہمت“پر ہی اکتفا کر لیا اور اسے بے صبری کے معنوں میں لے لیا۔اگلی آیت کچھ اور بھی معنی خیز تھی:

"اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا"
جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے
”جزوعا“ کا لفظ تو مجھے سمجھ آ گیا، انگریزی میں ترجمہ بھی قریب قریب ہی تھا، امپیشنٹ، مطلب بے چین، یعنی تکلیف پہنچے تو انسان چاہتا ہے بس اب یہ رفع ہو جائے، بس ختم ہو جائے کسی طرح
"وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا"
اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے
”منوعا“ یعنی کنجوس
جب اسے کوئی نعمت ملتی ہے، تو اس کا دل چاہتا ہے بس اس کے پاس ہی رہے وہ نعمت، کسی اور کو نہ مل جائے۔
جو رلا دینے والی آیت تھی، وہ بعد میں آئی:
اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ
مگر نماز پڑھنے والےایسے نہیں ہیں
یعنی نماز پڑھنے والے لوگوں کے علاوہ ‏انسان کی حالت اسی طرح کی ہے
انسان کی یہ پیدائشی حالت صرف اس صورت میں بدل سکتی ہے، جب وہ نماز قائم کر لیتا ہے
مجھے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوئی یہ سوچ کرمیں پہلی تین آیات پڑھ کر حیران ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہی بنائے انسان کی کمیاں اور خامیاں گنوا رہا ہے
لیکن ”الّا المصلّین“ پڑھا تو دل مطمئن سا ہو گیا کہ ان کمیوں اور خامیوں کو پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے راستہ رکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی نماز پڑھتا ہے تو وہ
”ھلوعا“
”جزوعا“
اور
”منوعا“
کی دلی اور جذباتی حالتوں سے نکل سکتا ہے
اور میں سوچنے لگا، یعنی تصور کرنے لگا، کہ انسان سے تشویش، ‏بے چینی، اور کنجوسی نکل جائیں تو کیسی حالت ہوتی ہے انسان کی
یعنی نماز ہی کی برکت سے انسان کے دل سے تشویش، بے چینی اور کنجوسی نکلتی ہے، اور اس کی پریشانی، گھٹن اور تنگدلی دور ہو جاتی ہے، انسان میں کیسی وسعت، اور کیسی کشادگی آ جاتی ہے
انسان کی طبیعت کتنی ہلکی پھلکی ہو جاتی ہے، اور اس کے دل پر بوجھ ڈالنے والی چیزیں کس طرح غائب ہو جاتی ہیں
بے شک نماز ایک عظیم نعمت ہے

05/03/2026

سورۃ الکہف
میں نے دو سال لگائے سورہ کہف کو سمجھنے میں اور 120 تفاسیر کا مطالعہ کیا جن میں اردو اور عربی کی تفاسیر کا مطالعہ کیا اس کے علاوہ ایک فارسی تفسیر بھی تھی۔
ہم اس سورۃ کو صرف غار والوں کا واقعہ سمجھتے ہیں
مگر اصل مدعا جو ہے اس کی طرف کسی کی نظر ہی نہیں گئی۔
تو اس سورۃ کا مقصود یا لب لباب یا سینٹرل آئیڈیا کہہ لیں یہ ہے کہ
اللہ اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتے ہیں،
عزت ، ذلت ،
صحت ، بیماری ،
نفع ، نقصان ،
خوشی ، غمی ۔
ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتا ہے۔
ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہوں گے۔
لہٰذا یا تو اچھے حالات ہوں گے
یا برے۔
یعنی یا تو بندہ عزت میں ہو گا
یا ذلت میں۔
یا صحت ہو گی
یا بیماری۔
تو اللہ دو حالات میں آزماتے ہیں
یا تو اچھے
یا برے۔
اللہ تعالیٰ آزماتے ہیں کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شکر کرتا ہے
یا نہیں
اور برے حالات میں صبر کرتا ہے
یا نہیں۔
تو اس طرح دو پیپر بنے
ایک شکر کا پیپر
اور
دوسرا صبر کا پیپر۔
اب اگر بندے نے اچھے حالات میں شکر کیا تو اس نے پیپر کو پاس کیا اور
اگر ناشکری کی تو اس پیپر کو فیل کیا ۔
اور اگر صبر کے پیپر میں صبر کیا تو پاس ہوا
اور اگر بے صبری کی تو فیل ہو گیا۔
یہ زندگی دارالامتحان ہے
جہاں ہم نے دو پیپر دینے ہیں
ایک صبر کا
دوسرا شکر کا
اللہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کو بھی ان دو پیپرز میں آزمایا۔
پہلا شکر کا تھا جو کہ جنت کی نعمتیں تھیں،
دوسرا درخت کا پھل تھا جو کھانے سے منع کیا گیا تھا
تو یہ صبر کا پیپر تھا
جس میں شیطان نے ان کو کامیاب نہ ہونے دیا۔
سورہ کہف میں پانچ واقعات ہیں۔
*حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ۔
یہ قلب ہے اس سورت کا۔
آیتیں تھوڑی ہیں اس لیے پڑھنے والوں کی توجہ ہی نہیں جاتی۔
آدم علیہ السلام کے واقعہ سے پہلے دو واقعات عام الناس کے ہیں
جن میں سے ایک اصحاب کہف تھے یہ عام نوجوان تھے
اور انہوں نے صبر کا امتحان دیا اور اس پیپر میں پاس ہو کر مقبول بندوں میں شامل ہو گئے،
دوسرا واقعہ دو باغ والے شخص کا تھا یہ بھی عام شخص تھا جس کو مال و دولت دی گئی تھی
اس کا پیپر شکر کا تھا کہ تم نے نعمتوں پر شکر کرنا ہے تو یہ فیل ہو گیا۔
اس کے بعد آدم علیہ السلام کا واقعہ اور
پھر دو واقعات ہیں خواص کے۔
ایک موسٰی علیہ السلام کا کہ ان سے بھی صبر کا پیپر لیا گیا
اور
سکندر ذوالقرنین کا شکر کا پیپر تھا اور انہوں نے غرور و تکبر نہیں کیا اور شکر کا پیپر پاس کیا۔
اسی طرح اللہ اولاد آدم سے بھی صبر اور شکر کےپیپر لیتے ہیں۔
کچھ نکات
※ اللہ نے اس سورۃ کی شروعات میں اپنی الوہیت کا ذکر کیا اور اختتام اپنی ربویت کے تذکرے پر کیا۔
※ شروع سورۃ میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت کا تذکرہ کیا اور اختتام ان کی بشریت پر کیا۔
※ انسان کے لئے دنیا میں سب سے بڑی بلندی عبدیت ہے۔
اسی لئے انسان ذکر کرتا ہے
تاکہ اللہ کی محبت اس کے دل میں آ جائے۔
اب صرف محبت کا آ جانا مقصود نہیں ہے ،
جب محبت آ جائے تو پھر محب ہمیشہ محبوب کو راضی کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔
اور رضا کیا ہے؟
اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا،
اگر اللہ اچھے حالات بھیجے تو شکر کرنا
اور برے حالات بھیجے تو صبر کرنا۔
جب بندے کو یہ مقامِ رضا حاصل ہو جائے
تو پھر اس کو مقام عبدیت حاصل ہو جاتا ہے۔
※ عبد کا لفظ اللہ نے اپنے حبیب کے لئے استعمال کیا ہے ۔
مفسرین کی نظر میں عبد وہ ہوتا ہے جس کو اپنے آقا کے سوا کچھ نظر نہ آئے۔
بعض کے نزدیک عبد وہ ہوتا ہے
جو اپنے آقا سے کسی بات میں اختلاف نہیں کرتا ،
ہر حال میں راضی رہتا ہے،
شکوہ نہیں کرتا۔
※ چونکہ اس سورۃ کو دجال سے حفاظت کے لئے پڑھنے کا ذکر احادیث میں آتا ہے۔
اس لئے کہ یہ ہمیں دجال سے بچاتی ہے۔
※ پہلے دجال کے معنی کو سمجھیں کہ یہ دجل سے نکلا ہے
دجل فریب کو کہتے ہیں اور ملمع سازی کرنے کو کہتے ہیں
جس طرح تانبے پر سونے کا پانی چڑھا دیا جائے تو وہ اوپر سے کچھ ہو گا اور اندر سے کچھ اور ،
اسی طرح دجال بھی اندر سے کچھ اور ہو گا اور باہر سے کچھ اور گا ۔
آج کے دور میں اسی طرح دجالی تہذیب ہے کہ اوپر سے تو خوش نما نظر آتی ہے مگر اندر سے کچھ اور ہے۔
آج کے دور میں ایمان اور مادیت کی ایک جنگ چل رہی ہے۔
اب اس دور میں اگر اپنا ایمان بچانا ہے تو ہمیں بھی کہف میں گھسنا ہو گا۔
جی ہاں کہف میں!
※ آج کے زمانے میں جو کہف ہیں۔
اگر انسان ان میں داخل ہو جائے تو وہ دجال کے فتنے سے بچ سکتا ہے۔
قرآن مجید
جو قرآن کریم کے ساتھ جڑ جاتا ہے اس کو پڑھنا ، سیکھنا ، سمجھنا اس پر عمل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا شروع کر دیتا ہے
تو وہ بھی اپنا دین بچا لیتا ہے اور قرآن مجید اس کے لئے کہف بن جاتا ہے۔
مکہ اور مدینہ
احادیث کے مطابق جو بھی ان میں داخل ہو جائے وہ بھی دجال سے محفوظ رہے گا۔
ان میں داخل ہونے سے انسان اپنے ایمان کو بچا لیتا ہے اور دجال سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
☆ سورۃ میں یہ بھی ہے کہ کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے اللہ تعالی کا نام لیا جائے ( یعنی بسم اللہ)،
اور بھول جانے پر جب یاد آئے تو انسان تب بھی اللہ تعالی کا نام لے لے۔
☆ باغ والے واقعے میں بندہ نعمتوں کے حاصل ہونے پر ہرگز غرور نہ کرے بلکہ اس حقیقت کا اقرار کرے کہ ،(لاقوہ الا باللہ،) یعنی اللہ تعالی کے سوا کوئی قوت والا نہیں ہے کہ
اللہ تعالی نے چاہا ہے تو کوئی نعمت ہمیں حاصل ہوتی ہے۔
☆ بندہ کبھی بھی آئندہ کسی کام کرنے کی خاطر یہ نہ کہے کہ میں اسے کروں گا۔
بلکہ یوں کہے کہ اللہ تعالی نے چاہا ( ان شاء اللہ تعالیٰ ) تو میں تب کوئی کام کر سکوں گا۔
اس سورت کا ہر واقعہ ہمیں ایک سبق سکھاتا ہے کہ کس طرح ہم نے خود کو دجال سے بچانا ہے۔
※ اصحاب کہف کے قصے سے یہ سبق ملا کہ ہم کو اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے کسی نہ کسی کہف میں پناہ لینی ہے تاکہ ہم اپنا ایمان بچا لیں اور دجال سے محفوظ رہیں۔
※ صاحب جنتین کے قصے سے یہ سبق ملا
کہ اللہ نے جو مال دیا اس کو اپنی طرف منسوب نہ کرے
جیسا کہ اس باغ والے نے کیا اور پکڑ میں آ گیا اور اس نعمت سے محروم کر دیا گیا۔
※ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملا کہ
یہ دنیا ہمارے لئے داراقامت ہے
ہمارا اصلی وطن جنت ہے
دنیا میں رہ کر دنیا کو اپنا اصلی وطن سمجھ لینا اور ساری محنتیں اور ساری امیدیں دنیا پر لگا دینا بےوقوفی کی بات ہے۔
شیطان بدبخت نے ہمیں جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اصلی وطن سے نکالا تھا
اب یہاں بھی یہ ہمارا دشمن ہے اور ہم سے گناہ کرواتا ہے تاکہ دوبارہ جنت میں جانے کے قابل نہ رہیں۔
اللہ شر سے بچائے اور ہمارے اصلی گھر جنت میں پہنچا دے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
※ موسٰی علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم دنیا میں جتنا بھی علم حاصل کر لیں ،
دنیا میں کوئی نہ کوئی ہم سے بھی بڑھ کر علم جاننے والا موجود ہو گا۔
انسان کبھی بھی اشیاء کی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
جب ہم اپنے تئیں یہ سمجھیں گے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں
تو پھر ہم دجالی فتنے میں پھنس جائیں گے
اس لئے اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کا واقعہ بیان کر دیا تاکہ ہم لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں سب کچھ پتا ہے
بلکہ یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی حقیقت حال کو جانتے ہیں۔
علم اور بھی اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے،
اسی لئے سورہ کہف انسان کو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتی ہے اور اس کی ذہن سازی کرتی ہے اور ایسا ذہن بناتی ہے کہ بندے کا ذہن محفوظ ہو جاتا ہے۔
※ حضرت ذوالقرنین کے واقعے سے سبق ملا
حضرت ذوالقرنین جہاں گئے وہ ان کے کوئی دوست رشتے دار نہیں تھے یا کوئی جاننے والے نہیں تھے
کیوں کہ وہ تو ان کی زبان تک نہیں جانتے تھے
لیکن پھر بھی انہوں نے ان لوگوں کی مدد کی
کیونکہ وہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ کے بندوں کو نفع پہنچاتے تھے۔
ان سے کوئی پیسہ وغیرہ نہیں مانگتے تھے
بلکہ جب انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کے لئے پیسے دیں گے تو انہوں نے انکار کر دیا۔
دوسرا یہ کہ وہ اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ کرتے تھے۔
جب ان کو اختیار دیا گیا کہ آپ اس قوم کے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں مطلب چاہیں تو سزا دیں یا اچھا سلوک کریں
تو انہوں نے اس قوم کو اللہ کی طرف بلایا تھا اور اپنے اختیار یا طاقت کو اللہ کے قانون کے نفاذ میں استعمال کیا۔
※ سورہ کہف میں پہلے پانچ واقعات بیان کرکے بندے کی ذہن سازی کی گئی
اور اب آخری آیات میں اس ساری سورت کا نچوڑ بیان کیا جا رہا ہے
جو کہ تین باتیں ہیں :۔
1-جو لوگ دنیا ہی کو بنانے میں لگے رہتے ہیں درحقیقت وہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔
ہر وقت دنیا اور اس کی لذات کو پانے کی فکر میں رہنا ہی دجالی فتنہ ہے
لہٰذا فقط دنیا ہی کی فکر میں نہ رہیں بلکہ آخرت کی بھی سوچیں۔
2-اس کے بعد اللہ نے اپنی صفات کو بیان فرمایا کہ اگر تم اپنے رب کی تعریفوں کو بیان کرو
اور سمندر سیاہی بن جائیں اور دوسرا سمندر بھی اس میں ڈال دیا جائے تو تم پھر بھی اپنے رب کی تعریف بیان نہ کر سکو گے۔
3- آخر میں بتایا کہ جو اپنے رب کا دیدار کرنا چاہے، جو کہ سب سے بڑی اور سب سے بڑھ کر نعمت ہے،
اس کا کیا طریقہ بتایا ہے کہ
انسان جو کام بھی کرے صرف اللہ کریم اور نبی کریم ﷺ کی خوشی کے لئے کرے
اور جو ایسا کرے گا
اللہ اس کو اپنا دیدار عطا فرمائیں گے انشاءاللہ🌻❤️
اللہ ہم سب کو ہمیشہ آسانی عافیت اور نیک و مقبول و نفع والے علم و عمل و سوچ کی توفیق دے ۔“ آمین

28/02/2026
28/02/2026
*"`الله تو دوست ہوتا ہے`"✨**"ایسا دوست جس سے دل کی ہر بات کی جاتی ہے اور* *اگر بتانے کے لیے الفاظ نہ بھی ہو تو بس چپ چاپ...
12/08/2025

*"`الله تو دوست ہوتا ہے`"✨*
*"ایسا دوست جس سے دل کی ہر بات کی جاتی ہے اور*
*اگر بتانے کے لیے الفاظ نہ بھی ہو تو بس چپ چاپ بیٹھ*
*جاؤ وہ سب سن لیتا ہے"*✨

Ameen  ..🤲🏻🤲🏻
14/07/2025

Ameen ..🤲🏻🤲🏻

29/06/2025

Free time isn’t a break. It’s a battlefield. It’s where desires grow, Shaytaan whispers, and sins begin.

Ibn Al-Qayyim said:

“Free time is the root of every evil and misguidance. If the soul isn’t busy with truth, it will be busy with falsehood.”

A heart that is not engaged in purpose becomes a dwelling place for Shaytaan.

A mind that lacks direction invites dangerous thoughts. Every empty moment is a step closer to destruction.

aameen In Sha Allah 🩷
28/06/2025

aameen
In Sha Allah 🩷

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Will of Allah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share