Al Misbah TV

Al Misbah TV Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Al Misbah TV, Religious Center, Bhimpura rehmat masjid, Karachi.

واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حقائق و دلائل حصّہ چہارم ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ن...
17/01/2026

واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حقائق و دلائل حصّہ چہارم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب مبارک نے اس کی تصدیق کی جو چشمِ مبارک نے دیکھا ۔ مراد یہ ہے کہ آنکھ سے دیکھا ، دِل سے پہچانا اور اس دیکھنے اور پہچاننے میں شک اور تَرَدُّد نے راہ نہ پائی ۔ اب رہی یہ بات کہ کیا دیکھا ، اس بارے میں بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام کو دیکھا ، لیکن صحیح مذہب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھا ۔ اور یہ دیکھنا کیا سر کی آنکھوں سے تھا یا دل کی آنکھوں سے ، اس بارے میں مفسرین کے دونوں قول پائے جاتے ہیں ایک یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رب عزوجل کو اپنے قلب مبارک سے دیکھا ۔ اور مفسرین کی ایک ج**عت کی رائے یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رب عزوجل کو حقیقتاً چشمِ مبارک سے دیکھا ۔ یہ قول حضرت انس بن مالک ، حضرت حسن اور حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہم کا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خُلَّت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے دیدار سے اِمتیاز بخشا ۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دوبار کلام فرمایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دو مرتبہ دیکھا ۔ (سنن ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ والنجم جلد ۵ صفحہ ۱۸۴ الحدیث : ۳۲۸۹)

لیکن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدارِ الہٰی کا انکار کیا اور اس آیت کو حضرت جبریل علیہ السلام کے دیدار پر محمول کیا اور فرمایا کہ جو کوئی کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا اور اس بات کی دلیل کے طور پر یہ آیت ’’ لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ‘‘ تلاوت فرمائی ۔

اس مسئلے کو سمجھنے کےلیے یہاں چند باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا قول نفی میں ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اِثبات میں اور جب نفی اور اثبات میں ٹکراؤ ہو تو مُثْبَت ہی مُقَدّم ہوتا ہے کیونکہ نفی کرنے والا کسی چیز کی نفی اس لئے کرتا ہے کہ اُس نے نہیں سنا اور کسی چیز کو ثابت کرنے والا اِثبات اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا اور جانا تو علم ثابت کرنے والے کے پاس ہے ۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ کلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل نہیں کیا بلکہ آیت سے جو آپ نے مسئلہ اَخذ کیا اس پر اعتماد فرمایا اور یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اپنی رائے ہے جبکہ درحقیقت آیت میں اِدراک یعنی اِحاطہ کی نفی ہے دیکھ سکنے کی نفی نہیں ہے ۔

صحیح مسئلہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدارِ الہٰی سے مُشَرَّف فرمائے گئے ، مسلم شریف کی حدیثِ مرفوع سے بھی یہی ثابت ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو کہ حِبْرُ الْاُمَّت ہیں وہ بھی اسی پر ہیں ۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ قسم کھاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شبِ معراج اپنے رب عزوجل کو دیکھا ۔ امام احمد رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا اُس کو دیکھا اُس کو دیکھا ۔ امام صاحب یہ فرماتے ہی رہے یہاں تک کہ سانس ختم ہوگیا (پھر آپ نے دوسرا سانس لیا) ۔ (تفسیر خازن جلد ۴ صفحہ ۱۹۲ ، ۱۹۴،چشتی)(تفسیر روح البیان جلد ۹ صفحہ ۲۲۲ ، ۲۲۳) ۔ (روایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا تفصیلی جواب ہم حصّہ اوّل میں دے چُکے ہیں تفصیل اس میں پڑھیں)

امام احمد علیہ الرحمہ اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی : قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رأیت ربی عزوجل ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ۔ (مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۲۸۵) ۔ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ خصائص کبرٰی اور علامہ عبدالرؤف مناوی علیہ الرحمہ تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں : یہ حدیث بسند صحیح ہے ۔ (التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث رأیت ربی مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۲۵،چشتی)(الخصائص الکبرٰی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۱ /۱۶۱)

ابن عساکر حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے راوی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : لان اللہ اعطی موسی الکلام واعطانی الرؤیۃ لوجہہ وفضلنی بالمقام المحمود والحوض المورود ۔
ترجمہ : بیشک اللہ تعالٰی نے موسٰی کو دولت کلام بخشی اورمجھے اپنا دیدار عطافرمایا مجھ کو شفاعت کبرٰی وحوض کوثر سے فضیلت بخشی ۔ (کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن جابر حدیث ۳۹۲۰۶مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۴ /۴۴۷ )

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی : قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال لی ربی نخلت ابرٰھیم خلتی وکلمت موسٰی تکلیما واعطیتک یا محمد کفاحا ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں مجھے میرے رب عزوجل نے فرمایا میں نے ابراہیم کو اپنی دوستی دی اورموسٰی سے کلام فرمایا اورتمہیں اے محمد!مواجہ بخشا کہ بے پردہ وحجاب تم نے میرا جمال پاک دیکھا ۔ (تاریخ دمشق الکبیر باب ذکر عروجہ الی السماء واجتماعہ بج**عۃ من الانبیاء داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۶ )

فی مجمع البحار کفاحا ای مواجھۃً لیس بینھما حجاب ولارسول ۔
ترجمہ : مجمع البحار میں ہے کہ کفاح کا معنٰی بالمشافہ دیدار ہے جبکہ درمیان میں کوئی پردہ اور قاصد نہ ہو ۔ (مجمع بحار الانوار باب کف ع تحت اللفظ کفح مکتبہ دارالایمان مدینہ منورہ ۴ /۴۲۴،چشتی)

ابن مردویہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے راوی : سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وھو یصف سدرۃ المنتہٰی (وذکر الحدیث الی ان قالت ) قلت یارسول اللہ مارأیت عندھا ؟قال رأیتہ عندھا یعنی ربہ ۔
ترجمہ : میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرُالمنتہٰی کا وصف بیان فرماتے تھے میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پاس کیا دیکھا ؟ فرمایا : مجھے اس کے پاس دیدار ہوا یعنی رب کا ۔ (الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور بحوالہ ابن مردویہ تحت آیۃ ۱۷/۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۱۹۴)

ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی : اما نحن بنوھا شام فنقول ان محمدا رای ربہ مرتین ۔
ترجمہ : ہم بنی ہاشم اہلبیت رضی اللہ عنہم تو فرماتے ہیں کہ بیشک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دوبار دیکھا ۔ (جامع الترمذی ابو اب التفسیر سورئہ نجم امین کمپنی اردو بازا ر دہلی ۲ /۱۶۱،چشتی)(الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل وامارؤیۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱/ ۱۵۹)

ابن اسحٰق عبداللہ بن ابی سلمہ سے راوی : ان ابن عمر ارسل الٰی ابن عباس یسألہ ھل راٰی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ربہ ، فقال نعم ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کرابھیجا : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ؟ا نہوں نے جواب دیا : ہاں ۔ (الدرالمنثور بحوالہ ابن اسحٰق تحت آیۃ ۵۳ /۱۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۵۷۰،چشتی)

جامع ترمذی ومعجم طبرانی میں عکرمہ سے مروی : واللفظ للطبرانی عن ابن عباس قال نظر محمد الی ربہ قال عکرمۃ فقلت لابن عباس نظر محمد الی ربہ قال نعم جعل الکلام لموسٰی والخلۃ لابرٰھیم والنظر لمحمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم (زاد الترمذی) فقد رای ربہ مرتین ۔
ترجمہ : طبرانی کے الفاظ ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ۔ عکرمہ ان کے شاگرد کہتے ہیں : میں نے عرض کی : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ؟ فرمایا : ہاں اللہ تعالٰی نے موسٰی کےلیے کلام رکھا اور ابراہیم علیہما السلام کےلیے دوستی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے دیدار ۔ (اورامام ترمذی نے یہ زیادہ کیا کہ) بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالٰی کو دوبار دیکھا ۔ (المعجم الاوسط حدیث ۹۳۹۲مکتبۃ المعارف ریاض ۱۰ /۱۸۱،چشتی)(جامع الترمذی ابواب التفسیر سورۃ نجم امین کمپنی اردوبازار دہلی ۲/ ۱۶۰) ۔ امام ترمذی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔

امام نسائی اور امام خزینہ و حاکم و بیہقی علیہم الرحمہ کی روایت میں ہے : واللفظ للبیہقی أتعجبون ان تکون الخلۃ لابراھیم والکلام لموسٰی والرؤیۃ لمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : کیا ابراہیم کےلیے دوستی اور موسٰی علیہما السلام کےلیے کلام اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے دیدار ہونے میں تمہیں کچھ اچنبا ہے ۔ یہ الفاظ بیہقی کے ہیں ۔ حاکم نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ امام قسطلانی و زرقانی نے فرمایا : اس کی سند جید ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ بحوالہ النسائی والحاکم المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)(الدرالمنثور بحوالہ النسائی والحاکم تحت الآیۃ ۵۳ /۱۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۵۶۹)(المستدرک علی الصحیحین کتاب الایمان راٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ربہ دارالفکر بیروت ۱ /۶۵)(السنن الکبری للنسائی حدیث ۱۱۵۳۹دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۴۷۲،چشتی)(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۱۱۷)

طبرانی معجم اوسط میں راوی : عن عبداللہ بن عباس انہ کان یقول ان محمدا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم راٰی ربہ مرتین مرۃ ببصرہ ومرۃ بفوادہ ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبار اپنے رب کو دیکھا ایک بار اس آنکھ سے اورایک بار دل کی آنکھ سے ۔(المواہب اللدنیۃ بحوالہ الطبرانی فی الاوسط المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵)(المعجم الاوسط حدیث ۵۷۵۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۶ /۳۵۶،چشتی)۔امام سیوطی و امام قسطلانی وعلامہ شامی علامہ زرقانی علیہم الرحمہ فرماتے ہیں : اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵)(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الخامس دارالمعرفہ بیروت ۶ /۱۱۷)

امام الائمہ ابن خزیمہ و امام بزار حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی : ان محمد ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راٰی ربہ عزوجل ۔
ترجمہ : بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ۔ (المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵) ۔ امام احمد قسطلانی و عبدالباقی زرقانی علیہما الرحمہ فرماتے ہیں : اس کی سند قوی ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۵)(شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الخامس دارالمعرفہ بیروت ۶ /۱۱۸)

محمد بن اسحٰق علیہ الرحمہ کی حدیث میں ہے : ان مروان سأل ابا ھریرۃ رضی اللہ عنہ ھل راٰی محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ربہ فقال نعم ۔
ترجمہ : مروان نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ر ب کو دیکھا ؟ فرمایا : ہاں ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن اسحٰق دارالمعرفہ بیروت ۶ /۱۱۶)(الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ ابن اسحٰق فصل وما رؤیۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱ /۱۵۹)

مصنف عبدالرزاق میں ہے : عن معمر عن الحسن البصری انہ کان یحلف باللہ لقد راٰ ی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ قسم کھاکر فرمایا کرتے بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ عبدالرزاق عن معمر عن الحسن البصری فصل واما رویۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱ /۱۵۹)

اسی طرح امام ابن خزیمہ علیہ الرحمہ حضرت عروہ بن زیبر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی کے بیٹے اورصدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نواسے ہیں راوی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب معراج دیدار الہٰی ہونا مانتے :وانہ یشتد علیہ انکارھا ۔ اور ان پر اس کا انکار سخت گراں گزرتا ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ بحوالہ ابن خزیمہ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۱۶)

حضرات کعب احبار عالم کتب سابقہ و امام ابن شہاب زہری قرشی و امام مجاہد مخزومی مکی و امام عکرمہ بن عبداللہ مدنہ ہاشمی و امام عطا بن رباح قرشی مکی ۔ استاد امام ابو حنیفہ و امام مسلم بن صبیح ابوالضحی کو فی وغیرہم جمیع تلامذہ عالم قرآن حبر الامہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مذہب ہے ۔

امام قسطلانی علیہ الرحمہ مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں : اخرج ابن خزیمۃ عن عروہ بن الزبیر اثباتھا وبہ قال سائر اصحاب ابن عباس وجزم بہ کعب الاحبار والزھری ۔
ترجمہ : ابن خزیمہ علیہ الرحمہ نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہا سے اس کا اثبات روایت کیاہے ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے تمام شاگردوں کا یہی قول ہے ۔ کعب احبار اورزہری نے اس پر جزم فرمایا ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)

امام خلّال علیہ الرحمہ کتاب السن میں اسحٰق بن مروزی سے راوی ، حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ رؤیت کو ثابت مانتے اوراس کی دلیل فرماتے : قول النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رأیت ربی ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے میں نے اپنے رب کو دیکھا ۔ (المواہب اللدنیۃ بحوالہ الخلال فی کتاب السن المقصد الخامس المتکب الاسلامی بیرو ت۳ /۱۰۷)

نقاش اپنی تفسیر میں اس امام سند الانام علیہ الرحمہ سے راوی : انہ قال اقول بحدیث ابن عباس بعینہ راٰی ربہ راٰہ راٰہ راٰہ حتی انقطع نفسہ ۔
ترجمہ : انہوں نے فرمایا میں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کا معتقد ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو اسی آنکھ سے دیکھا دیکھا دکھا ، یہاں تک فرماتے رہے کہ سانس ٹوٹ گئی ۔ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی بحوالہ النقاش عن احمد وامام رؤیۃ لربہ المکتبۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۱ /۱۵۹،چشتی)

امام ابن الخطیب مصری مواہب شریف میں فرماتے ہیں : جزم بہ معمر واٰخرون وھوقول الاشعری وغالب اتباعہ ۔
ترجمہ : امام معمر بن راشد بصری اوران کے سوا اورعلماء نے اس پر جزم کیا ، اوریہی مذہب ہے امام اہلسنت امام ابوالحسن اشعری اوران کے غالب پَیروؤں کا ۔ (المواہب اللدنیہ المقصد الخامس المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۱۰۴)

علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں :الاصح الراجح انہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم رای ربہ بعین راسہ حین اسری بہ کما ذھب الیہ اکثر الصحابۃ ۔
ترجمہ : مذہب اصح و راجح یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب اسرا اپنے رب کو بچشم سردیکھا جیسا کہ جمہور صحابہئ کرام کا یہی مذہب ہے ۔ (نسیم الریاض شرح شفاء القاضی عیاض فصل واما رؤیۃ لربہ مرکز اہلسنت برکات رضا گجرات ہند ۲ /۳۰۳،چشتی)

امام نووی شرح صحیح مسلم میں پھر علامہ محمدبن عبدالباقی شرح مواہب میں فرماتے ہیں :الراجح عند اکثر العلماء انہ طرای ربہ بعین راسہ لیلۃ المعراج ۔
ترجمہ : جمہور علماء کے نزدیک راجح یہی ہے کہ نبی کریم صلی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج اپنے رب کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا ۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصد الخامس دارالمعرفۃ بیروت ۶ /۱۱۶)

قرآن کریم کی جس آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدارِ الہٰی کا انکار کیا جاتا ہے وہ بعض لوگوں کی زبردستی ہے ۔ یہی حال حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا ہے ۔ دونوں پر مختصر غور کیا جاتا ہے۔ قرآن و سنت سے جو چیز ثابت ہے، وہ ہے دیدار خداوندی اور نفی میں پیش کی جانے والی آیت میں ہے ۔ ’’آنکھوں کے ادراک کی نفی‘‘ حالانکہ دیکھنے اور ادراک میں فرق ہے ۔ ارشادِ خداوندی ہے : لاَّ تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ۔
ترجمہ : نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ، اور وہ بڑا باریک بین بڑا باخبرہے ۔ (سورہ الانعام آیت نمبر 103)

امام رازی علیہ الرحمہ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں : معناه أنه لا تدرکه جميع الأبصار فوجب أن يفيد أنه تدرکه بعض الابصار ۔
ترجمہ : آیت کا مطلب ہے کہ تمام آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرتیں ۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ بعض آنکھیں دیکھ سکتی ہیں ۔ (التفسير الکبير، 13: 103 ، دار الکتب العلمية بيروت)

امام رازی علیہ الرحمہ مزید لکھتے ہیں : المرئي اِذا کان له حد ونهاية و أدرکه البصر بجميع حدوده و جوانبه ونهاياته صار کأن ذلک الابصار أحاط به فتسمی هذه الرؤية اِدراکاً أما اِذا لم يحط البصر بجوانب المرئي لم تسم تلک الرؤية اِدراکاً فالحاصل أن الرؤية جنس تحتها نوعان رؤية مع الاحاطة و رؤية لا مع الاحاطة و الرؤية مع الاحاطه هي المسماة بالادراک فنفي الادراک يفيد نوع واحد من نوعي الرؤية و نفی النوع لا يوجب نفی الجنس فلم يلزم من نفی الادراک عن اللہ تعالی نفی الرؤية عن اللہ تعالی ۔
ترجمہ : دیکھے جانے والی چیز کی جب حد اور انتہاء ہو اور دیکھنے والی نظر تمام حدود ، اطراف اور انتہاؤں کو گھیر لے تو گویا اس نظر نے اس چیز کو گھیر لیا ۔ اس دیکھنے کو ادراک کہا جاتا ہے ، لیکن جب نظر دیکھی جانے والی چیز کے اطراف کا احاطہ نہ کرے تو اس دیکھنے کا نام ادراک نہیں ہوتا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ دیکھنا، ایک جنس، جس کے نیچے دو انواع ہیں ، ایک دیکھنا احاطے کے ساتھ اور دوسرا دیکھنا بلا احاطہ کیے صرف احاطے والے دیکھنے کو ادراک کہا جاتا ہے ۔ پس ادراک کی نفی سے دیکھنے کی ایک قسم کی نفی ثابت ہوئی اور ایک نوع کی نفی سے جنس کی نفی نہیں ہوتی ۔ پس اللہ عزوجل کے ادراک کی نفی سے اللہ عزوجل کے دیکھنے کی نفی لازم نہیں آتی ۔ (التفسير الکبير جلد 13 صفحہ 103)

امام قرطبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : الادراک بمعنی الاحاطة والتحديد کما تدرک سائر المخلوقات والرؤية ثابتة ۔
ترجمہ : ادراک کا مطلب ہے گھیر لینا اور حد کھینچنا جیسے مخلوق دیکھی جا سکتی ہے ۔ اللہ کا دیکھنا ثابت ہے ۔ (الجامع لأحکام القران، 7: 54 ، دار الشعيب القاهره،چشتی)

خلاصہ یہ کہ قرآن کی آیت سے اور اسے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے قول سے ، دیدار الٰہی کی نفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتی ۔ آیت کا مطلب ہے کہ تمام آنکھیں اس کو نہیں دیکھ سکتیں یا یہ کہ آنکھیں اللہ عزوجل کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور ظاہر ہے کہ دیکھنا اور ہے ، احاطہ کرنا اور ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ بعض آنکھیں دنیا میں بھی اللہ عزوجل کو دیکھ سکتی ہیں اور یقینا وہ بعض آنکھیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ہیں ۔

امام قرطبی علیہ الرحمہ مزید لکھتے ہیں : عبداللہ بن الحارث اجتمع ابن عباس و أبی ابن کعب فقال ابن عباس أما نحن بنو هاشم فنقول اِن محمدا رأی ربه مرتين ثم قال ابن عباس أتعجبون أن الخُلّة تکون لابراهيم والکلام لموسی والرؤية لمحمد صلی الله عليه وآله وسلم وعليهم أجمعين قال فکبر کعب حتی جاوبته الجبال ۔
ترجمہ : عبداللہ بن حارث کی حضرت ابن عباس اور ابن کعب رضی اللہ عنہم سے ملاقات ہوئی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ہم بنی ہاشم تو کہتے ہیں کہ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دوبار دیکھا ہے ، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہے کہ دوستی (خلت) ابراہیم علیہ السلام کےلیے کلام موسیٰ علیہ السلام کےلیے اور دیدارِ الٰہی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے ثابت ہے ۔ اس پر حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا یہاں تک کہ پہاڑ گونج اٹھے ۔ (الجامع لأحکام القرآن جلد 7 صفحہ 56)

امام عبدالرزاق علیہ الرحمہ نے بیان کیا : أن الحسن کان يحلف باﷲ لقد رأی محمد ربه ۔
ترجمہ : حسن بصری علیہ الرحمہ اللہ عزوجل کی قسم اٹھا کر کہتے بے شک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔
مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : هل رأی محمد ربه؟ فقال نعم ۔
ترجمہ : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ۔
حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے فرمایا : بعينه رآه رآه حتی انقطع نفسه ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھوں سے اللہ عزوجل کو دیکھا ۔ دیکھا ، یہاں تک کہ ان کا سانس بند ہو گیا ۔
یہی امام ابو الحسن اشعری علیہ الرحمہ اور ان کے اصحاب کا مسلک ہے ۔ یہی حضرت انس رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، عکرمہ، ربیع اور حسن کا مذہب ہے ۔ (الجامع لأحکام القرآن جلد 7 صفحہ 56)

نیز ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر ہجرت کے بعد آئیں جبکہ واقعہ معراج ، ہجرت سے پہلے کا ہے ۔ اس لیے انہوں نے صرف قرآن کی آیت سے استدلال فرمایا جس کی تفسیر فقیر نے باحوالہ بیان کر دی ۔

قرآن نے اللہ عزوجل کے دیدار کی نفی نہیں فرمائی ، یہ فرمایا ہے کہ آنکھیں اللہ عزوجل کا احاطہ نہیں کرتیں ۔ ظاہر ہے کہ مخلوق محدود ، اس کی نظر محدود ، اللہ عزوجل غیر محدود پھر اس کا احاطہ مخلوق کیونکر کر سکتی ہے ۔ رہا دیکھنا سو اس کی نفی قرآن میں نہیں ۔

صحیح بخاری شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے : دنی الجبار رب العزة فتدلی حتی کان منه قاب قوسين او ادنی ۔ اللہ رب العزت اتنا قریب ہوا کہ دو کمانوں کے درمیان جتنا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1120، کتاب التوحيد، رقم : 7079)
حدیث مبارکہ سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ آیہ کریمہ میں وہ ذات جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئی اس سے مراد رب العزت ہے جو جبار ہے۔

اہل ایمان بھی اللہ کا دیدار کریں گے تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے انکار کیوں ؟

رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے بے حجاب دیدار سے بڑھ کر اور کوئی نعمت اہل ایمان کے لئے نہ ہو گی ۔

دیدارِ الٰہی پر متفق علیہ حدیث

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انکم سترون ربکم عيانا ۔
ترجمہ : بے شک تم اپنے رب کو اعلانیہ دیکھو گے ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1105، کتاب التوحيد، رقم : 6998)(مسند احمد بن حنبل، 3 : 16، چشتی)

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چودہویں کے چاند کی رات ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : انکم سترون ربکم يوم القيامة کما ترون القمر هذا ۔
ترجمہ : تم اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو ۔
(صحيح البخاری، 2 : 1106، کتاب التوحيد)( سنن ابی داؤد، 2 : 302، کتاب السنة، رقم : 4729،چشتی)(سنن ابن ماجه، 1 : 63، رقم : 177)(مسند احمد بن حنبل، 4 : 360)

اس سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ مندرجہ بالا ارشادات مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رو سے ذات باری تعالیٰ کے مطلقاً دیدار کی نفی نہیں ہوئی۔ اب اگر بالفرض اس کے عدم امکان کو تسلیم کر لیا جائے تو منطق کے اصول کے مطابق جو چیز اس جہان میں ناممکن ہے وہ عالم اخروی میں بھی ناممکن ہے لیکن بفحوائے ارشاد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مومن کےلیے آخرت میں سب سے بڑی نعمت دیدار خداوندی ہو گا ۔

میرے نبی صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے اللہ کا دیدار کیا ہے

یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام اپنے ہر ایمان دار امتی سے بدرجۂ اَتم کہیں بڑھ کر ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ ہر مومن کو ایمان کی دولت ان کے صدقے سے عطا ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے یہ منفرد امتیاز صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو حاصل ہے کہ انہیں معراج کی شب مشاہدہ و دیدار حق نصیب ہوا جبکہ دوسرے اہل ایمان کو یہ سعادت آخرت میں نصیب ہو گی۔ احادیث میں ہے کہ معراج کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احوال آخرت، جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیا جبکہ باقی سب کو ان کا چشم دید مشاہدہ موت کے بعد کرایا جائے گا۔ بلاشبہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات میں شامل ہے کہ انہیں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی پیشگی مشاہدے کے ذریعے خبر دے دی گئی اور آخرت کے سب احوال ان پر بے نقاب کر دیئے گئے۔ اس بنا پر تسلیم کر لینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ منجملہ کمالات میں سے یہ کمال صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوا کہ دیدار الٰہی کی وہ عظمت عظمیٰ جو مومنوں کو آخرت میں عطا ہو گی وہ آپ کو شب معراج ارزانی فرما دی گئی۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ چھوٹی نعمتوں کے باوصف سب سے بڑی نعمت جو دیدار الٰہی ہے اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محروم کر دیا جاتا ۔

امکان کی بات سے قطع نظر سورہ نجم کی آیات معراج میں چار مقامات ایسے ہیں جن میں ذات باری تعالیٰ کے حسن مطلق کے دیدار کا ذکر کیا گیا ہے : ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى ۔ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى ۔ (سورہ النجم آیت : 8 - 9)
ترجمہ : پھر وہ (ربّ العزّت اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہو گیا ۔ پھر (جلوۂ حق اور محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہو گیا) ۔

ارشادِ ربانی میں اس انتہائی درجے کے قرب کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا حتمی نتیجہ اور نقطہ منتہی سوائے دیدار الٰہی کے اور کچھ قرین فہم نہیں ۔ اس کے بعد فرمایا : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ۔ (سورہ النجم آیت 11)
ترجمہ : (اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا ۔

قرآن حکیم نے یہ واضح فرما دیا کہ شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمال ذات باری تعالیٰ کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے بھی کیا اور سر کی آنکھ سے بھی ۔

حدیث طبرانی میں ہے کہ : ان محمدا رای ربه مرتين مرة بعينه و مرة بفواده ۔
ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا۔ ایک مرتبہ آنکھ سے اور ایک مرتبہ دل سے ۔ ( المعجم الکبير، 12 : 71، رقم : 12564)( المعجم الاوسط، 6 : 356، رقم : 5757،چشتی)(المواهب اللدنيه، 2 : 37)( نشر الطيب تھانوی صاحب: 55)
اس حدیث پاک سے رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں اوپر درج کی گئی قرآنی آیات کے مضمون کی بخوبی تائید ہوتی ہے ۔

حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسان رضی اللہ عنہ جیسے برگزیدہ اصحاب رسول کی صحبت سے فیض یافتہ نامور تابعی ہیں، ان سے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا انہوں نے معراج کی شب ذات باری تعالیٰ کا دیدار کیا؟ تو انہوں نے تین بار قسم کھا کر اس بات کا اقر ار کیا کہ ہاں انہوں نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔

اسی طرح جب امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تین بار یہ الفاظ دہرائے، قد رای ربہ یعنی انہوں نے اپنے رب کودیکھا، یہاں تک کہ ان کی سانس پھول گئی ۔

یہ خیالات و معتقدات سب ممتاز اور قابل ذکر صحابہ، صحابیات، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ کرام کے ہیں۔ قرآن حکیم نے رؤیت باری کی تائید فرماتے ہوئے شک کرنے والوں سے پوچھا ۔ أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى ۔ (النجم، 53 : 12)
ترجمہ : کیا تم ان سے اس پر جھگڑتے ہو جو انہوں نے دیکھا ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری آنکھ کے علاوہ ایک آنکھ باطنی دل کی بھی عطا فرمائی تھی ۔ جب ساعت دیدار آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظاہری جلوہ اور باطنی جلوہ دونوں نصیب ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى ۔ (النجم، 53 : 13)
ترجمہ : اور بیشک انہوں نے تو اُس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو) ۔

کیا معراج میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا ؟

بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دیدار الٰہی کے قائل نہیں ہیں ۔ مثلاً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ دیدار الہی کے قائل ہیں اور فرماتے ہیں : انه راه بعينه ۔ (مسلم شريف، 1 : 118)
ترجمہ : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو آنکھوں سے دیکھا ہے ۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے : ان الله اختص موسیٰ بالکلام و ابراهيم بالخلة و محمدا بالرؤية و حجته قوله تعالیٰ : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى ۔ اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى ۔ وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ ۔ (سورہ النجم : 11 تا 13)
ترجمہ : دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا ، تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑتے ہو ، اور انہوں نے تو وہ جلوہ دو بار دیکھا ۔
یہ معنی ابن عباس ، ابوذر غفاری ، عکرمہ التابعی ، حسن البصری التابعی ، محمد بن کعب القرظی التابعی ، ابوالعالیہ الریاحی التابعی ، عطا بن ابی رباح التابعی ، کعب الاحبار التابعی ، امام احمد بن حنبل اور امام ابوالحسن اشعری رضی اللہ عنہم اور دیگر ائمہ کے اَقوال پر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کلام کے ساتھ خاص کیا، ابراہیم علیہ السلام کو خلت کے ساتھ خاص کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآ وسلم کو رؤیت یعنی دیدار کے ساتھ خاص کیا۔ اور دلیل قرآن مجید سے پیش کرتے ہیں ۔

امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں کہ حسن بصری رضی اللہ عنھما قسم کھا کر فرماتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اسی طرح دیدار الہی کے قائلین میں ابن مسعود اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کو بھی شمار کیا جاتا ہے ، حالانکہ غیر قائلین میں بھی ان دونوں کو شمار کیا گیا ہے ۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حق میں یہ کہتا ہوں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، دیکھا ہے، اور سانسیں اتنی لمبی کرتے کہ سانس ختم ہو جاتی ۔

لیکن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے دیدار کا انکار کیا اور آیت کو حضرت جبریل کے دیدار پر محمول کیا اور فرمایا کہ جو کوئی کہے کہ محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا اور سند میں لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُتلاوت فرمائی ۔ یہاں چند باتیں قابلِ لحاظ ہیں ایک یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا قول نفی میں ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کا اثبات میں اور مثبت ہی مقدم ہوتا ہے کیونکہ نافی کسی چیز کی نفی اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا نہیں اور مثبت اثبات اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا اور جانا تو علم مثبت کے پاس ہے علاوہ بریں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے یہ کلام حضور سے نقل نہیں کیا بلکہ آیت سے اپنے استنباط پر اعتماد فرمایا یہ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکی رائے ہے اور آیت میں ادراک یعنی احاطہ کی نفی ہے نہ رویت کی ۔

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ چونکہ معراج کا واقعہ ہجرت سے پہلے ہوا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہجرت کے بعد ہوئی ہے، لہذا اس معاملے میں ان کی خبر معتبر نہیں ہے، اور باقی حضرات مثلاً ام ہانی وغیرہ تو ان کا قبول معتبر ہے، یہ قوی دلیل ہے، اس بات پر کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جو فرماتی ہیں یہ کسی اور واقعہ کے بارے میں ہے جو ہجرت کے بعد ہوا ہے ۔ (الشفاء بتعر يف حقوق المصطفی، 1 : 195، چشتی)

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے اللہ کو دیکھا ہے فرمایا ہاں میں نے نور دیکھا ۔ ( کتاب الایمان صفحہ 768 امام محمد بن اسحاق علیہ الرحمہ 400 ہجری) ۔ سنہ 400 ہجری میں لکھی والی یہ کتاب امام محمد بن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کی جس سے الحمد للہ عقیدہ اہلسنت صاف طور پر ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا دیدار کیا ہے ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کو دیکھا ہے ۔ (کتاب السنہ صفحہ 179 487 ہجری اور ناصر البانی وہابی لکھتے ہیں اس کی اسناد صحیح ہیں، چشتی)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب اچھی صورت میں دیکھا ہے ۔( کتاب التوحید صفحہ 538 امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ، چشتی)

حضور اکرم نور مجسّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب عزّ وجل کو دیکھا ہے ۔۔۔۔۔ ( امام اہلسنت امام شیبانی رحمۃُاللہ علیہ متوفی 412 ہجری کتاب السنہ صفحہ نمبر 184 )(اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں ناصر البانی محقق وھابی مذھب نے اسے صحیح کہا ہے ، چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرا اللہ اچھی صورت میں جلوہ فرما ہوا اور اپنا دست قدرت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک محسوس کی اور میں جان گیا جو زمین و آسمان کے درمیان ہے ۔مفہوم حدیث ۔ ( کتاب الرّویہ حدیث نمبر 245 عربی صٖحہ 331 از الحافظ الامام ابی الحسن علی بن عمر الدّار قطنی رحمۃ اللہ علیہ متوفی 385 ہجری ، اس حدیث کی تمام اسناد صحیح ہیں اور تمام رجال ثقہ ہیں)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا دیدار کیا اور رویۃ باری تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے تھی خلت ابراہیم علیہ السّلام کےلیے اور کلام موسیٰ علیہ السّلام کےلیے تھا ۔ ( کتاب السنہ صفحہ نمبر 192 امام شیبانی متوفی 487 ہجری ان احادیث کی اسناد صحیح ہیں محدث الوہابیہ البانی) ۔ (مزید حصّہ ہفتم میں ان شاء اللہ) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

17/01/2026

واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حقائق و دلائل حصّہ سوئم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیداری کی حالت میں جسمانی معراج نصیب ہوئی ، اس پہ قرآنی آیت و صحیح احادیث دال ہیں ، نیز جمہور صحابۂ کرام ، تابعین ، تبعِ تابعین ، فقہاء ، محدثین اور متکلمین رضی اللہ عنہم وعلیہم الرحمہ کا مذہب اور اہلِ سنّت و ج**عت کا یہی عقیدہ ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۔ (سورہ الاسرا)
ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کروائی جس کے اِرد گِرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والا ہے ۔ (پ15، بنی اسرآءیل :1)

اس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِ خازن ، جلالین اور حاشیہ صاوی میں ہے : والحق الذی علیہ اکثر الناس ومعظم السلف و عامۃ الخلف من المتأخرین من الفقھاء والمحدثین والمتکلمین انہ اسری بروحہ وجسدہ صلی اللہ علیہ وسلم، ویدل علیہ قولہ سبحانہ و تعالیٰ : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ۔ و لفظ العبد عبارۃ عن مجموع الروح والجسد، والحدیث الصحیحۃ التی تقدمت تدل علی صحۃ ھذا القول ۔
ترجمہ : حق وہی ہے جس پر کثیر لوگ، اکابر علماء اور متأخرین میں سے عام فقہاء ، محدثین اور متکلمین ہیں کہ حضور علیہ السَّلام نے جسم اور روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی ، اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا ، کیونکہ لفظ عبد روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا نام ہے ، یونہی (ماقبل) ذکر کردہ حدیث صحیح بھی اس قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے ۔(تفسیر خازن پارہ نمبر 15 الآیۃ:1 ، جلد 3 صفحہ 158)

نسیم الریاض میں ہے : انہ اسراء بالجسد والروح فی القصۃ کلھا ۔ ای فی قصۃ الاسراء الی المسجد الاقصی والسموات ، (وعلیہ تدل الآیۃ) الدالۃ علی شطرھا صریحاً (وصحیح الاخبار) المشھورۃ المستفیضۃ الدالۃ علی عروجہ صلی اللہ علیہ وسلم الی السماء، والاحادیث الاحاد الدالۃ علی دخولہ الجنۃ ووصولہ الی العرش او طرف العالم کما سیاتی وکل ذلک بجسدہ یقظۃ ۔
ترجمہ : نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پورے واقعۂ معراج میں یعنی مسجدِ اقصی سے آسمانوں تک جسم و روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی ، جس کے ایک حصے پہ آیتِ کریمہ واضح طور پہ دلالت کرتی ہے اور آسمانوں تک کی سیر پر حدیثِ مشہور مستفیض دلالت کرتی ہے، نیز جنّت میں داخل ہونے ، عرش پہ جانے یا عالَم کے اس کنارے جانے پہ خبرِ واحد دلالت کرتی ہے ، جیسے کہ آگے آئے گا ، اور یہ سب بیداری میں جسمِ مبارک کے ساتھ تھا ۔ (نسیم الریاض جلد 3 صفحہ 103،چشتی)

مکتوباتِ امام ربّانی و فتاویٰ رضویہ میں ہے : معراج شریف یقیناً قطعاً اسی جسمِ مبارک کے ساتھ ہوئی نہ کہ فقط روحانی ، جو ان کی عطا سے ان کے غلاموں کو بھی ہوتی ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ۔ (یعنی ) پاکی ہے اسے جو رات میں لے گیا اپنے بندہ کو، یہ نہ فرمایا کہ لے گیا اپنے بندہ کی روح کو ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 15 صفحہ 74 )

مقالاتِ کاظمی میں ہے : جمہور علماء، صحابہ ، تابعین و تبعِ تابعین اور ان کے بعدمحدثین و فقہاء اور متکلمین سب کا مذہب یہ ہے کہ اسراء اور معراج دونوں بحالتِ بیداری اور جسمانی ہیں اور یہی حق ہے ۔ (مقالاتِ کاظمی جلد 1 صفحہ 114)

معراج شریف کا مطلقاً انکار کفر ہے ، کیونکہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کی معراج قطعی اور کتابُ اللہ سے ثابت ہے، البتہ جو معراج کو تسلیم کرے لیکن فقط روحانی کا قائل ہو تو وہ خطا پر ہے ، اور فی زمانہ اس کا انکار نہیں کرتے مگر بد مذہب و گمراہ لوگ ۔

معراج کا مطلقاً انکار کفر ہے، چنانچہ شرح عقائدِ نسفیہ پھر نِبْراس میں ہے : فالاسراء ھو من المسجد الحرام الی البیت المقدس قطعی ای یقینی ثبت بالکتاب ای القرآن و یکفر منکرہ۔۔ الخ ۔
ترجمہ : مسجدِ حرام سے بیت المقدس تک کی سیر قطعی یقینی اور کتاب اللہ سے ثابت ہے اور اس کا منکر کافر ہے ۔ (النبراس صفحہ نمبر 295)

نسیم الریاض میں ہے : ذھب معظم السلف و المسلمین ۔ عطف للعام علی الخاص، وفیہ اشارۃ الی ان خلافہ لا ینبغی لمسلم اعتقادہ (الی انہ اسراء بالجسد) مع الروح (وفی الیقظۃ) ۔
ترجمہ : (اکابر علماء و مسلمین اس طرف گئے ہیں) یہ عام کا خاص پر عطف ہے اور اکابر علماء و مسلمین کہنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کے خلاف کا اعتقاد رکھنا کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا، (کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالتِ بیداری میں جسم اور روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی ۔ (نسیم الریاض جلد 3 صفحہ 99)

فتاویٰ رضویہ میں ہے : ان عظیم وقائع نے معراج مبارک کا جسمانی ہونا بھی آفتاب سے زیادہ واضح کردیا ، اگر وہ کوئی روحانی سیر یا خواب تھا تو اس پر تعجب کیا ؟ زید و عمرو خواب میں حرمین شریفین تک ہو آتے ہیں ، اور پھر صبح اپنے بستر پر ہیں ۔ رؤیا کے لفظ سے استدلال کرنا اور (اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ) نہ دیکھنا صریح خطا ہے ۔ رؤیا بمعنی رویت آتا ہے ۔ اور فتنہ و آزمائش بیداری ہی میں ہے نہ کہ خواب میں ، ولہٰذا ارشاد ہوا : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ۔ پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو لے گیا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 635)

حدیث معراج : (بنظر اختصار صرف ترجمہ پر اکتفا کیا گیا ہے)
حضرت انس بن مالک حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے صحابہ کرام سے اس رات کی کیفیت بیان فرمائی جس میں آپ کو معراج ہوئی تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ میں حطیم کعبہ میں تھا۔ یکایک میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے میرا سینہ یہاں سے لے کر یہاں تک چاک کیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے جارود سے پوچھا وہ میرے قریب بیٹھے ہوئے تھے کہ یہاں سے یہاں تک کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے بتایا کہ حلقوم شریف سے لے کر ناف مبارک تک۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ پھر اس آنے والے نے میرا سینہ چاک کرنے کے بعد میرا دل نکالا۔ پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے لبریز تھا اس کے بعد میرا دل دھویا گیا پھر وہ ایمان و حکمت سے لبریز ہو گیا۔ اس قلب کو سینۂ اقدس میں اس کی جگہ پر رکھا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک جانور سوار ہونے کے لئے لایا گیا جو خچر سے نیچا اور گدھے سے اونچا تھا۔ (جارود نے حضرت انس سے پوچھا کہ اے ابو حمزہ کیا وہ براق تھا؟ حضرت انس نے فرمایا، ہاں!) وہ اپنا قدم منتہائے نظرپر رکھتا تھا۔ میں اس پر سوار ہوا پھر جبریل مجھے لے کر چلے۔ یہاں تک کہ ہم آسمان دنیا پر پہنچے (۱) تو جبریل علیہ السلام نے اس کا دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا، کون ہے؟ انہوںنے کہا، جبریل۔ پھر آسمان کے فرشتوں نے پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ۔ پوچھا گیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہاں۔ کہا گیا انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت اچھا اور مبارک ہے۔ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو آدم علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ یہ آپ کے باپ آدم علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا خوش آمدید ہو۔ صالح بیٹے اور صالح نبی کو۔ پھر (جبریل علیہ السلام میرے ہمراہ) اوپر چڑھے۔ یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور انہوں نے اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پھر پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا، ہاں۔ اس (دوسرے آسمان کے دربان) نے کہا، خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت اچھا اور مبارک ہے۔ یہ کہہ کر دروازہ کھول دیا۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام ملے۔ وہ دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یحییٰ اور عیسیٰ ہیں آپ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ ان دونوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جبریل مجھے تیسرے آسمان پر لے گئے اور اس کا دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پھر دریافت کیا گیا، کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا، ہاں۔ اس کے جواب میںکہا گیا، انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور نہایت مبارک ہے اور دروازہ کھول دیا گیا۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو یوسف علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ یوسف ہیں، انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ خوش آمدید ہو اخ صالح نبی صالح کو۔ اس کے بعد جبریل علیہ السلام چوتھے آسمان پر مجھے لے گئے اور اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا، جبریل۔ پھر دریافت کیا گیا تمہارے ہمراہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پھر پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ چوتھے آسمان کے دربان نے کہا کہ انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور نہایت مبارک ہے اور دروازہ کھول دیا گیا۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو ادریس علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ادریس ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ اس کے بعد کہا خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر اوپر چڑھے یہاں تک کہ پانچویں آسمان پر پہنچے اور انہوں نے اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ پانچویں آسمان کے دربان نے کہا، انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور مبارک ہے۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو ہارون علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ ہارون ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے ان کو سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر کہا، خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے اوپر چڑھا لے گئے۔ یہاں تک کہ ہم چھٹے آسمان پر پہنچے۔ جبریل علیہ السلام نے اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ اس فرشتے نے کہا انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور مبارک ہے۔ میں وہاں پہنچا تو موسیٰ علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ موسیٰ ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جب میں آگے بڑھا تو وہ روئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں روتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا میں اس لئے روتا ہوں کہ میرے بعد ایک مقدس لڑکا مبعوث کیا گیا جس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے ساتویں آسمان پر چڑھا لے گئے اور اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے کہا جبریل۔ پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ تو اس فرشتے نے کہا، انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت اچھا اور مبارک ہے۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو ابراہیم علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ آپ کے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا کہ خوش آمدید ہو ابن صالح اور نبی صالح کو۔ پھر میں (۱) سدرۃ المنتہیٰ تک چڑھایا گیا تو اس درخت سدرہ کے پھل مقام ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے اور وہاں چار نہریں تھیں۔ دو پوشیدہ اور دو ظاہر۔ میں نے پوچھا، اے جبریل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا، ان میں جو پوشیدہ ہیں، وہ تو جنت کی نہریں ہیں اور جو ظاہر ہیں وہ نیل و فرات ہیں۔ پھر بیت المعمور میرے سامنے ظاہر کیا گیا۔ اس کے بعد مجھے ایک برتن شراب کا اور ایک دودھ کا اور ایک برتن شہد کا دیا گیا۔ میں نے دودھ کو لے لیا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا یہی فطرت (دین اسلام) ہے۔ آپ اور آپ کی امت اس پر قائم رہیں گے۔ اس کے بعد مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ جب میں واپس لوٹا تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا آپ کی امت پچاس نمازیں روزانہ نہ پڑھ سکے گی۔ خدا کی قسم! میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں اور بنی اسرائیل کے ساتھ میں نے سخت برتاؤ کیا ہے۔ لہٰذا آپ اپنے رب کے پاس لوٹ جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر اسی طرح کہا۔ میں پھر خدا کے پاس واپس گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے دس نمازیں پھر معاف کر دیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا انہوں نے پھر اسی طرح کہا۔ میں پھر خدا کے پاس واپس گیا تو مجھے ہر روز پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹ کر آیا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا حکم ملا؟ میں نے کہا روزانہ پانچ نمازوں کا حکم ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی امت پانچ نمازیں بھی نہ پڑھ سکے گی۔ میں نے آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کیا ہے اور بنی اسرائیل سے سخت برتاؤ کر چکا ہوں۔ لہٰذا آپ پھر اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب تعالیٰ سے کئی مرتبہ درخواست کی، مجھے شرم آتی ہے۔ لہٰذا اب میں راضی ہوں اور اپنے رب کے حکم کو تسلیم کرتا ہوں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں آگے بڑھا۔ ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ میں نے اپنا حکم جاری کر دیا اور اپنے بندوں سے تخفیف فرما دی ۔ (صحیح بخاری جلد اول صفحہ نمبر ۵۴۸)

بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میں سدرۃ المنتہیٰ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ایسا قرب مذکور ہے جسے قاب قوسین او ادنٰی سے تعبیر فرمایا گیا۔ حدیث شریف کے الفاظ حسب ذیل ہیں : ⬇

حتی جاء سدرۃ المنتہٰی ودنا الجبار رب العزۃ فتدلّٰی حتّٰی کان منہ قاب قوسین او ادنٰی ۔ (بخاری شریف جلد ثانی ص ۱۱۲۰)
یعنی اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے قریب ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے یا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالیٰ سے اس سے بھی زیادہ قرب طلب فرمایا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے دو کمانوں کی مقدار یا اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا ۔ (عینی جلد ۲۵ ص ۱۷۰) اور اللہ تعالیٰ کا جمال مبارک سر اقدس کی آنکھوں سے دیکھا ۔ (فتح الباری جلد ۱۳ ص ۴۱۷، عینی نبراس، شرح عقائد)

آسمانی معراج کہاں تک ہوئی؟ اس میں علماء اہل سنت کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ اور جنت الماویٰ تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لے گئے۔ بعض نے کہا، عرش تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو معراج ہوئی اور ایک قول ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فوق العرش تشریف لے گئے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم طرف عالم تک تشریف لے گئے یعنی عالم اجسام کی وہ انتہا جس کے پیچھے کچھ نہیں۔ نہ ہوا نہ زمان و مکان، بلکہ عدم محض ہے۔ (شرح عقائد نسفی، نبراس)

اسراء یعنی مسجد حرام سے بیت المقدس تک تشریف لے جانا قطعی اور یقینی ہے جس کا منکر مسلمان نہیں اور زمین سے آسمان کی طرف معراج ہونا احادیث مشہورہ سے ثابت ہے۔ اس کا منکر فاسق اور ضال و مضل ہے۔ پھر آسمانوں سے جنت کی طرف اور عرش یا عرش کے علاوہ فوق العرش تک یا لا مکاں تک اخبار احاد سے ثابت ہے۔ جس کا منکر سخت آثم اور گنہگار ہے۔ (شرح عقائد، نبراس صفحہ ۴۷۴،چشتی)

ولذا اختلف فی الانتہاء فقیل الی الجنۃ وقیل الی العرش وقیل الٰی مافوقہ وہو مقام دنٰی فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی (شرح فقہ اکبر ص ۱۳۶)
ترجمہ: اسی وجہ سے اختلاف ہوا کہ معراج کہاں تک ہوئی۔ ایک قول ہے جنت تک اور ایک قول ہے عرش تک اور ایک قول میں وارد ہے کہ فوق العرش حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تشریف لے گئے اور وہ مقام ہے۔

دنا فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی (وجاوز السبع الطباق) وہی السمٰوٰت (او جاوز سدرۃ المنتہٰی ووصل الٰی محل من القرب سبق بہ الاولین والاٰخرین) اذ لم یصل الیہ نبی مرسل ولا ملک مقرب ۔ (زرقانی جلد ۶، ص ۱۰۱،چشتی)
ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شب معراج ساتوں آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ سے گزر گئے اور ایسے مقام قرب تک پہنچے کہ اولین و آخرین سب پر سبقت لے گئے کیونکہ جہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پہنچے وہاں نہ کوئی نبی پہنچا نہ رسول نہ کوئی مقرب فرشتہ۔

(ودنو الرب تبارک وتعالٰی وتدلیہ علٰی مافی حدیث شریک) عن انس (کان فوق العرش لا الی الارض) ۔(زرقانی جلد ۶ ص ۹۹)
اور اللہ تعالیٰ کا (اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے) قریب ہونا اور زیادتی قرب کا طلب فرمانا عرش کے اوپر تھا زمین پر نہیں تھا۔

قائلین معراج منامی کے شبہات اور ان کا جواب

جو لوگ معراج جسمانی کے منکر اور منامی کے قائل ہیں، ان کے شبہات مع جوابات حسب ذیل ہیں

پہلا شبہ : اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ’’وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ‘‘ (بنی اسرائیل: ۶۰) اور نہیں کیا ہم نے اس رؤیا کو جو آپ کو دکھائی (اے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) لیکن آزمائش لوگوں کے لئے۔ بعض مفسرین نے اس آیہ کریمہ کو معراج پر محمول کیا ہے لہٰذا معراج منامی ہو ئی کیونکہ ’’رؤیا‘‘ عربی زبان میں خواب کو کہتے ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ مفسرین کی ایک ج**عت نے حدیبیہ یا بدر کی رؤیا پر حمل فرمایا ہے۔ اس لئے کہ اس کو واقعہ معراج پر محمول کرنا حتمی اور یقینی امر نہ رہا۔ علاوہ ازیں لفظ رؤیا رویت بصری کے معنی میں بھی آتا ہے۔ خصوصاً رات میں جسمانی آنکھ سے دیکھنے کے معنی میں یہ لفظ اکثر استعمال ہوا ہے۔ دیکھئے دیوان متنبی میں ہے

مضی اللیل والفضل الذی لک لایمضی
ورؤیاک احلٰی فی العیون من الغمض

(دیوان متنبی ص ۱۸۸ قافیۃ الضاد)

ترجمہ : رات ختم ہو گئی اور تیرا فضل ختم ہونے والا نہیں۔ اور تیرا دیدار جمال آنکھوں میں نیند سے زیادہ میٹھا ہے۔
اس شعر میں لفظ ’’رؤیا‘‘ رویت بصری کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اسی آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے

ہی رؤیا عین اریہا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم لیلۃ اسری بہ الٰی بیت المقدس ۔ (بخاری شریف جلد اول صفحہ ۵۵۰،چشتی)
کرمانی نے اس حدیث پر کہا ’’رؤیا عین‘‘ قید بہ للاشعار بان رؤیا بمعنی الرؤیۃ فی الیقظۃ لارؤیا النائم ۔ (کرمانی حاشیہ صفحہ ۵)
ترجمہ : رؤیا کو عین کے ساتھ یہ ظاہر کرنے کے لئے مقید فرمایا کہ لفظ ’’رؤیا‘‘ یہاں بحالت بیداری دیکھنے کے معنی میں ہے۔ سونے والے کی خواب کے معنی میں نہیں۔

دوسرا شبہ: بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث وارد ہے۔ جس میں حضرت انس نے تمام واقعہ معراج بیان کرنے کے بعد فرمایا فاستیقظ وہو فی المسجد الحرام یعنی حضور بیدار ہوئے تو آپ مسجد حرام میں تھے۔ بعض روایات میں بینا انا نائم وارد ہے۔ بعض احادیث میں وہو نائم فی المسجد الحرام آیا ہے۔ ایک دوسری روایت میں بینا انا عند البیت بین النائم والیقظان ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بحالت خواب معراج ہوئی۔

اس کا جواب امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں اور امام بدر الدین عینی نے عمدۃ القاری میں دیا ہے۔ ہم اسے نقل کئے دیتے ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی فاستیقظ وہو بالمسجد الحرام کے تحت فرماتے ہیں

واقلہ قولہ فاستیقظ وہو عند المسجد الحرام فان حمل علٰی ظاہرہٖ جاز ان یکون نام بعد ان ہبط من السماء فاستیقظ وہو عند المسجد الحرام وجاز ان یؤول قولہ استیقظ ای افاق مما کان فیہ فانہ کان اذا اوحی الیہ یستغرق فیہ فاذا انتہٰی رجع الٰی حالتہ الاولٰی فکنٰی عنہ بالاستیقاظ انتہٰی ۔ (فتح الباری جلد نمبر ۱۳ صفحہ نمبر ۴۱۰،چشتی)
ترجمہ : اس کا اقل، راوی کا یہ قول ہے کہ پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بیدار ہوئے تو آپ مسجد حرام میں تھے۔ اس قول کو ظاہر پر بھی حمل کرنا جائز ہے اور اس کی تاویل بھی کی جا سکتی ہے۔ ظاہر پر عمل کریں تو یہ کہیں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آسمان سے واپس تشریف لا کر مسجد حرام میں سو گئے۔ پھر جب آپ بیدار ہوئے تو مسجد حرام ہی میں تھے اور اگر تاویل کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو جب معراج کے حال سے افاقہ ہوا تو آپ مسجد حرام میں تھے کیونکہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو وحی ہوتی تھی تو آپ اس میں مستغرق ہو جاتے تھے۔ جب وحی ختم ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو حالت استغراق سے افاقہ ہو جاتا تھا۔ بالکل یہی کیفیت معراج کے وقت ہوئی کہ جب تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج میں رہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر وہ استغراق کا حال طاری رہا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد حرام میں واپس تشریف لائے تو وہ حالت زائل ہو گئی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پہلی حالت کی طرف لوٹ آئے ۔ راوی نے ’’استیقظ‘‘ کہہ کر اسی سے کنایہ کیا ہے ۔ (فتح الباری جلد ۱۳ صفحہ ۴۱۰،چشتہ)

امام ابن حجر نے آگے چل کر اسی بارے میں امام قرطبی کا قول نقل کیا ہے جس کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ بیدار ہونا اس نیند سے ہے جو معراج سے واپس تشریف لا کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمائی تھی۔ کیونکہ معراج تمام رات نہیں ہوئی وہ تو بہت ہی قلیل ترین وقت میں واقع ہوئی تھی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام معراج سے واپس تشریف لا کر مسجد حرام میں سو گئے۔ صبح اٹھے تو مسجد حرام ہی میں جلوہ گر تھے۔

نیز احتمال ہے کہ استیقاظ بمعنی افاقہ ہو۔ کیونکہ ملاء اعلیٰ اور آیات کبریٰ کے مشاہدہ کا حال حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایسا غالب تھا کہ بشریت اور عالم اجسام کی طرف سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بالکل غیر متوجہ ہو گئے تھے۔ حتیٰ کہ مسجد حرام میں پہنچنے تک یہی حال رہا۔ جب مسجد حرام میں جلوہ گر ہوئے تو حال بشریت کی طرف رجوع فرمایا اور حالت سابقہ سے افاقہ ہوا۔ اس افاقہ کو راوی نے استیقظ سے تعبیر کیا اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ملاء اعلیٰ اور آیات کبریٰ کے حال سے افاقہ ہوا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد حرام میں تھے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قول مبارک کہ میں سویا ہوا تھا تو اس سے شب معراج میں جبریل علیہ السلام کے آنے سے پہلے خواب استراحت فرمانا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جبریل علیہ السلام کے آنے سے پہلے سو رہے تھے۔ جبریل علیہ السلام نے آ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جگایا۔ ایک اور روایت میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قول مبارک آیا ہے کہ انا بین النائم والیقظان اتانی الملک میں سونے جاگنے کے درمیان تھا کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو معراج کرانے کے لئے جس وقت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے تو اس وقت حضور علیہ السلام کی نیند مبارک ایسی ہلکی اور خفیف تھی کہ جسے سونے اور جاگنے کی درمیانی حالت سے تعبیر کیا جا سکتا تھا۔ جب جبریل علیہ السلام آئے تو انہوں نے اس خفیف نیند سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بیدار کیا اور اس کے بعد بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج پر تشریف لے گئے۔ (فتح الباری جلد ۱۳ ص ۴۱۷ مطبوعہ مصر،چشتی)(عمدۃ القاری جلد ۲۵ صفحہ ۱۷۳ مطبوعہ مصر طبع جدید)

لہٰذا ثابت ہوا کہ تینوں میں سے ایک روایت بھی معراج منامی کی دلیل نہیں اور منکرین کا شبہ بالکل بے بنیاد ہے ۔ وللّٰہ الحمد

تیسرا شبہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں
ما فقدت جسد رسول اللّٰہ ا لیلۃ المعراج ۔ معراج کی رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا جسم مبارک گم نہیں پایا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو معراج بعثت کے ایک یا ڈیڑھ سال یا پانچ سال بعد اسلام کے ابتدائی زمانہ میں ہوئی ہے۔ ان اقوال کے بموجب معراج مبارک ہجرت سے آٹھ سال یا ساڑھے گیارہ سال یا بارہ سال پہلے ہوئی اور حضرت عائشہ صدیقہ کی شادی مبارک ہجرت کے بعد ہوئی۔ جب کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر شریف 9 برس تھی۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں بربنائے بعض اقوال معراج کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں اور اگر ان کی پیدائش مان بھی لی جائے تو بہر نوع حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس ان کا پایا جانا ہجرت کے بعد ہی ہے۔ پھر ان کا یہ فرمانا کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جسم مبارک معراج کی رات گم نہیں پایا کیونکر متصور ہو سکتا ہے؟ رہا یہ شبہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ حدیث ان الفاظ سے بھی مروی ہے : ما فقد جسد رسول اللّٰہ الیلۃ المعراج ۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک یہ روایت بلا شبہ غیر ثابت اور مبنی بر خطا ہے۔ خلاصہ یہ کہ مافقدت اور فقد دونوں روایتیں ازروئے درایت و روایت صحیح نہیں اس لئے اس سے معارضہ کرنا باطل ہے۔

اور اگر بر تقدیر تسلیم اس حدیث کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا معراج مبارک کی سرعت اور اس کے قلیل ترین وقت میں ہونے کو بیان فرما رہی ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آنا جانا اس قدر تیزی اور سرعت کے ساتھ واقع ہوا کہ گویا جسم مبارک گم ہونے ہی نہیں پایا تو یہ معنی دیگر روایات کے مطابق صحیح قرار پائیں گے۔

چوتھا شبہ: یہ ہے کہ آیت قرآنیہ ’’مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی‘‘ سے بھی سمجھا جاتا ہے کہ معراج خواب میں ہوئی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں کوئی لفظ ایسا نہیں کہ جس کا ترجمہ نیند اور خواب کیا جائے۔ آیت کے معنی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے قلب مبارک نے اس چیز کی تکذیب نہیں کی جسے چشم مبارک نے دیکھا۔ یعنی معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی چشم اقدس سے جو کچھ دیکھا اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کسی قسم کا وہم یا اشتباہ واقع نہیں ہوا اور اس کی دلیل یہ آیت ہے ’’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی‘‘ (نہ کج ہوئی نگاہ نہ بہکی) لفظ بصر جسمانی نگاہ کے لئے آتا ہے۔ خواب میں دیکھنے کو بصر نہیں کہتے۔ الحمد للّٰہ! قائلین معراج منامی کے تمام شبہات کا ازالہ ہو گیا۔

نیچری اور مسئلہ معراج

معراج کا واقعہ درحقیقت ایمان کے لئے کسوٹی کا حکم رکھتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، علم و قدرت، عظمت و حکمت پر کامل ایمان رکھتا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی نبوت و رسالت، صداقت و کمالات کی دل سے تصدیق کرتا ہے وہ واقعہ معراج یا اسی قسم کے خرق عادات امور کا کبھی انکار نہیں کر سکتا۔ جب کہ قرآن و حدیث میں اس کا صاف اور واضح بیان بھی موجود ہے اور عہد رسالت سے لے کر ہر دور کے جمہور مسلمان اس کو بلا تاویل تسلیم کرتے چلے آئے ہیں۔

رہے وہ شکوک و شبہات جنہیں فلاسفہ کی اتباع میں نیچری پیش کیا کرتے ہیں کہ جسم طبعی مادی مرکب من العناصر کا عناصر کی حدود سے تجاوز کرنا اور آسمانوں پر صعود کرنا محال ہے۔ نیز آسمانوں میں خرق والتیام بھی ناممکن ہے۔ پھر زمان و مکان کے بغیر کسی جسم کا پایا جانا بھی از قبیل محالات ہے۔ نیز رات کے قلیل ترین حصہ میں آسمانوں کی سیر کر کے واپس آنا کسی طرح ممکن نہیں۔اس قسم کے تمام شکوک و شبہات کا جواب یہ ہے کہ ان تمام امور کے محال ہونے سے ان کی مراد محال عقلی ہے یا عادی۔ برتقدیر اول آج تک استحالہ عقلیہ پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکی۔ جس قدر دلائل فلاسفہ کی طرف سے پیش ہوئے ہیں ان سب کا مفاد استحالہ عادیہ ہے اور بس۔ معلوم ہوا کہ یہ جملہ امور متنازعہ فیہا از قبیل محالات عادیہ ہیں اور محال عادی ممکن بالذات ہوتا ہے اور ممکن بالذات حادث تحت قدرت ہے۔ لہٰذا یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحت ثابت ہوئیں اور معراج کرانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اس لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عالم عناصر سے آسمانوں پر لے جانا اور رات کے بہت تھوڑے حصے میں واپس لے آنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت و تصرف کا کرشمہ قرار پایا جس پر فلاسفہ کا کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی‘‘ فرمایا اور لے جانے کی نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی تاکہ اعتراض کی کوئی گنجائش نہ رہے ۔ (مقالات کاظمی جلد اوّل)
===========================

شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے دیدارِ پُرانوار کی نعمت لازوال سے مشرف ہوئے‘ اس کا ذکر قرآن کریم کی آیاتِ مبارکہ میں موجود ہے چنانچہ واقعہ معراج کے ضمن میں ارشاد خداوندی ہے : مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ۔
ترجمہ : آپ نے جو مشاہدہ کیا دل نے اُسے نہیں جھٹلایا ۔ (سورۃ النجم۔11)

نیز ارشاد الہی ہے : أَفَتُمَارُونَہُ عَلَی مَا یَرَی ۔
ترجمہ :کیا تم ان سے بحث کرتے ہواُس پرجووہ مشاہدہ فرماتے ہیں ۔ (سورۃ النجم۔12)

وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً أُخْرَی ۔
ترجمہ : اور یقیناً آپ نے اُس جلوہ کا دومرتبہ دیدار کیا ۔ (سورۃ النجم۔13)

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَی ۔
ترجمہ : نہ نگاہ ادھر اُدھر متوجہ ہوئی اور نہ جلوۂ حق سے متجاوز ہوئی ۔ (سورۃ النجم۔17)

یعنی آپ کی نظر سوائے جمال محبوب کے کسی پرنہ پڑی ۔

لَقَدْ رَاٰی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرَی ۔
ترجمہ : بیشک آپ نے اپنے رب کی نشانیوں میں سب سے بڑی نشانی (جلوۂ حق) کا مشاہدہ کیا ۔ (سورۃ النجم۔18)

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمانوں کی ، جنت و دوزخ کی ، سدرۃ المنتہیٰ کی ، عرش الٰہی کی سیر کروائی اور اللہ تعالیٰ نے جہاں تک چاہا آپ نے سیر فرمائی، اس کی قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ فرمایا اور دیدار پرانوار کی نعمت لازوال سے مشرف ہوئے ۔

جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے تفصیلی روایت منقول ہے روایت کا ایک حصہ ملاحظہ ہو : حتی جاء سدرۃ المنتھیٰ ودنا للجبار رب العزۃ فتدلی حتی کان منہ قاب قوسین او ادنی ۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ پر آئے اور جبار رب العزت آپ کے قریب ہوا پھر اور قریب ہو ا یہاں تک کہ دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی زیادہ نزدیک ۔ (صحیح بخاری شریف جلد 2 کتاب التوحید صفحہ 1120 ، حدیث نمبر 6963)

صحیح مسلم شریف میں روایت ہے : عن عبداللہ بن شقیق قال قلت لابی ذر لو رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لسألتہ فقال عن ای شیء کنت تسألہ قال کنت اسالہ ھل رایت ربک قال ابو ذر قد سالت فقال رایت نورا ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا اگر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی سعادت حاصل ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتا ، انہوں نے کہا تم کس چیز کے متعلق سوال کرتے ؟
حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے آپ سے اس متعلق دریافت کیا تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے دیکھا ، وہ نور ہی نور تھا ۔ (صحیح مسلم جلد 2 کتاب الایمان صفحہ 99 حدیث نمبر 262،چشتی)

جامع ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے : عن عکرمۃ عن ابن عباس قال رای محمد ربہ قلت الیس اللہ یقول لا تدرکہ الابصار و ھو یدرک الابصار قال و یحک اذا تجلی بنورہ الذی ھو نورہ و قد راٰی محمد ربہ مرتین ھٰذا حدیث حسن غریب ۔
ترجمہ : عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ، میں نے عرض کیا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرتا ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم پر افسوس ہے ، یہ اس وقت ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے اس نور کے ساتھ تجلی فرمائے جو اس کا نور ہے ، یعنی غیر متناہی نور اور بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ہے ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ (جامع ترمذی شریف جلد 2 ابواب التفسیر صفحہ 164 حدیث نمبر 3201،چشتی)

عن ابن عباس فی قول اللہ تعالیٰ و لقد راہ نزلۃ اخری عند سدرۃ المنتہیٰ فاوحی الی عندہ ما اوحیٰ فکان قاب قوسین او ادنی قال ابن عباس قد راہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ھٰذا حدیث حسن ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان آیات کی تفسیر میں فرمایا : بے شک انہوں نے اس کو دوسری بار ضرور سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا تو اللہ نے اپنے خاص بندہ کی طرف وہ وحی نازل کی جو اس نے کی ، پھر وہ دو کمانوںکی مقدار نزدیک ہوا یا اس سے زیادہ ، حضرت ابن عباس نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف جلد 2 ابواب التفسیر صفحہ 164 حدیث نمبر 3202)

مسند امام احمد میں یہ الفاظ مذکور ہیں : عن عکرمۃ عن ابن عباس قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رایت ربی تبارک و تعالیٰ ۔ سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھا ۔ یہ حدیث پاک مسند امام احمد میں دو جگہ مذکور ہے ۔ (مسند امام احمد حدیث نمبر 2449 - 2502)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے دادا استاذ حضرت امام عبدالرزاق صنعانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 211؁ھ) نے اپنی تفسیر میں رقم فرمایاہے : کان الحسن یحلف باللہ ثلاثۃ لقد رای محمد ربہ ۔
ترجمہ : حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ تین باراللہ تعالی کی قسم ذکر کر کے فرمایا کر تے تھے کہ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا ۔ (تفسیرالقران لعبد الرزاق، حدیث نمبر2940،چشتی) ، نیز اسی طرح کی تفسیر‘ ائمۂ تفسیر امام ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 327 ھ) ابومحمد الحسین بن مسعو د بغوی (متوفی 510ھ) علامہ جمال الدین ابن الجوزی (متوفی 597ھ) امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ (وصال 606 ھ) علامہ عبدالعزیز بن عبدالسلام دمشقی(متوفی660ھ) امام ابوعبداللہ محمدبن احمد قرطبی(متوفی 671ھ) امام علاء الدین خازن رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 741 ھ) ابوزید عبدالرحمن ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 876ھ) حضرت سلیمان الجمل رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 1204ھ) علامہ شیخ احمد بن محمد صاوی مالکی رحمۃ اللہ علیہ (وصال 1241ھ) امام سیوطی (وصال 911ھ) اپنی کتبِ تفاسیر میں لکھی ہیں ۔ سورۃ النجم کی آیت نمبر 13 کی تفسیر کے تحت روایتوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سدرۃ المنتھی کے پاس جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ۔ لیکن آپ کا سفر وہیں منتہی نہیں ہوا ، آپ سدرہ سے آگے تشریف لے گئے ، ماورائے عرش پہنچے ، اللہ تعالی کے قرب سے مالامال ہوئے اور اپنے ماتھے کی آنکھوں سے اللہ تعالی کا دیدارفرمایا ۔

کتب صحاح و سنن ، معاجم ومسانید میں اس سے متعلق متعدد روایتیں موجود ہیں ، چنانچہ صحیح بخاری ، مستخرج أبی عوانۃ اور جامع الأصول من أحادیث الرسول لابن الاثیر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے : وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّۃِ فَتَدَلَّی حَتَّی کَانَ مِنْہُ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنَی ۔
ترجمہ : اور اللہ رب العزت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرب عطا کیا ، مزیداور قرب عطا کیا ، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور اُس جلوہ کے درمیان دو کمانوں کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہوئے ۔ (صحیح بخاری شریف کتاب التوحید باب قَوْلِ اللہِ وَکَلَّمَ اللَّہُ مُوسَی تَکْلِیمًا حدیث نمبر 7517،چشتی)(مستخرج أبی عوانۃ کتاب الإیمان مبتدأ أبواب فی الرد علی الجہمیۃ وبیان أن الجنۃ مخلوقۃ حدیث نمبر 270)(جامع الأصول من أحادیث الرسول لابن الاثیر،کتاب النبوۃ أحکام تخص ذاتہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسمہ و نسبہ حدیث نمبر 8867)

صحیح مسلم ، صحیح ابن حبان ، مسندابویعلی ، جامع الاحادیث ، الجامع الکبیر ، مجمع الزوائد ، کنزل العمال ، مستخرج ابوعوانہ میں حدیث پاک ہے : عن عبد اللہ بن شقیق قال قلت لابی ذر لو رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لسالتہ فقال عن ای شیء کنت تسالہ قال کنت اسالہ ھل رایت ربک قال ابو ذر قد سالت فقال رایت نورا ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا ! اگر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کی سعادت حاصل ہوتی تو ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتا ، انہوں نے فرمایا تم کس چیز سے متعلق دریافت کرتے ؟ حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ دریافت کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کا دیدارکیا ہے ؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس سلسلہ میں دریافت کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے نورِ حق کو دیکھا ہے ۔ (صحیح مسلم،کتاب الإیمان،باب فِی قَوْلِہِ عَلَیْہِ السَّلاَمُ نُورٌ أَنَّی أَرَاہ.وَفِی قَوْلِہِ رَأَیْتُ نُورًا.حدیث نمبر:462،چشتی)(مستخرج أبی عوانۃ،کتاب الإیمان، حدیث نمبر:287)(صحیح ابن حبان،کتاب الإسراء ،ذکر الخبر الدال علی صحۃ ما ذکرناہ ،حدیث نمبر:58)(جامع الأحادیث،حرف الراء ،حدیث نمبر:12640)(جمع الجوامع أو الجامع الکبیر للسیوطی، حرف الراء ، حدیث نمبر:12788)(مجمع الزوائد،حدیث نمبر:13840)(مسند أبی یعلی، حدیث نمبر:7163)(کنز العمال،حرف الفاء ،الفصل الثانی فی المعراج، حدیث نمبر:31864)

صحیح مسلم‘مسنداحمد‘صحیح ابن حبان ‘مسندابویعلی ‘معجم اوسط طبرانی ‘جامع الاحادیث ‘الجامع الکبیر ‘کنزل العمال‘مستخرج ابوعوانہ میں حدیث پاک ہے : عن ابی ذر سألت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہل رأیت ربک ؟ قال نور اِنِّی اَرَاہ ۔
ترجمہ : حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ! کیا آپ نے اپنے رب کا دیدار کیا ؟ فرمایا : وہ نور ہے ‘ بیشک میں اس کا جلوہ دیکھتا ہوں ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ،باب نورانی اراہ ،حدیث نمبر:461،مسند احمد، مسند ابی بکر حدیث نمبر:21351!21429)
اس حدیث شریف میں بھی صراحت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حق تعالی کا دیدار کیا ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : کیا آپ نے رب کا دیدار کیا ؟ جواباً ارشاد فرمایا : نُورَانِیُُّ اَرَاہُ ۔
ترجمہ : وہ ذات نور ہے ‘ میں اس کا جلوہ دیکھتا ہوں ۔
فقال نورا اَنّٰی اَرَاہ ۔
ترجمہ : میں نے جس شان سے دیکھاوہ نورہی نورہے ۔ (مسنداحمد ،حدیث نمبر:22148،چشتی)(طبرانی معجم اوسط،حدیث نمبر:8300)(مسنداحمد ، حدیث نمبر:21537)(جامع الأحادیث للسیوطی،حرف الراء ،حدیث نمبر : 12640)(صحیح ابن حبان،کتاب الإسراء ، حدیث نمبر:255) ۔ أما قولہ صلی اللہ علیہ و سلم نور أنی أراہ فہو بتنوین نور وبفتح الہمزۃ فی أنی وتشدید النون وفتحہا وأراہ بفتح الہمزۃ ہکذا رواہ جمیع الرواۃ فی جمیع الاصول والروایات ۔ ۔ ۔ (رأیت نورا ) معناہ رأیت النور فحسب ولم أر غیرہ قال وروی نورانی أراہ بفتح الراء وکسر النون وتشدید الیاء ویحتمل أن یکون معناہ راجعا إلی ما قلناہ أی خالق النور المانع من رؤیتہ فیکون من صفات الافعال ۔ (شرح صحیح مسلم‘ کتاب الایمان)

روایت کا جواب : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ جو شخص یہ بیان کرے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رب کو دیکھا ہے وہ جھوٹاہے ۔

جواب : صحیح بخاری شریف میں روایت ہے : عن مسروق عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت من حدثک أن محمدا صلی اللہ علیہ و سلم رأی ربہ فقد کذب وہو یقول (لا تدرکہ الأبصار) ۔
ترجمہ : مسروق بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جو شخص تم کو یہ بتائے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو احاطہ کے ساتھ دیکھا ہے تواس نے جھوٹ کہا اللہ تعالی کا ارشاد ہے لا تدرکہ الابصار ۔ آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں ۔ (سورہ انعام آیت نمبر 103) ۔ (صحیح بخاری شریف کتاب التوحید باب قول اللہ تعالی عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ أحدا،حدیث نمبر:7380،چشتی)

اس حدیث پاک میں مطلق دیدار الہی کی نفی نہیں ہے بلکہ احاطہ کے ساتھ دیدار کرنے کی نفی ہے اللہ تعالی کا دیدار احاطہ کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا ۔ کیونکہ اللہ تعالی کی ذات اور اُس کی صفات لامحدود ہیں ‘ اس لیے احاطہ کے ساتھ دیدارِخداوندی محال ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بغیراحاطہ کے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ۔ جامع ترمذی‘مسند احمد‘مستدرک علی الصحیحین‘عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری‘ ،تفسیر ابن کثیر‘‘سبل الہدی والرشاد میں حدیث پاک ہے : عن عکرمۃ عن ابن عباس قال رای محمد ربہ قلت الیس اللہ یقول لا تدرکہ الابصار و ھو یدرک الابصار قال و یحک اذا تجلی بنورہ الذی ھو نورہ و قد راٰی محمد ربہ مرتین ۔ترجمہ : حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ۔ میں نے عرض کیا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک و احاطہ کرتا ہے ؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم پر تعجب ہے ! جب اللہ تعالیٰ اپنے اُس نور کے ساتھ تجلی فرمائے جو اُس کا غیر متناہی نور ہے اور بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کا دو مرتبہ دیدار کیا ہے ۔ (جامع ترمذی ،ابواب التفسیر ‘باب ومن سورۃ النجم ‘حدیث نمبر:3590،چشتی)(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب تفسیر القرآن، سورۃ والنجم)(تفسیر ابن کثیر، سورۃ النجم5،ج7،ص442)(سبل الہدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد، ج**ع أبواب معراجہ صلی اللہ علیہ وسلم ج3،ص61)(مستدرک علی الصحیحین ، کتاب التفسیر ، تفسیرسورۃ الانعام ، حدیث نمبر:3191)(مسند احمد،معجم کبیر،تفسیرابن ابی حاتم ، سورۃ الانعام ، قولہ لاتدرکہ الابصار،حدیث نمبر:7767)

قال ابن عباس قد راہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا : یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ، ج 2، ابواب التفسیر ص 164 ، حدیث نمبر:3202)

مسند امام احمد میں یہ الفاظ مذکور ہیں : عن عکرمۃ عن ابن عباس قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رایت ربی تبارک و تعالیٰ ۔
ترجمہ : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کا دیدار کیا ۔ یہ حدیث پاک مسند امام احمد میں دو جگہ مذکور ہے ۔ (مسند امام احمد، حدیث نمبر:2449-2502،چشتی)

دنیا میں ظاہری آنکھوں سے رب تعالی کا دیدار کرنا ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیت ہے ۔ حضرت موسی علیہ السلام نے ظاہری طور پر اللہ تعالی کا دیدار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالی کی تجلی خاص کا مشاہدہ کیا ، جیسا کہ سورۃ الاعراف میں ارشاد باری تعالی ہے : وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰی لِمِيقَاتِنَا وَکَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرْ اِلَيکَ قَالَ لَنۡ تَرٰينِیۡ وَلٰکِنِ انۡظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰينِیۡ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَيکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ ۔ ترجمہ : اور جب موسی علیہ السلام ہمارے مقرر کردہ وقت پر حاضر ہوئے اور ان کے رب نے ان سے کلام فرمایا ، انہوں نے عرض کیا : اے میرے رب ! مجھے اپنا جلوہ دکھا کہ میں تیرا دیدار کرلوں ، ارشاد فرمایا : تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے ، مگر پہاڑ کی طرف دیکھو اگر وہ اپنی جگہ

Address

Bhimpura Rehmat Masjid
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Misbah TV posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share