30/09/2026
یہ ہیں بابا یوسف، جو تقریباً 45 سال سے لاہور مناوا، چاندنی چوک کے قریب اسی سائیکل پر لوگوں کو ناشتہ کروا رہے ہیں۔
بابا جی کے پاس نہ کوئی بڑی دکان ہے، نہ کوئی شاندار ہوٹل… بس ایک سادہ سی سائیکل ہے، جس پر انہوں نے ایک چھوٹا سا تختہ بنوا رکھا ہے، اور اسی پر اپنے دو پتیلے رکھ کر گھر سے نکلتے ہیں۔
یہاں بابا جی لوگوں کو صرف 50 روپے میں نان، چنے اور ایک انڈے کا ناشتہ کرواتے ہیں۔ قیمت اتنی کم ہے کہ آج کے دور میں یقین کرنا مشکل لگتا ہے، لیکن بابا جی کہتے ہیں کہ مقصد حلال رزق کمانا اور لوگوں کو آسانی سے ناشتہ کروانا ہے۔
اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ بابا یوسف کی عمر تقریباً 80 سال ہے۔
80 سال کی عمر میں جب اکثر لوگ آرام کی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں، بابا جی آج بھی اپنی سائیکل خود چلا کر یہاں آتے ہیں، دو پتیلے ساتھ لاتے ہیں، تقریباً چار گھنٹے یہاں کھڑے رہتے ہیں، اپنا ناشتہ فروخت کرتے ہیں اور تقریباً 500 سے 600 روپے کما کر واپس گھر چلے جاتے ہیں۔
سچ کہوں تو بابا جی کو دیکھ کر مجھے لگا کہ محنت کرنے کے لیے عمر نہیں، حوصلہ چاہیے۔
اور پھر بابا جی نے اپنی زندگی کی ایک ایسی بات بتائی جس نے مجھے اندر تک ہلا دیا۔
بابا جی نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے ایک فوڈ بلاگر نے ان کی ویڈیو بنائی تھی۔ وہ ویڈیو اللہ کے فضل سے بہت وائرل ہوئی، لوگوں نے بابا جی کو سپورٹ کیا، اور اسی مدد کی وجہ سے بابا یوسف عمرہ ادا کرکے واپس آئے۔
بابا جی بتاتے ہیں کہ وہ 21 دن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہے اور جب واپس آنے کا وقت آیا تو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ پاکستان واپس آؤں۔
لیکن اب 80 سال کی عمر میں بھی ان کے دل میں ایک نئی خواہش ہے۔
بابا جی کہتے ہیں:
“میں دوبارہ عمرہ کرنا چاہتا ہوں۔”
یہ الفاظ سنتے ہی میں سوچنے لگا کہ ایک ایسا بزرگ جو اپنی عمر کے اس حصے میں بھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا رہا، بلکہ خود سائیکل چلا کر، دو پتیلے اٹھا کر، چار گھنٹے محنت کرکے حلال رزق کما رہا ہے… اللہ اس کی نیت اور محنت میں کتنی برکت ڈال رہا ہوگا۔
بابا جی بار بار اللہ کا شکر ادا کرتے رہے اور کہتے رہے:
الحمدللہ، اللہ نے بہت دیا ہے۔
میں خود بہاولپور سے خاص طور پر بابا یوسف کی ویڈیو بنانے کے لیے آیا، لیکن جب ان کی پوری کہانی سنی تو محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک ناشتہ بیچنے والے بابا جی نہیں، بلکہ محنت، خودداری، شکر اور حلال رزق کی ایک زندہ مثال ہیں۔
ہم اکثر رزق کے لیے پریشان ہوتے ہیں، لیکن بابا جی ہمیں یہ سبق دے رہے ہیں کہ اگر نیت صاف ہو، معاملات درست ہوں اور انسان محنت کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ تھوڑے میں بھی برکت ڈال دیتا ہے۔
بابا یوسف آج بھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا رہے۔
وہ آج بھی اپنی سائیکل چلا رہے ہیں، اپنے پتیلے اٹھا رہے ہیں، لوگوں کو ناشتہ کروا رہے ہیں اور حلال رزق اپنے گھر لے کر جا رہے ہیں۔
اللہ پاک بابا یوسف کے رزق میں برکت عطا فرمائے، انہیں صحت اور لمبی زندگی دے، اور ان کی دوبارہ عمرہ کرنے کی خواہش پوری فرمائے۔ آمین۔
اور اگر لاہور مناوا، چاندنی چوک کے قریب کوئی بھائی بابا یوسف کو سپورٹ کرنا چاہتا ہے تو ان سے ضرور رابطہ کرے۔ شاید ہماری تھوڑی سی مدد کسی بزرگ کی سب سے بڑی خواہش پوری کرنے کا ذریعہ بن جائے۔
بابا جی کے لیے ایک دعا ضرور کریں: یا اللہ! بابا یوسف کو دوبارہ اپنے گھر کی حاضری نصیب فرما۔ آمین