13/12/2021
آج ہم تعارف میں اھلسنت سوادِ اعظم کی ایک عظیم ہستی کے تعلق سے پڑھیں گے،، جنکے نام سے آج بھی ایک کافر گروہ چین کی نیند نہیں لے پاتا،،،🥰
اُس عظیم ہستی کا نام مولانا الشاہ احمد نورانی ہے،،،،
محافظ ختمِ نبوت،، قائد اہل سنّت،، قاطع قادیانیت،، استاذ العلماء،، یادگار سلف صالحین،، لائق ادب ،، واجب الاحترام, حضرتِ علامہ مولانا الشاه احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ پاکستان کے اسلامی دینی اور سیاسی میدان میں ایک قد آور شخصیت تھے،،
چلیے تفصیلی معلومات جاننے سے پہلے مختصر اور جامع معلومات حاصل کرلیتے ہیں،،،!!
📗👇🏻...مختصر اجمالی تعارف،،،👇🏻📗
پیدائش - 1 اپریل 1926 میرٹھ
وفات - 11 دسمبر 2003 (77 سال) اسلام آباد
مدفن -- مزار عبد اللہ غازی
شہریت -- برطانوی ہند پاکستان
اولاد -- شاہ اویس نورانی ، شاہ انس نورانی
والد -- عبد العلیم صدیقی
مادر علمی -- جامعہ الٰہ آباد
پیشہ -- فلسفی ، سیاست دان ، مصنف
تحریک-- تحریک ختم نبوت 1974ء
یہاں تک تو حضرت کی مختصر معلومات کے بارے میں جان لیا ،، اب آئیے کچھ تفصیلی معلومات کے بارے میں جانتے ہیں،،،👇🏻
حضرت کی پیدائش،،،👇🏻؟
مولانا احمد نورانی صدیقی صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ 1926ء کو میرٹھ میں مولانا عبدالعلیم صدیقی صاحب کے گھر پیدا ہوئے۔ جن کا شجرہ نسب خلیفۃ المسلمین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے اور شجرہ طریقت مجدد دین و ملت اعلیٰ حضرت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمتہ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے۔ ،، سبحان اللہ
آپ کی تعلیم،،،📗✍️
حضرت نے آٹھ سال کی عمر میں مکمل قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ نيشنل عربک کالج سے گريجويشن کرنے کے بعد الہ آباد يونيورسٹي سے فاضل عربی اور دار العلوم عربيہ سے درس نظامی کی سند حاصل کی۔
حضرت کی پاکستان میں آمد.؟؟👇🏻
قیام پاکستان کے وقت آپ متحدہ برطانوی ہند میں ایک طالب علم اور تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن تھے۔،، قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد پاکستان چلے آئے۔
جمعیت علما پاکستان👇🏻👑
1948ء میں علامہ احمد سعید کاظمی نے جمیعت علمائے پاکستان کے نام سے جماعت بنائی اور 1970ء میں مولانا نورانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جب پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا تو جمیعت میں شامل ہوئے اس وقت جمیعت کے سربراہ خواجہ قمرالدین سیالوی تھےـ 1970ء میں جمعیت علمائے پاکستان کے ٹکٹ پر کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے مد مقابل انہوں نے وزیر اعظم کے عہدے کے انتخاب میں حصہ لیا۔ 1972ء میں مولانا نورانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جمیعت علما پاکستان کے سربراہ بنے اور تا دم مرگ وہ سربراہ رہے،، ـ آپ دو مرتبہ رکن اسمبلی اور دو مرتبہ سینٹر منتخب ہوئے۔
قیادت
1972ء میں جمعیت علمائے پاکستان کی قیادت سنبھالی اور آخری دم تک اس کے سربراہ رہے۔
تحریک نظام مصطفیٰ؟
1977ء میں تحریک نظام مصطفیٰ کے پلیٹ فارم پر فعال ہونے کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔
ورلڈ اسلامک مشن،،،
حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے دنیا بھر میں اسلام کا آفاقی پیغام عام کرنے کے لیے 1972ء میں ورلڈ اسلامک مشن کی بنیاد رکھی۔ اور مختلف ممالک میں اس کے دفاتر بنا کر اسے فعال کیا۔ نرم مزاجی اور حلم کی وجہ سے وہ دوستوں اور دشمنوں میں یکساں مقبول تھے۔
تحریک ختم نبوت1974👇🏻
مولانا شاہ احمد نورانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے 30 جون 1974ء میں قومی اسمبلی میں بل پیش کیا اور 7 ستمبر 1974ء سے قادیانیوں کے خلاف آئین میں ہونے والی (2) دوسری ترمیم کے اصل محرک تھے جس کو اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ قرارداد کے تحت قادیانیوں کو آئین پاکستان میں غیر مسلم قرارد دیا گیا۔ ،، حضرت نے اس موقع پر قادیانیوں کے سربراہ ناصر مرزا کو مناظرے میں شکست فاش بھی دی تھی۔،،، سبحان اللہ،،
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں حضرت نورانی میاں کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ ،،انہوں نے بے شمار قادیانی مبلغین سے مناظرے کیے اور انہیں ہمیشہ شکست فاش دی۔ آپ نے بیرون ممالک میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا مسلسل تعاقب کیا۔ انہوں نے آئین پاکستان میں مسلمان کی تعریف شامل کروائی۔ 30 جون 1974ء کو آپ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے قومی اسمبلی میں تاریخی قرارداد پیش کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنی جماعت کے عقائد کے بارے میں صفائی اور موقف پیش کرنے کا مکمل اور آزادانہ موقع دیا گیا۔ 13 دن تک اس پر جرح ہوئی۔ بعد ازاں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بنا پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ مولانا نورانی صدیقی صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مجھے بخشی اور مجھے یقین کامل ہے کہ بارگاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں میرا یہ عمل سب سے بڑا وسیلہ شفاعت و نجات ہوگا۔‘ ،، ماشاء اللہ🥰
متحدہ مجلس عمل
مشرف کے دور حکومت میں 2002ء دینی جماعتوں کو متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مذہبی جماعتوں کا اتحاد عمل میں آیا تو انھیں متفقہ طور پر سربراہ مقرر کیا گیا۔ جمہوریت کے لیے ان کی کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی موت تک وہ ایم ایم اے(متحدہ مجلس عمل) کے سربراہ رہے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی وفات،،😢
دل کا دورہ پڑنے سے اسلام آباد میں 16 شوال 1424ھ 11 دسمبر 2003ء کو ان کا انتقال ہوا۔
آپکا جنازہ کس نے پڑھایا؟؟
ان کی نماز جنازہ ان کے بیٹے انس نورانی نے پڑھائی۔
آپکا مزار پر انوار؟..
آپ رحمۃ اللہ علیہ کو کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار (کلفٹن) کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیا۔
آپکی تصانیف..📗؟
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی تصانیف وغیرہ کے تعلق سے کوئی معلومات نہیں ہیں،، ہو سکتا ہے آپ نے زیادہ کام نہیں کیا ہو تصانیف وغیرہ پر،، البتّہ آپکی جو بھی خدمات ہیں اُسے بھلایا نہیں جا سکتا،،
دعاء 🤲🏻،، آج ہم نے ایک عظیم ترین ہستی کے تعلق سے پڑھا،، اُمتِ مسلمہ کے لیے آپ نے جو خدمات کی ہیں وہ واقعی میں قابلِ دید ہے،، آپ ہروقت اپنے دل میں قوم کا درد لیکر چلا کرتے تھے،،، بلکہ آپکی زندگی کا سب سے اہم پہلو جو تھا کہ بس مینے تادم حیات محافظ ختمِ نبوت کا نوکر بن کر رہنا ہے،، بلکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے خود فرمایا کہ یہ عمل میرا سب سے بڑا وسیلہ نجات و شفاعت ہوگا،،
اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعاء ہے کہ ربِّ کریم حضرت کی بے حساب مغفرت فرمائے،، اور جو آپنے اُمتِ مسلمہ کی خدمات کی ہے اللہ تعالیٰ اسی خدمات کو آپکی نجات کا ذریعہ بنائے،، اور آپکے صدقے ہم تمام کی بے حساب مغفرت فرمائے،،
آمین ثم آمین یارب العالمین🤲🏻
✍🏻..محمد سہیل نظامی 📗
بتاریخ .. ۱۲/۱۲/۲۱..ء