21/12/2023
راستے بند کئے دیتے ہو دیوانوں کے
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے
غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رازِ دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کے
یہ تو وہ لوگ ہیں اپنوں کے نہ بیگانوں کے
وہ بھی کیا دور تھے ساقی تیرے مستانوں کے
راستے راہ تکا کرتے تھے میخانوں کے
بادلوں پر یہ اشارے تیرے دیوانوں کے
ٹکڑے پہنچے ہیں کہاں اڑ کے گریبانوں کے
راستے بند کئے دیتے ہو دیوانوں کے
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے
نہ اذاں دیتا نہ ہوشیار برہمن ہوتا
در تو اس شیخ نے کھلوا دئیے بت خانوں کے
آپ دن رات سنوارا کریں گیسو تو کیا
کہیں حالات بدلتے ہیں پریشانوں کے
"استاد قمرؔ جلالوی"