Sufi

Sufi tou jo nhi to kuch bhi nhi hai

21/12/2023

راستے بند کئے دیتے ہو دیوانوں کے
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے
غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رازِ دل کیوں نہ کہوں سامنے دیوانوں کے
یہ تو وہ لوگ ہیں اپنوں کے نہ بیگانوں کے
وہ بھی کیا دور تھے ساقی تیرے مستانوں کے
راستے راہ تکا کرتے تھے میخانوں کے
بادلوں پر یہ اشارے تیرے دیوانوں کے
ٹکڑے پہنچے ہیں کہاں اڑ کے گریبانوں کے
راستے بند کئے دیتے ہو دیوانوں کے
ڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کے
نہ اذاں دیتا نہ ہوشیار برہمن ہوتا
در تو اس شیخ نے کھلوا دئیے بت خانوں کے
آپ دن رات سنوارا کریں گیسو تو کیا
کہیں حالات بدلتے ہیں پریشانوں کے
"استاد قمرؔ جلالوی"

28/11/2022
29/01/2022

کچھ عرصہ پہلے کسی خاتون کا سوال آیا میرے پاس کہ ہمیں اللہ جی ایسے لوگوں سے کیوں ملواتے ہیں جو نصیب میں نہیں ہوتے ایسے لوگ کیوں ہماری زندگی میں آتے ہیں جنہیں ہمارا بننا نہیں ہوتا۔ آخر کیوں نمازوں میں مانگنے کے باوجود کوئی ہمارا محرم نہیں بنتا۔ اور ہمیں اذیت میں چھوڑ کے چلا جاتا ہے۔۔!!!
جواب:
میں نے اس کا جواب دیا کہ اللہ نے انسان کے دل کو اپنا گھر سے تشبیہ دی اور انسان کے دل پر اللہ کے نور کی تجلیات پڑتی رہتی ہیں اور اللہ نے کہا اگر میری تجلیات کسی پہاڑ پر پڑتی تو پہاڑ ریزہ، ریزہ ہو جاتے لیکن میں نے انسان کے دل کو چُنا اور پھر اس میں اپنا قرآن اتارا اور انسان نے اس دل میں مجھے چھوڑ کر دوسروں کو بسا لیا۔ اور اللہ کی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ انسان اسے چھوڑ کر غیر سے محبت کا اظہار کرے۔ کیونکہ اللہ نے انسان سے محبت کا دعویٰ کیا اور کہا اے آدم کی اولاد میں تم سے پیار کرتا ہوں۔
ابن آدم ! أنا لک محب؛
آدم کی اولاد میں تم سے پیار کرتا ہوں
اللہ نے 18000 مخلوقات پیدا کی لیکن انسان کو کہا مجھے میری عزت کی قسم میں تم سے پیار کرتا ہوں. وہ فرشتے جنہوں نے اربوں کھربوں سال سے سجدے میں سر رکھا ہوا ہے ان سے نہیں کہا کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ اے جبرائیل میں تم سے پیار کرتا ہوں، اے اسرافیل میں تم سے پیار کرتا ہوں۔شرابی سے کہا میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ عزت بیچنے والی سے کہا میں تم سے پیار کرتا ہوں۔
اس سے اگلی بات اور بھی مارنے دینے والی ہے کہ تجھے میری عزت کی قسم تو بھی تو مجھ سے پیار کر۔ بادشاہوں کو کیا پرواہ ہوتی ہے رعایا کی۔ وہ ذات جسے کائنات کے کسی ذرے کے پروا نہیں، وہ بے نیاز ذات۔۔۔۔ وہ کہے رہا میں تجھ سے پیار کرتا ہوں اور تجھے میری عزت کی قسم تو بھی مجھ سے پیار کر
فبحقی علیک کن لی محباً
تجھے میرے حق کی قسم تو بھی مجھ سے پیار کر
Reference:
(حدیث قدسی بحوالہ امام غزالی احیاء علوم الدین مع الاتحاف ۹/۵۵۰)
اب قرآن میں آؤ
وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ الۡوَدُوۡدُۙ●
وہ (اللہ) تو بہت بخشنے والا، بہت محبت کرنے والا ہے۔
(سورہ البروج، 14)
تو جن لوگوں کے لئے آپ قربانیاں دیتے ہیں وہ آپکی کیا قدر کریں گے؟ اور ایک انسان زیادہ سے زیادہ آپ کی کیا قدر کر سکتا ہے؟ آپ کسی پر احسان کریں گے تو وہ بدلے میں آپ کو شکریہ بول دے گا یا بدلے میں کوئی چیز دے آپ کو، ساتھ نبھانے کے لارے لگائے گا۔ زیادہ سے زیادہ کیا کرے گا آپ کے لیے؟
آپ کو پتہ ہے اللہ کی قدردانی کیا ہے؟ جب آپ اللہ کی محبت میں اپنے جذبے قربان کرتے ہیں تو پتہ ہے اللہ کیا قیمت لگاتا ہے آپ کی ؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیٹا ہوا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 86 سال اور بیوی حضرت ہاجرہ کی عمر 22 سال۔ جب بچہ پیدا ہوا تو اللہ نے کہا اپنی بیوی اور اپنے بچے کو جاکر صفا اور مروہ کی پہاڑیوں میں چھوڑ دو۔ آج تو وہاں پر چلو دنیا آباد ہے لیکن تصور کرو آج سے ہزاروں سال پہلے وہ صرف ایک خوفناک منظر ہوگا اور کچھ نہیں۔ آپ نے جا کر اپنی بیوی اور بچے کو وہاں چھوڑ دیا۔ اب نبی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے انکی بیوی تو نبی نہیں تھی وہ چاہتی تو کہہ سکتی تھی کہ اتنی خوفناک جگہ پر مجھے اکیلے چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو۔ جہاں نہ بندہ، نہ آبادی، نہ کھانا، نہ پانی، نہ سبزہ بس صرف اور صرف تپتی ریت اور دل دہلا دینے والے پہاڑ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بیوی اور بچے کو چھوڑ کے واپس آ گئے۔ ایک دو دن تو بھوک پیاس میں گزرے لیکن کب تک گزر سکتی تھی۔
بچے کو پیاس لگی پانی تھا نہیں تو حضرت ہاجرہ ان پہاڑوں پر بھاگی کہ شاید کہیں سے پانی کی ایک بوند مل جائے اور میں اپنے بچے کو پلا دوں۔ کبھی وہ صفا کے پہاڑوں پر بھاگتی کبھی وہ مروا کے پہاڑوں پر بھاگتی۔ بچے نے جب زمین پر ایڑیاں رگڑیں تو پانی نکل پڑا جسے آج ہم آپ زم زم کہتے ہیں۔
اور پتہ ہے اللہ نے حضرت ہاجرہ کے جذبے کی کیا قیمت لگائی؟
جو بھی حج کرنے جاتا ہے اگر وہ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان نہیں بھاگتا تو اللہ اس کا حج قبول نہیں کرتا
یہاں تک کہ اللہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا اے میرے حبیب اگر آپ بھی صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان نہیں بھاگیں گے تو میں آپ کا حج بھی قبول نہیں کروں گا کیونکہ میری ایک بندی بھاگی تھی وہاں پر.
Reference:
اِنَّ الصَّفَا وَالۡمَرۡوَةَ مِنۡ شَعَآٮِٕرِ اللّٰهِۚ
صفا اور مروہ کی سعی واجب ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں
(القرآن، سورة البقرة، 158)
یہ ہے اللہ کی قدردانی کہ اللہ نے قرآن میں واجب کر دیا۔ تو جب انسان اپنے جذبات اللہ کے لیے قربان کرتا ہے تو پھر اللہ اس انسان کے لیے ایسے قیمت لگاتا ہے۔ ایک انسان کیا قیمت لگائے گا آپ کے جذبات کی؟
انسان اللہ سے محبت کرنے لگتا ہے تو پھر اسے اس سے فرق ہی نہیں پڑتا کہ کوئی چھوڑ کے چلا گیا یا نہیں اور وہ اپنے آپ کو اللہ کے آگے جھکا دیتا ہے اور اللہ کی فرمانبرداری میں جو لذت وہ کبھی محسوس کر کے تو دیکھیں۔ یہ لذت اتنی نایاب ہے کہ اللہ نے اسے صرف دنیا میں رکھا۔ جنت میں اربوں کھربوں سال کی زندگی پاؤ گے لیکن عبادت کی لذت نہیں پاؤ گے۔ آپ ایک لمحے کے لئے سوچو کہ باہر شدید ٹھنڈ ہے، ٹمپریچر 10 ڈگری ہے اور آپ وضو کر کے جائے نماز پر اللہ کے سامنے کھڑے ہوگئے ہیں۔ دنیا سو رہی ہے اور آپ اللہ کو منا رہے ہیں کیا کیفیت ہوگی وہ میرے پاس الفاظ نہیں اس کیفیت کو بیان کر سکوں۔ اور پھر انسان کہے یا اللہ رات آگئ، دن چلا گیا، ستارے چھٹکنے لگے، دنیا کے سارے بادشاہوں نے اپنے دروازے بند کر دیے ہیں ایک تیرا در کھلا ہے میں تجھ سے مانگتا ہوں، تجھے منا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس محبت کو بھی تو کبھی محسوس کرکے دیکھیں نہ۔
اور پتا ہے یہ one way communication نہیں ہے۔ پتا ہے اللہ نے اس کا کیا جواب دیا؟ اللہ نے اسے answer کیا باقاعدہ اور کہا
تَتَجَافٰى جُنُوۡبُهُمۡ عَنِ الۡمَضَاجِعِ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ خَوۡفًا وَّطَمَعًا
"اُن کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے اللہ کو خوف اور اُمید سے پکارتے"
(سورہ السجدہ، 16)
لفظ "تَتَجَافٰى" کا مطلب ہے جفا کرنا یعنی بے وفائی کرنا اور اللہ کہہ رہا یہ میرے وہ بندے ہیں جو اپنے بستروں سے بے وفائی کرتے ہیں اور مجھ سے وفا کرتے ہیں۔ جسم ٹوٹتا ہے، نیند اکھڑتی ہے لیکن وہ اپنے بستر سے جفا کرتے ہیں اور مجھ سے وفا کرتے ہیں اور میرے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں؛ یہی تو میرے وفادار بندے ہیں 💗💗
اور صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا کہ ایسے لوگوں کے لئے میں نے جنت کے اندر ایسی نعمتیں اور ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک تیار کر رکھی ہیں جنکو آج تک نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی دل نے سوچا ہے
فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِىَ لَهُمۡ مِّنۡ قُرَّةِ اَعۡيُنٍ‌ۚ
کوئی متنفس (انسان اور جِن) نہیں جانتا کہ اُن کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔
(القرآن)
اب یہ choice آپکی ہے کہ نامحرم کی محبت کے پیچھے بھاگنا ہے یا اللہ کی محبت کو پانا ہے

25/01/2022

ادشاہ ایک درویش کے پاس گیا جو کسی خاص ورد میں مصروف تھا بادشاہ نے اس درویش سے اس ورد کی بابت دریافت کیا تو درویش نے بتایا کہ یہ ورد ایک خاص موکل کو فلاں مقصد کے لئے متحرک کرتا ہے، بادشاہ نے درویش سے کہا کہ مجھے بھی اس ورد کی تعلیم دو، تو درویش نے کہا کہ میں ایسا نھیں کر سکتا۔ بادشاہ یہ سنکر وہاں سے رخصت ہوا اور کسی اور سے وھی ورد سیکھ کر اس نے اسی درویش کو اپنے دربار میں بلایا اور اسکو کہنے لگا کہ میں نے تیرا ورد کسی اور سے سیکھ تو لیا ہے لیکن جس موکل کا تُو نے ذکر کیا تھا وہ نا تو حاضر ھوتا ہے اور نا ہی میرا کوئی کام کرتا ہے۔ اب تُو مجھے بتا کہ ایسا کیوں ہے اور اسکا حل کیا ہے یعنی میں اس ورد کو پڑھنے میں کہاں غلطی کر رہا ھوں اور اگر تُو نے مجھے نا بتایا تو سزا کے لئے تیار ھو جا۔ درویش یہ بات سن کر مسکرایا اور بادشاہ کے پاس کھڑئے ھوئے سپاھی کو حکم دیا کہ وہ بادشاہ کو فوراً گرفتار کر لے۔ سپاھی اور بادشاہ دونوں نے حیرت سے درویش کو دیکھا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ شاید بادشاہ کے خوف سے اسکا دماغ الٹ گیا ہے۔ درویش نے ایک مرتبہ پھر انتہائی سخت لہجے میں سپاھی کو حکم دیا کہ وہ بادشاہ کو گرفتار کر لے، مگر سپاھی اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نا ہلا۔ بادشاہ کی حیرت اب شدید غصے میں بدل چکی تھی، بادشاہ نے جلال کے عالم میں اسی سپاھی کو حکم دیا کہ اس گستاخ کو فوری گرفتار کر لیا جائے۔ یہ سنکر شاھی دربار میں موجود تمام سپاھیوں نے اپنے نیزوں اور تلواروں کا رخ درویش کیطرف کر لیا اور اسے چاروں طرف سے گھیرئے میں لے لیا۔ درویش یہ دیکھ کر مسکرایا اور بولا۔ سن بادشاہ جو میں نے اِن سپاھیوں کو کہا اور جو تُو نے انکو کہا وہ ایک ہی حکم تھا، الفاظ اور لہجہ سب ایک تھا لیکن میری بات سن کر یہ ایک سپاھی بھی خاموش رہا جبکہ تُو نے صرف ایک سپاھی کو حکم دیا تھا لیکن تیرا حکم سن کر دربار میں موجود تمام سپاھی فوراً حرکت میں آ گئے اور مجھے ایک آن میں گرفتار کر لیا۔ پس فرق حکم کا نھیں ہے بلکہ تیری اور میری حیثیت کا ہے۔ یہی سبب ہے کہ تیرئے ورد پڑھنے سے وہ موکل حرکت میں کبھی نھیں آئے گا کیونکہ روحانی دنیا میں تیری حیثیت صفر ہے۔ سوال یہ نھیں ہے کہ قران میں شفاء ہے یا نھیں ہے سوال یہ ہے کہ پڑھنے والا کس کردار کا مالک ہے اور اللہ سے کس قدر قربت رکھتا ہے۔ کتابوں سے کاپی پیسٹ کر کے اعمال کتابوں یا فیسبک پر نقل کر لینے سے کوئی بھی شخص اس دنیا میں تو مشھور ھو سکتا ہے لیکن یہ لازمی نھیں کہ اللہ اسکو لوگوں کی نجات کا وسیلہ بھی منتخب کر لے۔ ایسے میں مسئلہ آیات یا نقوش کی روحانیت کا نھیں ہے بلکہ عامل کے اعمال، اسکی نیت اور ایمان کا ہے
منقول

20/05/2021

TOU JO NHI
TOU KUCH BHI NHI

02/03/2021

صندل کے درخت کی خوبی ھے کہ یہ اپنی درویشی کو یوں چھپاتا ہے کہ رفتہ رفتہ اپنی خوشبو کو ارد گرد کے 100 درختوں میں منتقل کردیتا ہے ۔ یہی وجہ ھے کہ صندل کے درخت کو پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ خود کو چھپا لیتا ہے ۔ یہی اس کی ادا ہے ہے ۔
اور یہی ادا اللہ والوں کی ہوتی ہے ۔ وہ اپنی خوشبو آس پاس کے لوگوں میں منتقل کرکے جتاتے نہیں بلکہ انہیں کہتے ہیں ۔ دیکھو یہ تمہاری اپنی خوشبو پھوٹ رہی ہے ۔ اس کی حفاظت کرو ۔ یہی وجہ ہے کہ صندل کا درخت اور اللہ والے شازونادر ہی ملا کرتے ہیں ۔ مل جائیں تو اپنا سب کچھ طالب صادق میں انڈیل دیتے ہیں ۔
ا

22/02/2021

صبر کرو یہاں تک کہ اگر ہر
امکان بند محسوس ہوتا ہے
رمی

13/02/2021

میں خدا سے خواہش کرتا ہوں سوائے اس کے کہ آپ اپنے لبوں پر بوسہ لیں۔
آج کے دکھ کا کوئی علاج نہیں ہے( zafar iqbal)

04/02/2021

"پیارے دوست ، آپ کا دل ایک چمکدار آئینہ ہے۔ آپ کو اسے خاک کے پردے سے صاف کرنا چاہئے جو اس پر جمع ہوچکا ہے ، کیونکہ اس کا مقدر خدا کے راز کی روشنی کو ظاہر کرنا ہے۔"
سیدہ سیدنا عبدالقادر جیلانی قس

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sufi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Sufi:

Share