Nadeem Madani Hanafi

Nadeem Madani Hanafi Islamic literature

17/08/2024

*📚حدیث کی کون سی کتاب کتنے سالوں میں مکمل ہوئی 📚*
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

✒️1️⃣امام مالک بن انس نے مؤطا کو تقریباً 40 سال میں مرتب کیا۔

✒️2️⃣امام دارمی نے اپنی کتاب سنن دارمی کو تقریباً 20 سال میں مرتب کیا۔

✒️3️⃣ امام احمد بن حنبل نے اس اپنی کتاب مسند احمد کو تقریباً 40 سال کے عرصے میں مرتب کیا۔

✒️4️⃣امام بخاری نے صحیح بخاری کو 16 سال میں مرتب کیا۔

✒️5️⃣امام مسلم نے صحیح مسلم کو 15 سال میں مرتب کیا۔

✒️6️⃣امام ابو داؤد نے سنن ابی داؤد کو تقریباً 20 سال میں مرتب کیا۔

✒️7️⃣امام ابن ماجہ نے سنن ابن ماجہ 40 سال میں لکھی

✒️8️⃣امام ترمذی نے سنن ترمذی کو تقریباً 10 سے 15 سال میں مرتب کیا۔

✒️9️⃣امام نسائی نے سنن نسائی کو تقریباً 30 سال میں مرتب کیا۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°° منقول۔

گولڈن جوبلی کے موقع پر عقیدہ ختمِ نبوت سے متعلق مفتیِ دعوتِ اسلامی، استاذ الفقہ و الحدیث، مفتی ہاشم صاحب مدظلہ العالی کی...
16/08/2024

گولڈن جوبلی کے موقع پر عقیدہ ختمِ نبوت سے متعلق مفتیِ دعوتِ اسلامی، استاذ الفقہ و الحدیث، مفتی ہاشم صاحب مدظلہ العالی کی 400 صفحات پر مشتمل کتاب عنقریب شائع ہو کر منظر عام پر آ جائے گی۔ ان شاءاللہ عزوجل

اس کتاب میں آپ پڑھ سکیں گے:

1. جھوٹے مدعیانِ نبوت کا انجام

2. عقیدہ ختمِ نبوت کا ثبوت قرآن و حدیث اور اقوالِ ائمہ کی روشنی میں

3. مرزا غلام قادیانی کے جھوٹ کفریات اور گستاخیاں اور ان کا رد

4. تحریک ختمِ نبوت 1953ء کے اسباب اور واقعات

5. تحریکِ ختمِ نبوت 1974ء کے اسباب اور واقعات

6. تحفظِ عقیدہ ختمِ نبوت میں علماء اہل سنت کا کردار

مزید مختلف موضوعات پر اسلامی معلومات کے لیے اس لنک پر کلک کر کے اس واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ 👇👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va7K5Ad7dmejQNOwCL43

نوٹ: یہ لنک واٹس ایپ پر ہی اوپن ہو گا۔

15/08/2024

استاد ہمیشہ یہ کہنے سے گریز کرتی تھیں: "غلط جواب"۔
وہ کہتی تھیں: "تم صحیح جواب کے قریب ہو، کون دوسرا جواب دے سکتا ہے؟"
لیکن سب سے بہترین جملہ وہ تھا جب استاد نے ایک طالب علم کو غلط جواب دینے پر کہا: "یہ جواب کسی اور سوال کے لیے بالکل درست ہے۔"

یہ وہ دل ہیں جو حوصلہ شکنی کا راستہ نہیں جانتے!

استادوں کو ایسے کرنا چاہیے

13/08/2024

عنوان: *disposable Cups استعمال کرنے کا حکم*

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جن disposable Cups کی تیاری میں سوَر کی چربی کا استعمال کیا جاتا ہے کیا ایسے کپ میں کوئی گیلی چیز مثلاً پانی، دودھ وغیرہ ڈالا جائے گا تو کیا وہ ناپاک ہو جائے گا؟

*بینوا توجروا*
*بیان فرما کر اجر پائیے*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
المبارک

واضح رہے کہ جب تک کسی چیز کے بارے میں یقین نہ ہوجائے کہ وہ ناپاک ہے یا اس پر ناپاکی لگی ہے، اس وقت تک وہ پاک ہی سمجھی جائے گی محض امکانات، احتمالات اور شک کی بنیاد پر کسی چیز پر ناپاکی کا حکم نہیں لگتا اور ایسی صورتحال میں تفتیش و تحقیق کی حاجت بھی نہیں ہے اسی لیے فقہاء کرام نے فرمایا کہ جب تک برتن، کپڑے اور بدن وغیرہ کے متعلق ناپاکی کا یقین نہ ہو جائے انہیں صرف شک کی بنا پر ناپاک نہیں مانا جائے گا؛ اس لیے کہ ان چیزوں کے متعلق ہمیں اصل کے اعتبار سے پاک ہونے کا یقین حاصل ہے اور ان کے نجس ہونے کا شک ہے اور شریعت کا قاعدہ ہے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا، لہذا جب تک disposable Cups کی تیاری میں سوَر کی چربی استعمال ہونے کا یقینی علم حاصل نہیں ہوتا تب تک اس میں پانی، دودھ چائے وغیرہ پینا بالکل جائز ہے۔
ہاں اگر یقینی دلیل سے disposable Cups کی تیاری میں سور کی چربی استعمال ہونا ثابت ہو جائے تو پھر اس کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ چربی کے اثرات بالکل ختم ہو جائیں یعنی بالکلیہ چربی کی حقیقت و ماہیت تبدیل ہو جائے، تو اس صورت میں انقلاب جنس کی وجہ سے disposable Cups کا استعمال جائز رہے گا، دوسری صورت یہ ہے کہ انقلاب مکمل نہ ہو حتی کہ چربی کے اثرات باقی ہوں یعنی حقیقت و ماہیت تبدیل نہ ہوئی ہو، تو اس صورت میں انقلاب جنس نہ ہونے کی وجہ سے کپ کا استعمال جائز نہیں ہو گا۔
اس مسئلے کی مزید تفصیل یہ ہے کہ شرعی اصول ہے کہ *"انقلاب عین موجب طہارت ہے"* یعنی جب کسی نجس و ناپاک چیز کی حقیقت و عین بدل جائے تو اس سے نجاست و ناپاکی کا حکم ختم ہوجاتا ہے اور وہ پاک ہوجاتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں کپ بننے کی وجہ سے سور کی چربی کی حقیقت تبدیل ہو چکی ہے اس لیے اسے مشروبات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
شریعت مطہرہ میں اس کی کثیر مثالیں موجود ہیں: پہلی مثال: اگر نمک کی کان میں سور یا گدھا گر کر نمک بن جائیں تو یہ سب نمک پاک ہوگا، دوسری مثال: کنویں میں ناپاکی گر کر کیچڑ بن جائے تو یہ کیچڑ بھی پاک ہوگا، تیسری مثال: انگور کا شیرہ پاک ہے لیکن شراب بن جانے کی صورت میں ناپاک ہوجاتا ہے، اور پھر سرکہ بن کر پاک ہو جاتا ہے، چوتھی مثال: اگر زیتون کا تیل ناپاک ہوجائے اور پھر اسے صابن بنانے میں استعمال کر لیا تو وہ صابن بھی پاک رہے گا، الغرض ان تمام صورتوں میں انقلاب عین و حقیقت کی وجہ سے حکم نجاست زائل ہو کر حکم طہارت ثابت ہو رہا ہے۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"الأصل في الأشیاء الإباحة".

ترجمہ: اشیاء میں اصل اباحت ہے۔

(الاشباہ والنظائر، الفن الاول، النوع الاول، القاعدۃ الثالثۃ، صفحہ57، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے:

"الأصل في الأشیاء الطهارة".

ترجمہ: اشیاء میں اصل پاک ہونا ہے۔

(فتاوی مرکز تربیت افتاء، کتاب الطہارۃ، جلد1، صفحہ80، فقیہ ملت اکیڈمی)

مزید دوسرے مقام پر لکھا ہے:

"اشیاء میں اصل طہارت واباحت ہے"۔

(فتاوی مرکز تربیت افتاء، کتاب الطہارۃ، جلد1، صفحہ83، فقیہ ملت اکیڈمی)

بدائع الصنائع میں ہے:

"لاینجس بالشک".

ترجمہ: شک کی بنیاد پر کوئی چیز نجس نہیں ہوتی۔

(بدائع الصنائع، جلد1، صفحہ413، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے:

"من شك في إنائه أو ثوبه أو بدنه أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن وكذا في الآبار والحياض و الحباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار".

ترجمہ: جس شخص کو اپنے برتن، کپڑے یا بدن پر نجاست پہنچنے یا نہ پہنچنے میں شک ہو، تو یہ چیزیں اس وقت تک پاک شمار کی جائیں گی جب تک انکے نجس ہونے کا یقین حاصل نہ ہو جائے اور یہی حکم کنؤوں، حوضوں اور ان مٹکوں کا ہے کہ جو راستے میں رکھے ہوتے ہیں کہ جس سے بچے، بڑے، مسلمان اور کفار سیراب ہوتے ہیں۔

(رد المحتار، کتاب الطہارۃ، جلد1، صفحہ310۔311، دار المعرفۃ، بیروت)

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"اليقين لا يزول بالشك".

ترجمہ: یقین، شک سے زائل نہیں ہوتا۔

(الاشباہ والنظائر، الفن الاول، النوع الاول، القاعدۃ الثالثۃ، صفحہ47، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے:

"صرف اس قدر حکم ہے کہ وہ چیز تصرف میں لائیں جو اپنی اصل میں حلال وطیب ہو اور اُسے مانع ونجاست کا عارض ہونا ہمارے علم میں نہ ہو لہذا جب تک خاص اس شَے میں جسے استعمال کرنا چاہتا ہے کوئی مظنہ قویہ حظر وممانعت کا نہ پایا جائے تفتیش وتحقیقات کی بھی حاجت نہیں مسلمان کو روا کہ اصل حل وطہارت پر عمل کرے اور یمکن و یحتمل و شاید و لعل کو جگہ نہ دے"۔

(فتاوی رضویہ، جلد4، صفحہ514، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے:

"(لا) يكون نجسا (ملح کان حمارا) أو خنزیرا ولا قذر وقع في بئر فصار حمأۃ؛ لانقلاب العین، به یفتی". ملتقطا.

ترجمہ: وہ نمک ناپاک نہیں ہوگا جو پہلے گدھا یا خنزیر تھا، اور وہ گندگی بھی جو کنوئیں میں گر کر کیچڑ بن جائے ناپاک نہیں؛ کیونکہ انقلاب حقیقت ہوگیا، اسی پر فتوی ہے۔

(تنویر الابصار و در مختار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد1، صفحہ586، دار المعرفۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے:

"قوله: *لانقلاب العین علة للکل*، وھذا قول محمد وذکر معه في "الذخیرۃ" و"المحیط" أبا حنیفة (حلية) قال في "الفتح" وکثیر من المشائخ اختاروہ وھو المختار؛ لأن الشرع رتب وصف النجاسة علی تلك الحقیقة وتنتفي الحقیقة بانتفاء بعض أجزاء مفھومھا فکیف بالکل فإن الملح غیر العظم واللحم فإذا صار ملحا ترتب حکم الملح ونظیرہ في الشرع النطفة نجسة وتصیر علقة وھی نجسة وتصیر مضغة فتطھر والعصیر طاهر فیصیر خمراء فینجس ویصیر خلاً فیطھر فعرفنا أن استحالة العین تستتبع زوال الوصف المرتب علیھا. اھ".

ترجمہ: مصنف کا قول "انقلاب عین موجب طہارت ہے"، یہ گدھے اورخنزیر کے نمک اور گندگی کے کیچڑ بن جانے کے بعد پاک ہونے کی دلیل ہے، اور یہ امام محمد علیہ الرحمہ کا قول ہے اور "ذخیرہ" اور "محیط" میں امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کو بھی امام محمد کے ساتھ ذکر کیا ہے "حلیہ" اور "فتح القدیر" میں ہے کہ بہت سے مشائخ نے اسکو اختیار کیاہے، اور یہی مذہب مختار ہے؛ اس لیے کہ شریعت نے وصف نجاست کو اس کی حقیقت پر مرتب کیا تھا، اور حقیقت بعض اجزاء کے منتفی ہوجانے سے منتفی ہوجاتی ہے تو بالکلیہ منتفی ہوجانے سے کیوں منتفی نہ ہو گی؛ اس لیے کہ نمک گوشت اور ہڈی کا مغایر ہے، لہذا جب یہ نجاست نمک بن جائے گی تو اس پر نمک کا حکم مرتب ہوگا، اور اس کی نظیر شریعت میں نطفہ ہے جو کہ ناپاک ہے پھر وہ علقہ بن جاتا ہے اور یہ بھی ناپاک ہے، پھر مضغہ یعنی گوشت بن کر پاک ہوجاتا ہے، اور شیرہ انگور پاک ہے لیکن پھر شراب بن کر ناپاک ہوجاتا ہے، اور پھر سرکہ بن کر پاک ہوجاتا ہے، اس سے ہم نے جان لیا کہ حقیقت کا بدل جانا اس وصف کے زوال کو مستلزم ہے جو اس حقیقت پر مرتب تھا، انتہی۔

(رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد1، صفحہ586، دار المعرفۃ، بیروت)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے:

"(و) یطھر (زیت) تنجس (بجعله صابونا) به یفتی؛ للبلوی کتنور رش بماء نجس لا بأس بالخبز فیه".

ترجمہ: روغن زیتون ناپاک ہوجائے تو صابن بنا لینے سے پاک ہوجاتا ہے، اسی پر عموم بلوی کی وجہ سے فتوی ہے، جیسے تنور میں ناپاک پانی چھڑک دیا جائے تو اس میں روٹی پکانے میں کوئی حرج نہیں۔

(تنویر الابصار و در مختار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد1، صفحہ570-571، دار المعرفۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے:

"جعل الدھن النجس في صابون یفتی بطھارته؛ لأنه تغیر والتغیر یطھر عند محمد ویفتی به؛ للبلوی اھ".

ترجمہ: ناپاک تیل صابن میں ڈال دیا جائے تو پاک ہوجاتا ہے؛ اس لیے کہ اس کی حقیقت بدل جاتی ہے اور حقیقت کا بدل جانا امام محمد علیہ الرحمہ کے نزدیک پاک کر دیتا ہے اور عموم بلوی کی وجہ سے اسی پر فتوی ہے۔

(رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد1، صفحہ570، دار المعرفۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے:

"قد ذکر ھذہ المسئلة العلامة قاسم في فتاواہ وکذا ما سیأتي متناً وشرحاً من مسائل التطھیر بانقلاب العین وذکر الأدلة علی ذلك بما لا مزيد علیه وحقق ودقق کما ھو دأبه رحمه ﷲ فلیراجع، ثم ھذہ المسئلة قد فرعوھا علی قول محمد بالطھارۃ بانقلاب العین الذي عليه الفتوی واختارہ أکثر المشائخ".

ترجمہ: اس مسئلہ کو علامہ قاسم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیاہے، اور اسی طرح وہ مسائل جو متن وشرح میں آگے آرہے ہیں ان میں انقلاب عین کی وجہ سے پاکی کا حکم دیا گیا ہے، اور علامہ قاسم نے اس کے دلائل اس طرح تحقیق و تدقیق سے بیان فرمائے ہیں کہ جن پر مزید اضافہ کی گنجائش نہیں جیسا کہ ان کا طریقہ ہے، ﷲ پاک کی رحمت ان پر نازل ہو، تفصیل کے لیے ان کے فتاوی کی طرف مراجعت کیجیے۔ فقہاء نے اس مسئلہ کو امام محمد علیہ الرحمہ کے قول پر متفرع کیا ہے کہ ان کے نزدیک انقلاب عین سے پاکی حاصل ہوجاتی ہے اور اسی قول پر فتوی ہے، اور اسی کو اکثر مشائخ نے اختیار کیا ہے۔

(رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد1، صفحہ570، دار المعرفۃ، بیروت)

وقار الفتاوی میں ہے:

"عام صابن یا ڈیٹول کے صابن سے نہانے کے بعد سادے پانی سے جسم کو پاک کر لینا چاہیے۔ اس لیے کہ صابن میں چربی استعمال ہوتی ہے معلوم نہیں کہ وہ چربی کسی جانور کی ہوتی ہے۔ لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ پانی کے ساتھ صابن کو جسم سے خوب دور کرنے کے بعد بھی صاف پانی پورے جسم پر بہایا جائے تو غسل ہو جائے گا اور اس طرح بدبو بھی دور ہو جائے گی۔ بہتر یہ ہے کہ کوئی ایسی دوا استعمال کی جائے جس میں مذکورہ خرابی نہ ہو اسی طرح ہر وہ چیز جس میں اسپرٹ یا کوئی دوسری ناپاک چیز ملی ہوئی ہو تو اس کا استعمال بھی جائز نہیں ہے"۔

(وقار الفتاوی، جلد1، صفحہ216، ناشر: بزم وقار الدین)

کتبه: ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی۔
نظر ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری۔
*🗓️مؤرخہ 30 محرم الحرام 1446ھ بمطابق 06 اگست 2024ء، بروز منگل*

ویڈیوز چینل پر اپلوڈ ہوچکی ہی۔Chanel: Nadeem madani hanafi.
11/08/2024

ویڈیوز چینل پر اپلوڈ ہوچکی ہی۔
Chanel: Nadeem madani hanafi.

10/08/2024

. *فتاوی تاتارخانیہ*

ہندوستان کے مسلم بادشاہ فیروز شاہ تغلق کے دور میں ایک بااثر علم دوست امیر *’’تاتارخاں‘‘* کے حکم پر دہلی کے وسیع النظر حنفی عالم، علامہ عالم بن العلاء الانصاری الدہلوی (المتوفی ۷۸۶ھ) نے محیط برہانی، ذخیرۂ برہانیہ، فتاویٰ خانیہ اور فتاویٰ ظہیریہ کے فقہی مسائل کو ایک مجموعہ میں مرتب انداز میں جمع فرمایا اور امیر مذکور کے نام پر اس مجموعہ کا نام *’’فتاویٰ تاتارخانیہ‘‘* رکھا۔

https://chat.whatsapp.com/FiQ1oYszZOYH6GY21VpJIV

ویڈیو چینل پر اپلوڈ ہوچکی ہے۔Nadeem madani hanafi
09/08/2024

ویڈیو چینل پر اپلوڈ ہوچکی ہے۔
Nadeem madani hanafi

انتہائی خوبصورت اور قابل تقلید پیغام!
08/08/2024

انتہائی خوبصورت اور قابل تقلید پیغام!

الحمدللہ، امریکہ میں ایک اور فیضان مدینہ کا افتتاح۔آج مورخہ 5 اگست، 2024 کو مفتی قاسم عطاری امریکہ کی ریاست نیویارک میں ...
05/08/2024

الحمدللہ، امریکہ میں ایک اور فیضان مدینہ کا افتتاح۔
آج مورخہ 5 اگست، 2024 کو مفتی قاسم عطاری امریکہ کی ریاست نیویارک میں فیضان مدینہ کا افتتاح فرمائیں گے۔

05/08/2024

مفتی غلام حسن قادری دام ظلہ لکھتے ہیں:

اگر حضور اقدس ﷺ کا دل خوش کرنا چاہتے ہو (قرآن مجید پڑھو) جتنا زیادہ قرآن پڑھو گے اتناہی نبی پاک ﷺ کا دل خوش ہوگا۔

(قرآن و حاملین قرآن،ص360)

01/08/2024

”الموت“ لکھا ہوا تھا
شیخ عارف باللہ مولانا نورُالدین علی متقی رحمۃُ اللہِ علیہ نے ایک تھیلی بنا کر اپنے پاس رکھی ہوئی تھی جس پر ”الموت“ لکھا ہوا تھا، آپ رحمۃُ اللہِ علیہ موت کا لفظ مرید کے گلے میں ڈال دیتے تا کہ اسے یہ بات یادر ہے کہ موت قریب ہے دُور نہیں ہے اور وہ اپنی امیدوں میں کمی اور عمل میں اضافہ کرے۔

مرقاة المفاتيح،9/213،تحت الحدیث:5352

01/08/2024

*اگر آپ خود کو ﷲ کی راہ میں نہیں لگائیں گے تو شیطان آپ کو اپنی راہ پہ لگا دے گا۔ لہٰذا خود کو نیکیاں کرنے میں اتنا مصروف رکھیں کہ گناہ کے بارے میں سوچنے کا یا کرنے کا وقت ہی نہ ملے*

Address

Karachi

Telephone

+923162512482

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nadeem Madani Hanafi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share