The Living Word Of God

The Living Word Of God This Channel is For Religious purpose l will upload Cristina pictures and Cristina videos on it

31/05/2025
27/05/2025

کیا رُوح القدس کبھی کسی ایماندار سے جُدا ہوجاتا ہے؟

سادہ الفاظ میں کہیں تو رُوح القدس ایک سچے ایماندار سے کبھی جُدا نہیں ہوتا ۔ یہ حقیقت نئے عہد نامے کے بہت سے مختلف حوالہ جات میں واضح کی گئی ہے ۔ مثال کے طور پر رومیوں 8باب 9آیت ہمیں بتاتی ہے " ۔۔۔مگر جس میں مسیح کا رُوح نہیں وہ اُس کا نہیں" ۔یہ آیت بڑے واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ اگر کسی شخص کے اندر رُوح القدس نہیں ہے تو وہ نجات یافتہ نہیں ۔ لہذا اگر رُوح القدس ایک ایماندار کو چھوڑ دے تو وہ شخص مسیح کے ساتھ نجات کے تعلق کو کھو دے گا ۔ تاہم یہ بات بائبل کی اُس تعلیم کے برعکس ہے جو وہ مسیحیوں کی ابدی ضمانت کے بارے میں دیتی ہے ۔ یوحنا 14باب 16آیت اسی طرح کی ایک اور آیت ہے جو رُوح القدس کے ایمانداروں کی زندگی میں مستقل طور پر بسے رہنے کے بارے میں بات کرتی ہے ۔ اِس آیت میں یسوع بیان کرتا ہے کہ باپ " تمہیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے "۔

یہ حقیقت کہ رُوح القدس ایک ایماندار کو کبھی نہیں چھوڑے گا افسیوں 1باب 13-14آیات میں بھی دکھائی دیتی ہے جس میں رُوح القدس کی طرف سے ایمانداروں پر "مہر" کیے جانے کا ذکر ہے " وہی خُدا کی ملکیت کی مخلصی کے لئے ہماری میراث کا بیعانہ ہےتاکہ اُس کے جلال کی ستایش ہو "۔ رُوح القدس کی طرف سے مہر کیا جانا رُوح القدس کی ملکیت اور اُس کے قبضے میں ہونے کی علامت ہے ۔ جو لوگ مسیح پر ایمان لاتے ہیں خدا نے اُن سب سے ہمیشہ کی زندگی کا وعدہ کیا ہے اور اِس وعدے میں قائم رہنے کی ضمانت میں خدا نے ایماندار کی زندگی میں رُوح القدس بھیجا ہے جو مخلصی کے دن تک ایماندار کی زندگی میں بسا رہے گا ۔ گاڑی یا گھر کے بیعانے کی طرح خدا نے بھی ایماندار وں کے ساتھ اپنے ابدی تعلق کے بیعانہ میں رُوح القدس کو بھیجا ہے تاکہ وہ اُن کی زندگیوں میں بسا رہے ۔ اس بات کو 2کرنتھیوں 1باب 22آیت اور افسیوں 4باب 30آیت میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ تمام ایمانداروں پر رُوح القدس کی طرف سے مہر کی گئی ہے ۔

مسیح کی موت، مُردوں میں سے جی اُٹھنے اور آسمان پر اُٹھائے جانے سے پہلے لوگوں کے ساتھ رُوح القدس کا تعلق "غیر مستقل" تھا۔ ساؤل بادشاہ پررُو ح القدس نازل ہوا مگر بعد میں وہ اُس سے جُدا ہو گیا( 1سموئیل 16باب 14آیت)۔ اِس کے بعد پھر رُوح القدس داؤدبادشاہ پر نازل ہوا ( 1سموئیل 16باب 13آیت)۔ بت سبع کے ساتھ زناکاری کی وجہ سے داؤدبادشاہ کو ڈر تھا کہ رُوح القد س اُس سے جُدا ہو جائے گا ( 51زبور 11آیت)۔ رُوح القدس بضلی ایل پر نازل ہوا تاکہ اُس کو خیمہ اجتماع کی ضروری چیزوں کو تیار کرنے کے قابل بنائے ( خروج 31باب 2-5آیات)۔ مگر اِس نزول کو مستقل تعلق کے طور پر بیان نہیں کیا گیا تھا ۔ مگر یسوع مسیح کے آسمان پر جانے کے بعد یہ تمام معاملہ یکسر بدل جاتا ہے ۔ پنتیکست کے دن سے رُوح القدس مستقل طور پر ایمانداروں کی زندگیوں میں بسا ہوا ہے ( اعمال 2باب )۔ رُوح القدس کاایمانداروں کی زندگیوں میں مستقل طور پر بسے رہنا خدا کےاِس وعدے کی تکمیل ہے کہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا اور ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا ۔

گوکہ رُوح القدس ایک ایماندار سے کبھی جُدا نہیں ہوگا مگر یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری زندگی میں موجود گناہ " رُوح القدس کو بجھا دے " ( 1تھسلنیکیوں 5باب 19آیت) یا "رُوح القدس کو رنجیدہ کر دے " ( افسیوں 4باب 30آیت) ۔ خدا کے ساتھ ہمارے رشتے پر گناہ ہمیشہ اثر انداز ہوتا ہے ۔ اگرچہ مسیح کے وسیلہ سے خدا کے ساتھ ہمارا رشتہ محفوظ ہے مگر ایسے گناہ جن کا اقرار نہ کیا جائے خدا کے ساتھ ہماری رفاقت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور ہماری زندگیوں میں رُوح القدس کے کام کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں ۔ اِس لیے اپنے گناہوں کا اقرار کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ خدا "ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے" (یوحنا 1باب 9آیت)۔ چنانچہ گوکہ رُوح القدس ہم سے کبھی جُدا نہیں ہوتا مگر اُس کی موجودگی کی شادمانی اور فوائد واقعی ہم سے جُدا ہو سکتے ہیں ۔ آمین 🙏🏼 آپکا ہمخدمت بھائی کامران اقبال

26/05/2025

پرانے عہد نامے میں رُوح القدس کا کیا کردار تھا؟

پرانے عہد نامے میں رُوح القدس نے بالکل ایسا ہی کردار ادا کیا ہے جیسا وہ نئے عہد نامے میں ادا کرتا ہے ۔ جب ہم رُوح القدس کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم عمومی طور پر اُن چار پہلوؤں پر غورکر سکتے ہیں جن پر رُوح القدس کام کرتا ہے : (1) تخلیقِ نو، (2)ایمانداروں کی زندگی میں بسنا(یا اُن کو معمور کرنا)، (3) مزاحمت کرنا اور(4) خدمت کےلیےقوت بخشنا۔ پرانے عہد نامے میں ان پہلوؤں سے متعلق رُوح القدس کے کام کے ثبوت بالکل نئے عہد نامے کی طرح واضح ہیں ۔

انسانی زندگی میں رُوح القدس کے کام کا پہلا پہلو تخلیق ِ نو کا عمل ہے ۔ تخلیقِ نو کےلیے استعمال ہونے والا ایک اور لفظ " نئی پیدایش" ہے جس سے ہمیں " نئے سرے سے پیدا ہونے" کا تصور حاصل ہوتا ہے ۔ متن کے حوالے سے اس کےلیے عمدہ ترین ثبوت یوحنا کی انجیل میں مل سکتا ہے " یِسُو ع نے جواب میں اُس سے کہا مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی نئے سِرے سے پیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا" ( یوحنا 3باب 3آیت)۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پرانے عہد نامے میں اس اعتبار سے رُوح القدس کا کیا کام ہے ؟ نیکدیمس سے مزید بات کرتے ہوئے یسوع اُس سے کہتا ہے کہ "بنی اِسرائیل کا اُستاد ہو کر کیا تُو اِن باتوں کو نہیں جانتا؟"( یوحنا 3باب 10 آیت) ۔ یسوع یہاں جس نقطے کو واضح کر رہا تھا وہ یہ ہے کہ نیکدیمس کو اس حقیقت سے واقف ہونا چاہیے کہ رُوح القدس نئی زندگی کاسرچشمہ ہے اس لیے کہ یہ بات پرانے عہد نامے میں پوری طرح عیاں ہے۔ مثال کے طور پر وعدے کی سر زمین میں داخل ہونے سے پہلے موسیٰ نے بنی اسرائیل سے وعدہ کیا تھا کہ "خُداوند تیرا خُدا تیرے اور تیری اَولاد کے دِل کا ختنہ کرے گا تاکہ تُو خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان سے محبت رکھے اور جیتا رہے" (استثنا 30باب 6آیت)۔ دل کا یہ ختنہ خدا کے رُوح کا کام ہے اور اِ س کی تکمیل صرف اُسی کے وسیلہ سے ممکن ہو سکتی ہے ۔ تخلیقِ نو کے موضوع کو ہم حزقی ایل 11باب 19-20 آیات اور 36باب 26-29آیات میں بھی دیکھتے ہیں ۔

رُوح القدس کے تخلیقِ نو کے کام کا نتیجہ ایمان ہے(افسیوں 2باب 8آیت)۔ ہم جانتے ہیں کہ پرانے عہدنامے میں ایمان کے حامل لوگ موجود تھے کیونکہ عبرانیوں 11باب اُن میں سے بیشتر لوگوں کے نام کا ذکر کرتا ہے ۔ اگر ایمان رُوح القدس کی تخلیقِ نو کی قدرت کے وسیلہ سے پیدا ہوتا ہے تو پھر پرانے عہد نامے کے اُن مقدسین کےلیے بھی ایسا معاملہ ہونا چاہیے جو یہ ایمان رکھتے ہوئے صلیب کے منتظر تھے کہ خدا نے اُن کی نجات کے سلسلے میں جو وعدہ کیا تھا وہ ضرور پورا ہو گا ۔ ایمان کیساتھ اس بات کو قبول کرتے ہوئے کہ خدا نے جو وعدہ کیا ہے وہ اُسے پورا بھی کرے گاوہ " سب اِیمان کی حالت میں مَرے اور وعدہ کی ہُوئی چیزیں نہ پائیں مگر دُور ہی سے اُنہیں دیکھ کر خُوش ہُوئے " ( عبرانیوں 11باب 13آیت)۔

پرانے عہد نامے میں رُوح القدس کے کام کا دوسرا پہلو ایمانداروں کی زندگی میں بسنایا اُن کو معمور کرنا ہے ۔ ا س پہلو کے لحاظ سے پرانے عہد نامے اور نئے عہد نامے میں رُوح القدس کے کردار کے درمیان بڑا واضح فرق پایا جاتا ہے ۔ نیا عہد نامہ ایمانداروں کی زندگی میں رُوح القدس کے مستقل طور پر بسے رہنے کے بارے میں تعلیم دیتا ہے ( 1کرنتھیوں 3باب 16-17؛ 6 باب 19-20آیات)۔ جب ہم نجات کےلیے مسیح پر ایمان لاتے ہیں تو اُس وقت رُوح القدس ہماری زندگیوں میں آتا ہے ۔ پولس رسول رُوح القدس کے اس مستقل بسیرے کو " ہماری میراث کا بیعانہ" کہتا ہے ( افسیوں 1باب 13-14آیات)۔ نئے عہد نامے میں اس مستقل قیام کے برعکس پرانے عہد نامے میں رُوح ا لقدس کا قیام مخصوص لوگوں کی زندگی میں عارضی تھا۔ رُوح القدس پرانے عہد نامے کے لوگوں جیسا کہ یشوع( گنتی 27باب 18آیت)، داؤد ( 1سموئیل 16باب 12-13آیات) اور ساؤل پر بھی " نازل ہوا" تھا ۔ قضاۃ کی کتا ب میں ہم رُوح القدس کے " نزول" کو اُن مختلف قاضیوں کی زندگی میں دیکھتے ہیں جن کو خدا نے اس لیے برپا کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو اُن پر ظلم کرنے والوں سے رہائی دلائیں ۔ رُوح القدس اِن لوگوں پر خاص مقاصد کی تکمیل کے لیے نازل ہوا تھا ۔ ایک مخصوص شخص پر( جیسا کہ داؤد کے معاملے میں ) رُوح القدس کا نزول اس بات کی علامت ہوتی کہ خدا اُس شخص سے راضی ہے اور جب خدا اُس سے راضی نہ رہتا تو رُوح القدس بھی اُس سے جُدا ہو جاتا ( جیسا کہ 1 سموئیل 16باب 14آیت میں ساؤل کے معاملے میں ہوا تھا ) ۔ آخری بات ،کسی شخص پر رُوح القدس کا " نزول" ہمیشہ اُس شخص کی رُوحانی حالت کی نشاندہی نہیں کرتا تھا ( جیسا کہ ساؤل ، سمسون اور بہت سے قاضیوں کی زندگی میں دیکھا جا سکتا ہے )۔ چنانچہ نئے عہد نامے میں رُوح القدس صرف ایمانداروں کی زندگی میں نازل ہوتا اور مستقل طور پر بسا رہتا ہے جبکہ پرانے عہد نامے میں رُوح القدس مخصوص لوگوں پر اُن کی رُوحانی حالت کے قطع نظر ایک خاص مقصد کے تحت نازل ہوتا تھا ۔ اور ایک بار جب وہ مقصد پورا ہو جاتا تو ممکنہ طور پر رُوح القدس بھی اُس شخص سے جُدا ہو جاتا تھا ۔

پرانے عہد نامے میں رُوح القدس کے کام کا تیسرا پہلو گناہ کےخلاف مزاحمت کرنا ہے ۔ پیدایش 3باب 6آیت واضح کرتی ہے کہ رُوح القدس انسان کی بدی کو روکے رکھتا ہے اور جب اس گناہ کے بارے میں خدا کا تحمل " نقطہِ عروج" پر پہنچ جاتا ہے تو اکثر یہ پابندی ختم ہو جاتی ہے اور پھر خُدا گناہگار لوگوں کی عدالت کرتا ہے۔ یہ تصور 2تھسلنیکیوں 2باب 3-8آیات میں ملتا ہے جب آخری ایام میں بڑھتی ہوئی گمراہی خدا کی عدالت کے نازل ہونے کی نشاندہی ہوگی ۔ اُس مقررکردہ وقت تک جب وہ " گناہ کا شخص" ظاہر نہیں ہوگا رُوح القدس شیطان کی طاقت کو رو کے رکھے گا اور اُس وقت تک اپنا یہ کام نہیں چھوڑے گا جب تک ایسا کرنا اُس کے مقاصد کے لحاظ سے موزوں ہو گا ۔

پرانے عہد نامے میں رُوح القدس کے کام کا چوتھا اورآخری پہلو خدمت کی قابلیت عطا کرنا یا خدمت کے لیے قوت بخشنا ہے ۔ جس طرح رُوحانی نعمتیں نئے عہد نامے میں کام کرتی دکھائی دیتی ہیں بالکل اُسی طرح سے رُوح القدس کچھ مخصو ص لوگوں کو خدمت کی نعمت بھی بخشے گا ۔ خروج 31باب 2-5آیات میں بضلی ایل کی مثال پر غور کریں جسے خیمہ اجتماع کے حوالے سے ہر طرح کی صنعت اور ہنرمندی کا کام کرنے کی صلاحیت بخشی گئی تھی ۔ مزید برآں مذکورہ بالا رُوح القدس کے کسی مخصوص شخص پر عارضی نزول کے پسِ منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ اِ ن لوگوں ( مثلاً ساؤل اور داؤد )کو کچھ خاص مقاصد جیسا کہ بنی اسرائیل پر حکمرانی کے کام کو سر انجام دینے کےلیے رُوح سے معمور کیا گیا تھا ۔

ہم تخلیقِ کائنات کے عمل میں بھی رُوح القدس کے کردار کا ذکر کر سکتے ہیں ۔ پیدایش 1باب 2آیت رُوح القدس کے " پانی کی سطح پرجنبش" کرنے اور تخلیق کے کام کی نگرانی کرنے کے بارے میں بیان کرتی ہے ۔ اسی انداز میں رُوح القدس نئی پیدایش کے عمل کےلیے بھی ذمہ دار ہے ( 2کرنتھیوں 5باب 17آیت) کیونکہ وہ تخلیقِ نو کے وسیلہ سے لوگوں کو خدا کی بادشاہی میں لا رہا ہے ۔

مجموعی طور پر رُوح القدس جس طرح اس موجودہ دُور میں کردار ادا کرتا ہے بالکل اِسی طرح سے وہ پرانے عہد نامے کے اندر بھی اہم افعال سرانجام دیتا تھا ۔ا ہم فرق یہ ہے کہ اب رُوح القدس ایمانداروں کی زندگی میں مستقل طور پر بسا رہتا ہے ۔ جیسا کہ رُوح القدس کی خدمت میں اس تبدیلی کے بارے میں یسوع نے فرمایا تھا " تم اُسے جانتے ہو کیونکہ وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے اور تمہارے اندر ہو گا"( یوحنا 14باب 17آیت)۔ آمین 🙏🏼 آپکا ہمخدمت بھائی کامران اقبال

مسیح کے تجسم کا مقصد کیا تھا؟کلام مجسم ہوا ۔۔۔بعمطابق انجیل یوحنا• خداوند یسوع مسیح کے تجسم کا مقصد خدا اور انسان میں در...
04/12/2024

مسیح کے تجسم کا مقصد کیا تھا؟

کلام مجسم ہوا ۔۔۔
بعمطابق انجیل یوحنا

• خداوند یسوع مسیح کے تجسم کا مقصد خدا اور انسان میں درمیانی ہونا ہے ( ۱-تِیمُتھِیُس 5:2 )

• تجسم کا مقصد خدا کو ظاہر کرنا ( یوحنا 1: 18 )

• تجسم کا مقصد گناہ کو اٹھا لے جانا ( 1- یوحنا 3: 5 )

• تجسم کا مقصد ابلیس کو تباہ کرنا ہے ( پیدائش 3: 15 ) ( عبرانیون 2: 14 )

• تجسم کا مقصد ابلیس کے کاموں کو نیست کرنا ( ۱-یوحنا 3: 8 )

• تجسم کا مقصد گناہ کا کفارہ دینا۔ ( عبرانیوں2: 17 )

• تجسم کا مقصد ابدی سردار کاہن عطا کرنا۔ ( عبرانیوں 2: 17 )

• تجسم کا مقصد موت کے ڈر سے چھڑانا۔ ( عبرانیوں 2: 15 )

• تجسم کا مقصد بیٹوں کو جلال میں داخل کرنا۔ ( عبرانیوں 2: 15 )

• تجسم کا مقصد کھوۓ ہوِؤں کو ڈھونڈنا اور بچانا۔ ( یوحنا 10: 19 )

• تجسم کا مقصد شریعیت کی تکمیل کے لیے آنا ( عبرانیوں 10'7 )

• تجسم کا مقصد موت کو مغلوب کرنا اور ہمیشہ کی زندگی دینا۔ ( عبرانیوں 10: 7-10 ) ( رومیوں 6: 9 )

Evenglist Kamran Iqbal

چھٹا اصول: حصہ اؤل  غیر زبان میں دعا ھو تو آمین نھیں کی جاسکتی! جو دعائیں کلیسیا میں کی جاتی ہیں ان میں سب لوگوں کا آمین...
26/09/2024

چھٹا اصول: حصہ اؤل
غیر زبان میں دعا ھو تو آمین نھیں کی جاسکتی!
جو دعائیں کلیسیا میں کی جاتی ہیں ان میں سب لوگوں کا آمین کہنا ضروری ہے اگر یہ دعائیں غیر زبانوں میں ہوں تو کلیسیا کو سمجھ ہی نہیں آئے گی اور پھر وہ کس چیز پر آمین کہے؟ پولس رسول لکھتا ہے۔ " ورنہ اگر تو روح ہی سے حمد کرے گا۔ تو ناواقف آدمی تیری شکر گزاری پر آمین کیونکر کہے گا؟ اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ تو کیا کہتا ہے"- ( 1- کر 16:14 ) کلیسیائی عبادتوں میں غیر زبانوں میں دعا کرنا۔ غیر زبانوں میں گیت گانا۔ اور غیر زبانوں میں کلام کرنا خدا کے کلام کی رو سے درست نہیں۔ پولس رسول سمجھ کر دعا اور گیت اور کلام پر بہت زور دے رہا ہے۔ کہ کلیسیا کے ہر فرد کو پور سمجھ آنی چاہیے۔ کہ عبادت میں کیا ہو رہا ہے۔ کیونکہ اگر سمجھ نہیں آئے گی تو کلیسیا کی ترقی نہیں ہوگی۔ عبادت میں اجنبیت نہیں ہونی چاہیے۔ غیر زبانیں عبادت کرنے والوں کو ایک دوسرے کے لیے اجنبی بناتی ہیں۔پولس رسول اپنی بابت کہتا ہے۔ " میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ تم سب سے زیادہ زبانیں بولتا ہوں "- ( 1- کر 18:14 ) ہمیں اس شخص کی نصیحت ضرور مان لینی چاہیئے جو بہت زیادہ تجربہ رکھتا ہو۔ یہاں سب سے زیادہ زبانیں بولنے والا شخص کہہ رہا ہے کہ میں کلیسیا میں غیر زبانیں نہیں بولوں گا۔ کیونکہ لوگ آمین نہیں کہہ سکتے اور لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔ اور کلیسیا کی ترقی نہیں ہوتی۔ وہ کلیسیائی ترقی کو غیر زبانوں سے زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ اس کو اصول کے مطابق " گر غیر زبانیں کلیسیا میں بیگانہ زبان میں دس ہزار باتیں کہنے سے مُجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ اوروں کی تعلیم کےلئے پانچ ہی باتیں عقل سے کہوں"- ( 1- کر 19:14 ) یہ بڑی غور طلب بات ہے۔ اور اس کو پلے باندھ لینا چاہیئے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو کلیسیا میں غیر زبانیں بولنے پر زور دیتے ہیں..... ضرور متوجہ ہوں.......!!!
( آمین ) آپکا ہمخدمت بھائی کامران اقبال

شریعت اور فضل • مسیحیوں کو فضل سے نجات ملی ہے۔ لیکن بہت سے مسیحی ہیں جو شریعت پر یا حکموں پر عمل کرکے اپنی نجات کو قائم ...
17/09/2024

شریعت اور فضل

• مسیحیوں کو فضل سے نجات ملی ہے۔ لیکن بہت سے مسیحی ہیں جو شریعت پر یا حکموں پر عمل کرکے اپنی نجات کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
• گلتیوں کی کلیسیا اسی غلطی میں مبتلا تھی۔ گلتیوں کے نام خط میں پولس نے اس غلطی کو درست کرنے کی کوشش کی ہے۔
• گلتیوں 3:3 " کیا تم ایسے نادان ہو کہ روح کے طور پر شروع کر کے ( فضل سے نجات پاکر ) اب جسم کے طور پر ( شریعت پر چلنے سے ) کام پورا کرنا چاہتے ہو؟ "
• اس اشتعال انگیز سوال کا جواب پولس گلتیوں 11:3 میں دیتا ہے کہ "...... راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔" ہمیں ایمان کے وسیلہ سے نجات ملی ہے۔ ہم شریعت پر چل کر نہیں بلکہ ایمان سے جیتے ہیں۔
• لیکن کیا اس کا مطلب ہے کہ ہم من مانی کریں، خدا کی شریعت کو توڑیں اور جان بوجھ کر گناہ کرتے رہیں؟ پولس رومیوں 1:6-2 میں اس کا جواب دیتا ہے "..... ہرگز نہیں ...."
• بعض اوقات پولس کی تعلیم میں توازن رکھنا مشکل لگتا ہے۔ یعقوب کہتا ہے 14:2 " اے میرے بھائیو! اگر کوئی کہے کہ میں ایمان دار ہوں مگر عمل نہ کرتا ہو تو کیا فائدہ؟ کیا ایسا ایمان اسے نجات دے سکتا ہے؟ " اور یعقوب 20:2 " مگر اے نکمے آدمی! کیا تو یہ بھی نہیں جانتا کہ ایمان بخیر اعمال کے بے کار ہے؟ "
• پولس فلپیوں 12:2-13 میں اس کا جواب دیتا ہے" ... ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کا کام کئے جاؤ۔ کیونکہ جو تم میں نیت اور عمل دونوں کو اپنے نیک ارادہ کو انجام دینے کےلئے پیدا کرتا ہے وہ خدا ہے۔ " ( ہالیلویا ) ایمان کے وسیلہ سے ہم اپنے آپ کو مسیح کے سپرد کرتے ہیں۔ وہ ہمارے اندر سکونت کرتا اور ہمارے بدنوں کو نیک اعمال کے لئے استعمال کرتا ہے۔
•"... پہلے ہم کام کرتے تھے اب فضل کے دور میں منجی ہم میں ہو کر کام کرتا ہے..."
• "... ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس کے سپرد کردیں۔ راست بازی کے کام انجام دینے والا وہ ہے..."
نجات پانے کے بعد ہم نیک اعمال اس لیے کرتے ہیں کہ ہم نجات پا چکے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ نجات پائیں۔ آمین آپکا ہمخدمت بھائی کامران اقبال

پانچواں اصول:1- کرنتھیوں 14:14 میں پولس رسول بتاتا ہے۔ اگر میں کسی بیگانہ زبان میں دعا کروں تو میری روح تو دعا کرتی ہے م...
07/09/2024

پانچواں اصول:
1- کرنتھیوں 14:14 میں پولس رسول بتاتا ہے۔ اگر میں کسی بیگانہ زبان میں دعا کروں تو میری روح تو دعا کرتی ہے مگر میری عقل بیکار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاک روح اس شخص کا اپنے قبضہ میں لے لیتا ہے۔ اور وہ دنیاوی طور پر اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ اس کی عقل کام نہیں کر رہی ہوتی۔ صرف روح خدا سے دعا کر رہی ہوتی ہے۔ پولس رسول ایک بہتر صلاح دیتا ہے۔ کہ میں روح سے بھی دعا کروں گا اور عقل سے بھی دعا کروں گا۔ روح سے بھی گاؤں گا اور عقل سے بھی گاؤں گا۔ (1- کر 15:14 ) یہ اس صورت میں ہوسکتا اگر میں غیر زبان نہ بولوں۔

30/04/2024

Address

Karachi

Telephone

+923421204548

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Living Word Of God posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share