Shia Multimedia Channel

Shia Multimedia Channel ایک ایسا منفرد چینل جس پے اقوال معصومین ع اور دینیات پے

پاکستان 🇵🇰🚨 علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی:ہمیں مولا علی علیہ السلام نے بتایا ہے ہمیشہ مظلوم سے ہمدردی کرنا اور ظالم سے نفرت...
21/03/2026

پاکستان 🇵🇰🚨
علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی:
ہمیں مولا علی علیہ السلام نے بتایا ہے ہمیشہ مظلوم سے ہمدردی کرنا اور ظالم سے نفرت کرنا
پاکستان سے انہیں جانا چاہئے جو پاکستان میں بیٹھ کا امریکہ و عرب ممالک کا نعرہ لگا رہے ہیں

04/03/2026
جو امام حسین ع کی زیارت کرے
13/02/2026

جو امام حسین ع کی زیارت کرے

‏کیا یہ محض اتفاق ہے؟اسلام آباد میں جہاں امام بارگاہ پر خودکش حملہ ہوا، وہیں آج قریب ہی کالعدم سپا-ہ صحابہ کا جلسہ بھی ش...
06/02/2026

‏کیا یہ محض اتفاق ہے؟
اسلام آباد میں جہاں امام بارگاہ پر خودکش حملہ ہوا، وہیں آج قریب ہی کالعدم سپا-ہ صحابہ کا جلسہ بھی شیڈولڈ تھا۔شہداء میں ائی جی اسلام آباد کا کزن بھی شامل ہیں۔ عجیب ریاست ہے!
کیا ہی عجیب ریاست ہے! دہشت گرد کھلے عام جلسے کرتے ہیں اور پھر ایسے واقعات ہوتے ہیں۔۔۔

اور اقدامات صرف مزمتی بیان ؟


06/02/2026

دھماکہ میری آنکھوں کے سامنے ہوا جب ہمارے سیکورٹی ادارے کیپٹل اسلام کو نہیں سنبھال سکتے تو باقی شہروں کے کیا حال ہونگے

جرم صرف ایک ہے: شیعہ ہوناحکومتِ پنجاب کو بسنت مبارک۔اس ملک میں ترجیحات کا یہ عالم ہے کہ اگر کراچی میں کسی ڈیجیٹل اسکرین ...
06/02/2026

جرم صرف ایک ہے: شیعہ ہونا
حکومتِ پنجاب کو بسنت مبارک۔

اس ملک میں ترجیحات کا یہ عالم ہے کہ اگر کراچی میں کسی ڈیجیٹل اسکرین پر فحش مواد چل جائے تو چند گھنٹوں میں مجرم پکڑا جاتا ہے، تفتیش ہوتی ہے، خبر چلتی ہے۔ مگر وہ لوگ جو نفرت بانٹتے ہیں، جو تکفیر کو مائیک پر چڑھاتے ہیں، جو سرِعام “شیعہ کافر” کے نعرے لگاتے ہی وہ نہ قانون کے کٹہرے میں نظر آتے ہیں، نہ کسی فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔

آج پھر کچھ اور گھروں میں صفِ ماتم بچھ گئی، کچھ اور چراغ بجھ گئے، اور کچھ اور نام شہادت کی فہرست میں درج ہو گئے۔ 🥹

مولا… اب آ جائیے، العجل یا امام 😭

گزشتہ روز، بروزِ جمعرات 5 فروری، ملتان میں ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کا جلسہ منعقد ہوا۔ وہاں اہلِ تشیع کے خلاف کھلے عام نفرت بھری تقاریر کی گئیں، تکفیر کو نعرہ بنایا گیا، اور ریاستی خاموشی نے اس زہر کو پھیلنے دیا۔ آج اسی خاموشی کی قیمت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ادا کی گئی، جہاں مسجد و امام بارگاہ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش حملہ ہوا۔ درجنوں شیعہ مسلمان شہید ہوئے، سو سے زائد زخمی پڑے۔

یہ محض ایک خبر نہیں تھی. یہ ہمارے اپنے تھے۔

میرے بھائی، میرے بھتیجے اسی امام بارگاہ میں نماز کے لیے موجود تھے۔ وہ اسی علاقے کے رہنے والے ہیں، یہی ان کا محلہ ہے، یہی ان کی مسجد۔ ایک لمحے کے لیے تو جیسے خون منجمد ہو گیا۔ دل میں بس ایک ہی خیال آیا کہ اگر خدا نہخواستہ کوئی ایسی خبر ہمارے گھر آ گئی تو ہمارے گھروں پر کیسی قیامت ٹوٹے گی؟ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اس طرف سے کلیجے کو وقتی ٹھنڈک عطا کی، مگر جو چلے گئے… وہ بھی تو کسی کے بیٹے تھے۔ ان کی مائیں بھی آج دروازوں کو تک رہی ہوں گی، ان کی بیویاں بھی راستے دیکھ رہی ہوں گی، ان کے بچے بھی اب تک اپنے باپ کی آہٹ کے منتظر ہوں گے، اور کہیں مائیں اپنے بچوں کو آوازیں دے رہی ہوں گ جو اب کبھی جواب نہیں دیں گے۔

ہسپتالوں میں اپنے پیاروں کی خبر لینے کے مناظر عقل کو مفلوج کر دینے والے تھے۔ لوگ پاگلوں کی طرح ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ کی طرف بھاگ رہے تھے، ایک دوسرے کو تقریباً دھکیلتے ہوئے، بس اس کوشش میں کہ پہلے پہنچ جائیں، بس ایک نظر پڑ جائے، بس کوئی نام سنائی دے جائے۔ اس ہجوم کو دیکھ کر دل دہل گیا۔ خیال آیا کہ اگر خدا نہ خواستہ میں خود وہاں ہوتی تو شاید اس شور، اس خوف اور اس بے یقینی میں اپنا ہوش ہی کھو بیٹھتی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ جگہ انسان کو زندہ ہی دفن کر دے—سانس چل رہی ہو، مگر دل مر چکا ہو۔

آخر ہمارا قصور کیا ہے؟
صرف یہ کہ ہم شیعہ ہیں؟
یہ کہ ہم علیؑ کے نام پر جیتے ہیں اور اولادِ علیؑ سے محبت کو اپنا ایمان سمجھتے ہیں؟

نفرت کے یہ سوداگر، یہ تکفیری آوازیں، ہمیشہ نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ کیا ہم اسی طرح لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ کیا ہر نماز ایک نئے ماتم کا پیش خیمہ بنے گی؟

آج جنہیں نشانہ بنایا گیا، وہ حالتِ نماز میں تھے۔ کیا یہی دین ہے؟ کیا یہی شریعت ہے؟ یا یہ محض اپنے اجداد کی درندگی کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے؟ ہم نے تو اپنے بزرگوں سے حق پر ڈٹ جانا سیکھا ہے، اور قربانی دے کر گواہی دینا سیکھا ہے۔

یہ صرف حکومت کی ناکامی نہیں، یہ ہماری اجتماعی قیادت کی بھی شکست ہے۔ اور یہ سوال ہم سب سے ہے کہ کب تک ہم اپنی حفاظت دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھیں گے؟ کب تک ہم صرف مذمتی بیان دے کر ریلیاں نکال کے جلسے نکال کے موم بتیاں روشن کر کے پھر چپ کر کے بیٹھتے رہیں گے

اعداد و شمار ہمارے زخموں کا مداوا نہیں کر سکتے۔ ہمارے لیے یہ صرف گنتی نہیں ، ہمارے لیے رشتے بچھڑ گئے ہیں، ہمارے لیے زندگیاں ویران ہو گئی ہیں۔

یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا، ان شاء اللہ۔

سفیر بھائی آپ کا علی اصغر جنابِ قاسمؑ کے ساتھ محشور ہوگا۔ اور اس کا خون ناحق نہیں ہو گا.

مولا… اب آ جائیے۔ 🖤
العجل یا امام۔

زہرا نقوی
17 شعبان 2⁰26
ترلائی امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ
روز جمعہ
゚viralシfypシ゚

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shia Multimedia Channel posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share