دیوانگان عشق

دیوانگان عشق قالَ رسول اللہ ص
اپنی محفلوں کو ذکرِ علی ع سے زینت دو ۔

19/01/2022

تعمیر

اپنے سینے میں دبائے ہوئے لاکھوں شعلے
شبنم و برف کے نغمات سنائے میں نے
زیست کے نوحۂ پیہم سے چرا کر آنکھیں
گیت جو گا نہ سکے کوئی وہ گائے میں نے

آج تشبیہ و کنایات کا دل ٹوٹ گیا
آج میں جو بھی کہوں گا وہ حقیقت ہو گی
آنچ لہرائے گی ہر بوند سے پیمانے کی
میرے سائے کو مری شکل سے وحشت ہو گی

غمِ دوراں نے غمِ دل کا سکوں چھیں لیا
اب ترے پیار میں بھی پیار کے انداز نہیں
شوق کے قلعۂ تاریک میں ہے سناٹا
کوئی آواز نہیں ۔۔ کوئی بھی آواز نہیں

کیسے سمجھاؤں کہ الفت ہی نہیں حاصلِ عمر
حاصلِ عمر اس الفت کا مداوا بھی تو ہے
زندگی حسرتِ خس خانہ و برفاب سہی
کچھ دہکتے ہوئے شعلوں کی تمنا بھی تو ہے

تو مرا خواب ہے، آدرش ہے، لیکن مجھ کو
تیرے اس قصرِ طرب ناک سے جانا ہو گا
آگ اور خون اگلتے ہوئے سیارے کو
پھر ترا قصرِ طرب ناک بنانا ہو گا ۔

11/01/2022

چُنے ہُوئے ہیں لَبوں پَر ترے ہزار جَواب ،
شِکایتوں کا مَزہ بھی نہیں رَہا اَب تو ۔

11/01/2022

میں پھر اک خط ترے آنگن گرانا چاہتا ہوں
مجھے پھر سے ترا رنگ بریدہ دیکھنا ہے ،

تو سرتاپا زبانی یاد ہو جائے گی مجھ کو
کہ اب میں نے تجھے اتنا زیادہ دیکھنا ہے ۔

10/01/2022

دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے ،
یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشہ کا دستور نہیں ۔

Address

11-I
Karachi
71500

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دیوانگان عشق posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to دیوانگان عشق:

Share