05/09/2025
پُر نور ہے زمانہ صبحِ شبِ ولادت
پردہ اٹھا ہے کس کا صبحِ شبِ ولادت
جلوہ ہے حق کا جلوہ صبح شب ولادت
سایہ خدا کا سایہ صبح شب ولادت
فصل بہار آئی شکل نگار آئی
گلزار ہے زمانہ صبح شب ولادت
پھولوں سے باغ مہکے شاخوں پہ مرغ چہکے
عہد بہار آیا صبح شب ولادت
پژمردہ حسرتوں کے سب کھیت لہلہائے
جاری ہوا وہ دریا صبح شب ولادت
گل ہے چراغ صرصر گل سے چمن معطر
آیا کچھ ایسا جھونکا صبح شب ولادت
قطرہ میں لاکھ دریا گل میں ہزار گلشن
نشوونما ہے کیا کیا صبح شب ولادت
جنت کے ہر مکان کی آئینہ بندیاں ہیں
آراستہ ہے دنیا صبح شب ولادت
دل جگمگا رہے ہیں قسمت چمک اٹھی ہے
پھیلا نیا اجالا صبح شب ولادت
چٹکے ہوئے دلوں کے مدت کے میل چھوٹے
ابر کرم وہ برسا صبح شب ولادت
بلبل کا آشیانہ چھا گیا گلوں سے
قسمت نے رنگ بدلا صبح شب ولادت
ارض و سما سے منگتا دوڑے ہیں بھیک لینے
بانٹے گا کون باڑا صبح شب ولادت
انوار کی ضیائیں پھیلی ہیں شام ہی سے
رکھتی ہے مہر کیسا صبح شب ولادت
مکہ میں شام کے گھر روشن ہے ہر نگہ پر
چمکا ہے وہ اجالا صبح شب ولادت
شوکت کا دبدبہ ہے پیبت کا زلزلہ ہے
شق ہے مکان کسرٰی صبح شب ولادت
خطبہ ہوا زمیں پر سکہ پڑا فلک پر
پایا جہاں نے آقا صبح شب ولادت
آئی نئی حکومت سکہ نیا چلے گا
عالم نے رنگ بدلا صبح شب ولادت
روح الامیں نے گاڑا کعبہ کی چھت پر جھنڈا
تا عرش اڑا پھریرا صبح شب ولادت
دونوں جہاں کی شاہی نا کتخدا دولہن تھی
پایا دولہن نے دولہا صبح شب ولادت
پڑھتے ہیں عرش والے سنتے ہیں فرش والے
سلطان نو کا خطبہ صبح شب ولادت
چاندی ہے مفلسوں کی باندی ہے خوش نصیبی
آیا کرم کا داتا صبح شب ولادت
عالم کے دفتروں میں ترمیم ہو رہی ہے
بدلا ہے رنگ دنیا صبح شب ولادت
ظلمت کے سب رجسٹر حرف غلط ہوئے ہیں
کاٹا گیا سیاہا صبح شب ولادت
ملک ازل کا سرور سب سروروں کا افسر
تخت ابد پہ بیٹھا صبح شب ولادت
سوکھا پڑا ہے سادا دریا ہوا سماوا
ہے خشک و تر پہ قبضہ صبح شب ولادت
نوابیاں سدھاریں جاری ہیں شاہی آئیں
کچا ہوا علاقہ صبح شب ولادت
دن پھر گئے ہمارے سوتے نصیب جاگے
خورشید ہی وہ چمکا صبح شب ولادت
قربان اے دوشنبے تجھ پر ہزار جمعے
وہ فضل تو نے پایا صبح شب ولادت
پیارے ربیع الاول تیری جھلک کے صدقے
چمکا دیا نصیبا صبح شب ولادت
تمام عالم اسلام کو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا 1500واں جشن عید میلادالنبی بہت بہت مبارک ہو 💯🌹💚❤️