Farameen E Masomeen as

Farameen E Masomeen as السلام علیکم: میرا پیج بنانے کا مقصد لوگوں تک اہلیبت ؑ ک

26/02/2026

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا

تین چیزوں کا پروردگار عالم مومن سے حساب کتاب نہیں لے گا، ایک کھانے پینے کی اشیاء کا، دوسرا لباس کا، تیسرا نیک بیوی سے تعاون کرنے اور اس کی عزت کی حفاظت کرنے کا

الحصال، صفحہ 61

25/02/2026

امام جعفر صادق نے فرمایا

ایسا شخص ناصبی نہیں ہے جو ہم اہلبیت سے دشمنی رکھتا ہے کیونکہ تم کسی ایک ایسے شخص کو نہیں پاؤ گے

جو کہتا ہو کہ میں حضرت محمدؐ اور آل محمد سے بغض رکھتا ہوں لیکن اصل میں ناصبی وہ ہے

جو تم سے دشمنی رکھتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ تم ہماری ولایت کا دم

بھرتے ہو اور تم ہمارے شیعوں میں سے ہو

25/02/2026

حضرت امیر المومنین امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا
تم پر لازم ہے کہ ماہ رمضان میں کثرت سے استنفار اور دعا کرو کیونکہ دعا بلا کے دفع کرنے کا وسیلہ ہے اور استغفار تمہارے گناہوں کے ختم ہونے کا وسیلہ ہے۔

امالی شیخ صدوق

23/02/2026
23/02/2026

@ e bad Ki haqikat or ilaj
Talimat e Ahlebait as

21/02/2026

حضرت امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے کہا

کہ ایک دن حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم سے یہ خطبہ میں فرمایا

اے لوگو تمہاری طرف رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ آرہا ہے جس میں گناہ معاف ہوتے ہیں یہ مہینہ خدا کے ہاں سارے مہینوں سے افضل و بہتر ہے جس کے دن دوسرے دنوں سے بہتر ہیں جس کی گھڑیاں دوسرے مہینوں کی گھڑیوں سے بہتر ہیں یہ وہ مہینہ ہے جس میں خدا نے تمہیں اپنی مہمان نوازی میں بلایا اور اس مہینے میں خدا نے تمہیں اہل کرامت بنایا ہے ۔

(امالی شیخ صدوق ص 92)


fans

20/02/2026

جناب قاسم بن الحسن علیہ السلام کی سوانح حیات اور شہادت کا واقعہ  تفصیل سے درج ہے۔ آپ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے صاحب...
02/07/2025

جناب قاسم بن الحسن علیہ السلام کی سوانح حیات اور شہادت کا واقعہ تفصیل سے درج ہے۔ آپ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے صاحبزادے اور امام حسین علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ آپ کی زندگی اور شہادت کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:

# # # **ولادت و نسب:**
- **والد:** امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام (دومین امام شیعہ)
- **والدہ:** ام ولد (نام: رملا)
- **تاریخ ولادت:** 47 ہجری قمری (مدینہ منورہ)
- **عمر شہادت:** تقریباً **13 سال** (بعض روایات میں 14 سال)

# # # **کربلا میں موجودگی:**
قاسم بن الحسن علیہ السلام اپنے چچا امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ مکہ سے کربلا آئے۔ واقعہ کربلا میں آپ نے ننھے مجاہد کی حیثیت سے حصہ لیا۔

---

# # # **یوم عاشورہ کا کردار:**
# # # # **1. میدان جنگ میں جانے کی درخواست:**
- جب اصحاب امام حسین علیہ السلام شہید ہو گئے، جناب قاسم علیہ السلام نے چچا سے میدان جانے کی اجازت چاہی۔
- امام حسین علیہ السلام نے پہلے انکار کیا، لیکن جناب قاسم ع کے اصرار پر راضی ہوئے۔
- **مشہور منظر:** امام حسین علیہ السلام نے جناب قاسم ع کا نکاح اپنی بیٹی فاطمہ صغریٰ سے پڑھایا، پھر انہیں رخصت کیا۔ (یہ روایت **"لہوف"** و **"نفس المہموم"** میں مذکور ہے)

# # # # **2. شہادت کا واقعہ:**
-جناب قاسم ع میدان میں گئے اور شجاعت سے لڑے۔
- **حسب روایت:** عمر بن سعد کے لشکر کے جنگجو **عمر بن سعد بن نفیل ازدی** نے آپ پر حملہ کیا:
- تلوار سے سر مبارک پر وار کیا، جناب قاسم ع زمین پر گرے۔
- پھر آپ کے بدن کو گھوڑوں سے روندا گیا۔
- شہادت کے وقت آپ پکارے: **"یَا عَمّاه!"** (اے چچا!) — یہ صدا سن کر امام حسین علیہ السلام بیدماغ ہو کر میدان میں پہنچے۔

# # # # **3. امام حسین علیہ السلام کی بے قراری:**
- امام نے جناب قاسم ع کا پیکر اٹھایا اور فرمایا:
**"بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي! أَصْبَحَ وَجْهُكَ مُسْوَدّاً وَ دَمُكَ مَسْفُوْحاً"**
(میرے ماں باپ تم پر قربان! تمہارا چہرہ خاک آلود ہے اور خون بہہ رہا ہے)۔
(ماخذ: **"اللہوف"** از سید بن طاووس)

---

# # # **اہم نکات شیعہ کتب کی روشنی میں:**
1. **عمر:** **"مناقب آل ابی طالب ع "** (ابن شہر آشوب) میں آپ کی عمر 13 سال بیان ہوئی۔
2. **شجاعت:** **"مقتل الحسین خوارزمی"** میں آپ کی جنگی مہارت کا تذکرہ ہے۔
3. **امام کی محبت:** **"بحار الانوار"** (علامہ مجلسی) میں امام حسین علیہ السلام کے جناب قاسم ع پر آنسو بہانے کا واقعہ درج ہے۔
4. **مقام شہادت:** جناب قاسم ع کا مزار امام حسین علیہ السلام کے روضے کے پاؤں کی جانب (حائر حسینی) میں ہے۔

---

# # # **شیعہ تعزیہ اور عزاداری میں مقام:**
- جناب قاسم بن الحسن علیہ السلام **"عروس کربلا"** کے عنوان سے مشہور ہیں۔
- آپ کا واقعہ **"شبیہ قاسم ع "** (تعزیہ داری) کے طور پر دنیا بھر میں منایا جاتا ہے، خاص طور پر ایران، پاکستان، بھارت اور لبنان میں۔

> **ماخذ کتب:**
> 1. **"لہوف"** (سید بن طاووس)
> 2. **"ارشاد"** (شیخ مفید)
> 3. **"مناقب آل ابی طالب"** (ابن شہر آشوب)
> 4. **"بحار الانوار"** (علامہ مجلسی)
> 5. **"نفس المہموم"** (شیخ عباس قمی)

قاسم بن الحسن علیہ السلام کا کردار نوجوانوں کے لیے شجاعت، وفاداری اور امامت پر ثابت قدمی کی لازوال مثال ہے۔

01/07/2025

اہل بیت سے محبت فرض ہے!

سورہ شوریٰ کی آیت 23 شیعہ عقیدے میں مرکزی اہمیت کی حامل ہے، خاص طور پر **امامت** اور **اہل بیت علیہم السلام** سے مودت (گہری محبت و اتباع) کے وجوب کے سلسلے میں۔ شیعہ مفسرین اور محدثین نے اس آیت کو اہل بیت (ع) کی فضیلت، امامت اور ان سے مودت کے وجوب کی واضح دلیل قرار دیا ہے۔

# # # آیت کا متن:
> **قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ**

**ترجمہ:**
"کہہ دیجیے: میں تم سے اس (تبلیغ رسالت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے اس کے کہ میرے قریبی رشتہ داروں (قربیٰ) سے مودت (محبت) رکھو۔"

---

# # # شیعہ تفاسیر اور کتب میں کلیدی نکات:

# # # # 1. **"القربیٰ" کی تشریح: اہل بیت رسول (ص)**
* شیعہ تفاسیر (جیسے **تفسیر القمی**، **تفسیر العیاشی**، **تفسیر البرہان**، **تفسیر المیزان** علامہ طباطبائی) میں متفقہ طور پر "القربیٰ" سے مراد **رسول اللہ (ص) کے قریبی رشتہ دار یعنی حضرت علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام اور دیگر ائمہ (ع)** ہیں۔
* **تفسیر البرہان** میں متعدد احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں رسول اللہ (ص) نے فرمایا: **"قربیٰ سے مراد علی، فاطمہ اور ان کے دو بیٹے ہیں۔"** (بحوالہ: حدیث ابن عباس، جابر بن عبداللہ انصاری)
* **علامہ طباطبائی (تفسیر المیزان)** لکھتے ہیں: "قربیٰ سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جو رسول (ص) کے سب سے قریب ہیں، یعنی آپ (ص) کا اہل بیت (ع) جن کی طہارت کی آیت (احزاب: 33) نازل ہوئی۔"

# # # # 2. **"مودت" کا مفہوم: محبت + اطاعت و ولایت**
* شیعہ علماء کے نزدیک "مودۃ فی القربیٰ" صرف جذباتی محبت نہیں، بلکہ **عملی اتباع، ولایت کی پہچان اور ائمہ (ع) کی رہنمائی کو تسلیم کرنا** ہے۔
* **شیخ طوسی (التبیان فی تفسیر القرآن)** میں لکھتے ہیں: "یہ مودت درحقیقت اللہ کی رضا کے لیے ان (اہل بیت) کی اطاعت اور ان کی ولایت کو قبول کرنے کا نام ہے۔"
* **فیض کاشانی (تفسیر الصافی)** میں اسے "ان کی امامت و ولایت کی پیروی" سے تعبیر کیا گیا ہے۔

# # # # 3. **حدیث ثقلین اور آیت مودت کا ربط**
* شیعہ کتب حدیث (جیسے **الکافی**، **بحار الانوار**) میں **حدیث ثقلین** کو آیت مودت کی تفسیر قرار دیا گیا ہے:
> *"إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي"*
*"میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت (اہل بیت)۔"*
* اس حدیث کے مطابق قرآن اور اہل بیت (ع) سے تمسک ضروری ہے، اور آیت مودت اسی تمسک کی بنیاد ہے۔

# # # # 4. **احادیث کی روشنی میں:**
* **بحار الانوار (علامہ مجلسی)** میں متعدد احادیث ہیں جن میں رسول اللہ (ص) نے آیت نازل ہونے پر فرمایا:
> *"اے لوگو! اللہ نے تم پر میرے قریبی رشتہ داروں (قربیٰ) کی محبت واجب کی ہے... یہ علی، فاطمہ اور ان کے دو بیٹے ہیں۔"*
* **الکافی (شیخ کلینی)** میں ہے کہ امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا:
> *"ہم ہی وہ ’قربیٰ‘ ہیں جن سے مودت واجب کی گئی ہے۔"*

# # # # 5. **اجر رسالت = مودت اہل بیت (ع)**
* شیعہ تفاسیر میں زور دیا گیا ہے کہ یہ مودت **رسالت کا اجر** ہے۔ جس طرح نبوت کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جا سکتا، اسی طرح یہ مودت بھی درحقیقت اللہ کی رضا اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔
* **تفسیر نور الثقلین (حویزی)** میں امام رضا (ع) کا قول نقل ہے:
> *"یہ آیت ہمارے حق میں نازل ہوئی ہے۔ مودت قربیٰ سے مراد ہم اہل بیت کی ولایت ہے۔"*

# # # # 6. **مخالفین کے اعتراضات کا جواب:**
* بعض مفسرین "قربیٰ" کو عام رشتہ داروں سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن شیعہ علماء اس کی تردید کرتے ہیں:
* آیت میں **"القربی

Address

Kamalia

Telephone

03005375501

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Farameen E Masomeen as posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Farameen E Masomeen as:

Share