05/07/2026
"مجرئی , جب شبِ عاشور عیاں ہوتی ہے"
ایک برچھی ہے جو سینے میں رواں ہوتی ہے
خیمہء شاہ میں بی بی نے کلیجہ تھاما
کوئی آوازِ اجل ہے کہ ازاں ہوتی ہے
آ گیا خاک پہ اکبر کا ترو تازہ بدن
کربلا اور جواں اور جواں ہوتی ہے!!
"فاطمہ بَضعۃُ منی" کا خیال اور حسین
تیرہ ضربوں سے یہ تفسیر بیاں ہوتی ہے!!!!
نوک نیزہ پہ تلاوت ہو تو کُھلتا ہے خدا
کربلا خطبہء زینب سے عیاں ہوتی ہے!
کبھی ہوتی ہے کوئی نوک سناں یا برچھی
کبھی زنجیر برأت کا نشان ہوتی ہے!
زندہ رکھتی ہے, ہمیں ماتم و گریہ کی صدا
زندگی ہم سے بسر ورنہ کہاں ہوتی ہے
ہم عزاداروں کو ایسے ہے یہ مجلس، جیسے
بے گھروں کے لیے اک جائے اماں ہوتی ہے
سر پٹختی ہیں ابھی تک لبِ دریا ، موجیں
پیاس کیا صرف سر نوکِ سناں ہوتی ہے!!؟
ایک تو ماتمِ شبیر سے ملتی ہے شفا
دوسرا اس سے طبیعت بھی رواں ہوتی ہے
رضاجعفری
باوا توقیر اور واجد صاحب کے دیے ہوئے طرحی مصرع پر سلام۔۔۔