دین کیا کہتا ہے۔Deen says

دین کیا کہتا ہے۔Deen says Deen Islam says دین اسلام کیا کہتا ہے
آئیے مل کر دین سیکھیں ۔

07/04/2024

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ(100)

ترجمۂ کنز الایمان

اے ایمان والو اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد تمہیں کافر کر چھوڑیں گے۔

تفسیر صراط الجنان

{اِنْ تُطِیْعُوْا: اگر تم اطاعت کرو۔}شاس بن قیس یہودی مسلمانوں کی مجلس کے قریب سے گزرا جس میں انصار کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج نہایت محبت سے باتیں کر رہے تھے، اسلام سے پہلے ان کی آپس میں بہت جنگ تھی اس یہودی کوان کے اتفاق سے بڑی تکلیف ہوئی چنانچہ اس نے ایک نوجوان یہودی سے کہا کہ تم اِن کی گزشتہ جنگیں یاد دلا کر اِنہیں لڑا دو۔ اس نے ایسا ہی کیا اور کچھ قصیدے پڑھے جن میں ان کی گزشتہ جنگوں کا ذکر تھا۔ ان قصائد کو سن کر انصار کو اپنی گزشتہ جنگیں یاد آگئیں اور وہ آپس میں لڑ پڑے۔ قریب تھا کہ خون ریزی ہوجائے، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فوراً موقع پر تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا جاہلیت کی حرکتیں کرتے ہوحالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔یہ سن کر انہوں نے ہتھیار پھینک دئیے اور روتے ہوئے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے ۔ اس پر یہ آیت کریمہ اتری۔ (در منثور، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۲ / ۲۷۸-۲۷۹)

اس سے معلوم ہوا کہ یہاں آیت میں کفر سے مراد کافروں والے کام ہیں یعنی اپنی’’ انا‘‘ کیلئے آپس میں جنگ کرنا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ فتنہ فساد برپا کرنا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانا یہودیوں کا کام اور آپس میں پیار محبت پیدا کرنا اور صلح کروانا سراپا رَحمت،مجسمِ شفقت، شفیعِ امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت ہے۔

Ghusal K Faraiz
05/04/2024

Ghusal K Faraiz

05/04/2024

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ﳓ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ(98)

ترجمۂ کنز الایمان

تم فرماؤ اے کتابیو اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے اور تمہارے کام اللہ کے سامنے ہیں۔

تفسیر صراط الجنان

{لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ :تم اللہ کی آیتوں کا انکار کیوں کرتے ہو ۔}یہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتوں سے مراد توریت کی وہ آیات ہیں جن میں سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اوصاف کا بیان ہے اور وہ عقلی دلائل مراد ہیں جو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں۔

31/03/2024

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَ(96)

ترجمۂ کنز الایمان

بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما۔

تفسیر صراط الجنان

{اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ: بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لئے بنایا گیا ۔} یہودیوں نے کہا تھا کہ’’ ہمارا قبلہ یعنی بیتُ المقدس کعبہ سے افضل ہے کیونکہ یہ گزشتہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قبلہ رہا ہے، نیزیہ خانہ کعبہ سے پرانا ہے ۔ ان کے رد میں یہ آیتِ کریمہ اتری ۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۶، ۱ / ۲۷۴)

اور بتا دیا گیا کہ روئے زمین پر عبادت کیلئے سب سے پہلے جو گھر تیار ہوا وہ خانہ کعبہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ’’کعبہ معظمہ بیتُ المقدس سے چالیس سال قبل بنایا گیا۔(بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، ۱۱- باب، ۲ / ۴۲۷، الحدیث: ۳۳۶۶)

اور فرشتوں کا قبلہ بیتُ المعمور ہے جو آسمان میں ہے اورخانہ کعبہ کے بالکل اوپر ہے۔ (کنز العمال، کتاب الفضائل، باب فی فضائل الامکنۃ، ۷ / ۴۹، الجزء الرابع عشر، الحدیث: ۳۸۰۸۱)

کعبۂ معظمہ کی خصوصیات :
اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں کعبۂ معظمہ کی بہت سی خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔

(1)…سب سے پہلی عبادت گاہ ہے کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے اس کی طرف نماز پڑھی۔

(2)…تمام لوگوں کی عبادت کے لئے بنایا گیاجبکہ بیتُ المقدس مخصو ص وقت میں خاص لوگوں کا قبلہ رہا۔

(3)…مکہ معظمہ میں واقع ہے جہاں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ہے۔

(4) …اس کا حج فرض کیا گیا ۔

(5)…حج ہمیشہ صرف اسی کا ہوا، بیتُ المقدس قبلہ ضرور رہا ہے لیکن کبھی اس کا حج نہ ہوا۔

(6) …اسے امن کا مقام قرار دیا۔

(7)…اس میں بہت سی نشانیاں رکھی گئیں جن میں ایک مقامِ ابراہیم ہے۔

29/03/2024

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ۫-فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(95)

ترجمۂ کنز الایمان

تم فرماؤ اللہ سچا ہے تو ابراہیم کے دین پر چلو جو ہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوں میں نہ تھے۔

تفسیر صراط الجنان

{فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا:لہٰذا تم ابراہیم کے دین پر چلو جو ہر باطل سے جدا تھے۔} اس آیت میں دین ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ’’ دین محمدی کی پیروی کرو ،کیونکہ اس کی پیروی ملتِ ابراہیمی کی پیروی ہے، دین محمدی اُس ملت کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔

26/03/2024

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(94)

ترجمۂ کنز الایمان

تو اس کے بعد جو اللہ پر جھوٹ باندھے تو وہی ظالم ہیں۔

تفسیر صراط الجنان

فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ : پھر جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔} یعنی اس بات کی وضاحت تو ہوگئی کہ بنی اسرائیل پر جو کچھ کھانے حرام ہیں یہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام سے نہیں ہیں بلکہ بعد میں حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حرام کرنے سے ہوئے، تو جو اِس حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے اور کہے کہ’’ ملتِ ابراہیمی میں اونٹوں کے گوشت اور دودھ اللہ تعالیٰ نے حرام کئے تھے‘‘ وہ ظالم ہے۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کے باوجود گناہ کرنا زیادہ سخت ہے نیز حلال کو اپنی طرف سے بلا دلیل حرام کہنا اللہ تعالیٰ پر اِفتراء کرنا ہے۔

23/03/2024

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُؕ-قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(93)

ترجمۂ کنز الایمان

سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوب نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لاکر پڑھو اگر سچے ہو۔

تفسیر صراط الجنان

{كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ : تمام کھانے بنی اسرائیل کے لئے حلال تھے۔}شانِ نزول: مدینہ منورہ کے یہودیوں نے سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اعتراض کیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے آپ کو ملّتِ ابراہیمی پر خیال کرتے ہیں حالانکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اونٹ کا گوشت اور دودھ نہیں کھاتے تھے جبکہ آپ کھاتے ہیں ، تو آپ ملّتِ ابراہیمی پر کیسے ہوئے ؟ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر حلال تھیں۔ یہودی کہنے لگے کہ یہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر بھی حرام تھیں ، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر بھی حرام تھیں اور ہم تک حرام ہی چلی آئیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس میں بتایا گیا کہ یہودیوں کا یہ دعویٰ غلط ہے ،بلکہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم ،حضرت اسماعیل، حضرت اسحٰق اور حضرت یعقوب عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر حلال تھیں۔ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کسی سبب سے ان کو اپنے اوپر حرام فرمایا اور یہ حرمت ان کی اولاد میں باقی رہی ۔یہودیوں نے اس کا انکار کیا تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ تورات میں یہ مضمون موجود ہے، اگر تمہیں اس سے انکار ہے تو تورات لاؤ اور اس میں سے نکال کر دکھا دو کہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر حرام تھیں۔ اس پر یہودیوں کو اپنی ذلت و رسوائی کا خوف ہوا اور وہ تورات نہ لاسکے، ان کاجھوٹا ہونا ظاہر ہوگیا اور انہیں شرمندگی اٹھانی پڑی۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۳، ۱ / ۲۷۳)

اس سے معلوم ہوا کہ احکام کا مَنسوخ ہونا ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے۔ لہٰذا قرآن کی بعض آیات کے منسوخ ہونے پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس پر تفصیلی کلام سورۂ بقرہ کی آیت 106میں گزر چکا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا علم شریف اللہ تعالیٰ کی خاص عطا سے ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تورات و انجیل سے خبردار ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو غیبی علوم عطا فرمائے ہیں۔

22/03/2024

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ﱟ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ(92)

ترجمۂ کنز الایمان

تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے ۔

تفسیر صراط الجنان

{لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا: تم ہرگزبھلائی کو نہیں پا سکو گے جب تک راہِ خدا میں خرچ نہ کرو۔} اس آیت میں بھلائی سے مراد تقویٰ اور فرمانبرداری ہے اور خرچ کرنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ’’یہاں خرچ کرنے میں واجب اور نفلی تمام صدقات داخل ہیں۔ امام حسن بصری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: جو مال مسلمانوں کو محبوب ہو اسے رضائے الہٰی کے لیے خرچ کرنے والا اس آیت کی فضیلت میں داخل ہے خواہ وہ ایک کھجور ہی ہو۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ:۹۲، ۱ / ۲۷۲)

راہِ خدا میں اپناپیارا مال خرچ کرنے کے5 واقعات:

اس آیتِ مبارکہ پر عمل کے سلسلے میں ہمارے اَسلاف کے 5 واقعات ملاحظہ ہوں :

(1)…صحیح بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے کہ’’حضرت ابو طلحہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مدینے میں بڑے مالدار تھے، انہیں اپنے اموال میں بَیْرُحَاء نامی ایک باغ بہت پسند تھا، جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں کھڑے ہو کر عرض کی: مجھے اپنے اموال میں ’’بَیْرُحَاء‘‘ باغ سب سے پیارا ہے، میں اسی کو راہِ خدا میں صدقہ کرتا ہوں۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس پر مسرت کا اظہار فرمایا اور پھر حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سرکارِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اشارے پر وہ باغ اپنے رشتے داروں میں تقسیم کردیا۔(بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الزکاۃ علی الاقارب، ۱ / ۴۹۳، الحدیث: ۱۴۶۱، مسلم ، کتاب الزکاۃ، باب فضل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین۔۔۔ الخ، ص ۵۰۰، الحدیث: ۴۲(۹۹۸))

(2)…حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت ابو موسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو لکھا کہ’’میرے لئے ایک باندی خرید کر بھیج دو۔ جب وہ آئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بہت پسند آئی ،لیکن پھرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ آیت پڑھ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے اس کو آزاد کردیا۔ (بغوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۲، ۱ / ۲۵۳)

(3)…حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : میں نے اس آیت’’لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ‘‘ کی تلاوت کی تو میں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں میں غور کیا (کہ کون سی نعمت مجھے سب سے زیادہ پیاری ہے، جب غور کیا) تو میں نے اپنی باندی کو اپنے نزدیک سب سے زیادہ پیارا پایا، اس پر میں نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ جس چیز کو میں نے اللہ تعالیٰ کے لئے کر دیا، اس کی طرف نہ لوٹوں گا تو میں اس باندی سے نکاح کر لیتا۔(مستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم، ذکر عبد اللہ بن عمر۔۔۔ الخ، کان ابن عمر ازہد القوم واصوبہ رأیًا، ۴ / ۷۲۸، الحدیث: ۶۴۳۵)

(4)… حضرت عمرو بن دینار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : جب یہ آیت’’ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ‘‘ نازل ہوئی تو حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے (پسندیدہ) گھوڑے کو لے کر بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اس گھوڑے کو صدقہ فرما دیں۔ تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے وہ گھوڑا ان کے بیٹے حضرت اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو عطا فرما دیا تو حضرت زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: میں نے اس گھوڑے کو محض (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) صدقہ کرنے کا ارادہ کیا ہے !نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک تیرا صدقہ قبول کر لیا گیا ہے۔(ابن عساکر ، ذکر من اسمہ زید، زید بن حارثہ بن شراحیل، ۱۹ / ۳۶۷ )

(5)…حضرت عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ شکر کی بوریاں خرید کر صدقہ کرتے تھے۔ ان سے کہا گیا: اس کی قیمت صدقہ کیوں نہیں کردیتے؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: شکر مجھے محبوب ومرغوب ہے ، میں چاہتا ہوں کہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں اپنی پیاری چیز خرچ کروں۔ (مدارک، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۲، ص۱۷۲)

اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو اپنی محبوب اور پسندیدہ چیزیں راہِ خدا میں دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین[1]

{وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ:اور تم جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے۔}یعنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم اس کی راہ میں عمدہ، نفیس اور اپنی پسندیدہ چیز خرچ کر رہے ہو یا ردی، ناکارہ اور اپنی ناپسندیدہ چیز خرچ کر رہے ہو، تو جیسی چیز تم خرچ کرو گے اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ تمہیں جزا عطا فرمائے گا۔(روح البیان، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۲، ۲ / ۶۳)

21/03/2024

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(91)

ترجمۂ کنز الایمان

وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔

تفسیر صراط الجنان

{وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ: اور کافر ہی مرے۔} آخرت کی نجات ایمان پر خاتمے پر ہے۔ کفر پر مرنے والا زمین بھر سونا بھی اپنے فدیے میں دیدے تب بھی اس کی نجات نہیں ہوسکتی۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ نجات کا دارومدار ایمان پر خاتمہ ہونے پر ہے۔ اگر کوئی شخص تمام عمر مومن رہا اورمرتے وقت کافر ہو گیا تو اس آیت میں شامل ہے اور اگر کوئی شخص ساری عمر کافر رہا لیکن مرتے وقت مومن ہو کر مرا تو وہ اس آیت سے خارج ہے۔اسی لئے صالحین سب سے زیادہ فکر ایمان پر خاتمے ہی کی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے تھے۔ چنانچہ حضرتِ یوسف بن اَسباط رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں ایک مرتبہ حضرتِ سفیان ثَوری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس حاضر ہوا۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ساری رات روتے رہے ۔ میں نے دریافت کیا : کیا آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ گناہوں کے خوف سے رو رہے ہیں ؟ تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا کہ گناہ تواللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِس تنکے سے بھی کم حیثیت رکھتے ہیں ، مجھے تو اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ایمان کی دولت نہ چھن جائے۔ (منہاج العابدین، العقبۃ الخامسۃ، اصول سلوک طریق الخوف والرجاء، الاصل الثالث، ص۱۶۹)

فکرِ معاش بد بلا ہولِ معاد جانگزا

لاکھوں بلا میں پھنسنے کو روح بدن میں آئی کیوں

20/03/2024

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(90)

ترجمۂ کنز الایمان

بیشک وہ جو ایمان لاکر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔

تفسیر صراط الجنان

{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔} یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور انجیل کے ساتھ کفر کیا ،پھر کفر میں اور بڑھے اور سیدُ الانبیاء محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور قرآن کے ساتھ کفر کیا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی جورسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بعثت سے پہلے تو اپنی کتابوں میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھتے تھے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ظہور کے بعد کافر ہوگئے اور پھر کفر میں اور شدید ہوگئے۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۰، ۱ / ۲۷۰)

ایمان و کفر میں شدت کی کیفیت کے اعتبار سے کمی زیادتی ہوتی ہے، جیسے قرآن پاک میں بکثرت ایمان میں اضافہ ہونے کی آیات ہیں ، اسی طرح کفر میں شدت کی آیات بھی ہیں۔ یہ آیات اس معنیٰ میں ہے کہ کسی کا ایمان زیادہ قوی اور مضبوط ہوتا ہے جبکہ کسی کا ایمان کمزور ہوتا ہے یونہی کسی کا کفرزیادہ شدید ہوتا ہے اورکسی کا کم شدت والا ہوتا ہے۔ آیت میں فرمایا کہ’’جو کفر کرے اور اس میں بڑھتا جائے اس کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی‘‘ اس کا یاتو یہ معنیٰ ہے کہ ’’ان کی معافی نہیں ،کیونکہ یہ توبہ ہی نہیں کرتے یا یہ معنیٰ ہے کہ’’ان کی توبہ مقبول نہیں ، کیونکہ ان کی توبہ دل سے نہیں بلکہ منافقانہ ہوتی ہے ، دل میں کفر بھرا ہوتا ہے اور زبان سے توبہ کررہے ہوتے ہیں ایسی توبہ ہرگز قبول نہیں۔ البتہ جو توبہ دل سے کی جائے وہ ضرور مقبول ہے۔

20/03/2024
19/03/2024

Address

Street No 4
Kabirwala
58250

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دین کیا کہتا ہے۔Deen says posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share