02/09/2020
بسم اللہ الرحمن الرحیم
‼ کون ہے حسینی‼
سر داد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بناۓ لا الہ است حسین ۔
ہم اپنےگرد نواح میں دیکھتے ہیں کہ ہر شخص حسینی ہونے کا دعوی کرتا ہے اور یزیدیت سے نفرت کرتا ہے ,یقینا!! آپ بھی یہی کرتے ہونگے ,لیکن!!! ہمیں اس بات کا پتہ ہونا چاہیے کہ حقیقت میں حسینی کون اور یزیدی کون ہے , اس بات کا پتاکرنا کوئی مشکل کام نہیں , کیونکہ حسینیت اور یزیدیت دو الگ کردار ہیں,
حسینی کردار کے حامل لوگ حسینی۔۔۔ اور یزیدی کردار کے حامل لوگ یزیدی ہیں ,
حسینی کردار❗
حسینی وہ ہیں جو حق اور اہل حق کےساتھ کھڑے ہیں , حسینی وہ ہیں جو اپنی زندگی کو سنت مصطفی کے سانچے میں ڈالتے ہیں, جن کے دن مخلوق خدا کی بھلائی میں گذرتے ہیں , جن کے اچھے اخلاق اور اعلی کردار کی وجہ سے مخلوق خدا کو خیر ملتا ہے , جو ”یؤثرون علیٰ انفسھم ولو کان بھم خصاصا “ کے مصداق ہیں, جو عشق خیرالوریٰ سے اپنے سینوں کو منور کر کے اس کی ضیاء سے کائنات میں اجالا پھیلاتے ہیں, جن کا ذہن , جن کی فکر , جن کا عمل, جن کا کردار ,جن کی گفتار,جن کا حال اور خیال دین محمدی کی تبلیغ کرتا ہے , جو ”اَشِدّاءُ عَلیَ الکفّار رُحَمَاءُ بَینِھُم “ کے عامل ہوتے ہیں۔
یزیدی کردار❗
یزیدی وہ ہیں جو خداۓ رحمن کی نا فرمانی پر مضر رہتے ہیں,جو حق اوراہل حق کی مخالفت میں اپنی قوتوں کو صرف کرتے ہیں, جن کے شر سے ماحول محفوظ نہیں ہوتا, جو اپنی شرارتوں سےنظام بود وباش کو آلودہ کر دیتے ہیں,
ہمیں اپنا تعین خود کرنا ہوگا کہ ہم حسینی کردار کے حامل ہیں یا یزیدی کردار کے,کہیں ہم نفاذ حق میں رکاوٹ تو نہیں بن رہے,ہمارے عمل سے معاشرہ کو کوئی نقصان تو نہیں ہو رہا, ہمارے ارد گرد کے لوگ ہم سے خفاء تو نہیں ہو رہے, اگر ہم یزید کو برا کہتے ہیں تو پہلے ہم نے یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم بھی تو یزیدی کردار کے حامل تو نہیں, اگر نہیں تو مبارکباد, اگر ہیں تو پہلے ہمیں اپنا رویہ تبدیل کرناہوگا ۔
کسی شاعر نے ہمارے رویے کی خوب عکاسی کی ہے ,
نفس ما بدتر از فرعون است
او را عون است ما را عون نیست
تحریر
علامہ آدم خان چشتی