Muhammad Asghar Gul

جب کسی شخص کا بیرونِ ملک انتقال ہو جاتا ہے تو عموماً تدفین کے لیئے ترجیہا" اسکے آبائی علاقوں میں تدفین کے لیئے بھیج دیتے...
12/08/2025

جب کسی شخص کا بیرونِ ملک انتقال ہو جاتا ہے تو عموماً تدفین کے لیئے ترجیہا" اسکے آبائی علاقوں میں تدفین کے لیئے بھیج دیتے ہیں جو اسکے لواحقین اور رشتہ داروں کی خواہش بھی ہوتی ہے۔

((ہوائی جہاز میں کارگو کے طور پر لدا ہوا جسم))

عموماً میتوں کو سرد خانے میں رکھ دیا جاتا ہے. ذرا محسوس کرنے کی کوشش کیجیئے کہ میت کے لیئے سرد خانے کے منفی درجہ حرارت میں کئی دنوں کے لیئے پڑے رہنا کیسا عذاب ہوتا ہو گا؟ اور

یہ عذاب ان کوجھیلنا انکے پیارے ھی انہیں دیتے ہیں. ایک دوسرا اذیت ناک اور شرمناک معاملہ میت کو غیر ممالک سے پاکستان لانا ہے. کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسی میتوں کی سب سے پہلے Embalment کی جاتی ہے. جسم سے خون اور باقی مادے نکالنے، اور ان کے جگہ انفیکشن وغیرہ کو روکنے والے کیمیکل داخل کرنے کو Embalment کہتے ہیں.

اس عمل کے لیئے سب سے پہلے میت کو برہنہ کیا جاتا ہے. پھر گلے کی سائیڈ پر کٹ لگا کر وہاں سے گزرتی ایک بڑی شریان کو ہلکا سا باہر کھینچا جاتا ہے (یہ شریان نبض ہوتی ہے). اس شریان کو ہلکا سا کاٹ کر اس میں کینولا داخل کیا جاتا ہے اور شریان کو باندھ دیا جاتا ہے تاکہ اس عمل کے دوران کینولا باہر نہ نکل سکے.

یہ کینولا دوسری جانب ایک مشین سے لگا ہوتا ہے. وہ مشین ایک مائع ڈیڈ باڈی کے جسم میں دھکیلتی ہے جو سارے جسم کی رگوں میں پھیل جاتا ہے. خون کو جسم سے باہر نکالنے کے لیئے ٹانگ کے قریب ایک اور بڑی شریان کو کٹ لگایا جاتا ہے. اس کے بعد پیٹ اور سینے میں کٹ لگا کر نرم اعضاء پنکچر کیئے جاتے ہیں اور کیمیکل بھر کر پیٹ اور سینے کو سِیل کر دیا جاتا ہے.

منہ بند کرنے کے لیئے اکثر کوئی گوند نما چیز لگائی جاتی ہے اور سلائی کر دی جاتی ہے. اس عمل کو اس لیئے وضاحت سے لکھا گیا ہے تاکہ سب پڑھنے والے اپنی جذباتیت کو ایک طرف رکھ کر میت کی حد سے بڑھی ہوئی بےحرمتی اور تکلیف پر تھوڑی دیر غور کر لیں.

کیا آخری دیدار اور وطن کی مٹی کی یہ قیمت درست ہے؟ کیا یہ بہت مہنگا سودا نہیں؟ آخر ھم اپنے پیاروں کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟ صرف اس لیئے کہ فلاں آخری بار چہرہ دیکھ لے؟ یا اس لیئے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ میت کو پاکستان لانا بہت ضروری تھا؟ یا اس لیئے کہ ہماری بےعزتی نہ ہو جائے کہ جنازے کو یہاں نہیں لا سکتے تھے کیا؟

بات بہت سادہ اور سیدھی سی ہے ۔ جو شخص دنیا سے چلا جائے اس کے جنازے میں صرف اتنی ھی دیر ہونی چاہیئے جتنی قبر کھودنے اور کفن دفن کا انتظام کرنے میں ہوتی ہے.اگر کوئی پیارا دور ہے تو صبر کرنا چاہیئے اور میت کے لیئے دعا اور صدقہ کرنا چاہیئے . صرف چہرہ دیکھنے کے لیئے میت کو تکلیف نہ دیں.

جس کی موت جہاں لکھی ہے وہیں پر آنی ہے. اگر پردیس میں موت آ جائے تو وہیں پر دفنانا بہتر ہے. اگر کسی کو بڑا مجمع اکٹھا کرنے کا خبط ہے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ بڑے جنازے صرف دنیا ھی میں گردن اکڑانے کا باعث ہو سکتے ہیں، اللہ کے ہاں ترازو مختلف ہیں.

اللہ تعالیٰ دعا ہے کہ ھم سب کا انجام بخیر کرے اور سب کو موت کے بعد ایسی بےحرمتی اور اذیت سے محفوظ رکھے ۔ آمین 🥀 🤲
(For public knowledge and general information)

08/08/2025
یکم رجب المرجب 1445ھ ۔ 🌙♥️تمام اہل اسلام و محبان اھلبیت علیہم السلام کو وارث علم انبیاء، باقر العلوم حضرت اِمام محمد باق...
13/01/2024

یکم رجب المرجب 1445ھ ۔ 🌙♥️

تمام اہل اسلام و محبان اھلبیت علیہم السلام کو وارث علم انبیاء، باقر العلوم حضرت اِمام محمد باقر علیہ السّلام کی ولادت با سعادت بہت بہت مبارک ہو۔ 🤍

• آپؑ یکم رجب المرجب بروز جمعہ المبارک 57ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپؑ نے ولادت کے بعد قبلہ رو ہو کر آسمان کی طرف رخ فرمایا اور (آدمؑ کی مانند) تین بار چھینکنے کے بعد حمد خدا بجا لائے۔ آپؑ کا اسم مبارک سرور کائنات کی تعیين کے مطابق "مُحمّد" تھا اور آپؑ کی کنیت "ابو جعفر" تھی۔ آپؑ کے القاب بہت زیادہ ہیں جن میں باقر، شاکر، ہادی زیادہ مشہور ہیں۔ آپؑ کے اسم باقر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ باقر، بقر سے مشتق ہے اور اسی کا اسم فاعل ہے۔ اِسکے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں۔ حضرة امام محمد باقر علیہ السلام کو اس لقب سے اس لئے ملقب کیا گیا تھا کہ آپؑ نے علوم و معارف کو نمایاں فرمایا اور حقائق احکام و حکمت و لطائف کے وہ سر بستہ خزانے ظاہر فرما دئیے جو لوگوں پر ظاہر و ہویدا نہ تھے۔

◾جوہری نے اپنی صحاح میں لکھا ہے کہ "توسع فی العلم” کو بقرہ کہتے ہیں، اسی لیے امام محمد بن علی کو باقر علیہ السّلام سے ملقب کیا جاتا ہے۔ علامہ ابن جوزیؒ کا کہنا ہے کہ کثرت سجود کی وجہ سے چونکہ آپؑ کی پیشانی وسیع تھی اس لیے آپؑ کو باقر کہا جاتا ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جامعیت علمیہ کی وجہ سے آپؑ کو یہ لقب دیا گیا ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق آنحضرت ﷽ نے ارشاد فرمایا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السّلام علوم و معارف کو اس طرح شگافتہ کر دیں گے جس طرح زراعت کے لیے زمین شگافتہ کی جاتی ہے۔

◾علامہ شبلنجی نے لکھا ہے کہ:
علم دین، علم احادیث، علم سنن اور تفسیر قرآن و علم السیرت و علوم و فنون ،ادب وغیرہ کے ذخیرے جس قدر امام محمد باقر علیہ السلام سے ظاہر ہوئے، اتنے امام حسینؑ اور امام حسینؑ کی اولاد میں سے کسی سے ظاہر نہیں ہوئے۔

◾ابن خلکان لکھتے ہیں کہ:
امام محمد باقر علیہ السّلام علامہ زمان اور سردار کبیر الشان تھے۔ آپؑ علوم میں بڑے تبحر اور وسیع الاطلاق تھے۔

◾علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ:
آپؑ بنی ہاشم کے سردار اور متبحر علمی کی وجہ سے باقر مشہور تھے، آپؑ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اور آپؑ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔

امام محمد باقر علیہ السّلام کے علمی تذکرے دنیا میں مشہور ہوئے اور آپؑ کی مدح و ثناء میں بکثرت شعر لکھے گئے، مالک جہنی نے یہ تین شعر لکھے ہیں:

ترجمہ: جب لوگ قرآن مجید کا علم حاصل کرنا چاہیں تو پورا قبیلہ قریش اس کے بتانے سے عاجز رہے گا، کیونکہ وہ خود محتاج ہے اور اگر فرزند رسول امام محمد باقر علیہ السّلام کے منہ سے کوئی بات نکل جائے تو بے حد و حساب مسائل و تحقیقات کے ذخیرے مہیا کر دیں گے یہ حضرات وہ ستارے ہیں جو ہر قسم کی تاریکیوں میں چلنے والوں کے لیے چمکتے ہیں اور ان کے انوار سے لوگ راستے پاتے ہیں۔

◾علامہ ابن شہر آشوب کا بیان ہے کہ صرف محدث محمد بن مسلمؒ نے آپؑ سے تیس ہزارحدیثیں روایت کی ہیں۔

◾امام محمّد باقر علیہ السلام کا ایک اور زریں قول ہے۔
"خدا کی جانب سے نعمتوں کی فراوانی کا سلسلہ نہیں ٹوٹتا ہے مگر یہ کہ بندے شکر کرنا چھوڑدیں۔ "

صوفی کے بارے میں فرمایا:’’صوفی وہ ہے جس کا دل کدورت سے پاک ہو۔ صوفی کے بعد عارف کا درجہ آتا ہے ۔ عارف ،خدا کا دوست اور د...
04/01/2024

صوفی کے بارے میں فرمایا:’’صوفی وہ ہے جس کا دل کدورت سے پاک ہو۔ صوفی کے بعد عارف کا درجہ آتا ہے ۔ عارف ،خدا کا دوست اور دنیا کا دشمن ہوتا ہے‘‘۔

29/09/2023

غلامی رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم میں
جان بھی قربان ہے۔

مگر داڑھی رکھنا قبول نہیں۔
مگر اپنے سے بڑی عمر کی عورت سے شادی قبول نہیں۔
مگر اعلی اخلاق قبول نہیں۔
مگر نماز پڑھنا قبول نہیں۔
مگر ظلم کے خلاف آواز اٹھانا قبول نہیں۔
مگر بیوہ عورت سے پہلی شادی قبول نہیں۔
مگر بچوں والی سے شادی قبول نہیں۔
مگر یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنا قبول نہیں۔
مگر جہیز نہ لینا قبول نہیں۔
مگر ہندوانہ رسم و رواج چھوڑنا قبول نہیں۔
مگر السلام کی تبلیغ قبول نہیں۔
مگر ماں باپ کی عزت قبول نہیں۔
مگر بیوی کی عزت قبول نہیں۔
مگر بیوی سے محبت قبول نہیں۔
مگر پردہ قبول نہیں۔
مگر سچ بولنا قبول نہیں۔
مگر رزق حلال قبول نہیں۔

تو کیا قبول ہے؟؟

مجھے عیش و عشرت قبول ہے.
مجھے ملاوٹ قبول ہے.
مجھے رشوت قبول ہے.
مجھے زنا قبول ہے.
مجھے منافع خوری قبول ہے.
مجھے جسم دکھانا قبول ہے.
مجھے حرام قبول ہے.
مجھے چوری قبول ہے.

ہاں ہاں مجھے وہ سب قبول جس سے مجھے میرے
پیارے مذہب اسلام اور میرے پیارے نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے منع فرمایا ہے۔

لیکن کیوں؟
کیونکہ میں دنیا کا بدترین منافق ہوں میں اپنے ملک کے غریبوں کو لوٹتا ہوں اور مکہ مدینہ جاکر دسترخوان لگاتا ہوں میں آناج زخیرہ کرلیتا ہوں تاکہ قلت ہونے پر مہنگے داموں بیچ سکوں اور حج اور عمرے کیے جارہا ہوُں

Address

Jhang

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Asghar Gul posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Muhammad Asghar Gul:

Share