Iqbal kamal Research Circle

Iqbal kamal Research Circle islamic and Educational Research platform by iqbal kamal
علم تحقیق اور تربیت کا مرکز اقبال کمال۔۔۔۔

جب ایک شخص خود کو “امام” کہلواتا ہو، روحانی پیشوا ہونے کا دعویٰ کرتا ہو، مگر غیر محرم خواتین سے مصافحہ کرتا پھرے، تو سوا...
21/05/2026

جب ایک شخص خود کو “امام” کہلواتا ہو، روحانی پیشوا ہونے کا دعویٰ کرتا ہو، مگر غیر محرم خواتین سے مصافحہ کرتا پھرے، تو سوال اٹھتا ہے کہ یہ کیسی امامت ہے؟

حال ہی میں Prince Karim Aga Khan کی پاکستان آمد پر Aseefa Bhutto Zardari سے مصافحہ کی تصاویر سامنے آئیں۔
اسلام میں ایک عام مسلمان کو بھی غیر محرم عورت سے ہاتھ ملانے کی اجازت نہیں، تو پھر ایک ایسا شخص جو خود کو “امامِ وقت” کہلوائے، اس کے عمل کا کیا جواز ہے؟

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی غیر محرم عورت کو چھوئے۔”

جو لوگ اندھی عقیدت میں ہر عمل کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں سوچنا چاہیے کہ دین شخصیتوں سے نہیں بلکہ قرآن و سنت سے چلتا ہے۔
امامت وہی معتبر ہے جو شریعت محمدی ﷺ کی پابند ہو، نہ کہ مغربی رسم و رواج کی پیروکار۔

#اسلام


05/05/2026

ایک ایسی عظیم علمی و روحانی شخصیت کے فراق میں جمع ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت میں گزار دی۔ حضرت مولانا شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحبؒ صرف ایک عالمِ دین ہی نہیں بلکہ ہزاروں علماء کے استاد، ایک بے مثال مربی اور عظیم خطیب تھے۔
آپ پشتو زبان کے بہت بڑے خطیب تھے۔ آپ کی گفتگو میں نرمی، مٹھاس اور ایسی بلاغت تھی کہ سننے والا متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ آپ کے دروس علم و حکمت کا خزانہ ہوتے تھے، جن میں گہرائی بھی تھی اور سادگی بھی، جس سے ہر خاص و عام یکساں طور پر مستفید ہوتا تھا۔
آپ کا ذوقِ مطالعہ نہایت وسیع اور گہرا تھا۔ آپ نے اپنی زندگی کو علم کے حصول، تدریس اور اشاعتِ دین کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ آپ کی محنت اور اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج ہزاروں علماء آپ کے شاگرد ہونے پر فخر کرتے ہیں۔
بلاشبہ، ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا دنیا سے رخصت ہونا ایک بڑا علمی و روحانی خلا ہے، جسے پر کرنا آسان نہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے

30/04/2026

ان کی باتوں سے اپ کتنے فیصد متفق ہیں اپنی راۓ ضرور دے

🚨 پٹرول مہنگا — عوام کب جاگے گی؟ 🚨پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں،اور اطلاعات ہیں کہ آنے والے جمعہ کو پھر ...
30/04/2026

🚨 پٹرول مہنگا — عوام کب جاگے گی؟ 🚨

پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں،
اور اطلاعات ہیں کہ آنے والے جمعہ کو پھر اضافہ کیا جائے گا!

❗ ہمارا واضح مطالبہ:
پٹرول کی قیمت 200 روپے فی لیٹر کی جائے

یہ عوام کا بنیادی حق ہے — کوئی رعایت نہیں!

😔 مگر افسوس...
عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے، برداشت کر رہی ہے، لیکن آواز نہیں اٹھا رہی!
یاد رکھیں: خاموش قومیں ہمیشہ ظلم کا شکار رہتی ہیں۔

✊ اب وقت آ گیا ہے!
اپنی آواز بلند کریں، ٹرینڈ بنائیں اور حق مانگیں:





📢 اگر آج نہیں بولے، تو کل بولنے کا حق بھی نہیں رہے گا!

✍️ Iqbal Kamal

22/04/2026

Allah

09/04/2026

آج ایک عجیب تضاد ہمارے معاشرے میں نمایاں نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ علماء ہیں جو دین کی خدمت، سادگی اور تقویٰ کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اور دوسری طرف ایسے افراد بھی سامنے آتے ہیں جن کے پاس بے پناہ دولت جمع ہو چکی ہے—ایسی دولت جس کا حساب بعض اوقات عام آدمی کے تصور سے بھی باہر ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کسی عالم کے پاس پیسہ کیوں ہے، کیونکہ اسلام محنت اور حلال کمائی سے منع نہیں کرتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ دولت کہاں سے آئی؟ کن ذرائع سے جمع ہوئی؟ اور کیا اس میں شفافیت موجود ہے؟
مدارس کے نام پر چندہ جمع کرنا ایک نیک عمل ہے، لیکن جب یہی چندہ ذاتی جائیدادوں، عیش و عشرت، اور غیر ضروری اخراجات میں تبدیل ہو جائے تو یہ ایک سنگین اخلاقی مسئلہ بن جاتا ہے۔ عوام اپنی محنت کی کمائی اس نیت سے دیتے ہیں کہ دین کی خدمت ہو، طلبہ کی تعلیم بہتر ہو، اور اسلام کی اشاعت ہو—نہ کہ کسی فرد کی ذاتی دولت میں اضافہ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ: ✔ مدارس کے مالی معاملات شفاف ہوں
✔ چندے کے استعمال کا واضح حساب عوام کے سامنے ہو
✔ علماء اپنی سادگی اور دیانتداری سے مثال قائم کریں
یاد رکھیں، چند افراد کی غلطی پورے طبقے کو بدنام کر دیتی ہے۔ آج بھی بے شمار علماء ایسے ہیں جو انتہائی سادگی میں زندگی گزار رہے ہیں اور خالصتاً دین کی خدمت کر رہے ہیں۔
لہٰذا تنقید ضرور کریں، مگر انصاف کے ساتھ—تاکہ اصلاح ہو، انتشار نہیں۔ اقبال کمال
Iqbal Kamal
#مدارس #طارق

08/04/2026

اپنے ماتحت (Subordinate) کے ساتھ حسنِ سلوک ایک کامیاب قیادت کی بنیاد ہے۔ ایک اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے ماتحتوں کے ساتھ عزت، انصاف اور شفقت کا برتاؤ کرے۔ سختی اور تحقیر وقتی طور پر کام تو نکلوا سکتی ہے، مگر دلوں میں نفرت پیدا کرتی ہے، جبکہ نرمی، حوصلہ افزائی اور اعتماد بہتر کارکردگی کو جنم دیتے ہیں۔
ماتحت کے ساتھ ایسا رویہ ہونا چاہیے جس میں رہنمائی بھی ہو اور احترام بھی۔ ان کی غلطیوں پر اصلاح کی جائے، نہ کہ ذلت دی جائے۔ ان کی محنت کو سراہا جائے اور مسائل کو سمجھ کر حل کیا جائے۔ ایک ذمہ دار افسر اپنے ماتحتوں کو صرف کام لینے کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ انہیں ایک ٹیم کا اہم حصہ تصور کرتا ہے۔
مختصر یہ کہ اچھا سلوک، انصاف، صبر اور مثبت رویہ نہ صرف ادارے کو ترقی دیتا ہے بلکہ ایک مضبوط اور وفادار ٹیم بھی تیار کرتا ہے۔

03/04/2026

آج پٹرول کی قیمت 458 روپے تک پہنچ جانا عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے۔ آخر کب تک غریب آدمی اس مہنگائی کے بوجھ تلے پستا رہے گا؟ حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی بین الاقوامی پابندی بھی نہیں، پھر بھی عوام کو مسلسل مہنگائی کی چکی میں پیسا جا رہا ہے۔

یہ کیسی پالیسی ہے جہاں حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے سیدھا وار عوام کی جیب پر کرتی ہے؟ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی چلانا ہی مشکل نہیں ہوتا، بلکہ ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے—آٹا، چینی، سبزیاں، کرایے، سب کچھ عوام کی پہنچ سے دور ہو جاتا ہے۔

کیا حکمرانوں کو عوام کی تکلیف کا احساس نہیں؟ یا پھر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہ قوم ہر ظلم خاموشی سے برداشت کرتی رہے گی؟ اب وقت آ چکا ہے کہ عوام اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے۔

یہ خاموشی اب جرم بن چکی ہے!مہنگائی کے خلاف بھرپور احتجاج ہمارا حق ہے!

01/04/2026

کوئی بھی تکلیف ہمیشہ نہیں رھتی یہ اللہ کا وعدہ ہے تم بس صبر کرو اور اچھے وقت کا انتظار کرو

30/03/2026

Writing
عوامی لیڈران کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اقتدار سے باہر ہوتے ہوئے وہ عوام کے درد کو اپنا درد بنا کر پیش کرتے ہیں، مگر جیسے ہی اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہیں، وہی درد بھلا کر عوام پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ دیتے ہیں۔ کل تک جو لوگ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو ظلم، نااہلی اور چوری قرار دیتے تھے، آج وہی فیصلے بڑے فخر اور مجبوری کے نام پر نافذ کیے جا رہے ہیں۔
یہ دوہرا معیار صرف سیاست کی ناکامی نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کا قتل ہے۔ جب اپوزیشن میں تھے تو ہر تقریر میں یہ جملہ گونجتا تھا کہ "جب پٹرول مہنگا ہو تو سمجھ جاؤ حکمران چور ہے"۔ آج وہی معیار کیوں بدل گیا؟ کیا اصول صرف اقتدار سے باہر رہنے تک محدود تھے؟ یا اقتدار میں آ کر عوام کی یادداشت کو کمزور سمجھ لیا گیا ہے؟
مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ آٹا، چینی، بجلی، گیس اور پٹرول سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ مزدور کی دیہاڑی وہی ہے مگر اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ سفید پوش طبقہ خاموشی سے پس رہا ہے اور غریب کے چولہے ٹھنڈے پڑتے جا رہے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ صحافی اور تجزیہ کار جو کل تک مہنگائی پر حکومتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے، آج خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ نہ کوئی سوال، نہ کوئی احتساب۔ کیا سچ بولنے کا معیار بھی حکومت کے ساتھ بدل جاتا ہے؟
حکومتوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ وعدے، دعوے اور بیانات سب محفوظ ہیں۔ وقت بدلتا ہے اور کرسی بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔ اگر آج عوام کی آواز کو دبایا گیا، تو کل یہی آواز ایک طوفان بن کر اٹھے گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں، عوام کو ریلیف دیں، اور وہی معیار اپنائیں جو وہ اپوزیشن میں رہ کر دوسروں کے لیے مقرر کرتے تھے۔ ورنہ تاریخ ہمیشہ ایسے کرداروں کو دوغلا پن اور عوام دشمنی کے عنوان سے یاد رکھتی ہے۔'🌺💯 𝐅𝐎𝐋𝐋𝐎𝐖 𝐌𝐄👈 ✍️🥀


Ten Unknown Facts About

1. Founding and History: BMW, Bayerische Motoren Werke AG, was founded in 1916 in Munich, Germany, initially producing aircraft engines. The company transitioned to motorcycle production in the 1920s and eventually to automobiles in the 1930s.

2. Iconic Logo: The BMW logo, often referred to as the "roundel," consists of a black ring intersecting with four quadrants of blue and white. It represents the company's origins in aviation, with the blue and white symbolizing a spinning propeller against a clear blue sky.

3. Innovation in Technology: BMW is renowned for its innovations in automotive technology. It introduced the world's first electric car, the BMW i3, in 2013, and has been a leader in developing advanced driving assistance systems (ADAS) and hybrid powertrains.

4. Performance and Motorsport Heritage: BMW has a strong heritage in motorsport, particularly in touring car and Formula 1 racing. The brand's M division produces high-performance variants of their regular models, known for their precision engineering and exhilarating driving dynamics.

5. Global

1. Founding and History: BMW, Bayerische Motoren Werke AG, was founded in 1916 in Munich, Germany, initially producing aircraft engines. The company transitioned to motorcycle production in the 1920s and eventually to automobiles in the 1930s

#مریم #شھباز #شریف

29/03/2026

"اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے گھر خانہ کعبہ کی حاضری نصیب فرمائے، عمرہ کی سعادت بار بار عطا فرمائے، اور اس مبارک سفر کو ہمارے لیے باعثِ مغفرت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنائے۔ آمین
#محمد #بیت #اللہ

Address

Jhang Sadar
Jhang Sadar
35200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Iqbal kamal Research Circle posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share