14/05/2026
🌹 مرشدِ کامل، سفیرِ راہِ حق
انسانی زندگی کے دو پہلو ہیں؛ ایک مادی اور دوسرا روحانی۔ مادی دنیا میں ہم قدم قدم پر رہنمائی کے محتاج ہیں، چاہے وہ دنیاوی تعلیم ہو یا کوئی ہنر۔ صوفیائے کرام کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ "روحانیت کے صحرا میں بغیر نقشہ اور رہنما کے قدم رکھنا خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔"
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ دو ٹوک فرماتے ہیں کہ جس طرح ایک بیمار اپنا علاج خود نہیں کر سکتا، اسی طرح نفس کی بیماریوں میں گھرا انسان کسی روحانی طبیب (مرشد) کے بغیر شفایاب نہیں ہو سکتا۔ آپؒ کا ایک مشہور قول ہے: "جو شخص کسی ایسے استاد سے تربیت نہیں پاتا جو اسے نفس کے مکر و فریب سے آگاہ کرے، اس کی مثال اس پودے کی ہے جو جنگل میں خود بخود اگتا ہے، وہ ہرا تو ہوتا ہے مگر اس پر کبھی پھل نہیں آتا۔"
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ اپنی کتاب "کشف المحجوب" میں فرماتے ہیں:
"طریقت کی راہ میں ایک استاد کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ جو شخص تنہا سفر کرتا ہے وہ بھٹک جاتا ہے۔ مرشد مرید کے لیے وہ آئینہ ہے جس میں وہ اپنی خوبیاں اور خامیاں دیکھ سکتا ہے۔"
امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ راہِ سلوک میں مرشد کی مثال اس کسان جیسی ہے جو زمین سے جھاڑیوں اور پتھروں کو نکال کر اسے اناج اگانے کے قابل بناتا ہے۔