نوحہ خواں ماسٹررانااشفاق حسین پارٹی آف بہادرپور تحصیل جلالپورپیروالا

  • Home
  • Pakistan
  • Jalalpur Pirwala
  • نوحہ خواں ماسٹررانااشفاق حسین پارٹی آف بہادرپور تحصیل جلالپورپیروالا
Directions Website

نوحہ خواں ماسٹررانااشفاق حسین پارٹی آف بہادرپور تحصیل جلالپورپیروالا ❤️سلام یاحسین علیہ السلام ❤️

19/07/2026

خطبہ امام سجاد علیہ اسلام 😭💔

19/07/2026

🚩🏴 سلام ھووی وفاداربھرا 🏴🚩







Azadari Chok Karbala Muhallah Khawajgan
Akbar Azadari Ranipur
Ishfaq Hussain Noon
Faroge Azadari Sindh
Rana Mohsin Raza
Khawaja Farman Haider
Tahir Abbas
Mumtaz Hussain
Faheem Ali Waris
Kishwar Abbas
Azadari Nagri Peer Shah Essa عزاداری اوچ بلوٹ شریف نگری پیرشاہ عیسیٰ قتال
FK Studio Azadari Channel

16/07/2026

🚩🚩نیو کلام: بہوں تھیا خرچ ہے دین تے باخدا🚩🚩

امامِ سجاد علیہ السلام کا اونٹ وہ بے زبان تھا... مگر اپنے مولا کی جدائی میں غمزدہ تھا...امام زین العابدینؑ کا ایک وفادار...
13/07/2026

امامِ سجاد علیہ السلام کا اونٹ وہ بے زبان تھا... مگر اپنے مولا کی جدائی میں غمزدہ تھا...

امام زین العابدینؑ کا ایک وفادار اونٹ تھا۔ وہی اونٹ جس نے بائیس مرتبہ اپنے مولا کے ساتھ بیت اللہ کا سفر کیا۔ گرمی کی تپش ہو یا ریگزاروں کی مشقت، وہ ہر سفر میں امامؑ کا ہمسفر رہا۔ لیکن اس پورے عرصے میں رحمتِ مجسم امام سجادؑ نے کبھی ایک مرتبہ بھی اس پر تازیانہ نہیں اٹھایا۔ محبت اور شفقت سے پروان چڑھنے والا وہ بے زبان جانور اپنے آقا کی مہربانی کو خوب پہچانتا تھا۔

شہادت سے ایک رات پہلے بھی امام سجادؑ کو اپنے بعد اسی وفادار ساتھی کی فکر تھی۔ آپؑ نے اہلِ خانہ سے فرمایا:

"میرے اس اونٹ کا خیال رکھنا۔"

پھر وہ لمحہ آ گیا جب مدینہ کی فضائیں یتیم ہو گئیں، سجدوں کا تاجدار خاموش ہو گیا، اور زخمِ کربلا اٹھائے ہوئے وہ دل ہمیشہ کے لیے دھڑکنا چھوڑ گیا۔

کہتے ہیں جیسے ہی امام زین العابدینؑ کو سپردِ خاک کیا گیا، وہ وفادار اونٹ بے قرار ہو اٹھا۔ کسی نے اسے راستہ نہیں دکھایا، مگر وہ سیدھا اپنے مولا کی قبرِ مطہر تک پہنچ گیا۔ قبر سے لپٹ گیا، اپنی گردن زمین پر مارنے لگا، بے اختیار آہیں بھرنے لگا، اور اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہنے لگے۔

کاش انسان بھی اپنے امام کی جدائی پر اتنا ہی تڑپنا سیکھ لیتا جتنا ایک بے زبان جانور تڑپ رہا تھا۔

امام محمد باقرؑ کو اطلاع دی گئی۔ آپؑ اپنے والدِ بزرگوار کی قبر پر تشریف لائے۔ اس وفادار اونٹ کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور فرمایا:

"آرام کرو... سکون اختیار کرو... اٹھو، خدا تمہیں برکت عطا فرمائے۔"

اونٹ خاموشی سے اٹھا اور واپس چلا گیا، مگر دل کہاں ماننے والا تھا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ پھر قبرِ مطہر پر حاضر ہو گیا، پھر وہی گریہ، وہی بے قراری، وہی جدائی کا ماتم۔

دوسری مرتبہ بھی امام باقرؑ نے اسے واپس بھیجا، لیکن تیسری بار جب وہ پھر اپنے مولا کی قبر سے آ لپٹا تو امام باقرؑ نے درد بھرے لہجے میں فرمایا:

"اسے چھوڑ دو... یہ جانتا ہے کہ اب اس کی زندگی بھی زیادہ باقی نہیں۔"

اور واقعی ایسا ہی ہوا۔

روایت بیان کرتی ہے کہ امام زین العابدینؑ کی شہادت کو تین دن بھی مکمل نہ ہوئے تھے کہ وہ وفادار اونٹ بھی اپنے مولا کی جدائی سہہ نہ سکا اور اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

یہ صرف ایک اونٹ کی موت نہیں تھی، بلکہ وفاداری کا وہ باب تھا جو انسانوں کے لیے بھی ایک سوال چھوڑ گیا:

جس امامؑ کی محبت میں ایک بے زبان جانور تین دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکا، ہم دعوائے محبت کرنے والے ان کی یاد سے کتنے وابستہ ہیں؟

📚 ماخذ: بصائر الدرجات، ص 353، حدیث 15۔

ؑ #کربلا #امامِ_زین_العابدینؑ

26 -محرم واقعہ عیسائی راہب اور سرِ امام حُسینؑ بعض تاریخی روایات کے مطابق جب واقعۂ کربلا کے بعد اہلِ بیتؑ کے قافلے اور ا...
13/07/2026

26 -محرم واقعہ عیسائی راہب اور سرِ امام حُسینؑ

بعض تاریخی روایات کے مطابق جب واقعۂ کربلا کے بعد اہلِ بیتؑ کے قافلے اور امام حسینؑ کے سرِ اقدس کو کوفہ سے شام لے جایا جا رہا تھا تو راستے میں ایک مقام پر، جسے بعض روایات میں حلب کے قریب ایک عیسائی خانقاہ (دیر) قرار دیا گیا ہے، یزیدی لشکر نے رات کے وقت قیام کیا۔

خانقاہ کے راہب نے رات کے وقت دیکھا کہ جس نیزے پر ایک سرِ مبارک نصب ہے، اس سے ایک نور آسمان کی طرف بلند ہو رہا ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ فرشتوں کی تسبیح و تقدیس کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ یہ غیر معمولی منظر دیکھ کر راہب نے لشکر والوں سے پوچھا کہ یہ کس کا سر ہے؟

سپاہیوں نے جواب دیا کہ یہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نواسے، امام حسین بن علی علیہما السلام کا سر ہے، جنہیں کربلا میں شہید کیا گیا ہے۔

یہ سن کر راہب پر شدید اثر ہوا اور اس نے کہا:

«"اگر حضرت عیسیٰؑ کا کوئی نواسہ ہمارے درمیان ہوتا تو ہم اسے اپنی آنکھوں کا نور بناتے، لیکن تم اپنے نبیؐ کے نواسے کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہو!"»

پھر اس نے لشکر والوں کو بڑی مقدار میں مال و زر دے کر درخواست کی کہ ایک رات کے لیے سرِ مبارک اس کے حوالے کر دیں۔ بعض روایات کے مطابق سپاہیوں نے لالچ میں آ کر اس کی درخواست قبول کر لی۔

راہب نے سرِ اقدس کو انتہائی ادب و احترام کے ساتھ اپنی عبادت گاہ میں رکھا، خوشبو سے معطر کیا اور پوری رات گریہ و زاری، عبادت اور تعظیم میں گزار دی۔ صبح ہونے سے پہلے وہ امام حسینؑ کی عظمت سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسلام قبول کر لیا۔ بعض روایات میں ہے کہ بعد ازاں وہ امام حسینؑ کے محبین میں شمار ہونے لگا۔

تاریخی مصادر:
- ، ج 2، واقعۂ راہب۔
، باب معجزاتِ رأس الحسینؑ۔

جب امام حسینؑ زخمی حالت میں میدانِ کربلا میں تھے تو شبث بن ربعی آپؑ کو قتل کرنے کے ارادے سے آگے بڑھا، لیکن چند لمحوں بعد...
13/07/2026

جب امام حسینؑ زخمی حالت میں میدانِ کربلا میں تھے تو شبث بن ربعی آپؑ کو قتل کرنے کے ارادے سے آگے بڑھا، لیکن چند لمحوں بعد واپس ہٹ گیا۔ راستے میں سنان بن انس نخعی اس سے ملا، جو چھوٹی داڑھی والا، پست قد اور برص کا مریض تھا، اور شکل و صورت میں شمر سے بہت مشابہ تھا۔ اس نے کہا: "تم نے حسینؑ کو کیوں نہیں قتل کیا؟ تمہاری ماں تم پر روئے!" شبث نے جواب دیا: "اے سنان! جب حسینؑ نے میری طرف اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو مجھے وہ آنکھیں رسولِ خدا ﷺ کی آنکھوں جیسی محسوس ہوئیں، اس لیے میں قتل نہ کر سکا۔"

پھر سنان امام حسینؑ کے قریب آیا۔ اس کے ہاتھ میں تلوار تھی اور وہ آپؑ کے سینۂ مبارک پر بیٹھنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اسی دوران امام حسینؑ نے اس کی طرف نگاہ فرمائی۔ یہ دیکھ کر سنان پر لرزہ طاری ہوگیا، اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور وہ خوف زدہ ہو کر بھاگ کھڑا ہوا۔

شمر نے اسے دیکھ کر کہا: "تمہاری ماں تم پر روئے! تم کیوں واپس آگئے؟" سنان نے کہا: "جب حسینؑ نے میری طرف نگاہ کی تو مجھے ان کے والد امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ کی ہیبت یاد آگئی، میں خوف زدہ ہوگیا اور انہیں قتل نہ کر سکا۔"

شمر نے کہا: "تم تو جنگ میں بزدل ہو! خدا کی قسم، حسینؑ کو قتل کرنے کا سب سے زیادہ حق دار میں ہی ہوں۔"

اس کے بعد شمر آگے بڑھا، امام حسینؑ کے سینۂ مبارک پر بیٹھ گیا، اپنی تلوار آپؑ کے گلے پر رکھی اور ذبح کرنے کا ارادہ کیا۔ امام حسینؑ نے آنکھیں کھول کر فرمایا: "ہلاکت ہو تم پر! تم کون ہو، جو اتنی بڑی جسارت کر رہے ہو؟"

شمر نے کہا: "میں شمر بن ذی الجوشن ہوں، جو تمہارے سینے پر بیٹھا ہے۔"

امامؑ نے فرمایا: "کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟"

اس نے جواب دیا: "ہاں، تم حسین بن علی ہو، تمہارے نانا رسول اللہ ﷺ ہیں، تمہاری والدہ فاطمہ زہراؑ ہیں، اور تمہارے بھائی حسنؑ ہیں۔"

امامؑ نے فرمایا: "افسوس تم پر! جب تم یہ سب جانتے ہو تو پھر مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہو؟"

شمر نے کہا: "میں یہ کام یزید کے انعام کے لیے کر رہا ہوں۔"

امام حسینؑ نے فرمایا: "تمہارے لیے کیا زیادہ محبوب ہے؟ یزید کا انعام یا میرے نانا رسول اللہ ﷺ کی شفاعت؟"

شمر نے کہا: "یزید کے انعام کا ایک دانق بھی مجھے تمہارے نانا کی شفاعت سے زیادہ محبوب ہے۔" (دانق ایک بہت چھوٹا سکہ تھا، جو دینار کا ایک جز سمجھا جاتا تھا۔)

پھر امام حسینؑ نے فرمایا: "میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، اپنا پیٹ مجھے دکھاؤ۔"

اس نے اپنا پیٹ کھولا تو وہ برص زدہ تھا، گویا کتے کے پیٹ کی مانند، اور اس کے بال خنزیر کے بالوں جیسے تھے۔

امام حسینؑ نے فرمایا: "میرے والد نے میرے نانا رسول اللہ ﷺ سے روایت کی تھی کہ جو شخص مجھے قتل کرے گا وہ برص زدہ ہوگا، اس کا پیٹ کتے کے پیٹ جیسا اور اس کی شکل خنزیر کی مانند ہوگی۔ خدا کی قسم! اے دشمنِ خدا، وہ شخص تم ہی ہو۔"

قندوزی حنفی، ينابيع المودة لذوي القربى، باب 60 (ابو مخنف سے منقول)۔
ابو مخنف، مقتل الحسين (منقولاتِ تاریخی)۔

🚩نیو کلام: ھاۓالوداع نانے دا روضہ ھاۓالوداع🚩
04/07/2026

🚩نیو کلام: ھاۓالوداع نانے دا روضہ ھاۓالوداع🚩

6 Muharram Markzi Jaloos Bamaqam Mohalla Jafriyaa JalalPurPirWala...

🚩🚩قدیمی مصائبی کلام🚩🚩🏴🏴اُٹھ تُوں لہنڑاں زینبؑ دا معمولی گال نہیں🏴🏴
04/07/2026

🚩🚩قدیمی مصائبی کلام🚩🚩
🏴🏴اُٹھ تُوں لہنڑاں زینبؑ دا معمولی گال نہیں🏴🏴

6 Muharram Markzi Jaloos Bamaqam Mohalla Jafriyaa JalalPurPirWala...

🚩🚩کلام: غازیؑ توُں ول نہ آسیں🚩🚩
04/07/2026

🚩🚩کلام: غازیؑ توُں ول نہ آسیں🚩🚩

Nyd de videoer og den musik, du holder af, upload originalt indhold, og del det hele med venner, familie og verden på YouTube.

Address

Jalalpur Pirwala

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when نوحہ خواں ماسٹررانااشفاق حسین پارٹی آف بہادرپور تحصیل جلالپورپیروالا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share