27/05/2026
*جنت کے سرداروں اور وارثانِ آلِ محمدؐ کی عید صحرا میں-🥀🖤*
سن 60 ہجری، سلطنتِ یزید میں 10 ذوالحجہ کا دن...
وہ چھریاں جو بظاہر قربانی کے جانوروں کے لیے تیز کی جا رہی تھیں، صرف ایک ماہ بعد 10 محرم کو خانوادۂ رسولؐ پر چلنی تھیں۔
ایک طرف مسلمان عیدِ قرباں کی تیاریوں میں مصروف تھے، اور دوسری طرف آلِ محمدؐ کا قافلہ بے یار و مددگار، بے گھر و بے ساماں، کربلا کی سمت رواں دواں تھا۔
نہ قربانی کے جانور،
نہ نئے لباس،
نہ ضیافتیں،
نہ خوشیوں کی رونقیں...
یہاں تک کہ پانی بھی ناپ کر استعمال کیا جا رہا تھا۔
سوچنے کی بات ہے کہ 10 ذوالحجہ کو 10 محرم سے کیسے جدا کیا جا سکتا ہے؟
علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا:
غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسینؑ، ابتدا ہے اسماعیلؑ
آج بھی دو مقامات پر کسمپرسی کی تصویریں دکھائی دیتی ہیں:
ایک مقام صفا و مروہ ہے، جہاں ہاجرہؑ اپنے ننھے اسماعیلؑ کی پیاس بجھانے کیلئے پانی کی تلاش امید، اضطراب اور دعا کے ساتھ دوڑ رہی ہیں۔
دوسرا مقام کربلا ہے، جہاں خیمۂ حسینؑ میں کئی معصوم اسماعیلؑ تشنہ لب ہیں اور کئی ہاجرائیںؑ صبر و رضا کا پیکر بنی ہوئی ہیں۔