P&JK 1

P&JK 1 Pakistan & Jammu Kashmir are one nations.

02/01/2021

مرد اور عورتوں کے بارے میں حیران کن انکشافات !!

عورت کے چہرے پر تمام رنگ مرد کی وجہ سے آتے ہیں چاہے وہ خوشی ہو یا غم کے ۔کہتے ہیں کہ عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت کے بغیر کوئی گھر گھر نہیں ہوتا ۔جس طرح مردوں کو با حیا عورتیں اچھی لگتی ہیں اسی طرح عورتوں کو بھی با کردار مرد ہی اچھے لگتے ہیں ۔ عورت کی اصل خوبصورتی اس کی شرم و حیا اور خوش اخلاقی ہے اگر یہ نہ ہو تو حسین سے حسین عورت بھی اپنی نافرمانی بدکلامی اور بد اخلاقی سے بدصورت لگنے لگتی ہے ۔عورت اگر خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ تھوڑی پاگل اور چلبلی بھی ہو تو اس سے محبت نہیں عشق ہو جاتا ہے ۔

ورت ولی نہیں ہوتی مگر عورت کے بنا ولی بھی نہیں ہوتا ۔ مکان تو سامان اور اینٹوں سے بن جاتے ہیں لیکن گھر بنانے کے لیے ایک نیک عورت کی ضرورت ہوتی ہے ۔اسی لئے ہمیں چاہئے ہم ایک دوسرے کو عزت اور احترام دیں ہر ایک کا ادب کریں ۔کیونکہ اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی ہر مخلوق کی ایک اپنی اہمیت ہے ۔شوہر: ارے بھائی ! تمہیں گلاس بیچنے کی پڑی ہے ،اس چھوٹے سے گلاس میں میرا ہاتھ نہیں گھستا ، میں اسے دھوؤں گا کیسے؟ٹیچر نے بچے کی نوٹ بک پر ریمارکس لکھے۔ پڑہائی میں اچھا ہے ، مگر لڑکیوں میں زیادہ رہنا پسند کرتاہے ، میں ایک طریقہ استعمال کرنے والی ہوں امید ہے ٹھیک ہوجائیگا۔
ماں نے ریمارکس پڑھے تو ٹیچر کو لکھا۔ شکریہ اگر کام بن جائے تو مجھے بھی بتانا میں وہ طریقہ اسکے والد پر استعمال کرونگی۔ہمارے محلے میں ایک شیخ صاحب رہتے ہیں، 44 سال کی عمر میں اُن کی شادی ہوئی ایک دن فرماتے ہیں کہ جب میں 23 سال کا تھا تو ڈائری میں 21 ایسی خوبیاں نوٹ کی جو میری مُتوقع بیوی میں ہونی چاہیئیں وقت گزرتا گیا لیکن ایسی بیوی نہ مِل سکی جس میں 21 خوبیاں ہوں، اور شیخ صاحب ہر سال ایک دو خوبیاں کاٹتے رہے کہ چلو یہ خوبیاں نہ بھی ہوں تو لڑکی قبول ہے۔

31/12/2020

گرفتیم عالم بہ مردی و زور

ولیکن نہ بردیم با خود بہ گور

اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ دنیا پر طاقت اور ہمت سے قبضہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن خود اپنے آپ کو دفن تک نہیں کیا جا سکتا۔

31/12/2020

نو روز و نو بہار و مے و دلبرے خوش است

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

’نو روز ہے، نئی بہار ہے، مے ہے، خوبصورت محبوب ہے، بابر بس عیش و مستی ہی میں لگا رہ کہ دنیا دوبارہ نہیں ہے۔‘

31/12/2020

*جاوید چوہدری*
*زیرو پوائنٹ*

*ایچ ٹو او*

عرفان جاویداور میںروز رات ٹیلی فون پر لمبی گفتگو کرتے ہیں‘ یہ تازہ ترین کتابوں کا ذکر کرتے ہیں اور میں انہیں پچھلی رات کی فلم کے بارے میں بتاتا ہوں یا کوئی ایسا شہر‘ گائوں یا ایسی جگہ کی داستان سناتا ہوں جہاں میں گیا اور میں نے وہاں کوئی نئی چیز دیکھی‘ یہ سرکاری ملازم ہیں مگر ان کی روح میں ایک دانشور‘ ایک مخلص انسان چھپا ہے‘ یہ سارا دن دفتری کام کرتے ہیں‘فائلوں پر دستخط کرتے ہیں‘ میٹنگز بھگتاتے رہتے ہیں مگر جوں ہی شام ہوتی ہے تو ان کے اندر کا مخلص انسان اور دانشور جاگ جاتا ہے اور پھریہ سونے تک کتابوں اور خیالات میں تیرتے رہتے ہیں۔میں نے کل رات انہیں فون کیا تو یہ امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن کے بارے میں
پڑھ رہے تھے‘ ان کا کہنا تھا پورے ملک کا میڈیا جوبائیڈن پر گوگل کو کاپی کر رہا ہے‘ یہ گوگل سے امریکا کے نئے صدر کے بارے میں مواد اٹھاتے ہیں اور ترجمہ کر کے لکھ دیتے ہیں‘ کوئی شخص قارئین کو نئی بات نہیں بتا رہا‘ میں نے ہنس کر کہا‘ جوبائیڈن کو صرف ایک پاکستانی جانتا اور سمجھتا ہے ‘ وہ حسین حقانی ہے اور اس پر پاکستان میں پابندی ہے‘ یہ ہنس پڑے‘ میں نے عرض کیا ’’لیکن اب حسین حقانی کی سزا ختم ہو جائے گی‘ یہ آپ کو عنقریب عمران خان کے دائیں بائیں دکھائی دیں گے‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’وہ کیوں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’یہ واحد پُل ہے جو حکومت کو امریکا کے نئے صدر کے ساتھ ملا سکتا ہے‘ حسین حقانی اپنی اس ویلیو سے واقف ہیں‘ یہ انتہائی شاطر انسان ہیں‘ یہ اب عمران خان پر جال پھینکیں گے اور وزیراعظم اس جال سے بچ نہیں سکیں گے‘‘ عرفان جاوید غیرسیاسی دانشور ہیں‘ یہ بور ہونے لگے اور یوں ہم جوبائیڈن پر واپس آ گئے‘ ان کا کہنا تھا ’’میں حیران ہوں جوبائیڈن امریکی ہونے کے باوجود شراب نہیں پیتے‘‘ میں نے ہنس کر کہا ’’یہ سگریٹ بھی نہیں پیتے‘‘عرفان جاوید نے قہقہہ لگایا‘ میں نے عرض کیا ’’آپ یہ جان کر حیران ہوں گے امریکا کے پچھلے گیارہ صدور میں سے کوئی شخص شراب پیتا تھا اور نہ سگریٹ اور ان میں ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں‘ یہ بھی شراب اور سگریٹ نہیں پیتے‘ صدر جارج بش نے اپنی جوانی بڑی دیوانی گزاری تھی‘ یہ شروع میں الکوحلک ہو گئے تھے لیکن پھر یہ ٹھیک ہوئے اور صدر بننے تک انہیں شراب چھوڑے 29 برس ہوچکے تھے‘ ٹرمپ میں بھی سارے عیب تھے لیکن یہ بھی سگریٹ اور شراب نہیں پیتے تھے‘

30/12/2020

میں نے اپنی عمر بتائی اور ان کی پوچھی تو معلوم ہوا ۹۵ برس کے تھے اور ان کی والدہ کا انتقال ۱۰۵ برس کی عمر میں ہوا تھا

میں نے زرا ہچکچاہٹ سے پوچھا کہ اچھی صحت کا راز تو بتائیں
کہنے لگے بس بیمار نہ پڑو؟
میں نے کہا یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔
ھنستے ہوئے کہنے لگے بس کی بات ہے
میں نے کہا آپ بتائیں میں ضرور عمل کرونگا
میرے قریب آکر آہستہ سے کہنے لگے منہ میں کبھی کوئی چیز بسم اللّٰہ کے بغیر نہ ڈالنا چاہے پانی کا قطرہ ہو یا چنے کا دانہ؟
مین خاموش سا ہوگیا

پھر کہنے لگے اللّٰہ نے کوئی چیز بے مقصد اور بلاوجہ نہیں بنائی ہر چیز میں ایک حکمت ہے اور اس میں فائدے اور نقصان دونوں پوشیدہ ہیں- جب ہم کوئی بھی چیز بسم اللّٰہ پڑھ کر منہ میں ڈالتے ہیں تو اللّٰہ اس میں سے نقصان نکال دیتا ہے-

ہمیشہ بسم اللّٰہ پڑھ کر کھاؤ پیو اور دل میں بار بار خالق کا شکر ادا کرتے رہو اور جب ختم کرلو تو بھی ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرو کبھی بیمار نہ پڑوگے- میری انکھیں تر ہوچکی تھیں ہماری مسجدوں کے ملا اور عالموں سے یہ کتنا بڑا عالم تھا؟

دیر ہورہی تھی میں سلام کرکے اٹھنے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے، کھانے کے حوالے سے آخری بات بھی سنتے جاؤ،
میں جی کہہ کر پھر بیٹھ گیا

کہنے لگے اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھا رہے ہو تو کبھی بھول کے بھی پہل نا کیا کرو چاہے کتنی ہی بھوک لگی ہو پہلے سامنے والی کی پلیٹ میں ڈالو اور وہ جب تک لقمہ اپنے منہ میں نہ رکھ لے تم نہ شروع کیا کرو

میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ اسکا فائدہ پوچھوں؟

لیکن وہ خود ہی کہنے لگے یہ تمہارے کھانے کا صدقہ ادا ہوگیا اور ساتھ ہی اللّٰہ بھی راضی ہوا کہ تم نے پہلے اس کے بندے کا خیال کیا- یاد رکھو غذا جسم کی اور بسم اللّٰہ روح کی غذا ہے- اب بتاؤ کیا تم ایسے کھانے سے بیمار پڑ سکتے ہو؟
میں بے ساختہ ان کے چہرے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر تیزی سے جانے کے لئے مڑ گیا کہ دین کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہمُ اور ہماری اولاد کتنی محروم ہے

عالم ڈائری مورخہ ۶ اپریل ۲۰۱۹

30/12/2020

میں کزن میرج کے خلاف تھا تو میری بیوی کزنز کے ہی خلاف تھی، پھر بھی ہماری شادی ہو گئی، ایسا نہیں ہے کہ ہماری محبت کی شادی تھی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ضد کی شادی تھی، نفرت کی شادی تھی، غصے کی شادی تھی، انتقام کی شادی تھی، بچپن سارا لڑتے ہوئے گزرا تھا، اسے میں پسند نہیں تھا اور مجھے وہ کبھی ایک آنکھ نہیں بھائی تھی، مگر گھر والوں نے ہمارے گٹھ جوڑ کا فیصلہ کر لیا تو پھر نہ میرے گھر چھوڑنے کی دھمکی کام آئی اور نہ ہی اس کے زہر کھانے کے ڈراوے نے کوئی کام کیا -
شادی کی رات وہ پلنگ پر گھونگٹ پھیلائے میری منتظر بھی نہ تھی، جب میں کمرے میں داخل ہوا تو دل ہی دل میں اس کی گردن مڑوڑنے اور اُسے قتل کر ڈالنے کے کئی ارادے بنا کے رد کر چکا تھا اور وہ جائے نماز پر بیٹھی ہچکیاں لے رہی تھی، شاید رو رہی تھی، تب میں نے جانا کہ مجبور صرف میں نہیں تھا، وہ مجھ سے زیادہ مجبور تھی -
زندگی میں پہلی بار اس کے آنسوؤں نے میرا دل زخمی کیا، وہ اپنا گھر، اپنے ماں باپ، بہن بھائی اور دوست سب چھوڑ کر میرے لیے آئی تھی اور میں اس کو ضد بنائے بیٹھا تھا، مجھے اس کو جھکانے کا شوق تھا اور اس کو روتے دیکھ کر میرے سینے میں جو درد جاگا تھا میں نے سوچا اگر یہ واقعی جھک گئی تو کیا مجھے خوشی ہو گی؟ دل سے آواز آئی کہ مجھے پھر نہ کہنا دھڑکنے کے لیے -
میں فوراً کمرے سے باہر نکل گیا جب دس منٹ بعد میں چائے کی دو پیالیاں لیے کمرے میں داخل ہو رہا تھا تو وہ آنسو صاف کرتے جائے نماز سمیٹ رہی تھی -
میں نے اس کے ہاتھ سے جائے نماز لے کر تپائی پر رکھی اور چائے کی پیالی اس کے ہاتھ میں، اس کے چہرے کی حیرت مجھے لطف دینے لگی تھی، میں نے مسکرا کر پوچھا: " کیا چائے کی پیالی اتنی طاقت ور ہے کہ بچپن کے دشمن دوست بن جائیں؟ "
وہ ایک دم کھلکھلا کر ہنسی اور مجھے جواب مل گیا -
" ہاں بالکل چائے کی پیالی میں اتنی طاقت ہے کہ سالوں پرانی دشمنی دوستی میں بدل سکتی ہے" 💟

30/12/2020

• 👈 *ماں_تو_پھر_ماں_ہی_ھوتی_ھے* 👉

ایک عورت اپنے تین ماہ کا بچہ ڈاکٹر کو دکھانے آئی،کہ ڈکٹر صاحب میرے بچے کے کان میں درد ہیں،ڈاکٹر نے بچے کا معائینہ کیا اور کہا واقع اس کے کان میں انفیکشن ہوا ہے اور نوٹ پیڈ اٹھا کر کچھ دوائی لکھی اور رخصت کیا،میں حیران تھا،عورت جانے لگی تو میں نے آواز دے کر انہیں روکا،
وہ رک کر پیچھے دیکھنے لگی جیسے کچھ بھول گئی ہو، میں نے کہا بہن جی آپ کا بچہ تین ماہ اور سات دن کا ہے جو بول بھی نہیں سکتا،تو آپ کو کیسے پتا چلا کہ اس کے کان میں تکلیف ہے،
وہ مسکرائی اور میری طرف رخ کرکے کہنے لگی،
بھائی جی، آپ کان کی تکلیف پہ حیران ہیں میں اس کے رگ رگ سے واقف ہوں،یہ کب روتا ہے،کب جاگتا ہے، کب سوتا ہے،مجھے اس کے سارے دن کا شیڈول پتہ ہے کیوں کہ میں ماں ہوں اس کی،
انسان کو جب کوئی تکلیف ہو تو اس کے دن بھر کا شیڈول بدل جاتا ہے،اور کھانے پینے سونے جاگنے کے اوقات بدل جاتے،طبیعت خراب ہونے سے انسان ھر وقت بے چین رہتا ہے،کل رات سے میرا بچہ بھی خلاف معمول روئے جا رہا روئے جارہا ہے،رات جاگ کہ گزاری میں نے اس کے ساتھ،
صبح کو میں نے غور کیا تو بچہ جب رو رہا تھا تو ساتھ ہی اپنا ننھا ہاتھ اپنے ننھی سی کان کی طرف لے جا رہا تھا،میں بچے کو اس کے باپ کے پاس لے گئی،کہ اس کہ کان میں درد ہے،وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے کہ مجھے کیسے پتا چلا،
اس نے بچے کے کان پہ ھاتھ رکھا تو بچہ اور زور سے رونے لگا،اور میں بھی بچے کی تکلیف دیکھ کے رونے لگی،اپنے بچے کی تکلیف برداشت نہیں کرسکی،کیوں کہ میں ماں ہوں،
عورت چلی گئی اور میں نم آنکھوں سے دیر تک کھڑا سوچتا رہا کہ ماں تین ماہ کے بچے کا دکھ درد سمجھ سکتی ہیں اور میں روزانہ ماں سے کتنی دفعہ جھوٹ بولتا ہوں اور وہ یقیناً میرے سارے جھوٹ جانتی ہیں کیوں کہ وہ ماں ہیں،،،تب سے میں نے کبھی ماں سے جھوٹ نہیں بولا،
” *اللہ* “ سب ماؤں کو زندہ سلامت رکھیں اور جن کی ماں دنیا سے پردہ کر گئیں ہوں ” *اللہ* “ انہیں جنت الفردوس میں داخل کریں،،،،،،،
آمین

لہجہ دھیمہ کیجئے جناب مجھے اونچی آواز صرف آذان کی پسند ہے ❤
30/12/2020

لہجہ دھیمہ کیجئے جناب مجھے اونچی آواز صرف آذان کی پسند ہے ❤

30/12/2020
20/11/2018

Asslam.o.alaikum
Kashmir & Pakistan

08/04/2017

Good evening

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when P&JK 1 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share