Owais Qurni

Directions Contact the place of worship

Owais Qurni This page is all about teaching people about humanity and making people aware about the truth

this page will teach you about humanity and will make you aware about the truth

20/08/2026

سائنس کو نہ دشمن بنائیں، نہ دین

ایک عجیب صورتِ حال ہمارے معاشرے میں بار بار سامنے آتی ہے۔ ایک طرف کچھ مذہبی لوگ ہیں جو سائنس کی کسی نئی تحقیق یا دریافت کا نام سنتے ہی دفاعی کیفیت میں آجاتے ہیں، جیسے ہر نئی سائنسی بات ان کے ایمان کے خلاف کوئی حملہ ہو۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ ہیں جو سائنس کی کامیابیوں سے اتنے متاثر ہوجاتے ہیں کہ سائنس کو صرف علم کا ذریعہ نہیں بلکہ تقریباً ایک مکمل دین اور فلسفۂ حیات بنا لیتے ہیں، اور پھر مذہبی لوگوں کو پسماندہ، جاہل یا عقل سے خالی سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔

میرے خیال میں دونوں رویے درست نہیں۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سائنس آخر ہے کیا؟

سائنس ہمیں یہ سمجھنے کا ایک منظم طریقہ دیتی ہے کہ یہ مادی کائنات کس طرح کام کرتی ہے۔ ہم مشاہدہ کرتے ہیں، تجربہ کرتے ہیں، پیمائش کرتے ہیں، نتائج کو بار بار جانچتے ہیں اور پھر کوئی نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔

زمین کیوں گھومتی ہے؟

بیماری کیسے پھیلتی ہے؟

DNA کیسے کام کرتا ہے؟

ستارے کیسے بنتے ہیں؟

دوائی جسم پر کیا اثر کرتی ہے؟

یہ سب سائنس کے سوالات ہیں۔

ایک مسلمان کو ان سوالات سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟

اگر زمین حقیقت میں حرکت کرتی ہے تو اسے ساکن کہنے سے اللہ کی عظمت میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اور اگر کسی سائنسی دعوے میں غلطی ہے تو تحقیق کے ذریعے اس کی غلطی سامنے آجائے گی۔

حقیقت کو حقیقت رہنے دیجیے۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بعض مذہبی لوگ کسی پرانے عالم کی سائنسی تشریح کو دین کا حصہ سمجھ لیتے ہیں۔ پھر اگر جدید مشاہدہ اس تشریح کے خلاف آجائے تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید دین خطرے میں پڑگیا۔

حالانکہ دین خطرے میں نہیں ہوتا۔

صرف ہماری تشریح غلط ہوسکتی ہے۔

قرآن حق ہے، مگر قرآن کی ہماری سمجھ معصوم نہیں۔

مفسر، عالم اور سائنس دان سب انسان ہیں۔ ہر شخص اپنے زمانے کے علم کے مطابق کسی نتیجے تک پہنچ سکتا ہے اور بعد میں معلوم ہوسکتا ہے کہ اس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔

ہم نے گلیلیو کے واقعے میں بھی یہی سبق دیکھا۔ مذہبی متن اپنی جگہ تھا، لیکن اس متن کی ایک مخصوص فلکیاتی تشریح کو مذہب کا لازمی حصہ سمجھ لیا گیا۔ بعد میں مشاہدات نے اس انسانی تشریح کو چیلنج کردیا۔

مسلمان کو یہی غلطی دوبارہ نہیں کرنی چاہیے۔

لیکن یہاں دوسری انتہا بھی اتنی ہی خطرناک ہے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں:

“سائنس ہی کو دین بنالو۔”

یہ جملہ بظاہر بڑا جدید معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ خود سائنس کی حدود کو نہ سمجھنے کی علامت ہے۔

سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ کیا ممکن ہے اور کیسے ممکن ہے، لیکن ہر دفعہ یہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ جو ممکن ہے، کیا اسے کرنا بھی چاہیے؟

ایک بہت سادہ مثال لیجیے۔

فرض کریں کسی شوہر میں اولاد پیدا کرنے کے قابل نطفہ موجود نہیں۔ جدید طب کے ذریعے یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ کسی دوسرے مرد کا نطفہ لے کر اس کی بیوی کو حاملہ کردیا جائے۔

سائنس یہاں یہ بتاسکتی ہے:

یہ کام technically ممکن ہے۔

لیکن اب سوال یہ ہے:

کیا یہ اخلاقاً بھی درست ہے؟

کیا کسی تیسرے مرد کا نطفہ ایک شادی شدہ جوڑے کے خاندانی نظام میں شامل کیا جانا چاہیے؟

بچے کا نسب کیا ہوگا؟

خاندان، والدین اور وراثت کے معاملات کیا ہوں گے؟

یہ سوال microscope نہیں حل کرے گا۔

یہاں اخلاق، قانون اور دین اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

اسلام کہتا ہے کہ نسب کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے نکاح کے باہر کسی تیسرے شخص کے نطفے کو میاں بیوی کے تولیدی عمل میں شامل کرنا جائز نہیں۔

اب غور کیجیے:

سائنس نے یہ نہیں کہا کہ یہ اخلاقاً صحیح ہے۔ سائنس نے صرف بتایا کہ یہ ممکن ہے۔

یہی بہت بڑا فرق ہے۔

مستقبل میں gene editing، embryo selection، cloning اور دوسری ٹیکنالوجیز انسان کو بہت سے ایسے کام کرنے کے قابل بنا سکتی ہیں جن کا چند نسل پہلے تصور بھی مشکل تھا۔

ایک باشعور مذہبی انسان کو یہ نہیں کہنا چاہیے:

“تحقیق بند کردو۔”

بلکہ اسے پوچھنا چاہیے:

یہ علم کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا؟

کسی موروثی بیماری کا علاج کرنے کے لیے؟

انسانی جان بچانے کے لیے؟

یا پھر انسان کو اپنی پسند کے مطابق design کرنے، کمزور طبقوں کا استحصال کرنے یا ایسی حدود توڑنے کے لیے جن کے بڑے اخلاقی نتائج ہوں؟

یعنی مذہبی شخص کا اصل اعتراض سائنس کے علم پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ بعض اوقات اس علم کے استعمال پر ہوسکتا ہے۔

یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔

دوسرا مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں سائنس کی کسی کامیابی سے بلاوجہ خدا کے انکار کا نتیجہ نکالا جاتا ہے۔

مثلاً کوئی کہتا ہے:

“دیکھو، سائنس نے DNA بدل دیا، اب خدا کہاں ہے؟”

یا:

“ہم نے مصنوعی عضو بنا لیا، اب خالق کی کیا ضرورت ہے؟”

یہ سائنس نہیں رہی۔

یہ سائنس کے نام پر ایک فلسفیانہ دعویٰ ہے۔

سائنس دان نے DNA بنایا نہیں۔ اس نے پہلے سے موجود DNA کو سمجھ کر اس میں تبدیلی کی۔

اس نے خلیہ وجود میں لانے کے بنیادی قوانین پیدا نہیں کیے۔

اس نے مادہ، توانائی اور کائنات کے قوانین عدم سے پیدا نہیں کیے۔

اس نے صرف موجود نظام کو سمجھ کر اس کے اندر کام کرنا سیکھا۔

اگر ایک انجینئر لکڑی سے میز بنا لے تو اس نے درخت، ایٹم، مادہ اور کائنات کے قوانین پیدا نہیں کردیے۔

اسی طرح اگر انسان ایک gene تبدیل کرنا سیکھ گیا تو اس سے یہ نتیجہ کہاں سے آگیا کہ:

“اب خدا کی ضرورت نہیں رہی؟”

یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ہمیں بارش کا سائنسی عمل معلوم ہوگیا، اس لیے اب کائنات کے خالق کا سوال ختم ہوگیا۔

Mechanism معلوم ہونا اور ultimate cause کا سوال ختم ہوجانا دو مختلف چیزیں ہیں۔

اسی مقام پر Science اور Scientism میں فرق سامنے آتا ہے۔

Science کہتی ہے:

“ہم اس طبیعی عمل کو اس طرح سمجھتے ہیں۔”

Scientism کہتا ہے:

“صرف وہی حقیقت ہے جو سائنس کی تجربہ گاہ میں ناپی جاسکے۔”

یہ دوسرا جملہ خود کوئی سائنسی تجربہ نہیں۔

یہ ایک فلسفیانہ عقیدہ ہے۔

اسی لیے اللہ، روح، فرشتے، آخرت اور عالمِ غیب کو microscope میں تلاش کرنا ہی category کی غلطی ہے۔

جس طرح ترازو سے درجہ حرارت نہیں ناپا جاتا، اسی طرح ہر حقیقت کو laboratory instrument سے ناپنے کی شرط بھی درست نہیں۔

یہ کہنا بھی غلط ہے کہ چونکہ سائنس فرشتے نہیں دکھاسکتی، اس لیے سائنس بے کار ہے۔

اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ چونکہ سائنس فرشتے detect نہیں کرتی، اس لیے فرشتے موجود نہیں۔

ہر علم کا اپنا دائرہ ہے۔

ایک سمجھ دار مذہبی شخص کو سائنس سے خوف نہیں ہونا چاہیے۔

اگر زمین گھومتی ہے تو گھومنے دیں۔

اگر انسان کسی بیماری کا gene دریافت کرتا ہے تو خوشی کی بات ہے۔

اگر cancer کا بہتر علاج بنتا ہے تو اسے استعمال کریں۔

اگر کوئی spacecraft کسی نئے سیارے تک پہنچتا ہے تو یہ انسان کے علم کی کامیابی ہے۔

اللہ کے بنائے ہوئے نظام کو سمجھ لینا اللہ سے بغاوت نہیں۔

لیکن اسی طرح سائنس سے محبت کرنے والے شخص کو بھی مذہبی انسان کو صرف اس لیے جاہل نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ سائنس کے ہر ممکن استعمال کو اخلاقاً جائز نہیں مانتا۔

ہوسکتا ہے وہ سائنس کا مخالف نہ ہو۔

وہ صرف یہ پوچھ رہا ہو کہ ہمیں یہ کام کرنا چاہیے بھی یا نہیں۔

یہ بہت اہم سوال ہے۔

ایٹمی توانائی سے بجلی بھی بن سکتی ہے اور شہر بھی تباہ ہوسکتا ہے۔

Chemistry سے دوا بھی بن سکتی ہے اور زہر بھی۔

Artificial Intelligence سے تعلیم اور علاج بہتر ہوسکتا ہے اور اسی technology کو دھوکے اور نقصان کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سائنس طاقت دیتی ہے۔

لیکن طاقت کا صحیح استعمال صرف طاقت کا علم نہیں سکھاتا۔

وہاں اخلاقی اصول درکار ہوتے ہیں۔

اس لیے ایک صحیح علمی رویہ یہ ہونا چاہیے:

نہ مذہبی شخص ہر نئی دریافت کو اپنے ایمان کا دشمن سمجھے، نہ سائنس کا شیدائی ہر نئی ایجاد کو خدا کے خلاف فتح قرار دے۔

مذہبی شخص کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قرآن کی ہر انسانی تشریح قرآن نہیں۔

اور سائنس کے شیدائی کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر وہ چیز جو technically ممکن ہے، ضروری نہیں کہ اخلاقاً بھی درست ہو۔

ایک طرف یہ کہنا غلط ہے:

“میرے بزرگ نے یہ کہا تھا، اس لیے پوری جدید سائنس غلط ہے۔”

دوسری طرف یہ کہنا بھی غلط ہے:

“سائنس نے یہ کام کردیا، اس لیے اب خدا، دین اور اخلاق کی ضرورت نہیں۔”

دونوں میں ایک ہی بیماری ہے:

حد سے بڑھ جانا۔

ہمارا راستہ ان دونوں کے درمیان ہے۔

سائنس سے سیکھیں۔

تحقیق کریں۔

سوال کریں۔

ثبوت قبول کریں۔

جہاں ہماری پرانی تشریح غلط ہو، اسے درست کریں۔

اور ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ انسان کی طاقت بڑھنے کے ساتھ اس کی اخلاقی ذمہ داری بھی بڑھتی ہے۔

سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔
دین اور اخلاق یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر:

سائنس کو دشمن بنانا بھی غلط ہے، اور سائنس کو خدا بنا دینا بھی۔

یہی توازن شاید آج مذہبی اور سائنسی دونوں حلقوں کو سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

#اخلاقیات #فلسفہ

29/05/2026

تکلیف دہ مشاہدات

حج کے موقع پر ایک اور بات بہت واضح مشاہدے میں آتی ہے۔۔۔

جس انسان کے عام زندگی میں جس طرح کے اخلاق اور رویے ہوتے ہیں، وہی اس موقع پر کھل کر سامنے آرہے ہوتے ہیں۔

حج کی سختیاں اور مشقتیں ہمیں پریشان نہیں کرتی ہیں، ہماری عادات، اخلاق اور رویے حج کے موقع پر بالکل واضح ہو کر سامنے آجاتے ہیں، اور یہ وہ معاملہ ہے جس کی وجہ سے انسان دوسروں کے سامنے نا چاہتے ہوئے بھی اور کوشش کے باوجود بالکل برہنہ ہوجاتا ہے۔

کچھ مشاہدات بتاتا ہوں:

سر منڈوانے کے لیے حجاموں کی دوکانوں پر دس ذوالحجہ کو شدید رش ہوتا ہے۔ لوگ قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔ ایک صاحب آتے ہیں، دو لوگوں کو باتوں میں لگاتے ہیں اور خاموشی سے قطار کے بیچ میں گھس جاتے ہیں

لندن سے آئے ہوئے ایک نوجوان حاجی ان کی اس حرکت پر گرفت کرتے ہیں جو کہ بہت دیر سے اپنی جگہ کھڑے ہوئے تھے، جس پر وہ صاحب بجائے معذرت خواہ ہونے کے، پوری سینہ زوری کے ساتھ اونچی آواز میں بولتے ہوئے کھڑے رہتے ہیں اور پہلے اپنی باری پکڑ لیتے ہیں۔

یہ وہ صاحب ہیں جن کا عام زندگی میں بھی سو فیصد یہی رویہ ہوگا، یعنی جہاں موقع ملے، بے ایمانی سے کسی اور کا حق مار لینا۔

رمی جمرات کے لیے لوگ جارہے ہیں، مقامی پولیس والے بار بار ایک قطار میں آنے کا کہہ رہے ہیں، لیکن بہت سے لوگ دوسروں کو دباتے ہوئے، اپنے ہاتھ اور جسم سے لوگوں کو روکتے ہوئے پیچھے سے آگے آکر ان سے پہلے بس میں سوار ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی عام زندگی میں سو فیصد لوگوں کا حق مارتے ہوں گے، اور وہی رویہ ان کی شخصیت کو ہزاروں لوگوں کے سامنے ننگا کررہا ہے۔ بس انہیں اس بات کا شعور نہیں ہے۔

ہمارے گروپ نے ہوٹل سے رمی کی شٹل تک کے لیے گالف کارٹ سروس رکھی ہوئی ہے جو ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اس گروپ کا حصہ ہیں۔ 4 بجے سخت گرمی میں خواتین و حضرات انتظار میں کھڑے ہوئے ہیں۔

برابر والی بلڈنگ سے ایک صاحب دو خواتین کے ساتھ نکلتے ہیں، تینوں ٹہلتے ہوئے ہمارے ہوٹل سے تھوڑا سا آگے جاتے ہیں، کارٹ جو ہماری طرف آرہی تھی، اسے پہلے روک کر اس میں بیٹھ جاتے ہیں۔ کارٹ آگے آتی ہے اب اس میں تین جگہوں پر پہلے ہی وہ بیٹھ چکے ہیں۔

ظاہر ہے کہ 500 لوگوں کے گروپ میں سب ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے۔ اب یہاں انہوں نے تین افراد کی حق تلفی کردی اور بالکل ڈھیٹ بن کر بیٹھے رہے۔ کارٹ ڈرائیور کو لوگوں نے کہا لیکن وہ غریب کس کی سنے کس کی نہ سنے۔۔۔

ان کا کوئی حق نہیں تھا کہ وہ اس پرائیویٹ کارٹ سروس کو استعمال کرتے لیکن انہوں نے پوری ڈھٹائی سے استعمال کی، اور تین افراد کا حق مار گئے۔

اترتے ہوئے میں نے کہا کہ بھائی آپ کی ڈاڑھی، ٹوپی، اور حج آپ کو نہیں بچا سکے گا کیونکہ آپ نے تین کبیرہ گناہ کردیئے ہیں اور حقوق العباد سے متعلق کردیئے ہیں۔ میں نے کہا کہ جو لوگ آپ کی وجہ سے کھڑے ہوئے رہ گئے، آپ کو ان سے معافی مانگنا لازم ہوگیا ہے۔

ابھی حج کے اعمال جاری ہیں اور ہمارے اخلاق اور رویوں میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔

کھانے کا وقت ہے، کھانا لگ چکا ہے، اب کئی خواتین و حضرات کے کھانے میں لالچ اور ندیدے پن کے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بے صبری، پلیٹ بھر لینا، دوسروں کا بالکل خیال نہ کرنا ہر کھانے کے وقت کچھ لوگوں میں نظر آرہا ہوتا ہے۔

پھر پیکج میں جوسز، آئس کریم، پھل کولڈ ڈرنک، چائے، کافی وغیرہ چوبیس گھنٹے موجود ہے۔ لیکن گودیں بھر بھر کے لے جانا، اپنے دوست احباب کو باہر سے بلا کر انہیں بھی بٹھا لینا۔ یہ وہ رویہ ہے جس میں انسان اپنی حرص اور کھانے پینے کی ہوس کو نہیں چھپا پاتا۔

کوئی چیز کھائی اور ریپر، تھیلی، پیکٹ، ڈبہ وہیں پھینک دیا۔ سگریٹ پیا اور وہیں پھینک دیا۔ گٹکا کھایا اور نظر بچا کر وہیں تھوک دیا۔ واش روم گئے اور بغیر فلیش کیے، بغیر کموڈ سیٹ صاف کیے باہر آگئے۔ پانی کی بوتلیں لی، پی کر وہیں پھینک دی۔

اصل میں انسان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ جو عادت یا رویہ آپ کے تحت الشعور یا لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے، اب وہ مستقل آپ کی عادات، اخلاق اور رویوں میں جھلکتا ہے۔ آپ اس سے خود کو روک نہیں سکتے۔

اس لیے اپنی عادات و اطوار کو درست نہج پر ڈویلپ کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔

میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ہم میں سے شاید ہی چند لوگ ہوں گے، جنہوں نے حج کو شعوری طور پر کیا ہوگا، ورنہ عام طور پہ ہم چونکہ اپنی افتاد طبع کے اسیر ہوتے ہیں تو وہی افتاد طبع ہر ہر موقع پر ظاہر ہوتی نظر آتی ہے۔

اوپر لکھے ہوئے تمام تر واقعات کا ظہور زیادہ تر پاکستانی، ہندوستانی، عراقی اور بلاد الشام (مصر، اردن، شام وغیرہ) حجاج سے ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

ملائشیا، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر، کویت اور یورپ سے آئے ہوئے حجاج اور زائرین بہت بہتر اخلاق اور رویوں کے حامل نظر آتے ہیں۔

اور ایک بار پھر یہ بات آشکار ہوتی نظر آتی ہے کہ ہمارے گھروں اور تعلیمی اداروں سے کردار اور اخلاق سازی مکمل طور پر رخصت ہوچکی ہے۔ اس میں دینی تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔

میں تو سمجھتا ہوں کہ مونٹیسوری اور اس نوعیت کی تمام تعلیم ختم کردینی چاہیے اور پہلے سات برس صرف معاشرتی اخلاقیات اور بنیادی اوصاف پر ہی کام کرنا چاہیے۔

والدین اور بڑوں کی تربیت کے لیے خصوصی انتظام اور اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔

ظاہر ہے کہ حکومتی ادارے تو اس حوالے سے بالکل صفر ہیں اور کسی قسم کا کوئی نظم بنانے پر مجھے کہیں بھی کوئی کام ہوتا نظر نہیں آتا۔

کم از کم گھروں میں، دفاتر میں، اور تعلیمی اداروں میں تو اس بات پر شدید فوکس کیا جانا چاہیے۔ مساجد میں علماء کرام کو مستقل معاشرتی اخلاقیات کو اپنا موضوع بنانا چاہیے، اور اس کا آغاز کرنا چاہیے " جوتے اور چپلیں کیسے اتاریں اور رکھیں"۔۔۔۔ اس موضوع سے،

اسی طرح قطار کیسے بنتی ہے اور دین اسلام بارے میں کیا کہتا ہے۔

کھانا کیسے لیا جائے اور کیسے کھایا جائے۔

موٹرسائیکل اور گاڑی کی پارکنگ دین اسلام کی روشنی میں۔

سڑک پر موٹرسائیکل اور گاڑی چلانے کا طریقہ اور دین اسلام کی ہدایات۔

روزمرہ کے وہ تمام معاملات جہاں قوم کی ایک عظیم اکثریت دوسروں کے حقوق مارنے کی مرتکب ہوتی ہے لیکن انہیں اس بات کا شعور تک نہیں ہے۔

فقہی مسائل صرف علماء کی گفتگو یا ضرورت کے مطابق ڈسکس کیے جائیں،جبکہ فوکس معاشرتی اخلاقیات پر رکھا جائے۔

پورے پاکستان کی مساجد کا ہر جمعے کو ایک ہی موضوع پر خطبہ ہو اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء اگلے 52 جمعوں کے خطبات پہلے سے ترتیب دے لیں۔ یہاں کوئی فروعی مسائل نہیں ہیں لیکن اس کا امپیکٹ اگلے 5 سے 10 سال میں بہت بڑا ہوسکتا ہے۔

یہ باتیں میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں اور اپنی ورکشاپس میں بھی بات کرتا ہوں لیکن حج کے موقع پر ہونے والے مشاہدات نے دل توڑ کر رکھ دیا ہے کہ ہم کس قسم کے لوگ بن گئے ہیں۔

اللہ تعالٰی ہمیں معاف کردے اور ہمارے حج کو قبول فرما لے۔ آمین

یمین الدین احمد
28 مئی 2026ء
بمطابق 12 ذوالحجہ 1447ھ
منی، مکہ مکرمہ۔

27/04/2026

فضل بن فضل کے قلم سے۔۔۔

رشتوں میں صاف گو بنیں

ہمارے جاننے والوں میں دو احباب کاروباری پارٹنر تھے۔ ایک ستھرا دین دار اور دوسرا نرا دنیا دار تھا۔ آپس میں کاروباری روابط کے ساتھ گہرا تعلق بھی تھا۔ ایک دوسرے کے گھر آنا جانا، میل ملاپ اور بچوں کی ایک دوسرے سے گپ شپ بھی تھی۔ دنیادار کی بچیاں یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں اس لیے روشن خیالی میں پردے سے ماورا تھیں جبکہ دیندار کے لڑکے بھی اچھے پڑھے لکھے تھے لیکن سب باشرع و دیندار تھے اور گھر کی خواتین میں پردے کا عمومی رواج تھا۔
ایک دن دین دار پارٹنر نے دنیا دار سے اپنے بیٹے کےلئے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگا تو دنیادار نے بہت کھلا و صاف جواب دیا: میری بیٹیاں یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں، پردہ بالکل نہیں کرتیں اور کھلے ماحول و فضا کی عادی ہیں۔ جبکہ آپ کے ہاں پابندیاں و سختیاں بہت ہیں۔ گھر سے نکلنا اور اجنبی مردوں سے میل ملاپ پر سخت روک ہے، اسی طرح پردہ بھی ضروری ہے۔ شاید میری بیٹی آپ کے مذہبی آنگن میں وقت نہ گزارا سکیں اور اسی وجہ سے کل کلاں ہمارے درمیان بہت بڑا رخنہ پڑجائے۔ اس لیے رشتے کے بارے میں آپ سے پیشگی معذرت کرتا ہوں۔ یہ بھی کہا چونکہ وہ پڑھی لکھی ہیں، ہوسکتاہے کہ وہ اپنے لیے خود لڑکا پسند کرچکی ہوں۔ اگر آپ پھر بھی بہ ضد ہیں تو میں اپنی بچی کی ذہن سازی کرکے رشتے کےلئے آمادہ کرلیتا ہوں لیکن کل کو کوئی تنازع کھڑا ہوگیا تو پھر میں ذمہ دار نہیں ہوں گا۔ اس اختلاف و تنازع سے ہماری کاروباری شراکت داری پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ دین دار پارٹنر نے یہ تفصیلات بہت توجہ سے سنی تو بجائے باریکی سمجھنے کہ اس بات کا گہرا رنج ہوا کہ میرے دوست نے مجھ سے بچی کا رشتہ منع کیا۔ یوں نتیجتاً شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور فرط جذبات میں کاروبار کا بٹوارہ بھی کردیا۔

میرے ایک دوست ہیں ان کی چھوٹی بہن ذہنا بولی سی ہے۔ ان کی طبعیت میں طفلانہ پن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب یہ ٹھیک رہتی ہے تو مکمل گھر کا کام سنبھالیتی ہے، ہم سب سے خوب بات اور گپ شپ کرتی ہے لیکن کبھی تھوڑا صدمہ پہنچے تو کئی کئی دن تک سیدھے منہ بات نہیں کرتی، کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتی،کمرے میں بیٹھی رہتی ہے اور کھانا میں احتجاج کرتی ہے۔ میرے دوست کا کہناہے کہ جب بھی ان کا رشتہ آتا ہے تو میں اباجی سے کہتا ہوں کہ آپ ان کو بہن کی عادات و مزاج کے بارے میں صاف بتائیں کہ اس میں بچگانہ عادات ہیں۔ کل کو پھر آپ گلہ کریں اور کوئی ناخوشگواری پیدا ہو تو پہلے سے آگاہی ضروری ہے۔
موجودہ دور میں اولاد کے تقریبا رشتے جھوٹ کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ سماج کے اندر راست بازی نہیں رہی ہر چیز میں دھوکہ اور فراڈ در آیا ہے۔ ہمیں اپنی بیٹی اور بیٹے کے بارے میں سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود پھر بھی غلط بیانی سے کام لیا جاتاہے۔ لڑکی والے کہتے ہیں: ہماری بیٹی تو خدمت کی خوگر ہے۔ ہمارا دس سے بارہ افراد پر مشتمل کنبہ تو میری بیٹی ہی اکیلے سنبھالتی ہے۔ بھابھیوں کو بھی کام کرنے نہیں چھوڑتی۔ سویرے اٹھتی ہے اور سورج کی کرنیں پھیلنے سے پہلے پہلے ہی پورا کام نمٹا لیتی ہے۔ اللہ نے بڑے اچھے اخلاق سے نوازا ہے، بہت ہی ملنسار و عاجز خو ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کہا جاتا ہےتاکہ لڑکے والے متاثر ہوکر رشتہ پکا کرلیں۔ حقیقت میں وہ لڑکی انتہائی بدخو اور بدزبان ہوتی ہے۔ کام چور اور ہڈ حرام ہوتی ہے۔ گھر میں والدین کی تنبیہ کے باوجود بھی کوئی کام نہیں کرتی۔امور خانہ داری سے مکمل ناآشنا ہوتی ہے۔ اب ایسی لڑکی پرائے گھر میں جاکر کیا اپنا گھر بنائی گی۔ کیونکہ ان کو تو بڑے فضائل سنائے گئے تھے اور اسی کے سائے میں رخصتی ہوئی تھی لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ تو فضائل کیا فضیلت سے بھی عاری نکلی۔
بات بات پر کاٹنے دوڑتی ہے۔ میکے کی موج مستی کی دہائیاں دیتی ہے۔ کوئی کام کہو تو بھنویں چڑھاتی ہے۔ صبح و شام موبائل میں گھسی رہتی ہے۔ کسی سے سیدھے منہ بات سیکھی نہیں ہوتی۔ چھوٹے بڑے کی تمیز اس کی ڈکشنری میں بھی نہیں ہوتی۔ اس لیے میری ایک ہمدردانہ گزارش ہے کہ اگر آپ کی بچی امور خانہ داری میں کمزور ہے یا زبان کی سخت ہے اور غصیلی ہے تو صاف کہہ دیا جائے۔اگر لڑکے والے اعلی ظرف ہوں گے اور ان کو بچی کی شکل و صورت پسند آگئی ہے تو تب بھی سیرت پر سمجھوتہ کرکے رخصتی کے بعد سنبھال لیں گے۔ ورنہ جھوٹ کا انجام چند مہینوں میں بچی کا گھر اجڑنے کی صورت میں سامنے اجائے گا۔ صرف گھر نہیں اجڑے گا بلکہ لاکھوں کا نقصان، بعض اوقات جانی نقصان اور بچی کو ہمیشہ کےلیے داغ دار بھی ہو جائیگی۔ کیونکہ گھر ٹوٹنے کے بعد عموما دونوں اطراف سے الزامات کی بوچھاڑ ہوتی ہے جو لڑکے کو کم لڑکی کو ذیادہ بدنام و برباد کرتی ہے۔
اسی طرح لڑکا نشے کا عادی ہے، کام چور ہے، اس کی مجلس انتہائی گھٹیا ہے، گیدرنگ اوباش و بدقماش کے ساتھ ہے، رات دن گھر سے باہر رہتا ہے، والدین کا صریح نافرمان ہے، کوئی نوکری نہیں کرتا، گھر والے اور محلے والے سب تنگ آچکے ہیں۔ تقریباً خرافات اس میں پائے جاتے ہیں۔لیکن رشتہ اسی لیے کروارہے ہیں کہ شاید شادی کے بعد ٹھیک ہوجائے۔ ویسے سوچنے کی بات ہے کہ آپ کے تن سے پیدا بیٹا آپ خود نہیں سنبھال پارہے، آپ سے اس کی تربیت قابو نہیں آرہی اور ایک بچی کے حوالے کرکے سدھرنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ان تمام رذائل کے باوجود بھی رشتہ کرتے وقت بیٹے کے سو صفات بیان کیےجاتے ہیں۔ خوب بڑھا چڑھا کر بات کی جاتی ہے۔ بعد میں راز کھلے تو کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد ایسا ہواہے۔ ورنہ تو مکمل پارسا تھا۔ آپ کی بیٹی میرے بیٹے کو سنبھال نہ سکی۔
کتنے افسوس اور ک۔ ظرفی کی بات ہے کہ اپنی تمام کوتاہیوں کو بےچاری لڑکی کی جھولی میں ڈال دیا جاتا ہے۔
اسی طرح بعض اَوقات بچی مطلقہ یا بیوہ ہوتی ہے لیکن اس کا بھی چھپایا جاتا ہے۔کنواری کہہ کر رشتہ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے سماج میں اب بات کہاں راز میں رہتی ہے۔ اسی طرح لڑکا بھی ایک بیوی یا دو کو چھوڑ چکا ہوتا ہے لیکن رشتے کے وقت کہا جاتا ہے کہ پہلی شادی ہے۔
شرم آنی چاہئیے ایسے والدین کو جو اولاد کا رشتہ کراتے وقت منافقت سے کام لیتے ہیں۔
خدارا!جھوٹ پر مبنی رشتے نہ کریں بلکہ صاف صاف بتایا کریں۔ اگر بیٹی اور بیٹے کی قسمت میں رشتہ ہوا تو تمام کمیوں کے باوجود بھی گھر آباد ہوجائیگا لیکن جھوٹ کی بنیادی پر آبادی کی امید نہیں لگائی جاسکتی۔ البتہ سچ کی وجہ سے بات ہمیشہ کےلیے سلجھ سکتی ہے۔ کیونکہ جب تمام حالات سامنے آئیں گے تو سوچ و بیچار اور صلاح و مشورے کا موقع ملے گا۔ اگر کوئی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود بھی رشتہ کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو ضرور وہ لڑکا یا لڑکی کو سنبھالے گا بھی۔
یہ میری ذاتی رائے ہے۔ آپ کھل کر اختلاف کرسکتے ہیں۔
نشرمکرر
#معاشرتیات

23/04/2026

اپنے وقت کو کیسے منظم کریں؟ Time Management
مفتی عبد المتین صاحب

اس نشست میں مفتی عبد المتین صاحب نے جس مخلصانہ اور دل نشین انداز میں اپنی بات رکھی ہے، اس کی کارگزاری کچھ اس طرح ہے:
مفتی عبد المتین صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز بڑے ہی بے تکلف اور مخلصانہ انداز میں اپنی ذات سے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ برسوں سے جامعۃ الرشید اور دارالعلوم کراچی جیسے مستند اداروں میں درس و تدریس سے وابستہ رہے، لیکن 2010 تک وہ 'ٹائم مینجمنٹ' کے تصور سے بالکل ناواقف تھے۔ انہوں نےکہاکہ شروع میں انہیں اس اصطلاح سے وحشت ہوتی تھی، لیکن جب معلوم ہوا کہ اس کا مطلب "کاموں کی ترجیح" اور "کارکردگی بڑھانا" ہے، تو انہوں نے اسے سیکھنے کا پکا ارادہ کر لیا۔ چونکہ سارا مواد انگریزی میں تھا، تو انہیں اسے سمجھنے میں تین چار سال لگ گئے، اور اب ان کا عزم یہ ہے کہ مدارس کے طلباء کو ان کی اپنی زبان میں یہ جدید مہارتیں سکھائیں تاکہ جو مشکلات انہوں نے دیکھیں، نئی نسل ان سے بچ کر براہِ راست کام کی طرف آ سکے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے سب سے پہلا اور بنیادی سبق "دورانیے کی شناخت (Duration)" کا دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چاہے وہ جمعہ کا خطبہ ہو، کسی کتاب کی تدریس ہو، یا یہاں تک کہ صدر (شہر کا مرکز) تک کا سفر ہو، اگر آپ کو وقت کے دورانیے کا علم نہیں ہے، تو آپ کبھی بھی اپنے ہدف تک صحیح طریقے سے نہیں پہنچ پائیں گے۔ انہوں نے زندگی کو بھی ایک محدود دورانیہ قرار دیا جو موت پر ختم ہو جائے گا، اس لیے اولاد کی تربیت ہو یا والدین کی خدمت، ہر جگہ وقت کا حساب رکھنا لازمی ہے۔

وقتTime)) کےچور
آج کے دور میں انہوں نے" اسمارٹ فون "کو وقت کا سب سے بڑا چور قرار دیا۔ بیان کا یہ بہت ہی دلچسپ حصہ تھا جہاں انہوں نے 'وقت کے چوروں' کی شناخت کے لیے پانی کی ٹینکی کی مثال دی۔ انہوں نے نقشہ کھینچا کہ اگر ایک ٹینکی کے سارے نلکے (ضائع کرنے کے راستے) کھلے ہوں، تو آپ جتنا مرضی پانی بھر لیں، ٹینکی کبھی نہیں بھرے گی۔ طلباء سے مکالمہ کرتے ہوئے انہوں نے موبائل کے 20 سے زائد نقصانات گنوائے، جن میں دماغی انتشار، حافظے کی کمزوری، تعلقات میں دوری اور اخلاقی خرابیاں سرِ فہرست ہیں۔آخر میں انہوں نے سائنسی پیرائے میں سمجھایا کہ موبائل کس طرح ہماری توجہ کو پارہ پارہ کرتا ہے۔ انہوں نے 'پانی میں پتھر' کی مثال دی کہ جیسے لہریں بننے کے بعد پانی کو ساکن ہونے میں وقت لگتا ہے، بالکل ویسے ہی مطالعہ یا تحقیق کے دوران موبائل کی ایک گھنٹی یا صرف دو منٹ کا استعمال ہمارے دماغی تسلسل کو توڑ دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دماغ کو دوبارہ اسی علمی سطح (Frequency) پر آنے میں تقریباً 20 منٹ لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا طالب علم گھنٹوں کتاب کھول کر تو بیٹھتا ہے لیکن اس کا ذہن حاضر نہیں ہوتا۔

ہماری نیند کیسے صحت مند بنے گی؟
جس طرح موبائل کا لمحہ بھر استعمال ہمارے ذہنی توجہ کو منتشر کر دیتا ہے بلکل یوں ہی وہ ہماری نیند پر بھی ا ثر انداز ہوتا ہے۔ نیند کا اصل مقصد جسمانی توانائی (Energy) کو بحال کرنا ہے۔ انہوں نے قرآنی اصطلاح 'سبات' کا ذکر کیا جس کا مطلب ہے ہر چیز سے کٹ کر فارغ ہو جانا تاکہ جسم کی مرمت ہو سکے۔ انہوں نے ایک بہت اہم سائنسی نکتہ سمجھایا کہ ہمارے جسم کی 60 سے 80 فیصد ری چارجنگ رات 10 بجے سے 2 بجے کے درمیان ہوتی ہے، لیکن افسوس کہ اسمارٹ فون کی اسکرین کا استعمال اس عمل میں رکاوٹ بنتا ہے ۔اگر کوئی 10 بجے موبائل چھوڑ کر سو بھی جائے، تو اس کا دماغ حقیقی معنوں میں ڈیڑھ گھنٹے بعد سکون کی حالت میں جاتا ہے، جس کی وجہ سے صبح بیدار ہونے پر وہ مطلوبہ توانائی میسر نہیں ہوتی۔

دورانِ تدریس وقت کیسے بچائیں؟
پھر انہوں نے تدریس اور علمی زندگی کے کچھ آداب سکھائے۔ انہوں نے طلباء کو سوال کرنے کی جرات پیدا کرنے پر زور دیا کہ اگر بات سمجھ نہ آئے تو فوراً پوچھ لیں تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ ساتھ ہی اساتذہ کو ایک دلچسپ 'مرغے اور چور' کی کہانی کے ذریعے یہ فن سکھایا کہ اگر کسی سوال کا جواب آگے آ رہا ہو، تو ایک خاص اشارے سے وقت بچایا جا سکتا ہے ۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی سوال کا جواب نہ آتا ہو تو "میں نہیں جانتا" کہنا یا معذرت کر لینا علمی کمال ہے، نہ کہ عیب، کیونکہ ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا موجود ہے ۔

وقت کی پابندی آپ کی قدر و اہمیت بڑھاتی ہے
انہوں نے وقت کی تنظیم کو سمجھانےکے لیئے احمد اور زین نامی دو فرضی کرداروں کا تقابلی جائزہ لیا۔ احمد ایک منظم، وقت کا پابند اور ذمہ دار انسان ہے جو
پکنک کے لیے وقت پر پہنچتا ہے، کاروبار میں وعدے پورے کرتا ہے اور اپنے بچوں کو دیا ہوا وقت بھی نبھاتا ہے ۔ اس کے برعکس، زین ایک سست، لاپرواہ اور وعدہ خلاف انسان ہے جو نہ صرف ساتھیوں کا وقت ضائع کرتا ہے بلکہ 'ٹوپی کرانے' (بہانے بازی) کی وجہ سے اپنے کاروبار اور گھریلو زندگی کو بھی داغدار کر لیتا ہے ۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ اگر آپ کو اپنے بچوں کے لیے رشتہ ڈھونڈنا ہو یا کسی کے ساتھ کاروبار کرنا ہو، تو کیا آپ 'زین' جیسے شخص کا انتخاب کریں گے جو "ٹوپی کرانے" (بہانے بازی) اور وعدہ خلافی میں مشہور ہو؟۔ سب کا جواب نفی میں تھا۔ یہاں انہوں نے ایک بہت بڑا نکتہ سمجھایا کہ معاشرے میں 'احمد' جیسے منظم اور دیانتدار لوگوں کی 'ڈیمانڈ' (طلب) بہت زیادہ ہے، لیکن مدارس اور تعلیمی ادارے جو 'سپلائی' دے رہے ہیں، وہ اکثر 'زین' جیسے غیر منظم افراد کی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ قسمت خراب ہے یا حالات سازگار نہیں، حالانکہ مسئلہ ان کی اپنی غیر منظم زندگی اور صفات میں ہوتا ہے ۔

اپنا وژن اور منزل طے کریں۔۔۔!
پھر انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے مدارس میں طلبہ 10 سال لگا دیتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے جانا کہاں ہے، جسے انہوں نے 'وژن' کی کمی قرار دیا۔انہوں نے زور دیا کہ جب تک منزل طے نہیں ہوگی، وقت کی تنظیم کا فائدہ نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں انہوں نے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کی مثال دی کہ وہ اتنے کم وقت میں اتنا عظیم علمی کام کیسے کر لیتے ہیں؟ ۔ انہوں نے حاضرین کو حیران کر دیا جب یہ بتایا کہ مفتی صاحب نے اپنی تفسیر "آسان ترجمہ قرآن" کا بڑا حصہ سفر کے دوران، ہوائی جہاز میں، بحرین اور چمن کے اسفار میں، اور یہاں تک کہ حج کے دوران میدانِ عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے لکھا ہے ۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جس کا وژن واضح ہو، وہ وقت کے ہر لمحے کو کارآمد بنا لیتا ہے۔

وقت کو منظم کرنے کے 5 سنہری اصول
اپنے اہداف (Goals) کو حاصل کرنے اور وقت کو بہترین انداز میں منظم کرنے کے لیے درج ذیل پانچ بنیادی اصولوں پر عمل کرنا بے حد مفید ہے:
1. ہدف کو تحریر کریں: سب سے پہلے اپنے ہدف کو ایک مثبت انداز میں لکھیں، جیسے کہ "میں یہ کام کر لوں گا"۔
2. ہدف کو قابلِ پیمائش (Measurable) بنائیں: آپ کا ہدف ایسا ہونا چاہیے جسے ناپا جا سکے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کمپوزنگ کر رہے ہیں تو یہ طے کریں کہ آپ کو 10 صفحات کو دو یا ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل کرنا ہے۔ اسی طرح، اگر ایک 300 صفحات کی کتاب پڑھنی ہے، تو روزانہ 10 صفحات پڑھنے کا ہدف مقرر کریں تاکہ وہ 10 دنوں میں مکمل ہو جائے۔
3. وقت کا تعین کریں: کسی بھی ہدف کے لیے دن کا ایک مخصوص وقت ضرور مقرر کریں، جیسے کہ صبح 8 سے 10 بجے کے درمیان یا مغرب سے عشاء کے درمیان کا وقت۔
4. ہدف کا حقیقت پر مبنی ہونا: آپ کا ہدف ایسا ہونا چاہیے جو حقیقت پر مبنی ہو اور آپ کے پاس اسے کرنے کی صلاحیت اور اسباب موجود ہوں۔ مثلاً، کمپوزنگ کے لیے کمپیوٹر کا موجود ہونا اور آپ کو ٹائپنگ آنا ضروری ہے، اسی طرح مطالعہ کے لیے کتاب کا پاس ہونا اور پڑھنا آنا شرط ہے۔
5. احتساب کا نظام: آپ کا کوئی ایسا محاسب دوست ہونا چاہیے جو روزانہ آپ سے آپ کے اہداف کی تکمیل کے حوالے سے پوچھے۔ اگر ایسا دوست دستیاب نہ ہو تو آج کے اس ڈیجیٹل دور میں آپ اپنے احتساب کے لیے الارم کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔

وقت مینج کرنے کی اہم تکنیک: "چار Q"
آخر میں انہوں نے ایک بہت ہی اہم تکنیکی نکتہ سمجھایا کہ کام کی چار قسمیں ہوتی ہیں، جنہیں انہوں نے Q1 سے Q4 تک کے خانوں (Quadrants) میں تقسیم کیا۔
Q1۔۔۔اہم اور ہنگامی کام Q2۔۔۔اہم مگرہنگامی نہیں 3Q۔۔۔غیر اہم مگر ہنگامی کام Q4۔۔۔نہ اہم نہ ہنگامی کام
انہوں نے بتایا کہ ہم اکثر اپنا وقت ان کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں جو نہ اہم ہوتے ہیں اور نہ ہی فوری (ارجنٹ)، جیسے سوشل میڈیا یا میچ دیکھنا، جبکہ اصل کامیابی ان کاموں پر توجہ دینے میں ہے جو اہم تو ہیں لیکن فوری نہیں (Q2)، جیسے کہ اپنی صلاحیتیں بڑھانا یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا وغیرہ۔

Q1 اور Q2: کی مثالیں
انہوں نے بتایا کہ جب ہم 'کیو ٹو' (Q2) یعنی ان کاموں پر توجہ نہیں دیتے جو "اہم تو ہیں مگر فوری نہیں"، تو وہ کام خود بخود 'کیو ون' (Q1) یعنی "ہنگامی صورتحال" بن جاتے ہیں ۔انہوں نے موٹر سائیکل کی چین کی مثال دی کہ جب وہ 'کڑکڑ' کی آواز کرے تو وہ ایک پیغام ہے کہ اسے ٹھیک کروا لو
(یہ Q2 ہے)، لیکن اگر اسے نظر انداز کیا جائے تو وہ عین ضرورت کے وقت ٹوٹ جاتی ہے اور پھر اسے ٹھیک کروانا ایمرجنسی (Q1) بن جاتا ہے ۔
اسی طرح اگر کوئی طالب علم وقت پر مطالعہ نہیں کرتا یا کوئی اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتا، تو امتحان کے آخری ایام یا بڑھاپے کی بیماریاں اسے شدید پریشانی میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔

Q3: کی مثال
انہوں نے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کے دفتر کا آنکھوں دیکھا حال سنایا۔ انہوں نے ایک طالب علم کو کھڑا کر کے وہاں لگے "فلٹر" کا نقشہ کھینچا۔ حضرت کے دفتر کے باہر ایک تحریر لگی ہے جس میں بڑے ہی ادب سے ان تمام کاموں سے معذرت کی گئی ہے جو حضرت کے اصل علمی کام میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، جیسے کہ بنا پڑھے کسی کتاب پر تقریظ لکھنا، تعویذات دینا، یا بغیر وقت لیے ملاقات ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر بڑے لوگ یہ "فلٹر" نہ لگائیں تو ان کا سارا وقت غیر ضروری کاموں (Q3) میں ضائع ہو جائے اور وہ کبھی اتنا بڑا علمی کام نہ کر پائیں ۔

وقت کو یوں منظم کیا جاتا ہے۔۔۔!
آخر میں انہوں نے ایک حیران کن موازنہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں اور بڑے لوگوں میں فرق یہ ہے کہ وہ ایک تو اہم کاموں کو ارجنٹ بننے سے قبل ہی حل کر لیتے ہیں اور یوں انکے ارجنٹ کام کم و بیش ہی سامنے آتے ہیں اور اس سے ارجنٹ کاموں کا بہت سا وقت "کیو ٹو (2Q)" کو مل جاتا ہے اور وہ اپنے آنے والے اہم کاموں کو نپٹاتے ہیں۔دوسرے وہ ارجنٹ مگر غیر اہم کاموں کو بھی کافی حد تک کم کر کے "کیوتھری (3Q)" کا بھی کافی حصہ "کیو ٹو (2Q)" کو دے دیتے ہیں۔اور تیسرے وہ اپنی زندگی سے "کیو فور (Q4)" یعنی فضول اور لغو کاموں کو بلکل ہی نکال دیتے ہیں تو اسکا سارا حصہ اور وقت "کیو ٹو (2Q)" کو مل جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے پا س اپنے اہم کاموں کو پورا کرنے کے لیے بہت وقت ہوتا ہے، ان کا ایک دن ہمارے چھ دنوں کے برابر ہو جاتا ہے اور ان کے دن کی تاثیر 18 گھنٹے کی ہوتی ہے جبکہ ہماری بمشکل 3 گھنٹے کی۔ اسی برکت اور تنظیم کی بدولت حضرت تھانویؒ نے 1200 کتابیں لکھیں اور حکیم سعید صاحب نے 80 ہزار صفحات۔

اپنی توانائی کا درست استعمال اور ذہنی پاکیزگی
زندگی میں کامیابی یہ جاننا سب سے زیادہ ضروری ہے کہ اپنی توانائیاں کہاں اور کیسے خرچ کی جائیں، اور اپنے وقت کو کس طرح منظم کیا جائے۔ہمیں اپنی توانائی کو ان جگہوں پر خرچ کرنا چاہیے جہاں اس کی واقعی ضرورت ہو اور جہاں سے کوئی فائدہ یا مثبت نتیجہ حاصل ہو سکتا ہو، اسے فالتو اور بے مقصد کاموں میں ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے کراچی کا ایک دلچسپ واقعہ بہترین مثال ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ سڑکوں پر لگی چھوٹی لائٹوں کو نشے کے عادی افراد چرا کر
کباڑیوں کو فروخت کر دیا کرتے تھے۔ جب متعلقہ کمپنی اس صورتحال سے پریشان ہوئی تو انہوں نے اس کا ایک انوکھا اور زبردست حل نکالا۔ انہوں نے لائٹوں کا مواد ایسا رکھا کہ اگر اسے آگ لگائی جائے تو وہ دھواں بن کر اڑ جاتا تھا۔ جب نشے کے عادی افراد نے ان نئی لائٹوں کو کباڑی کے پاس لے جا کر جلایا تو وہ راکھ بن کر اڑ گئیں۔ اس کے بعد انہیں یہ بات سمجھ آ گئی کہ اب ان لائٹوں سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ملنے والا، لہٰذا انہوں نے انہیں چرانا اور وہاں اپنی توانائی ضائع کرنا چھوڑ دی۔
اس کے علاوہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
• اچھے کاموں کی بار بار تکرار کرنی چاہیے تاکہ یہ باتیں دوسروں تک بھی پہنچیں اور آپ خود بھی انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا سکیں۔
• اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ گناہ دماغ میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں جس کے بعد وہاں علم کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچتی۔
• جس طرح ایک ہی برتن میں دودھ اور پیشاب کو اکٹھا نہیں رکھا جا سکتا، بالکل اسی طرح ایک ہی دماغ میں گناہ اور علم ایک ساتھ نہیں ٹھہر سکتے۔ اس لیے علم کے حصول کے لیے اپنے وقت اور خود کو گناہوں سے بچانا لازم ہے۔

انہوں نے اس دعا پر بات ختم کی کہ اللہ ہمیں بھی وقت کی قدر کرنے اور بڑوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔

24/03/2026

آج کا جہاد، وقت کا فریضہ اور عصر حاضر کی سب سے بڑی دینی ضرورت یہ ہے کہ لا دینیت کی اس طوفانی موج کا مقابلہ کیا جائے، جو عالم اسلام کے سرے سے گزر رہی ہے، نہیں! بلکہ آگے بڑھ کر اس کے قلب و مرکز پر حملہ کیا جائے۔

وقت کا تجدیدی کام یہ ہے کہ امت کے نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقے میں اسلام کے اساسات و عقائد، اس کے نظام و حقائق اور رسالت محمدی پر وہ اعتماد واپس لایا جائے، جس کا رشتہ اس طبقے کے ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے۔

آج کی سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ اس فکری اضطراب اور ان نفسیاتی الجھنوں کا علاج بہم پہنچایا جائے، جن میں آج کا تعلیم یافتہ نوجوان بری طرح گرفتار ہے، اور اس کی عقلیت اور علمی ذہن کو اسلام پر پوری طرح مطمئن کر دیا جائے۔

آج کا سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ جاہلیت کے وہ بنیادی افکار جو دل و دماغ میں گھر کر گئے ہیں، ان سے علم اور عقل کے میدانوں میں نبرد آزمائی کی جائے، یہاں تک کہ اسلام کے اصول و مبادی پورے ایمانی جذبات کے ساتھ ان کی جگہ لے لیں!

کامل ایک صدی گزرتی ہے کہ یورپ ہمارے نوجوان اور ذہین طبقے پر چھاپے مار رہا ہے، شک والحاد، نفاق و ارتیاب کا ایک طوفان ہے، جو اس نے ہمارے دل و دماغ میں بھر پاکر رکھا ہے، غیبی اور ایمانی حقائق پر اعتماد متزلزل ہور ہا ہے، اور سیاست اور اقتصاد کے مادہ پرستانہ نظریات اس جگہ پر قابض ہور ہے ہیں۔

کامل ایک صدی سے اس شکست و ریخت کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن ہمیں اس کے مقابلے کی کوئی فکر نہیں ہوئی، ہم نے اس کی کوئی پروا نہیں کی کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق قدیم علمی ترکہ پر اضافہ کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوئی کہ یورپ کے ان فلسفوں کو سمجھیں اور پھر ان کا علمی محاسبہ بلکہ سرجنوں کی طرح ان کا پوسٹ مارٹم کریں۔

ہمارا سارا وقت سطحی بحثوں کی نذر ہوتا رہا، یہاں تک کہ اس صدی کے آخر میں ہمارے سامنے، گویا ایک یہ منظر آیا کہ ایمان و عقیدہ کی دنیا متزلزل ہے، اور ایک ایسی نسل تیار ہوکر برسر اقتدار آ چکی ہے، جو نہ اسلام کے عقائد و مبادی پر ایمان رکھتی ہے، نہ اسلامی جذبات اور اسلامی حمیت سے معمور ہے۔

اور نہ اس کا کوئی علاقہ اپنی مومن و مسلم قوم سے اس کے سوا ہے کہ قومیت کے خانے میں اس کا شمار بھی مسلمانوں میں ہوتا ہے، یا اگر کچھ تعلق ہے، تو وہ محض سیاسی مصالح کی حد تک! بس اس کے سوا کوئی تعلق نہیں!!

اور اب اس سے بھی آگے بڑھ کر صورت حال یہ ہے کہ یہ لا دینی مزاج اور لا دینی انداز فکر، ادب و ثقافت اور صحافت و سیاست کے راستے سے جمہور تک پہنچ چکا ہے، اور مسلمان قوموں کے سر پر عمومی پیمانے کی لا دینیت کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

خاکم بدہن! وقت کی رفتار وہ وقت قریب لا رہی ہے کہ اسلام کو زندگی کے میدان سے کہیں بے دخل کرکے نہ رکھ دیا جائے۔

مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ

Address

Street No 24 G 8/4
Islamabad
051

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Owais Qurni posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Owais Qurni:

Shortcuts

Share