Owais Qurni

Owais Qurni This page is all about teaching people about humanity and making people aware about the truth

this page will teach you about humanity and will make you aware about the truth

29/05/2026

تکلیف دہ مشاہدات

حج کے موقع پر ایک اور بات بہت واضح مشاہدے میں آتی ہے۔۔۔

جس انسان کے عام زندگی میں جس طرح کے اخلاق اور رویے ہوتے ہیں، وہی اس موقع پر کھل کر سامنے آرہے ہوتے ہیں۔

حج کی سختیاں اور مشقتیں ہمیں پریشان نہیں کرتی ہیں، ہماری عادات، اخلاق اور رویے حج کے موقع پر بالکل واضح ہو کر سامنے آجاتے ہیں، اور یہ وہ معاملہ ہے جس کی وجہ سے انسان دوسروں کے سامنے نا چاہتے ہوئے بھی اور کوشش کے باوجود بالکل برہنہ ہوجاتا ہے۔

کچھ مشاہدات بتاتا ہوں:

سر منڈوانے کے لیے حجاموں کی دوکانوں پر دس ذوالحجہ کو شدید رش ہوتا ہے۔ لوگ قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔ ایک صاحب آتے ہیں، دو لوگوں کو باتوں میں لگاتے ہیں اور خاموشی سے قطار کے بیچ میں گھس جاتے ہیں

لندن سے آئے ہوئے ایک نوجوان حاجی ان کی اس حرکت پر گرفت کرتے ہیں جو کہ بہت دیر سے اپنی جگہ کھڑے ہوئے تھے، جس پر وہ صاحب بجائے معذرت خواہ ہونے کے، پوری سینہ زوری کے ساتھ اونچی آواز میں بولتے ہوئے کھڑے رہتے ہیں اور پہلے اپنی باری پکڑ لیتے ہیں۔

یہ وہ صاحب ہیں جن کا عام زندگی میں بھی سو فیصد یہی رویہ ہوگا، یعنی جہاں موقع ملے، بے ایمانی سے کسی اور کا حق مار لینا۔

رمی جمرات کے لیے لوگ جارہے ہیں، مقامی پولیس والے بار بار ایک قطار میں آنے کا کہہ رہے ہیں، لیکن بہت سے لوگ دوسروں کو دباتے ہوئے، اپنے ہاتھ اور جسم سے لوگوں کو روکتے ہوئے پیچھے سے آگے آکر ان سے پہلے بس میں سوار ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی عام زندگی میں سو فیصد لوگوں کا حق مارتے ہوں گے، اور وہی رویہ ان کی شخصیت کو ہزاروں لوگوں کے سامنے ننگا کررہا ہے۔ بس انہیں اس بات کا شعور نہیں ہے۔

ہمارے گروپ نے ہوٹل سے رمی کی شٹل تک کے لیے گالف کارٹ سروس رکھی ہوئی ہے جو ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اس گروپ کا حصہ ہیں۔ 4 بجے سخت گرمی میں خواتین و حضرات انتظار میں کھڑے ہوئے ہیں۔

برابر والی بلڈنگ سے ایک صاحب دو خواتین کے ساتھ نکلتے ہیں، تینوں ٹہلتے ہوئے ہمارے ہوٹل سے تھوڑا سا آگے جاتے ہیں، کارٹ جو ہماری طرف آرہی تھی، اسے پہلے روک کر اس میں بیٹھ جاتے ہیں۔ کارٹ آگے آتی ہے اب اس میں تین جگہوں پر پہلے ہی وہ بیٹھ چکے ہیں۔

ظاہر ہے کہ 500 لوگوں کے گروپ میں سب ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے۔ اب یہاں انہوں نے تین افراد کی حق تلفی کردی اور بالکل ڈھیٹ بن کر بیٹھے رہے۔ کارٹ ڈرائیور کو لوگوں نے کہا لیکن وہ غریب کس کی سنے کس کی نہ سنے۔۔۔

ان کا کوئی حق نہیں تھا کہ وہ اس پرائیویٹ کارٹ سروس کو استعمال کرتے لیکن انہوں نے پوری ڈھٹائی سے استعمال کی، اور تین افراد کا حق مار گئے۔

اترتے ہوئے میں نے کہا کہ بھائی آپ کی ڈاڑھی، ٹوپی، اور حج آپ کو نہیں بچا سکے گا کیونکہ آپ نے تین کبیرہ گناہ کردیئے ہیں اور حقوق العباد سے متعلق کردیئے ہیں۔ میں نے کہا کہ جو لوگ آپ کی وجہ سے کھڑے ہوئے رہ گئے، آپ کو ان سے معافی مانگنا لازم ہوگیا ہے۔

ابھی حج کے اعمال جاری ہیں اور ہمارے اخلاق اور رویوں میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔

کھانے کا وقت ہے، کھانا لگ چکا ہے، اب کئی خواتین و حضرات کے کھانے میں لالچ اور ندیدے پن کے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بے صبری، پلیٹ بھر لینا، دوسروں کا بالکل خیال نہ کرنا ہر کھانے کے وقت کچھ لوگوں میں نظر آرہا ہوتا ہے۔

پھر پیکج میں جوسز، آئس کریم، پھل کولڈ ڈرنک، چائے، کافی وغیرہ چوبیس گھنٹے موجود ہے۔ لیکن گودیں بھر بھر کے لے جانا، اپنے دوست احباب کو باہر سے بلا کر انہیں بھی بٹھا لینا۔ یہ وہ رویہ ہے جس میں انسان اپنی حرص اور کھانے پینے کی ہوس کو نہیں چھپا پاتا۔

کوئی چیز کھائی اور ریپر، تھیلی، پیکٹ، ڈبہ وہیں پھینک دیا۔ سگریٹ پیا اور وہیں پھینک دیا۔ گٹکا کھایا اور نظر بچا کر وہیں تھوک دیا۔ واش روم گئے اور بغیر فلیش کیے، بغیر کموڈ سیٹ صاف کیے باہر آگئے۔ پانی کی بوتلیں لی، پی کر وہیں پھینک دی۔

اصل میں انسان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ جو عادت یا رویہ آپ کے تحت الشعور یا لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے، اب وہ مستقل آپ کی عادات، اخلاق اور رویوں میں جھلکتا ہے۔ آپ اس سے خود کو روک نہیں سکتے۔

اس لیے اپنی عادات و اطوار کو درست نہج پر ڈویلپ کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔

میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ہم میں سے شاید ہی چند لوگ ہوں گے، جنہوں نے حج کو شعوری طور پر کیا ہوگا، ورنہ عام طور پہ ہم چونکہ اپنی افتاد طبع کے اسیر ہوتے ہیں تو وہی افتاد طبع ہر ہر موقع پر ظاہر ہوتی نظر آتی ہے۔

اوپر لکھے ہوئے تمام تر واقعات کا ظہور زیادہ تر پاکستانی، ہندوستانی، عراقی اور بلاد الشام (مصر، اردن، شام وغیرہ) حجاج سے ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔

ملائشیا، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر، کویت اور یورپ سے آئے ہوئے حجاج اور زائرین بہت بہتر اخلاق اور رویوں کے حامل نظر آتے ہیں۔

اور ایک بار پھر یہ بات آشکار ہوتی نظر آتی ہے کہ ہمارے گھروں اور تعلیمی اداروں سے کردار اور اخلاق سازی مکمل طور پر رخصت ہوچکی ہے۔ اس میں دینی تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔

میں تو سمجھتا ہوں کہ مونٹیسوری اور اس نوعیت کی تمام تعلیم ختم کردینی چاہیے اور پہلے سات برس صرف معاشرتی اخلاقیات اور بنیادی اوصاف پر ہی کام کرنا چاہیے۔

والدین اور بڑوں کی تربیت کے لیے خصوصی انتظام اور اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔

ظاہر ہے کہ حکومتی ادارے تو اس حوالے سے بالکل صفر ہیں اور کسی قسم کا کوئی نظم بنانے پر مجھے کہیں بھی کوئی کام ہوتا نظر نہیں آتا۔

کم از کم گھروں میں، دفاتر میں، اور تعلیمی اداروں میں تو اس بات پر شدید فوکس کیا جانا چاہیے۔ مساجد میں علماء کرام کو مستقل معاشرتی اخلاقیات کو اپنا موضوع بنانا چاہیے، اور اس کا آغاز کرنا چاہیے " جوتے اور چپلیں کیسے اتاریں اور رکھیں"۔۔۔۔ اس موضوع سے،

اسی طرح قطار کیسے بنتی ہے اور دین اسلام بارے میں کیا کہتا ہے۔

کھانا کیسے لیا جائے اور کیسے کھایا جائے۔

موٹرسائیکل اور گاڑی کی پارکنگ دین اسلام کی روشنی میں۔

سڑک پر موٹرسائیکل اور گاڑی چلانے کا طریقہ اور دین اسلام کی ہدایات۔

روزمرہ کے وہ تمام معاملات جہاں قوم کی ایک عظیم اکثریت دوسروں کے حقوق مارنے کی مرتکب ہوتی ہے لیکن انہیں اس بات کا شعور تک نہیں ہے۔

فقہی مسائل صرف علماء کی گفتگو یا ضرورت کے مطابق ڈسکس کیے جائیں،جبکہ فوکس معاشرتی اخلاقیات پر رکھا جائے۔

پورے پاکستان کی مساجد کا ہر جمعے کو ایک ہی موضوع پر خطبہ ہو اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء اگلے 52 جمعوں کے خطبات پہلے سے ترتیب دے لیں۔ یہاں کوئی فروعی مسائل نہیں ہیں لیکن اس کا امپیکٹ اگلے 5 سے 10 سال میں بہت بڑا ہوسکتا ہے۔

یہ باتیں میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں اور اپنی ورکشاپس میں بھی بات کرتا ہوں لیکن حج کے موقع پر ہونے والے مشاہدات نے دل توڑ کر رکھ دیا ہے کہ ہم کس قسم کے لوگ بن گئے ہیں۔

اللہ تعالٰی ہمیں معاف کردے اور ہمارے حج کو قبول فرما لے۔ آمین

یمین الدین احمد
28 مئی 2026ء
بمطابق 12 ذوالحجہ 1447ھ
منی، مکہ مکرمہ۔

27/04/2026

فضل بن فضل کے قلم سے۔۔۔

رشتوں میں صاف گو بنیں

ہمارے جاننے والوں میں دو احباب کاروباری پارٹنر تھے۔ ایک ستھرا دین دار اور دوسرا نرا دنیا دار تھا۔ آپس میں کاروباری روابط کے ساتھ گہرا تعلق بھی تھا۔ ایک دوسرے کے گھر آنا جانا، میل ملاپ اور بچوں کی ایک دوسرے سے گپ شپ بھی تھی۔ دنیادار کی بچیاں یونیورسٹی میں پڑھتی تھیں اس لیے روشن خیالی میں پردے سے ماورا تھیں جبکہ دیندار کے لڑکے بھی اچھے پڑھے لکھے تھے لیکن سب باشرع و دیندار تھے اور گھر کی خواتین میں پردے کا عمومی رواج تھا۔
ایک دن دین دار پارٹنر نے دنیا دار سے اپنے بیٹے کےلئے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگا تو دنیادار نے بہت کھلا و صاف جواب دیا: میری بیٹیاں یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں، پردہ بالکل نہیں کرتیں اور کھلے ماحول و فضا کی عادی ہیں۔ جبکہ آپ کے ہاں پابندیاں و سختیاں بہت ہیں۔ گھر سے نکلنا اور اجنبی مردوں سے میل ملاپ پر سخت روک ہے، اسی طرح پردہ بھی ضروری ہے۔ شاید میری بیٹی آپ کے مذہبی آنگن میں وقت نہ گزارا سکیں اور اسی وجہ سے کل کلاں ہمارے درمیان بہت بڑا رخنہ پڑجائے۔ اس لیے رشتے کے بارے میں آپ سے پیشگی معذرت کرتا ہوں۔ یہ بھی کہا چونکہ وہ پڑھی لکھی ہیں، ہوسکتاہے کہ وہ اپنے لیے خود لڑکا پسند کرچکی ہوں۔ اگر آپ پھر بھی بہ ضد ہیں تو میں اپنی بچی کی ذہن سازی کرکے رشتے کےلئے آمادہ کرلیتا ہوں لیکن کل کو کوئی تنازع کھڑا ہوگیا تو پھر میں ذمہ دار نہیں ہوں گا۔ اس اختلاف و تنازع سے ہماری کاروباری شراکت داری پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ دین دار پارٹنر نے یہ تفصیلات بہت توجہ سے سنی تو بجائے باریکی سمجھنے کہ اس بات کا گہرا رنج ہوا کہ میرے دوست نے مجھ سے بچی کا رشتہ منع کیا۔ یوں نتیجتاً شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور فرط جذبات میں کاروبار کا بٹوارہ بھی کردیا۔

میرے ایک دوست ہیں ان کی چھوٹی بہن ذہنا بولی سی ہے۔ ان کی طبعیت میں طفلانہ پن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب یہ ٹھیک رہتی ہے تو مکمل گھر کا کام سنبھالیتی ہے، ہم سب سے خوب بات اور گپ شپ کرتی ہے لیکن کبھی تھوڑا صدمہ پہنچے تو کئی کئی دن تک سیدھے منہ بات نہیں کرتی، کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتی،کمرے میں بیٹھی رہتی ہے اور کھانا میں احتجاج کرتی ہے۔ میرے دوست کا کہناہے کہ جب بھی ان کا رشتہ آتا ہے تو میں اباجی سے کہتا ہوں کہ آپ ان کو بہن کی عادات و مزاج کے بارے میں صاف بتائیں کہ اس میں بچگانہ عادات ہیں۔ کل کو پھر آپ گلہ کریں اور کوئی ناخوشگواری پیدا ہو تو پہلے سے آگاہی ضروری ہے۔
موجودہ دور میں اولاد کے تقریبا رشتے جھوٹ کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ سماج کے اندر راست بازی نہیں رہی ہر چیز میں دھوکہ اور فراڈ در آیا ہے۔ ہمیں اپنی بیٹی اور بیٹے کے بارے میں سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود پھر بھی غلط بیانی سے کام لیا جاتاہے۔ لڑکی والے کہتے ہیں: ہماری بیٹی تو خدمت کی خوگر ہے۔ ہمارا دس سے بارہ افراد پر مشتمل کنبہ تو میری بیٹی ہی اکیلے سنبھالتی ہے۔ بھابھیوں کو بھی کام کرنے نہیں چھوڑتی۔ سویرے اٹھتی ہے اور سورج کی کرنیں پھیلنے سے پہلے پہلے ہی پورا کام نمٹا لیتی ہے۔ اللہ نے بڑے اچھے اخلاق سے نوازا ہے، بہت ہی ملنسار و عاجز خو ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کہا جاتا ہےتاکہ لڑکے والے متاثر ہوکر رشتہ پکا کرلیں۔ حقیقت میں وہ لڑکی انتہائی بدخو اور بدزبان ہوتی ہے۔ کام چور اور ہڈ حرام ہوتی ہے۔ گھر میں والدین کی تنبیہ کے باوجود بھی کوئی کام نہیں کرتی۔امور خانہ داری سے مکمل ناآشنا ہوتی ہے۔ اب ایسی لڑکی پرائے گھر میں جاکر کیا اپنا گھر بنائی گی۔ کیونکہ ان کو تو بڑے فضائل سنائے گئے تھے اور اسی کے سائے میں رخصتی ہوئی تھی لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ تو فضائل کیا فضیلت سے بھی عاری نکلی۔
بات بات پر کاٹنے دوڑتی ہے۔ میکے کی موج مستی کی دہائیاں دیتی ہے۔ کوئی کام کہو تو بھنویں چڑھاتی ہے۔ صبح و شام موبائل میں گھسی رہتی ہے۔ کسی سے سیدھے منہ بات سیکھی نہیں ہوتی۔ چھوٹے بڑے کی تمیز اس کی ڈکشنری میں بھی نہیں ہوتی۔ اس لیے میری ایک ہمدردانہ گزارش ہے کہ اگر آپ کی بچی امور خانہ داری میں کمزور ہے یا زبان کی سخت ہے اور غصیلی ہے تو صاف کہہ دیا جائے۔اگر لڑکے والے اعلی ظرف ہوں گے اور ان کو بچی کی شکل و صورت پسند آگئی ہے تو تب بھی سیرت پر سمجھوتہ کرکے رخصتی کے بعد سنبھال لیں گے۔ ورنہ جھوٹ کا انجام چند مہینوں میں بچی کا گھر اجڑنے کی صورت میں سامنے اجائے گا۔ صرف گھر نہیں اجڑے گا بلکہ لاکھوں کا نقصان، بعض اوقات جانی نقصان اور بچی کو ہمیشہ کےلیے داغ دار بھی ہو جائیگی۔ کیونکہ گھر ٹوٹنے کے بعد عموما دونوں اطراف سے الزامات کی بوچھاڑ ہوتی ہے جو لڑکے کو کم لڑکی کو ذیادہ بدنام و برباد کرتی ہے۔
اسی طرح لڑکا نشے کا عادی ہے، کام چور ہے، اس کی مجلس انتہائی گھٹیا ہے، گیدرنگ اوباش و بدقماش کے ساتھ ہے، رات دن گھر سے باہر رہتا ہے، والدین کا صریح نافرمان ہے، کوئی نوکری نہیں کرتا، گھر والے اور محلے والے سب تنگ آچکے ہیں۔ تقریباً خرافات اس میں پائے جاتے ہیں۔لیکن رشتہ اسی لیے کروارہے ہیں کہ شاید شادی کے بعد ٹھیک ہوجائے۔ ویسے سوچنے کی بات ہے کہ آپ کے تن سے پیدا بیٹا آپ خود نہیں سنبھال پارہے، آپ سے اس کی تربیت قابو نہیں آرہی اور ایک بچی کے حوالے کرکے سدھرنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ان تمام رذائل کے باوجود بھی رشتہ کرتے وقت بیٹے کے سو صفات بیان کیےجاتے ہیں۔ خوب بڑھا چڑھا کر بات کی جاتی ہے۔ بعد میں راز کھلے تو کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد ایسا ہواہے۔ ورنہ تو مکمل پارسا تھا۔ آپ کی بیٹی میرے بیٹے کو سنبھال نہ سکی۔
کتنے افسوس اور ک۔ ظرفی کی بات ہے کہ اپنی تمام کوتاہیوں کو بےچاری لڑکی کی جھولی میں ڈال دیا جاتا ہے۔
اسی طرح بعض اَوقات بچی مطلقہ یا بیوہ ہوتی ہے لیکن اس کا بھی چھپایا جاتا ہے۔کنواری کہہ کر رشتہ کیا جاتا ہے لیکن ہمارے سماج میں اب بات کہاں راز میں رہتی ہے۔ اسی طرح لڑکا بھی ایک بیوی یا دو کو چھوڑ چکا ہوتا ہے لیکن رشتے کے وقت کہا جاتا ہے کہ پہلی شادی ہے۔
شرم آنی چاہئیے ایسے والدین کو جو اولاد کا رشتہ کراتے وقت منافقت سے کام لیتے ہیں۔
خدارا!جھوٹ پر مبنی رشتے نہ کریں بلکہ صاف صاف بتایا کریں۔ اگر بیٹی اور بیٹے کی قسمت میں رشتہ ہوا تو تمام کمیوں کے باوجود بھی گھر آباد ہوجائیگا لیکن جھوٹ کی بنیادی پر آبادی کی امید نہیں لگائی جاسکتی۔ البتہ سچ کی وجہ سے بات ہمیشہ کےلیے سلجھ سکتی ہے۔ کیونکہ جب تمام حالات سامنے آئیں گے تو سوچ و بیچار اور صلاح و مشورے کا موقع ملے گا۔ اگر کوئی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود بھی رشتہ کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو ضرور وہ لڑکا یا لڑکی کو سنبھالے گا بھی۔
یہ میری ذاتی رائے ہے۔ آپ کھل کر اختلاف کرسکتے ہیں۔
نشرمکرر
#معاشرتیات

23/04/2026

اپنے وقت کو کیسے منظم کریں؟ Time Management
مفتی عبد المتین صاحب

اس نشست میں مفتی عبد المتین صاحب نے جس مخلصانہ اور دل نشین انداز میں اپنی بات رکھی ہے، اس کی کارگزاری کچھ اس طرح ہے:
مفتی عبد المتین صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز بڑے ہی بے تکلف اور مخلصانہ انداز میں اپنی ذات سے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ برسوں سے جامعۃ الرشید اور دارالعلوم کراچی جیسے مستند اداروں میں درس و تدریس سے وابستہ رہے، لیکن 2010 تک وہ 'ٹائم مینجمنٹ' کے تصور سے بالکل ناواقف تھے۔ انہوں نےکہاکہ شروع میں انہیں اس اصطلاح سے وحشت ہوتی تھی، لیکن جب معلوم ہوا کہ اس کا مطلب "کاموں کی ترجیح" اور "کارکردگی بڑھانا" ہے، تو انہوں نے اسے سیکھنے کا پکا ارادہ کر لیا۔ چونکہ سارا مواد انگریزی میں تھا، تو انہیں اسے سمجھنے میں تین چار سال لگ گئے، اور اب ان کا عزم یہ ہے کہ مدارس کے طلباء کو ان کی اپنی زبان میں یہ جدید مہارتیں سکھائیں تاکہ جو مشکلات انہوں نے دیکھیں، نئی نسل ان سے بچ کر براہِ راست کام کی طرف آ سکے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے سب سے پہلا اور بنیادی سبق "دورانیے کی شناخت (Duration)" کا دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چاہے وہ جمعہ کا خطبہ ہو، کسی کتاب کی تدریس ہو، یا یہاں تک کہ صدر (شہر کا مرکز) تک کا سفر ہو، اگر آپ کو وقت کے دورانیے کا علم نہیں ہے، تو آپ کبھی بھی اپنے ہدف تک صحیح طریقے سے نہیں پہنچ پائیں گے۔ انہوں نے زندگی کو بھی ایک محدود دورانیہ قرار دیا جو موت پر ختم ہو جائے گا، اس لیے اولاد کی تربیت ہو یا والدین کی خدمت، ہر جگہ وقت کا حساب رکھنا لازمی ہے۔

وقتTime)) کےچور
آج کے دور میں انہوں نے" اسمارٹ فون "کو وقت کا سب سے بڑا چور قرار دیا۔ بیان کا یہ بہت ہی دلچسپ حصہ تھا جہاں انہوں نے 'وقت کے چوروں' کی شناخت کے لیے پانی کی ٹینکی کی مثال دی۔ انہوں نے نقشہ کھینچا کہ اگر ایک ٹینکی کے سارے نلکے (ضائع کرنے کے راستے) کھلے ہوں، تو آپ جتنا مرضی پانی بھر لیں، ٹینکی کبھی نہیں بھرے گی۔ طلباء سے مکالمہ کرتے ہوئے انہوں نے موبائل کے 20 سے زائد نقصانات گنوائے، جن میں دماغی انتشار، حافظے کی کمزوری، تعلقات میں دوری اور اخلاقی خرابیاں سرِ فہرست ہیں۔آخر میں انہوں نے سائنسی پیرائے میں سمجھایا کہ موبائل کس طرح ہماری توجہ کو پارہ پارہ کرتا ہے۔ انہوں نے 'پانی میں پتھر' کی مثال دی کہ جیسے لہریں بننے کے بعد پانی کو ساکن ہونے میں وقت لگتا ہے، بالکل ویسے ہی مطالعہ یا تحقیق کے دوران موبائل کی ایک گھنٹی یا صرف دو منٹ کا استعمال ہمارے دماغی تسلسل کو توڑ دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دماغ کو دوبارہ اسی علمی سطح (Frequency) پر آنے میں تقریباً 20 منٹ لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا طالب علم گھنٹوں کتاب کھول کر تو بیٹھتا ہے لیکن اس کا ذہن حاضر نہیں ہوتا۔

ہماری نیند کیسے صحت مند بنے گی؟
جس طرح موبائل کا لمحہ بھر استعمال ہمارے ذہنی توجہ کو منتشر کر دیتا ہے بلکل یوں ہی وہ ہماری نیند پر بھی ا ثر انداز ہوتا ہے۔ نیند کا اصل مقصد جسمانی توانائی (Energy) کو بحال کرنا ہے۔ انہوں نے قرآنی اصطلاح 'سبات' کا ذکر کیا جس کا مطلب ہے ہر چیز سے کٹ کر فارغ ہو جانا تاکہ جسم کی مرمت ہو سکے۔ انہوں نے ایک بہت اہم سائنسی نکتہ سمجھایا کہ ہمارے جسم کی 60 سے 80 فیصد ری چارجنگ رات 10 بجے سے 2 بجے کے درمیان ہوتی ہے، لیکن افسوس کہ اسمارٹ فون کی اسکرین کا استعمال اس عمل میں رکاوٹ بنتا ہے ۔اگر کوئی 10 بجے موبائل چھوڑ کر سو بھی جائے، تو اس کا دماغ حقیقی معنوں میں ڈیڑھ گھنٹے بعد سکون کی حالت میں جاتا ہے، جس کی وجہ سے صبح بیدار ہونے پر وہ مطلوبہ توانائی میسر نہیں ہوتی۔

دورانِ تدریس وقت کیسے بچائیں؟
پھر انہوں نے تدریس اور علمی زندگی کے کچھ آداب سکھائے۔ انہوں نے طلباء کو سوال کرنے کی جرات پیدا کرنے پر زور دیا کہ اگر بات سمجھ نہ آئے تو فوراً پوچھ لیں تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ ساتھ ہی اساتذہ کو ایک دلچسپ 'مرغے اور چور' کی کہانی کے ذریعے یہ فن سکھایا کہ اگر کسی سوال کا جواب آگے آ رہا ہو، تو ایک خاص اشارے سے وقت بچایا جا سکتا ہے ۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی سوال کا جواب نہ آتا ہو تو "میں نہیں جانتا" کہنا یا معذرت کر لینا علمی کمال ہے، نہ کہ عیب، کیونکہ ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا موجود ہے ۔

وقت کی پابندی آپ کی قدر و اہمیت بڑھاتی ہے
انہوں نے وقت کی تنظیم کو سمجھانےکے لیئے احمد اور زین نامی دو فرضی کرداروں کا تقابلی جائزہ لیا۔ احمد ایک منظم، وقت کا پابند اور ذمہ دار انسان ہے جو
پکنک کے لیے وقت پر پہنچتا ہے، کاروبار میں وعدے پورے کرتا ہے اور اپنے بچوں کو دیا ہوا وقت بھی نبھاتا ہے ۔ اس کے برعکس، زین ایک سست، لاپرواہ اور وعدہ خلاف انسان ہے جو نہ صرف ساتھیوں کا وقت ضائع کرتا ہے بلکہ 'ٹوپی کرانے' (بہانے بازی) کی وجہ سے اپنے کاروبار اور گھریلو زندگی کو بھی داغدار کر لیتا ہے ۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ اگر آپ کو اپنے بچوں کے لیے رشتہ ڈھونڈنا ہو یا کسی کے ساتھ کاروبار کرنا ہو، تو کیا آپ 'زین' جیسے شخص کا انتخاب کریں گے جو "ٹوپی کرانے" (بہانے بازی) اور وعدہ خلافی میں مشہور ہو؟۔ سب کا جواب نفی میں تھا۔ یہاں انہوں نے ایک بہت بڑا نکتہ سمجھایا کہ معاشرے میں 'احمد' جیسے منظم اور دیانتدار لوگوں کی 'ڈیمانڈ' (طلب) بہت زیادہ ہے، لیکن مدارس اور تعلیمی ادارے جو 'سپلائی' دے رہے ہیں، وہ اکثر 'زین' جیسے غیر منظم افراد کی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ قسمت خراب ہے یا حالات سازگار نہیں، حالانکہ مسئلہ ان کی اپنی غیر منظم زندگی اور صفات میں ہوتا ہے ۔

اپنا وژن اور منزل طے کریں۔۔۔!
پھر انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے مدارس میں طلبہ 10 سال لگا دیتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے جانا کہاں ہے، جسے انہوں نے 'وژن' کی کمی قرار دیا۔انہوں نے زور دیا کہ جب تک منزل طے نہیں ہوگی، وقت کی تنظیم کا فائدہ نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں انہوں نے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کی مثال دی کہ وہ اتنے کم وقت میں اتنا عظیم علمی کام کیسے کر لیتے ہیں؟ ۔ انہوں نے حاضرین کو حیران کر دیا جب یہ بتایا کہ مفتی صاحب نے اپنی تفسیر "آسان ترجمہ قرآن" کا بڑا حصہ سفر کے دوران، ہوائی جہاز میں، بحرین اور چمن کے اسفار میں، اور یہاں تک کہ حج کے دوران میدانِ عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے لکھا ہے ۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جس کا وژن واضح ہو، وہ وقت کے ہر لمحے کو کارآمد بنا لیتا ہے۔

وقت کو منظم کرنے کے 5 سنہری اصول
اپنے اہداف (Goals) کو حاصل کرنے اور وقت کو بہترین انداز میں منظم کرنے کے لیے درج ذیل پانچ بنیادی اصولوں پر عمل کرنا بے حد مفید ہے:
1. ہدف کو تحریر کریں: سب سے پہلے اپنے ہدف کو ایک مثبت انداز میں لکھیں، جیسے کہ "میں یہ کام کر لوں گا"۔
2. ہدف کو قابلِ پیمائش (Measurable) بنائیں: آپ کا ہدف ایسا ہونا چاہیے جسے ناپا جا سکے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کمپوزنگ کر رہے ہیں تو یہ طے کریں کہ آپ کو 10 صفحات کو دو یا ڈیڑھ گھنٹے میں مکمل کرنا ہے۔ اسی طرح، اگر ایک 300 صفحات کی کتاب پڑھنی ہے، تو روزانہ 10 صفحات پڑھنے کا ہدف مقرر کریں تاکہ وہ 10 دنوں میں مکمل ہو جائے۔
3. وقت کا تعین کریں: کسی بھی ہدف کے لیے دن کا ایک مخصوص وقت ضرور مقرر کریں، جیسے کہ صبح 8 سے 10 بجے کے درمیان یا مغرب سے عشاء کے درمیان کا وقت۔
4. ہدف کا حقیقت پر مبنی ہونا: آپ کا ہدف ایسا ہونا چاہیے جو حقیقت پر مبنی ہو اور آپ کے پاس اسے کرنے کی صلاحیت اور اسباب موجود ہوں۔ مثلاً، کمپوزنگ کے لیے کمپیوٹر کا موجود ہونا اور آپ کو ٹائپنگ آنا ضروری ہے، اسی طرح مطالعہ کے لیے کتاب کا پاس ہونا اور پڑھنا آنا شرط ہے۔
5. احتساب کا نظام: آپ کا کوئی ایسا محاسب دوست ہونا چاہیے جو روزانہ آپ سے آپ کے اہداف کی تکمیل کے حوالے سے پوچھے۔ اگر ایسا دوست دستیاب نہ ہو تو آج کے اس ڈیجیٹل دور میں آپ اپنے احتساب کے لیے الارم کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔

وقت مینج کرنے کی اہم تکنیک: "چار Q"
آخر میں انہوں نے ایک بہت ہی اہم تکنیکی نکتہ سمجھایا کہ کام کی چار قسمیں ہوتی ہیں، جنہیں انہوں نے Q1 سے Q4 تک کے خانوں (Quadrants) میں تقسیم کیا۔
Q1۔۔۔اہم اور ہنگامی کام Q2۔۔۔اہم مگرہنگامی نہیں 3Q۔۔۔غیر اہم مگر ہنگامی کام Q4۔۔۔نہ اہم نہ ہنگامی کام
انہوں نے بتایا کہ ہم اکثر اپنا وقت ان کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں جو نہ اہم ہوتے ہیں اور نہ ہی فوری (ارجنٹ)، جیسے سوشل میڈیا یا میچ دیکھنا، جبکہ اصل کامیابی ان کاموں پر توجہ دینے میں ہے جو اہم تو ہیں لیکن فوری نہیں (Q2)، جیسے کہ اپنی صلاحیتیں بڑھانا یا مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا وغیرہ۔

Q1 اور Q2: کی مثالیں
انہوں نے بتایا کہ جب ہم 'کیو ٹو' (Q2) یعنی ان کاموں پر توجہ نہیں دیتے جو "اہم تو ہیں مگر فوری نہیں"، تو وہ کام خود بخود 'کیو ون' (Q1) یعنی "ہنگامی صورتحال" بن جاتے ہیں ۔انہوں نے موٹر سائیکل کی چین کی مثال دی کہ جب وہ 'کڑکڑ' کی آواز کرے تو وہ ایک پیغام ہے کہ اسے ٹھیک کروا لو
(یہ Q2 ہے)، لیکن اگر اسے نظر انداز کیا جائے تو وہ عین ضرورت کے وقت ٹوٹ جاتی ہے اور پھر اسے ٹھیک کروانا ایمرجنسی (Q1) بن جاتا ہے ۔
اسی طرح اگر کوئی طالب علم وقت پر مطالعہ نہیں کرتا یا کوئی اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتا، تو امتحان کے آخری ایام یا بڑھاپے کی بیماریاں اسے شدید پریشانی میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔

Q3: کی مثال
انہوں نے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کے دفتر کا آنکھوں دیکھا حال سنایا۔ انہوں نے ایک طالب علم کو کھڑا کر کے وہاں لگے "فلٹر" کا نقشہ کھینچا۔ حضرت کے دفتر کے باہر ایک تحریر لگی ہے جس میں بڑے ہی ادب سے ان تمام کاموں سے معذرت کی گئی ہے جو حضرت کے اصل علمی کام میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، جیسے کہ بنا پڑھے کسی کتاب پر تقریظ لکھنا، تعویذات دینا، یا بغیر وقت لیے ملاقات ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر بڑے لوگ یہ "فلٹر" نہ لگائیں تو ان کا سارا وقت غیر ضروری کاموں (Q3) میں ضائع ہو جائے اور وہ کبھی اتنا بڑا علمی کام نہ کر پائیں ۔

وقت کو یوں منظم کیا جاتا ہے۔۔۔!
آخر میں انہوں نے ایک حیران کن موازنہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں اور بڑے لوگوں میں فرق یہ ہے کہ وہ ایک تو اہم کاموں کو ارجنٹ بننے سے قبل ہی حل کر لیتے ہیں اور یوں انکے ارجنٹ کام کم و بیش ہی سامنے آتے ہیں اور اس سے ارجنٹ کاموں کا بہت سا وقت "کیو ٹو (2Q)" کو مل جاتا ہے اور وہ اپنے آنے والے اہم کاموں کو نپٹاتے ہیں۔دوسرے وہ ارجنٹ مگر غیر اہم کاموں کو بھی کافی حد تک کم کر کے "کیوتھری (3Q)" کا بھی کافی حصہ "کیو ٹو (2Q)" کو دے دیتے ہیں۔اور تیسرے وہ اپنی زندگی سے "کیو فور (Q4)" یعنی فضول اور لغو کاموں کو بلکل ہی نکال دیتے ہیں تو اسکا سارا حصہ اور وقت "کیو ٹو (2Q)" کو مل جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے پا س اپنے اہم کاموں کو پورا کرنے کے لیے بہت وقت ہوتا ہے، ان کا ایک دن ہمارے چھ دنوں کے برابر ہو جاتا ہے اور ان کے دن کی تاثیر 18 گھنٹے کی ہوتی ہے جبکہ ہماری بمشکل 3 گھنٹے کی۔ اسی برکت اور تنظیم کی بدولت حضرت تھانویؒ نے 1200 کتابیں لکھیں اور حکیم سعید صاحب نے 80 ہزار صفحات۔

اپنی توانائی کا درست استعمال اور ذہنی پاکیزگی
زندگی میں کامیابی یہ جاننا سب سے زیادہ ضروری ہے کہ اپنی توانائیاں کہاں اور کیسے خرچ کی جائیں، اور اپنے وقت کو کس طرح منظم کیا جائے۔ہمیں اپنی توانائی کو ان جگہوں پر خرچ کرنا چاہیے جہاں اس کی واقعی ضرورت ہو اور جہاں سے کوئی فائدہ یا مثبت نتیجہ حاصل ہو سکتا ہو، اسے فالتو اور بے مقصد کاموں میں ہرگز ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے کراچی کا ایک دلچسپ واقعہ بہترین مثال ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ سڑکوں پر لگی چھوٹی لائٹوں کو نشے کے عادی افراد چرا کر
کباڑیوں کو فروخت کر دیا کرتے تھے۔ جب متعلقہ کمپنی اس صورتحال سے پریشان ہوئی تو انہوں نے اس کا ایک انوکھا اور زبردست حل نکالا۔ انہوں نے لائٹوں کا مواد ایسا رکھا کہ اگر اسے آگ لگائی جائے تو وہ دھواں بن کر اڑ جاتا تھا۔ جب نشے کے عادی افراد نے ان نئی لائٹوں کو کباڑی کے پاس لے جا کر جلایا تو وہ راکھ بن کر اڑ گئیں۔ اس کے بعد انہیں یہ بات سمجھ آ گئی کہ اب ان لائٹوں سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ملنے والا، لہٰذا انہوں نے انہیں چرانا اور وہاں اپنی توانائی ضائع کرنا چھوڑ دی۔
اس کے علاوہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
• اچھے کاموں کی بار بار تکرار کرنی چاہیے تاکہ یہ باتیں دوسروں تک بھی پہنچیں اور آپ خود بھی انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا سکیں۔
• اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ گناہ دماغ میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں جس کے بعد وہاں علم کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچتی۔
• جس طرح ایک ہی برتن میں دودھ اور پیشاب کو اکٹھا نہیں رکھا جا سکتا، بالکل اسی طرح ایک ہی دماغ میں گناہ اور علم ایک ساتھ نہیں ٹھہر سکتے۔ اس لیے علم کے حصول کے لیے اپنے وقت اور خود کو گناہوں سے بچانا لازم ہے۔

انہوں نے اس دعا پر بات ختم کی کہ اللہ ہمیں بھی وقت کی قدر کرنے اور بڑوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔

24/03/2026

آج کا جہاد، وقت کا فریضہ اور عصر حاضر کی سب سے بڑی دینی ضرورت یہ ہے کہ لا دینیت کی اس طوفانی موج کا مقابلہ کیا جائے، جو عالم اسلام کے سرے سے گزر رہی ہے، نہیں! بلکہ آگے بڑھ کر اس کے قلب و مرکز پر حملہ کیا جائے۔

وقت کا تجدیدی کام یہ ہے کہ امت کے نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقے میں اسلام کے اساسات و عقائد، اس کے نظام و حقائق اور رسالت محمدی پر وہ اعتماد واپس لایا جائے، جس کا رشتہ اس طبقے کے ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے۔

آج کی سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ اس فکری اضطراب اور ان نفسیاتی الجھنوں کا علاج بہم پہنچایا جائے، جن میں آج کا تعلیم یافتہ نوجوان بری طرح گرفتار ہے، اور اس کی عقلیت اور علمی ذہن کو اسلام پر پوری طرح مطمئن کر دیا جائے۔

آج کا سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ جاہلیت کے وہ بنیادی افکار جو دل و دماغ میں گھر کر گئے ہیں، ان سے علم اور عقل کے میدانوں میں نبرد آزمائی کی جائے، یہاں تک کہ اسلام کے اصول و مبادی پورے ایمانی جذبات کے ساتھ ان کی جگہ لے لیں!

کامل ایک صدی گزرتی ہے کہ یورپ ہمارے نوجوان اور ذہین طبقے پر چھاپے مار رہا ہے، شک والحاد، نفاق و ارتیاب کا ایک طوفان ہے، جو اس نے ہمارے دل و دماغ میں بھر پاکر رکھا ہے، غیبی اور ایمانی حقائق پر اعتماد متزلزل ہور ہا ہے، اور سیاست اور اقتصاد کے مادہ پرستانہ نظریات اس جگہ پر قابض ہور ہے ہیں۔

کامل ایک صدی سے اس شکست و ریخت کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن ہمیں اس کے مقابلے کی کوئی فکر نہیں ہوئی، ہم نے اس کی کوئی پروا نہیں کی کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق قدیم علمی ترکہ پر اضافہ کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوئی کہ یورپ کے ان فلسفوں کو سمجھیں اور پھر ان کا علمی محاسبہ بلکہ سرجنوں کی طرح ان کا پوسٹ مارٹم کریں۔

ہمارا سارا وقت سطحی بحثوں کی نذر ہوتا رہا، یہاں تک کہ اس صدی کے آخر میں ہمارے سامنے، گویا ایک یہ منظر آیا کہ ایمان و عقیدہ کی دنیا متزلزل ہے، اور ایک ایسی نسل تیار ہوکر برسر اقتدار آ چکی ہے، جو نہ اسلام کے عقائد و مبادی پر ایمان رکھتی ہے، نہ اسلامی جذبات اور اسلامی حمیت سے معمور ہے۔

اور نہ اس کا کوئی علاقہ اپنی مومن و مسلم قوم سے اس کے سوا ہے کہ قومیت کے خانے میں اس کا شمار بھی مسلمانوں میں ہوتا ہے، یا اگر کچھ تعلق ہے، تو وہ محض سیاسی مصالح کی حد تک! بس اس کے سوا کوئی تعلق نہیں!!

اور اب اس سے بھی آگے بڑھ کر صورت حال یہ ہے کہ یہ لا دینی مزاج اور لا دینی انداز فکر، ادب و ثقافت اور صحافت و سیاست کے راستے سے جمہور تک پہنچ چکا ہے، اور مسلمان قوموں کے سر پر عمومی پیمانے کی لا دینیت کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

خاکم بدہن! وقت کی رفتار وہ وقت قریب لا رہی ہے کہ اسلام کو زندگی کے میدان سے کہیں بے دخل کرکے نہ رکھ دیا جائے۔

مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ

23/03/2026

عید، امید، زندگی!!!!

کلفٹن کراچی کے الائیڈ بینک میں ایک نفیس مزاج،سلجھے اطوار اور خوب صورت شخصیت کے مالک بینک منیجر ہوتے تھے۔ پاکیزگی چہرے کا ہالا کیے رہتی تھی۔ گوراچِٹا چہرہ تھا، کلین شیو تھے اورمسکراتے رہتے تھے۔اُن کے ماتھے پرمحراب کا نشان تھا اور کام سے فراغت کے اوقات میں منہ ہی منہ میں غالباً مقدس کلام کا وِرد جاری رکھتے۔ چند لوگ ہوتے ہیں، بہت کم، جن کے قرب میں آدمی کو سکون اور ٹھیراؤ کا احساس ہوتا ہے۔ وہ بینک منیجر بھی ایسے ہی ایک انسان تھے۔
ایک مرتبہ میں کسی کام سے اُن کے پاس بیٹھا تھا۔ میرا کام متعلقہ سیکشن میں ہورہا تھا سُو میں نے اپنی ایک ذاتی پریشانی کا اُن سے تذکرہ کیا۔میری بات سن کر انھوں نے دریافت کیا۔”عرفان صاحب، آپ ایک معمولی سی بات پر اتنا پریشان ہیں۔ کیا آپ کی اولاد ہے؟“
میں نے اثبات میں سر ہلایا تو انھوں نے پوچھا۔
”وہ صحت مند ہے ؟“
میں نے ہاں میں جواب دیا تو انھوں نے چند سوال کیے اورمسکرا کر کہنے لگے۔
”آپ کو صحت کا کوئی سنجیدہ مسئلہ لاحق نہیں،کسی فوری معاشی آزمائش کا سامنا نہیں،یہ فکر نہیں کہ آج رات کس چھت کے نیچے گزرے گی، قریبی اعزاٹھیک ہیں، تو آپ کا مسئلہ تو کچھ بھی نہیں۔زندگی کی پوری تصویر دیکھیں، ایک حصے کو دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔یہ زندگی ترازو کی طرح بیلنس میں گزرتی ہے۔اگرکسی کو ایک جانب زیادہ دیا ہے تو یقین رکھیں کسی دوسری جانب ضرور کم دیا ہوگا۔میں نے ارب پتی کلائنٹس کو دیکھا ہے، عام لوگ اُن جیسی زندگی کی خواہش کرتے ہیں۔ دس دس ملازم ساتھ ہوتے ہیں، مہنگی ترین گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، دنیا بھر کی سیر کرتے ہیں مگر جب آپ کو اُن کی نجی زندگیوں میں جھانکنے کا موقع ملے تو آپ حیران پریشان رہ جائیں گے۔ اُن کے گھروں میں ایسے ایسے دکھ ہیں جو ناقابلِ بیان ہے۔ میں نے اپنی گناہ گارآنکھوں سے اُن میں سے ایک آدمی کے بیٹے کو باپ کا گریبان پکڑتے دیکھا ہے، ایک اورآدمی کی اکلوتی بیٹی ہے جس سے وہ بے تحاشا محبت کرتا ہے، بیٹی کو دومرتبہ طلاق ہو چکی ہے، ایک اور آدمی کے دونوں بچے ذہنی طورپر صحت مند نہیں،دوآدمی تو ایسے ہیں جن کی اپنی بیویوں سے ایسی ناچاقی ہے کہ برسوں سے آپس میں بات نہیں ہوئی اورایک بڑے ہوٹل کا مالک تو ایسا ہے کہ ٹھوس غذا نہیں کھا سکتا، مائع پر زندہ ہے۔“
وہ ادراک حقیقت کا ایسا لمحہ تھا کہ اُن بینک منیجر کی بات میرے دل پر ایسا اثر کر گئی اورآنکھیں کھل گئیں کہ کئی برس گزرنے کے بعد بھی وہ مکالمہ خوب یاد ہے۔
پندرہ بیس برس پہلے معاش کے سلسلے میں مَیں ایک صنعتی شہر میں مقیم تھا۔میری رہائش گاہ کے برابر میں اپنے وقت کے ایک معروف سیاست دان کا بنگلا تھا۔ اُس کے گھر کے باہر ہر وقت گاڑیوں کی قطار لگی رہتی تھی۔ صنعت کار، وزرا، مذہبی اسکالر، غرض یہ کہ معروف و معزز شخصیات کا اُس بنگلے میں آنا جانالگا رہتا تھا۔ کئی مرتبہ رات گئے اُس گھر میں سے رونے کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ خاصا دل گرفتہ کرنے والا معاملہ لگتا تھا۔ جس رات، بالخصوص سردیوں کی خاموش راتوں میں جب آواز زیادہ گونجتی ہے، اُس گھر سے رونے واویلا کرنے کی آوازیں سننے کے بعد رات کے کئی پہرنیند نہیں آتی تھی۔
اُس بنگلے میں کام کرنے والی مہتراتی میرے گھر بھی صفائی کرنے آتی تھی۔ بالآخر اُس سے صورتِ حال معلوم ہوئی تو دل تھم ساگیا۔
اُس سیاست دان کا سب سے چھوٹا بیٹا باپ کا سب سے زیادہ لاڈلاتھا۔ باپ اُس کی کوئی خواہش رَد نہیں کرتا تھا۔ وہ شہر کے سب سے مہنگے اسکول میں پڑھتا تھا جہاں اشرافیہ کی اولادیں زیرِ تعلیم تھیں۔ایک مرتبہ اُس بچے کا اسکول ٹووُر چندہفتے کے لیے سیّاحتی مقامات کی سیر پر گیا ۔ وہاں اُس بچّے کو کسی نے ہیروئن کی لَت لگا دی۔
جب ماں باپ کو معلوم ہوا تو پانی سر سے اوپر نکل چکا تھا۔باپ نے بچے کو اسکول سے اٹھا لیا اوراُس کا علاج کروا رہا تھا اور بدنامی کے خوف سے کسی سے تذکرہ نہیں کرتا تھا۔
اب یہ عالم تھا کہ لَت چھرائے نہ چھوٹتی تھی۔ نتیجتاً باپ بیٹے کو عقبی کمرے میں باندھ دیتا تھا، جب بیٹے کی طلب بڑھتی تھی تو وہ چیختاتھا، جب بچہ چیختا تھا تو باپ اُسے مارتا تھا۔ جب باپ اُسے مارتا تھا تو بچہ اوراُس کی ماں دونوں روتے تھے۔جب دونوں روتے تھے تو انھیں دیکھ کر سیاست دان باپ بھی روتا تھا۔سواُن کے رونے کی آوازیں اُن کے بنگلے سے ملحقہ میری خواب گاہ تک آتی تھیں۔
مجھے اس واقعے نے برسوں سوگ وار رکھا، آج یہ واقعہ رقم کرتے وقت بھی میں دکھ کی ایک مہین چادر اوڑھے ہوئے ہوں۔
ہر خوش حال گھرانے میں ایسے مسائل نہیں ہوتے،البتہ ان کا تذکرہ ظاہراً اورحقیقی کا موازنہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، ایک واقعہ میرے بچپن کا ہے۔
میرے خالو ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں ایرفورس آفیسر کے طور پر تعینات تھے۔والد صاحب کی ملازمت راول پنڈی میں تھی۔ سو ہر دوسرے ہفتے راول پنڈی سے کامرہ جانے کا موقع ملتا رہتا تھا۔ تب کامرہ میں کوئی خاص سیکیورٹی تھی اور نہ ہی دہشت گردی اور خوف کے حالات۔ وہاں سے منسلک بچپن کی بہت سی یادیں ہیں جن کا تذکرہ بعد میں سہی۔خالہ خالو کا ایک بیٹ مین تھا، غالباً مردان یا نوشہرہ سے اُس کا تعلق تھا۔ حد درجہ ملن سار اور محبتی آدمی تھا۔ گھر کی جھاڑ پونچھ، جوتے پالش، کپڑے استری، کھانا پکانے اور برتن دہلائی وغیرہ میں اُس کا دن نکل جاتا تھا۔
ہم بھائی کھیلتے کھیلتے اُس کے سرونٹ کوارٹر میں چلے جاتے تھے۔ کوارٹر کو اُس کی بیوی نے ایسا سلیقہ مندی سے سنوارا ہوتا تھا کہ سادگی میں صحیح معنوں میں حُسن نظر آتا تھا۔ بیٹ مین کی بیوی اَن پڑھ تھی لیکن بلا کی سُگھڑ اور سمجھ دار۔گو وہ خود پڑھی لکھی نہ تھی مگر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو نہلا دھلا کر، سُرمہ تیل لگا کر،صاف ستھرے کپڑوں میں پڑھنے بٹھایاہوتا تھا، اُن کی خوب نگرانی کررہی ہوتی تھی۔
آج جب میں اُن دِنوں کا، اُس بااخلاق آدمی، سلیقہ شعار بیوی اوراُس پرُسکون چھوٹے سے دو کمروں کے کوارٹر کا سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک مثالی گھرانے کا تصور آتا ہے۔
کئی برس گزر گئے، دہائیاں نِکل گئیں۔ اپنے خالو سے اُس کا پوچھا تو بتانے لگے کہ وہ ریٹائر ہوکر اپنے قصبے کو لوٹ گیا تھا، ایک بیٹے نے آرمی میں اعلیٰ ترین اعزاز سوورڈ آف آنر لی تو دوسرے نے ایئرپورس میں وظیفے پر امریکا سے پی ایچ ڈی کی۔ باپ کوانھوں نے سر کا تاج بنا کر رکھا تو ماں کو دل کی دھڑکن۔ یوں ایک غریب لیکن نیک دل آدمی کی سُگھڑ بیوی نے اُس کے گھر کو جنت نظیر بنا دیا تھا۔
اچھی بیوی مل جائے تو مرد کی زندگی جنت اور برُا شوہرمل جائے تو عورت کی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ اِس کی مثال اپنے اقارب میں دیکھی۔ ایک حد درجہ ذہین اورخوب صورت لڑکی تھی۔ بااخلاق ایسی کہ ہر کسی کا من موہ لیتی۔ دیکھنے والے کہتے کہ یہ جس گھر میں جائے گی وہ گھر خوش نصیب ہوگا۔یعنی قدرت نے اس لڑکی کو حُسن، ذہانت کے ساتھ بہترین خاندان سے بھی نواز رکھا تھا۔ لڑکی نے لاہور کے ایک میڈیکل کالج سے گولڈمیڈل کے ساتھ ایم بی بی ایس کیا تواس کے لیے رشتوں کی قطار بندھ گئی۔ ایک کھاتے پیتے گھرانے میں اُس کی شادی ہوگئی۔ اُس کا شوہر اکلوتا بیٹا تھا اوراچھے مزاج و کردار کا تھا۔عموماً اکلوتے بیٹوں کی بیویوں کو نسبتاً زیادہ آزمائش کا سامنا رہتا ہے۔ بہرحال لڑکی کی ساس اورنندیں سخت مزاج رکھتی تھیں۔ بیاہ کے بعد انھوں نے لڑکی کے ملازمت کرنے پر پابندی لگا دی اور گھر میں ملازمین و معاونین ہونے کے باوجود لڑکی کو پابند کیا کہ وہ کھانا پکانے سے لے کر سب امور خانہ داری چابُک دستی سے کرے گی۔ ساس اور نندیں آرام کرتیں اور لڑکی کام میں جُتی رہتی۔ یہاں تک کہ حمل کے آخری دنوں میں بھی اُسے سارا دن باورچی خانہ سنبھالنا پڑتا۔
جب چند برس بعد اُسے دیکھا تو اپنے ماں باپ کی لاڈلی لڑکی ان تھوڑے اسے سالوں میں بوڑھی ہوچکی تھی۔اُس کے حُسن و صلاحیت جسے دیکھ کر لوگ رشک و حسد کرتے تھے ماند پڑ چُکے تھے۔
یہ نوے کی دہائی کا معاملہ ہے کہ میں نے انگریزی اخبار ’دی نیوز‘میں پہلا انگریزی مضمون لکھا۔ تب یہ اخبار نیا شروع ہوا تھا اور ڈاکٹرعابدی اس کے ایڈیٹر تھے۔ میں طالب علم تھا اور ہرقسم کا ادب رغبت سے پڑھتا تھا،البتہ نوجوانی میں پلپ فکشن پڑھنے کا زیادہ شوق تھا۔ سو میرا پہلا انگریزی مضمون سڈنی شیلڈن کے ایک ناول کا ریویو تھا۔ سڈنی شیلڈن ایک حیران کن مصنف تھا۔اُس نے اپنا پہلا ناول پچاس برس کی عمر کے بعد لکھا تھا۔ وہ کمرشل فکشن لکھتا تھا اور ایسا لکھتا تھا کہ ادھیڑعمری میں قلم تھامنے والا وہ شخص اتنا کام یاب ٹھیرا کہ ایک وقت میں دنیا کا سب سے زیادہ پڑھا جانے والا مصنف بن گیا،اُس کے ناولوں پر ہالی ووڈ میں فلمیں بنیں اوراُس کی کتابوں کی اشاعت کا لوگ شدت سے انتظار بھی کرتے تھے۔ میں بھی اُن لوگوں میں سے ایک تھا۔ جب اُس کی خودنوشت سوانح پڑھی تو اُس میں ایک ایسی بات تھی جو دماغ پر ایسی نقش ہوئی کہ اپنے ایک عزیز دوست اور معروف کالم نگار سے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے اس پر پورا کالم لکھ ڈالا۔
سڈنی شیلڈن پرڈپریشن کا ایک ایسا دورہ بھی پڑا تھا کہ وہ خود کشی کرنے پراُتر آیا تھا۔ بعد میں اُس نے زندگی کو ایک ناول کی طرح پایا۔ اُس نے تحریر کیا تھا کہ میں اپنی زندگی ایسے پرُشوق تحسین کے ساتھ گزارتا ہوں جیسے ایک قاری سسپنس بھرا ناول پڑھتا ہے۔ اُسے نہیں معلوم اگلے صفحے یا اگلے باب میں کیا غیر متوقع واقعہ یا حیران کُن موڑ ہوگا۔ یہی تجسّس قاری کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ زندگی بھی ایک سسپنس بھرے ناول کی طرح ہے۔ ایک صفحے پر دکھ اورٹریجڈی ہے تو آدمی کو تب تک معلوم نہیں ہوسکتا کہ اگلے صفحے پر کامیڈی اور مزاح ہے جب تک وہ اگلے صفحے تک پہنچ نہ جائے۔
ایک دوست ہیں، دانش مندہیں اور متوازن سوچ کے مالک۔ایک روز کہنے لگے کہ جو صحت مند اور ذہین آدمی خودکشی کرتا ہے، بڑی بے وقوفی کرتا ہے۔بلکہ موت اُس کی بے وقوفی کی سزا ہے۔وہ اتنا قلیل النظر ہے کہ ایک لمحے یا زندگی کے ایک موقع کا قیدی ہوکر رہ گیا اوراُس نے اپنی جان لینے کا فیصلہ کرلیا۔ اُسے کیا معلوم مستقبل اُس کے لیے اپنے اندر کتنے روشن امکانات رکھتا ہے۔جو آدمی صحت مند ہے اوراُس کا دماغ بھی کام کرتا ہے اُسے توہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی، جسم اور دماغ کے باہم اور پیہم ارتباط ہی کا تو نام ہے، یعنی انسانی زندگی، ذہن اور بدن کے خوب صورت ملاپ ہی کا تو نام ہے۔ جو بے وقوف اس بات کو نہیں سمجھ پاتااُسے اپنی بے وقوفی کی سزاخودکشی سے موت کی صورت میں بھگتنا پڑتی ہے اور جو سمجھ جاتا ہے اُس کا آیندہ آنے والا کوئی دن،کبھی نہ کبھی، روزِ عید ضرور ہوتا ہے۔

دوستوں کو عید سعید کی بہت مبارک باد۔
(یادوں کا اِک ورق)

بشکریہ - عرفان جاوید

Irfan Javed

Address

Street No 24 G 8/4
Islamabad
051

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Owais Qurni posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Owais Qurni:

Share