29/05/2026
تکلیف دہ مشاہدات
حج کے موقع پر ایک اور بات بہت واضح مشاہدے میں آتی ہے۔۔۔
جس انسان کے عام زندگی میں جس طرح کے اخلاق اور رویے ہوتے ہیں، وہی اس موقع پر کھل کر سامنے آرہے ہوتے ہیں۔
حج کی سختیاں اور مشقتیں ہمیں پریشان نہیں کرتی ہیں، ہماری عادات، اخلاق اور رویے حج کے موقع پر بالکل واضح ہو کر سامنے آجاتے ہیں، اور یہ وہ معاملہ ہے جس کی وجہ سے انسان دوسروں کے سامنے نا چاہتے ہوئے بھی اور کوشش کے باوجود بالکل برہنہ ہوجاتا ہے۔
کچھ مشاہدات بتاتا ہوں:
سر منڈوانے کے لیے حجاموں کی دوکانوں پر دس ذوالحجہ کو شدید رش ہوتا ہے۔ لوگ قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں۔ ایک صاحب آتے ہیں، دو لوگوں کو باتوں میں لگاتے ہیں اور خاموشی سے قطار کے بیچ میں گھس جاتے ہیں
لندن سے آئے ہوئے ایک نوجوان حاجی ان کی اس حرکت پر گرفت کرتے ہیں جو کہ بہت دیر سے اپنی جگہ کھڑے ہوئے تھے، جس پر وہ صاحب بجائے معذرت خواہ ہونے کے، پوری سینہ زوری کے ساتھ اونچی آواز میں بولتے ہوئے کھڑے رہتے ہیں اور پہلے اپنی باری پکڑ لیتے ہیں۔
یہ وہ صاحب ہیں جن کا عام زندگی میں بھی سو فیصد یہی رویہ ہوگا، یعنی جہاں موقع ملے، بے ایمانی سے کسی اور کا حق مار لینا۔
رمی جمرات کے لیے لوگ جارہے ہیں، مقامی پولیس والے بار بار ایک قطار میں آنے کا کہہ رہے ہیں، لیکن بہت سے لوگ دوسروں کو دباتے ہوئے، اپنے ہاتھ اور جسم سے لوگوں کو روکتے ہوئے پیچھے سے آگے آکر ان سے پہلے بس میں سوار ہوجاتے ہیں۔
یہ بھی عام زندگی میں سو فیصد لوگوں کا حق مارتے ہوں گے، اور وہی رویہ ان کی شخصیت کو ہزاروں لوگوں کے سامنے ننگا کررہا ہے۔ بس انہیں اس بات کا شعور نہیں ہے۔
ہمارے گروپ نے ہوٹل سے رمی کی شٹل تک کے لیے گالف کارٹ سروس رکھی ہوئی ہے جو ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اس گروپ کا حصہ ہیں۔ 4 بجے سخت گرمی میں خواتین و حضرات انتظار میں کھڑے ہوئے ہیں۔
برابر والی بلڈنگ سے ایک صاحب دو خواتین کے ساتھ نکلتے ہیں، تینوں ٹہلتے ہوئے ہمارے ہوٹل سے تھوڑا سا آگے جاتے ہیں، کارٹ جو ہماری طرف آرہی تھی، اسے پہلے روک کر اس میں بیٹھ جاتے ہیں۔ کارٹ آگے آتی ہے اب اس میں تین جگہوں پر پہلے ہی وہ بیٹھ چکے ہیں۔
ظاہر ہے کہ 500 لوگوں کے گروپ میں سب ایک دوسرے کو نہیں پہچانتے۔ اب یہاں انہوں نے تین افراد کی حق تلفی کردی اور بالکل ڈھیٹ بن کر بیٹھے رہے۔ کارٹ ڈرائیور کو لوگوں نے کہا لیکن وہ غریب کس کی سنے کس کی نہ سنے۔۔۔
ان کا کوئی حق نہیں تھا کہ وہ اس پرائیویٹ کارٹ سروس کو استعمال کرتے لیکن انہوں نے پوری ڈھٹائی سے استعمال کی، اور تین افراد کا حق مار گئے۔
اترتے ہوئے میں نے کہا کہ بھائی آپ کی ڈاڑھی، ٹوپی، اور حج آپ کو نہیں بچا سکے گا کیونکہ آپ نے تین کبیرہ گناہ کردیئے ہیں اور حقوق العباد سے متعلق کردیئے ہیں۔ میں نے کہا کہ جو لوگ آپ کی وجہ سے کھڑے ہوئے رہ گئے، آپ کو ان سے معافی مانگنا لازم ہوگیا ہے۔
ابھی حج کے اعمال جاری ہیں اور ہمارے اخلاق اور رویوں میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔
کھانے کا وقت ہے، کھانا لگ چکا ہے، اب کئی خواتین و حضرات کے کھانے میں لالچ اور ندیدے پن کے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بے صبری، پلیٹ بھر لینا، دوسروں کا بالکل خیال نہ کرنا ہر کھانے کے وقت کچھ لوگوں میں نظر آرہا ہوتا ہے۔
پھر پیکج میں جوسز، آئس کریم، پھل کولڈ ڈرنک، چائے، کافی وغیرہ چوبیس گھنٹے موجود ہے۔ لیکن گودیں بھر بھر کے لے جانا، اپنے دوست احباب کو باہر سے بلا کر انہیں بھی بٹھا لینا۔ یہ وہ رویہ ہے جس میں انسان اپنی حرص اور کھانے پینے کی ہوس کو نہیں چھپا پاتا۔
کوئی چیز کھائی اور ریپر، تھیلی، پیکٹ، ڈبہ وہیں پھینک دیا۔ سگریٹ پیا اور وہیں پھینک دیا۔ گٹکا کھایا اور نظر بچا کر وہیں تھوک دیا۔ واش روم گئے اور بغیر فلیش کیے، بغیر کموڈ سیٹ صاف کیے باہر آگئے۔ پانی کی بوتلیں لی، پی کر وہیں پھینک دی۔
اصل میں انسان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ جو عادت یا رویہ آپ کے تحت الشعور یا لاشعور کا حصہ بن جاتا ہے، اب وہ مستقل آپ کی عادات، اخلاق اور رویوں میں جھلکتا ہے۔ آپ اس سے خود کو روک نہیں سکتے۔
اس لیے اپنی عادات و اطوار کو درست نہج پر ڈویلپ کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔
میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ہم میں سے شاید ہی چند لوگ ہوں گے، جنہوں نے حج کو شعوری طور پر کیا ہوگا، ورنہ عام طور پہ ہم چونکہ اپنی افتاد طبع کے اسیر ہوتے ہیں تو وہی افتاد طبع ہر ہر موقع پر ظاہر ہوتی نظر آتی ہے۔
اوپر لکھے ہوئے تمام تر واقعات کا ظہور زیادہ تر پاکستانی، ہندوستانی، عراقی اور بلاد الشام (مصر، اردن، شام وغیرہ) حجاج سے ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
ملائشیا، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر، کویت اور یورپ سے آئے ہوئے حجاج اور زائرین بہت بہتر اخلاق اور رویوں کے حامل نظر آتے ہیں۔
اور ایک بار پھر یہ بات آشکار ہوتی نظر آتی ہے کہ ہمارے گھروں اور تعلیمی اداروں سے کردار اور اخلاق سازی مکمل طور پر رخصت ہوچکی ہے۔ اس میں دینی تعلیمی ادارے بھی شامل ہیں۔
میں تو سمجھتا ہوں کہ مونٹیسوری اور اس نوعیت کی تمام تعلیم ختم کردینی چاہیے اور پہلے سات برس صرف معاشرتی اخلاقیات اور بنیادی اوصاف پر ہی کام کرنا چاہیے۔
والدین اور بڑوں کی تربیت کے لیے خصوصی انتظام اور اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔
ظاہر ہے کہ حکومتی ادارے تو اس حوالے سے بالکل صفر ہیں اور کسی قسم کا کوئی نظم بنانے پر مجھے کہیں بھی کوئی کام ہوتا نظر نہیں آتا۔
کم از کم گھروں میں، دفاتر میں، اور تعلیمی اداروں میں تو اس بات پر شدید فوکس کیا جانا چاہیے۔ مساجد میں علماء کرام کو مستقل معاشرتی اخلاقیات کو اپنا موضوع بنانا چاہیے، اور اس کا آغاز کرنا چاہیے " جوتے اور چپلیں کیسے اتاریں اور رکھیں"۔۔۔۔ اس موضوع سے،
اسی طرح قطار کیسے بنتی ہے اور دین اسلام بارے میں کیا کہتا ہے۔
کھانا کیسے لیا جائے اور کیسے کھایا جائے۔
موٹرسائیکل اور گاڑی کی پارکنگ دین اسلام کی روشنی میں۔
سڑک پر موٹرسائیکل اور گاڑی چلانے کا طریقہ اور دین اسلام کی ہدایات۔
روزمرہ کے وہ تمام معاملات جہاں قوم کی ایک عظیم اکثریت دوسروں کے حقوق مارنے کی مرتکب ہوتی ہے لیکن انہیں اس بات کا شعور تک نہیں ہے۔
فقہی مسائل صرف علماء کی گفتگو یا ضرورت کے مطابق ڈسکس کیے جائیں،جبکہ فوکس معاشرتی اخلاقیات پر رکھا جائے۔
پورے پاکستان کی مساجد کا ہر جمعے کو ایک ہی موضوع پر خطبہ ہو اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء اگلے 52 جمعوں کے خطبات پہلے سے ترتیب دے لیں۔ یہاں کوئی فروعی مسائل نہیں ہیں لیکن اس کا امپیکٹ اگلے 5 سے 10 سال میں بہت بڑا ہوسکتا ہے۔
یہ باتیں میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں اور اپنی ورکشاپس میں بھی بات کرتا ہوں لیکن حج کے موقع پر ہونے والے مشاہدات نے دل توڑ کر رکھ دیا ہے کہ ہم کس قسم کے لوگ بن گئے ہیں۔
اللہ تعالٰی ہمیں معاف کردے اور ہمارے حج کو قبول فرما لے۔ آمین
یمین الدین احمد
28 مئی 2026ء
بمطابق 12 ذوالحجہ 1447ھ
منی، مکہ مکرمہ۔