20/08/2026
سائنس کو نہ دشمن بنائیں، نہ دین
ایک عجیب صورتِ حال ہمارے معاشرے میں بار بار سامنے آتی ہے۔ ایک طرف کچھ مذہبی لوگ ہیں جو سائنس کی کسی نئی تحقیق یا دریافت کا نام سنتے ہی دفاعی کیفیت میں آجاتے ہیں، جیسے ہر نئی سائنسی بات ان کے ایمان کے خلاف کوئی حملہ ہو۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ ہیں جو سائنس کی کامیابیوں سے اتنے متاثر ہوجاتے ہیں کہ سائنس کو صرف علم کا ذریعہ نہیں بلکہ تقریباً ایک مکمل دین اور فلسفۂ حیات بنا لیتے ہیں، اور پھر مذہبی لوگوں کو پسماندہ، جاہل یا عقل سے خالی سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔
میرے خیال میں دونوں رویے درست نہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سائنس آخر ہے کیا؟
سائنس ہمیں یہ سمجھنے کا ایک منظم طریقہ دیتی ہے کہ یہ مادی کائنات کس طرح کام کرتی ہے۔ ہم مشاہدہ کرتے ہیں، تجربہ کرتے ہیں، پیمائش کرتے ہیں، نتائج کو بار بار جانچتے ہیں اور پھر کوئی نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔
زمین کیوں گھومتی ہے؟
بیماری کیسے پھیلتی ہے؟
DNA کیسے کام کرتا ہے؟
ستارے کیسے بنتے ہیں؟
دوائی جسم پر کیا اثر کرتی ہے؟
یہ سب سائنس کے سوالات ہیں۔
ایک مسلمان کو ان سوالات سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟
اگر زمین حقیقت میں حرکت کرتی ہے تو اسے ساکن کہنے سے اللہ کی عظمت میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اور اگر کسی سائنسی دعوے میں غلطی ہے تو تحقیق کے ذریعے اس کی غلطی سامنے آجائے گی۔
حقیقت کو حقیقت رہنے دیجیے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بعض مذہبی لوگ کسی پرانے عالم کی سائنسی تشریح کو دین کا حصہ سمجھ لیتے ہیں۔ پھر اگر جدید مشاہدہ اس تشریح کے خلاف آجائے تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید دین خطرے میں پڑگیا۔
حالانکہ دین خطرے میں نہیں ہوتا۔
صرف ہماری تشریح غلط ہوسکتی ہے۔
قرآن حق ہے، مگر قرآن کی ہماری سمجھ معصوم نہیں۔
مفسر، عالم اور سائنس دان سب انسان ہیں۔ ہر شخص اپنے زمانے کے علم کے مطابق کسی نتیجے تک پہنچ سکتا ہے اور بعد میں معلوم ہوسکتا ہے کہ اس میں اصلاح کی ضرورت ہے۔
ہم نے گلیلیو کے واقعے میں بھی یہی سبق دیکھا۔ مذہبی متن اپنی جگہ تھا، لیکن اس متن کی ایک مخصوص فلکیاتی تشریح کو مذہب کا لازمی حصہ سمجھ لیا گیا۔ بعد میں مشاہدات نے اس انسانی تشریح کو چیلنج کردیا۔
مسلمان کو یہی غلطی دوبارہ نہیں کرنی چاہیے۔
لیکن یہاں دوسری انتہا بھی اتنی ہی خطرناک ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں:
“سائنس ہی کو دین بنالو۔”
یہ جملہ بظاہر بڑا جدید معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ خود سائنس کی حدود کو نہ سمجھنے کی علامت ہے۔
سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ کیا ممکن ہے اور کیسے ممکن ہے، لیکن ہر دفعہ یہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ جو ممکن ہے، کیا اسے کرنا بھی چاہیے؟
ایک بہت سادہ مثال لیجیے۔
فرض کریں کسی شوہر میں اولاد پیدا کرنے کے قابل نطفہ موجود نہیں۔ جدید طب کے ذریعے یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ کسی دوسرے مرد کا نطفہ لے کر اس کی بیوی کو حاملہ کردیا جائے۔
سائنس یہاں یہ بتاسکتی ہے:
یہ کام technically ممکن ہے۔
لیکن اب سوال یہ ہے:
کیا یہ اخلاقاً بھی درست ہے؟
کیا کسی تیسرے مرد کا نطفہ ایک شادی شدہ جوڑے کے خاندانی نظام میں شامل کیا جانا چاہیے؟
بچے کا نسب کیا ہوگا؟
خاندان، والدین اور وراثت کے معاملات کیا ہوں گے؟
یہ سوال microscope نہیں حل کرے گا۔
یہاں اخلاق، قانون اور دین اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
اسلام کہتا ہے کہ نسب کی حفاظت ضروری ہے، اس لیے نکاح کے باہر کسی تیسرے شخص کے نطفے کو میاں بیوی کے تولیدی عمل میں شامل کرنا جائز نہیں۔
اب غور کیجیے:
سائنس نے یہ نہیں کہا کہ یہ اخلاقاً صحیح ہے۔ سائنس نے صرف بتایا کہ یہ ممکن ہے۔
یہی بہت بڑا فرق ہے۔
مستقبل میں gene editing، embryo selection، cloning اور دوسری ٹیکنالوجیز انسان کو بہت سے ایسے کام کرنے کے قابل بنا سکتی ہیں جن کا چند نسل پہلے تصور بھی مشکل تھا۔
ایک باشعور مذہبی انسان کو یہ نہیں کہنا چاہیے:
“تحقیق بند کردو۔”
بلکہ اسے پوچھنا چاہیے:
یہ علم کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا؟
کسی موروثی بیماری کا علاج کرنے کے لیے؟
انسانی جان بچانے کے لیے؟
یا پھر انسان کو اپنی پسند کے مطابق design کرنے، کمزور طبقوں کا استحصال کرنے یا ایسی حدود توڑنے کے لیے جن کے بڑے اخلاقی نتائج ہوں؟
یعنی مذہبی شخص کا اصل اعتراض سائنس کے علم پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ بعض اوقات اس علم کے استعمال پر ہوسکتا ہے۔
یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
دوسرا مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں سائنس کی کسی کامیابی سے بلاوجہ خدا کے انکار کا نتیجہ نکالا جاتا ہے۔
مثلاً کوئی کہتا ہے:
“دیکھو، سائنس نے DNA بدل دیا، اب خدا کہاں ہے؟”
یا:
“ہم نے مصنوعی عضو بنا لیا، اب خالق کی کیا ضرورت ہے؟”
یہ سائنس نہیں رہی۔
یہ سائنس کے نام پر ایک فلسفیانہ دعویٰ ہے۔
سائنس دان نے DNA بنایا نہیں۔ اس نے پہلے سے موجود DNA کو سمجھ کر اس میں تبدیلی کی۔
اس نے خلیہ وجود میں لانے کے بنیادی قوانین پیدا نہیں کیے۔
اس نے مادہ، توانائی اور کائنات کے قوانین عدم سے پیدا نہیں کیے۔
اس نے صرف موجود نظام کو سمجھ کر اس کے اندر کام کرنا سیکھا۔
اگر ایک انجینئر لکڑی سے میز بنا لے تو اس نے درخت، ایٹم، مادہ اور کائنات کے قوانین پیدا نہیں کردیے۔
اسی طرح اگر انسان ایک gene تبدیل کرنا سیکھ گیا تو اس سے یہ نتیجہ کہاں سے آگیا کہ:
“اب خدا کی ضرورت نہیں رہی؟”
یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ ہمیں بارش کا سائنسی عمل معلوم ہوگیا، اس لیے اب کائنات کے خالق کا سوال ختم ہوگیا۔
Mechanism معلوم ہونا اور ultimate cause کا سوال ختم ہوجانا دو مختلف چیزیں ہیں۔
اسی مقام پر Science اور Scientism میں فرق سامنے آتا ہے۔
Science کہتی ہے:
“ہم اس طبیعی عمل کو اس طرح سمجھتے ہیں۔”
Scientism کہتا ہے:
“صرف وہی حقیقت ہے جو سائنس کی تجربہ گاہ میں ناپی جاسکے۔”
یہ دوسرا جملہ خود کوئی سائنسی تجربہ نہیں۔
یہ ایک فلسفیانہ عقیدہ ہے۔
اسی لیے اللہ، روح، فرشتے، آخرت اور عالمِ غیب کو microscope میں تلاش کرنا ہی category کی غلطی ہے۔
جس طرح ترازو سے درجہ حرارت نہیں ناپا جاتا، اسی طرح ہر حقیقت کو laboratory instrument سے ناپنے کی شرط بھی درست نہیں۔
یہ کہنا بھی غلط ہے کہ چونکہ سائنس فرشتے نہیں دکھاسکتی، اس لیے سائنس بے کار ہے۔
اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ چونکہ سائنس فرشتے detect نہیں کرتی، اس لیے فرشتے موجود نہیں۔
ہر علم کا اپنا دائرہ ہے۔
ایک سمجھ دار مذہبی شخص کو سائنس سے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
اگر زمین گھومتی ہے تو گھومنے دیں۔
اگر انسان کسی بیماری کا gene دریافت کرتا ہے تو خوشی کی بات ہے۔
اگر cancer کا بہتر علاج بنتا ہے تو اسے استعمال کریں۔
اگر کوئی spacecraft کسی نئے سیارے تک پہنچتا ہے تو یہ انسان کے علم کی کامیابی ہے۔
اللہ کے بنائے ہوئے نظام کو سمجھ لینا اللہ سے بغاوت نہیں۔
لیکن اسی طرح سائنس سے محبت کرنے والے شخص کو بھی مذہبی انسان کو صرف اس لیے جاہل نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ سائنس کے ہر ممکن استعمال کو اخلاقاً جائز نہیں مانتا۔
ہوسکتا ہے وہ سائنس کا مخالف نہ ہو۔
وہ صرف یہ پوچھ رہا ہو کہ ہمیں یہ کام کرنا چاہیے بھی یا نہیں۔
یہ بہت اہم سوال ہے۔
ایٹمی توانائی سے بجلی بھی بن سکتی ہے اور شہر بھی تباہ ہوسکتا ہے۔
Chemistry سے دوا بھی بن سکتی ہے اور زہر بھی۔
Artificial Intelligence سے تعلیم اور علاج بہتر ہوسکتا ہے اور اسی technology کو دھوکے اور نقصان کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
سائنس طاقت دیتی ہے۔
لیکن طاقت کا صحیح استعمال صرف طاقت کا علم نہیں سکھاتا۔
وہاں اخلاقی اصول درکار ہوتے ہیں۔
اس لیے ایک صحیح علمی رویہ یہ ہونا چاہیے:
نہ مذہبی شخص ہر نئی دریافت کو اپنے ایمان کا دشمن سمجھے، نہ سائنس کا شیدائی ہر نئی ایجاد کو خدا کے خلاف فتح قرار دے۔
مذہبی شخص کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قرآن کی ہر انسانی تشریح قرآن نہیں۔
اور سائنس کے شیدائی کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر وہ چیز جو technically ممکن ہے، ضروری نہیں کہ اخلاقاً بھی درست ہو۔
ایک طرف یہ کہنا غلط ہے:
“میرے بزرگ نے یہ کہا تھا، اس لیے پوری جدید سائنس غلط ہے۔”
دوسری طرف یہ کہنا بھی غلط ہے:
“سائنس نے یہ کام کردیا، اس لیے اب خدا، دین اور اخلاق کی ضرورت نہیں۔”
دونوں میں ایک ہی بیماری ہے:
حد سے بڑھ جانا۔
ہمارا راستہ ان دونوں کے درمیان ہے۔
سائنس سے سیکھیں۔
تحقیق کریں۔
سوال کریں۔
ثبوت قبول کریں۔
جہاں ہماری پرانی تشریح غلط ہو، اسے درست کریں۔
اور ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ انسان کی طاقت بڑھنے کے ساتھ اس کی اخلاقی ذمہ داری بھی بڑھتی ہے۔
سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔
دین اور اخلاق یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر:
سائنس کو دشمن بنانا بھی غلط ہے، اور سائنس کو خدا بنا دینا بھی۔
یہی توازن شاید آج مذہبی اور سائنسی دونوں حلقوں کو سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
#اخلاقیات #فلسفہ