24/05/2026
آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کسی کا جوان بیٹا وفات پا جائے تو تعزیت کے لئے آنے والے لوگ فوتگی والوں کے گھر کھڑے ہوکر سیلفیاں لے رہے ہوں؟
آپ نے کبھی دیکھا کہ جوان میت گھر میں پڑی ہو اور رشتہ دار اور دوست احباب پوچھ رہے ہوں کہ کھانے میں کیا بنایا ہے؟
آپ نے کبھی دیکھا کہ جب جنازہ اٹھایا جارہا ہو تو جنازے کے قریب جاکر دوست رشتہ دار اپنی فوٹو بنوا رہے ہوں؟
آپ نے کبھی دیکھا تعزیت کے لئے آنے والے عزیز و اقارب جب فوتگی والے گھر پہنچیں تو لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوکر سیلفیاں لے رہے ہوں؟
آپ نے کبھی دیکھا کہ فوتگی پر دو چار کیمرہ مین کو سپیشل بلایا جائے کہ آپ روتے ہوئے لوگوں کی تصویریں بنانا؟
آپ نے کبھی دیکھا کہ موت والے گھر میں مہمان فل میک اپ کرکے نئے کپڑے پہن کر آتے ہوں؟
ہر گز ایسا نہیں دیکھا ہوگا۔۔۔۔۔۔ عام انسانوں کے گھروں میں موت پر ایسا نہیں ہوتا ، جہاں ایک جنازہ ہو وہاں ایسا کرنا معیوب تر سمجھا جاتا ہے البتہ جہاں 72 جنازوں کا غم منایا جارہا ہو وہاں ایسا ہو رہا ہے۔۔
مجلس حسینؑ میں ایسا ہورہا ہے اور بغیر کسی روک ٹوک کے کیا جا رہاہے، ادھر ذاکر صاحب گاڑی سے اترتے ہیں ادھر چار پانچ کیمرہ مین آگے پیچھے سے فوٹو کھینچتے ہیں، چھ ساتھ ٹک ٹاکرز بھی اپنے موبائل لے کر ذاکر صاحب کے ساتھ ویڈیو بناتے ہیں، اور بانیِ مجلس تو ہر ذاکر صاحب کے ساتھ سیلفی بنانا واجب سمجھتا ہے وہ چاہتا ہے کہ دنیا کو پتہ چلے کہ اس نے زہرا سلام اللہ علیھا کے بیٹوں کی صفِ ماتم بچھائی ہے اور خوب پیسہ خرچ کیا ہے، نامور ذاکرین بلائے ہیں اب رشتہ داروں میں اور علاقہ بھر میں دھوم نہ مچے تو پھر فائدہ کیا؟
نماز کے وقفہ میں مومنین مسجد میں کم اور لنگر خانے میں زیادہ پائے جاتے ہیں، ٹھیک ہے دور سے آئے مہمانوں نے کھانا تو کھانا ہی ہے مگر ہم تو نیاز کے لئے بالکل ہی نیازی بن چکے ہیں۔
اتنے لوگ امام بارگاہ میں نہیں ہوتے جتنے باہر تصاویر بنوانے والے موجود ہوتے ہیں، اب جیسے ہی ذاکر صاحب مصائب بیان کرنا شروع کرتے ہیں براہِ راست مجلس چلانے والوں کے کیمرہ مین عین اسی وقت پنڈال میں کھڑے ہوکر دھڑا دھڑ تصاویر بنانا شروع کردیتےہیں، اور جو ان کے اپنے جاننے والے لوگ ہوتے ہیں ان کی ذرہ قریب سے بناتے ہیں تاکہ بعد میں اسے سوشل میڈیا پر ڈالا جائے تاکہ لوگ کہیں "جیو مولا کے عزادار"، پھر جیسے ہی تابوت برآمد ہوتا ہے پھر عزدارن میں سے کچھ لوگ مو