JUI Digital Media Cell Bahawalpur

Directions

JUI Digital Media Cell Bahawalpur ڈیجیٹیل میڈیا سیل جےیوآئی ضلع بہاول پور

مفتی محمود کانفرنس ملتان ان شاء اللہ
07/10/2026

مفتی محمود کانفرنس ملتان ان شاء اللہ

07/10/2026

مولانا فضل الرحمان میرے بھائی ہیں، ان کے بیٹے میرے بھتیجے ہیں، ہمارے رشتے سیاست سے بڑھ کر ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی جنابِ سردار ایاز صادق کی گفتگو

پی ٹی آئی کے بعد ایاز صادق اور رانا ثناء اللہ بھی مولانا فضل الرحمان صاحب کے پاس پہنچ گئے، آخر معاملہ ہے کیا؟اسپیکر قومی...
07/10/2026

پی ٹی آئی کے بعد ایاز صادق اور رانا ثناء اللہ بھی مولانا فضل الرحمان صاحب کے پاس پہنچ گئے، آخر معاملہ ہے کیا؟

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق امیر جمعیۃ علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان صاحب کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی۔ سردار ایاز صادق نے مولانا فضل الرحمان کو حالیہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر مبارک باد پیش کی۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے فوراًبعد حکومتی وفد جس میں رانا ثناءاللہ، طارق فضل چوہدری شامل تھے، بھی مولانا کے ہاں پہنچ گیے۔
یوں محسوس ہوتا ہےکہ ملکی سیاست کی کشتی اب محض کنارے سے دور نہیں بلکہ بھنور میں پھنس چکی ہے، ڈگمگا رہی ہے، اور دونوں اطراف کے ملاح کسی ایسے شخص کی تلاش میں ہیں جو اسے اس بھنور سے نکالنے کا راستہ بتا سکے۔

حزبِ اختلاف ہو یا حزبِ اقتدار، دونوں کو اب یہ احساس ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی اور مذاکراتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی اپنے مسائل لے کر مولانا کے استانے پر پہنچتی ہے اور دوسری طرف حکومت کے نمائندے بھی اسی استانے کا رخ کرتے ہیں۔

صورتحال اگر اسی طرح کشیدہ ہوتی گئی تو معاملہ محض سیاسی کشمکش تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ کسی غیر جمہوری اقدام کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے نازک مرحلے پر دونوں جانب کے وفود کا مولانا فضل الرحمان کے پاس آنا اس بات کی علامت ہے کہ شاید فریقین بھی سمجھ رہے ہیں کہ سیاسی بحران کا حل سیاسی بصیرت اور تدبر ہی سے نکالا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کی سیاسی فہم و بصیرت، معاملہ فہمی اور دونوں فریقوں سے رابطے کی صلاحیت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر ان کی کوششوں سے حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان کوئی قابلِ قبول راستہ نکل آتا ہے تو نہ صرف موجودہ سیاسی تناؤ کم ہو سکتا ہے بلکہ ملک کو کسی ممکنہ غیر جمہوری راستے کی طرف جانے سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی خود حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے ان کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کو محض مبارک باد تک محدود سمجھنا شاید سیاسی سادگی ہوگی۔

جب ایک ہی آستانے پر حزبِ اقتدار بھی دستک دے اور حزبِ اختلاف بھی، تو سمجھ لینا چاہیے کہ سیاسی کشتی میں پانی کچھ زیادہ ہی بھر چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنی سیاسی بصیرت سے اس کشتی کو بھنور سے نکال کر کنارے تک پہنچانے میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔

تحریر؛ مولانا امان اللہ حقانی صاحب
سابق صوبائی وزیر مذہبی امور خیبرپختونخواہ

07/10/2026

اپوزیشن قیادت کےبعد حکومتی وفد کی مولانا فضل الرحمان کے گھر آمد، ایازصادق، راناثناءاللہ اور طارق فضل چودھری کی مولاناصاحب سےملاقات

07/10/2026

پی ٹی آئی کو مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن لیڈر بنانا چاہیے اور تحریک کی ذمہ داری دینی چاہیے۔
فواد چوہدری کی ٹویٹ

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUI Digital Media Cell Bahawalpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share