Saheefadotnet

Saheefadotnet Saheefa was launched to contribute in presenting authentic mainstream Islam to the world.

Saheefa was launched to contribute in presenting authentic mainstream Islam to the world.It is an initiative that strives to build bridges of understanding & peaceful co-existence with fellow humanbeings around the world.

ہمیں اللہ نے  دنیا میں پہلی اور آخری بار صرف اسلئے نہیں بھیجا کہ ہم خوب مزے کریں عیاشی کریں اور اس دنیا کے حصول کیلئے دن...
27/07/2024

ہمیں اللہ نے دنیا میں پہلی اور آخری بار صرف اسلئے نہیں بھیجا کہ ہم خوب مزے کریں عیاشی کریں اور اس دنیا کے حصول کیلئے دن رات ایک کردیں ، اپنے آپ کیلئے وقت ہی نہ ہو کہ میں اپنے آپ کو پہچانوں کہ اللہ کا مجھے دنیا میں بھیجنے کا مقصد کیا ہے۔۔۔۔؟ میری سمت کیا ہے؟ میں اپنے شب وروز کیسے گزار رہا ہوں اور مجھے کرنا کیاہے؟ بلکہ اسلئے بھیجا ہے کہ شیطان کی نہ مان کر صرف میری عبادت کریں۔۔۔۔۔جو اختیار دیا ہے اسکا جائز استعمال کریں۔۔۔۔۔جس اللہ نے ہمیں ایک گندے نطفے سے پیدا کیا ہے وہ ہمیں دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔۔۔۔۔منافع کا سودا صرف وہی کرتے ہیں جو آخرت کو سنوارنے میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں کیونکہ وہاں موت نہیں اللہ کی ماننے والوں کیلئے کوئی پریشانی نہیں ۔۔۔۔۔دنیا بے شک انکو عقل مند سمجھے لیکن میں انہیں بیوقوف ترین سمجھتا ہوں جن کی زندگی کا مقصد اس فنا ہونے والی زندگی کیلئے ہر جائز ناجائز طریقے سے دن رات ایک کرکے صرف دولت اور دنیاوی عیاشی کا حصول ہے۔۔۔۔اللہ ہمیں ان لوگوں کے رستے پہ چلنے کی ہدایت نصیب فرمائے جن پر اللہ کا انعام ہوا، نہ کہ انکے جن پر اللہ کا غضب ہوا۔۔۔۔آمین یا رب العالمین
Highlight

23/08/2023
10/08/2023

*رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث میں موجودہ پانچ بڑے مسائل کے حل*

امام ابن ماجہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’حدثنا محمود بن خالد الدمشقی، حدثنا سلیمان بن عبدالرحمن اٴبو اٴیوب، عن إبن إبی مالک، عن اٴبیہ عن عطاء بن ابی رباح، عن عبداللہ بن عمر قال: اٴقبل علینا رسول اللہ ﷺ فقال: یا معشر المھاجرین خمس إذا بتلیتم بھنّ واٴعوذ باللہ ان تدرکھنّ۔‘‘
ترجمہ: ’’عبداللہ بن عمر  سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا ’’اے مہاجروں کی جماعت! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہو گئے (تو ان کی سزا ضرور ملے گی) اور میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں کہ وہ (بری چیزیں) تم تک پہنچیں:
 لم (تظھر) الفاحشة فی قوم قطّ، حتی یعلنوا بھا، الا فشا فیھم الطاعون والاٴوجاع التی لم تکن مضت فی اٴسلا فھم الذین مضوا۔
’’جب بھی کسی قوم میں بے حیائی (بدکاری وغیرہ) علانیہ ہونے لگتی ہے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے لوگوں میں نہیں ہوتی تھیں۔‘‘
 ولم ینقصوا المکیال والمیزان، الّا اٴخزوا بالسنین وشدّة المؤونة وجور السلطان علیھم۔
’’جب بھی وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں ان کو قحط سالی، روز گار کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعے سے سزا دی جاتی ہے۔‘‘
 ولم یمنعوا ذکاة اٴموالھم ، الّا منعوا القطر من السماء ولو لا البھائم لم یمطروا۔
’’جب وہ اپنے مالوں کی زکوة دینا بند کرتے ہیں تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے ۔ اگر جانور نہ ہوں تو انہیں کبھی بارش نہ ملے۔‘‘
 ولم ینقضوا عہد اللہ وعہد رسولہ، الا سلّط اللہ علیھم عدوّا من غیرھم فاخزوا بعض ما فی ایدیھم۔
’’جب وہ اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑتے ہیں تو ان پر دوسری قوموں میں سے دشمن مسلط کر دیئے جاتے ہیں وہ ان سے وہ کچھ چھین لیتے ہیں جو ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔‘‘
 وما لم تحکم اٴئمتھم بکتاب اللہ ویتخیروا مما اٴنزل اللہ، الا جعل اللہ باٴسھم بینھم۔
’’جب بھی ان کے امام (سردار اور لیڈر) اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور جو اللہ نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ ان میں آپس کی لڑائی ڈال دیتا ہے۔‘‘
(رواہ ابن ماجة فی الفتن، رقم الحدیث: ۴۰۹۱،اٴبو نعیم فی الحلیة، ج۳، صفحہ۳۲۰، رواہ الطبرانی فی معجم الاوسط، ج۱، صفحہ ۲۸۷، مسند الشامین، ج۲، رقم الحدیث: ۱۵۵۸، الصحیحة للاٴلبانی، رقم: ۱۰۶، قال البوصیری: رواہ الحاکم اٴبو عبداللہ الحافظ فی کتابہ المستدرک فی آخر کتاب الفتن مطولا من طریق عطاء بن ابی رباح، وصححہ البوصیری، ولہ شواھد کثیرة۔۔۔)

10/08/2023

🌹بِسْـــــــــمِ ﷲِالرَّحْمنِ الرَّحِيم🌹

*جب بیٹیاں بیوہ یا طلاق یافتہ ہوجائیں تو پھر......*
▩▬▬▬▬-۩🌹۩-▬▬▬▬▩

جب بیٹیاں بیوہ یا طلاق یافتہ ہوجائیں
تو پھر گھر نہیں بٹھائی جاتیں...۔۔۔۔۔۔۔
کبھی تاریخ کا مطالعہ بھی کیا کیجئے........

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا
کہ جب ان کی بیٹی حفصہ بیوہ ہوگئیں،
اور ان کے شوہر سیدنا خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللّٰہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی اور بدر میں شرکت کرنے والے تھے،

مدینہ میں انتقال کرگئے،
تو میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملا
ور(اپنی بیوہ بیٹی)حفصہ کا ذکر کیا،
اور ان سے کہا
کہ اگر تم چاہو
تو میں ان کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں،
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا
کہ میں غور کرکے جواب دوں گا،
میں کئی رات ٹھہرا رہا،
پھر ملاقات ہونے پر حضرت عثمان نے فرمایا
کہ مجھے فی الحال نکاح کرنے پر اطمینان نہیں ہوا،
پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا
اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں،
تو میں (اپنی بیوہ بیٹی) حفصہ کا نکاح تمہارے ساتھ کردوں،
حضرت ابوبکر خاموش ہوگئے
اور کوئی جواب نہیں دیا،
مجھ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اس سرد مہری سے اس سے بھی زیادہ رنج ہوا،
جتنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے انکار سے ہوا تھا،
میں کئی راتیں ٹھہرا رہا
کہ اتنے میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے لیے حفصہ کے نکاح کا پیغام بھیجا،
میں نے فورا ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کردیا،
اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے
تو کہنے لگے کہ شاید تم کو میرا جواب نہ دینا ناگوار گزرا ہوگا،
میں نے کہا ایسا ہی ہے،
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا
کہ بات یہ ہے کہ میں نے تم کو اس وجہ سے جواب نہ دیا تھا
کہ رسول اللہ کا ان کا تذکرہ کرنا میرے علم میں آیا تھا،
اور میں رسول اللہ ﷺ کا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا،
ہاں اگر رسول اللہ ﷺ حفصہ سے نکاح کا ارادہ ترک کردیتے
تو میں ان سے نکاح کرلیتا
( صحیح البخاری، رقم الحدیث 4005، کتاب المغازی)
ملاحظہ فرمائیے
کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی طرح خود ہی اپنی بیوہ بیٹی کے نکاح کا پیغام پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیا،
اور پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو، یہ خلفائے راشدین میں سے ہیں، جس سے پتہ چلا
کہ بیوہ یا مطلقہ کے دوسرے نکاح کو عیب نہیں سمجھنا چاہیے
اور یہ بھی پتہ چلا کہ لڑکی والوں یا لڑکی کے سر پرستوں کو خود کسی لڑکے یا اس کے سر پرست کو نکاح کا پیغام دینا جائز ہے،
اور یہ عمل غیرت و حیاء کے خلاف نہیں،
مگر آج کل لڑکی والوں کی طرف سے خود کسی جگہ نکاح کا پیغام دینا عیب سمجھا جاتا ہے،
جس کے نتیجہ میں لڑکیوں کی عمریں گزر جاتی ہیں
اور وہ بوڑھی ہو جاتی ہیں...💕
كِتَابُ المَغَازِي
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ قَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَقَالَ قَدْ بَدَا لِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلَّا أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا۔۔۔
4005
*◈❂•┈•⊰••✿🌻✿••⊱•┈•❂◈*
```ایک بار درود شریف پڑھ لیجئے```
*اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیتَ عَلٰی اِبْرَاھِیمَ وعلی اٰلِ اِبْرَاھیمَ اِنَّکَ حَمِید مَّجِیْد* ۔ *اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیمَ اِنَّکَ حَمِید’‘ مَّجِید*
*︗︗•︗︗•••🌹•••︗︗•︗︗*
#اسلام #قران #حديث

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saheefadotnet posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Saheefadotnet:

Share