17/03/2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
الحمدللہ، اس وقت اعتکافِ صوفیہ نوربخشیہ پورے خشوع و خضوع اور روحانی جوش و جذبے کے ساتھ جاری ہے۔ اس مقدس عمل کے حوالے سے چند نہایت اہم حقائق پیشِ خدمت ہیں:
*عملی مشاہدہ بمقابلہ کتابی علم:* اعتکاف محض ایک رسم نہیں بلکہ مکمل طور پر ایک عملی (Practical) عبادت ہے۔ اس کی روحانی کیفیات، اندرونی مناظر اور اصل لذت صرف وہی پا سکتا ہے جو خود اس عمل سے گزرے۔ محض فیس بک، یوٹیوب یا کتابیں پڑھنے سے اعتکاف کی اصل حقیقت اور اس کی معرفت سمجھ میں نہیں آسکتی۔
*تربیت کا نظام:* جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آج کل کے دور میں اعتکاف میں تربیت نہیں ہوتی، تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ الحمدللہ، جو لوگ صدقِ دل سے تربیت حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں مکمل روحانی و اخلاقی تربیت دی جاتی ہے۔
*اعتکاف کی اقسام اور حقیقت:* جو لوگ اعتکاف کی مختلف اقسام یا اصطلاحات (جیسے ر، ص، ک، س وغیرہ) پر بحث کرتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ یہ سب بھی ہم نے انہی بزرگوں سے سنا اور سیکھا ہے۔ وہی ان کی اصل حقیقت اور گہرائی سے واقف ہیں۔ عام ذہنی سطح سے ان روحانی رموز کو سمجھنا ممکن نہیں۔
*واحد امتیاز اور پہچان*: یاد رکھیں، ہمارا یہ عملی اعتکاف ہی وہ واحد امتیازی چیز ہے جسے ہم دنیا کے کسی بھی دوسرے مسلک کے سامنے فخر سے پیش کر سکتے ہیں۔
`اگر ہم صرف زبانی دعوؤں اور کتابوں کے تقابل کی بات کریں، تو ان کے مقابلے میں شاید ہم کچھ بھی نہیں، کیونکہ اہل تشیع اور اہل سنت کے پاس ہم سے کہیں زیادہ، بلند و بانگ دعوے ، زیادہ کتابیں اور پڑھے لکھے علماء موجود ہیں۔`
*انفرادیت*: جس طرح کی روحانی تربیت اور عملی نظام سلسلہ صوفیہ نوربخشیہ کے اعتکاف میں موجود ہے، وہ دنیا کے کسی اور مسلک یا مذہب میں نہیں پایا جاتا۔ یہی ہماری اصل پہچان اور طاقت ہے۔
*نصیحت اور ذمہ داری*: خدارا اس قیمتی اور انمول ہیرے کی قدر کریں اور اسے تفرقہ بازی کی نذر نہ کیجیے ۔
*عملی شرکت:* کوشش کریں کہ خود عملی طور پر اعتکاف میں بیٹھیں اور اس کا تجربہ کریں۔
*تعاون*: اگر خود نہیں بیٹھ سکتے، تو اعتکاف کرنے والوں کے لیے بہتر انتظامات میں بھرپور تعاون کریں۔
*اجتناب*: اگر یہ بھی نہیں کر سکتے، تو خدارا کم از کم اس پر نکتہ چینی بالکل نہ کریں، کیونکہ یہ عمل صرف کرنے سے ہی سمجھ آتا ہے۔
اللہ پاک ہمیں اس انمول نعمت کی قدر کرنے اور اسے صحیح معنوں میں آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔
*آمین بجاہ النبی الامین و آلہ الطيبين الطاهرين*
تحریر: محمد اعجاز مصطفوی