Imamian Center "امامیہ عقائد، واقعات و شخصیات"

Directions Contact the place of worship

Imamian Center "امامیہ عقائد، واقعات و شخصیات" Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Imamian Center "امامیہ عقائد، واقعات و شخصیات", Religious Center, اسلام آباد, Islamabad.

تحقیق و دلیل کے ساتھ عقائدِ اہلِ بیتؑ، کربلا اور تاریخِ تشیع کی ترویج۔ ذاتی رائے اور غیر مستند نظریات کی گنجائش نہیں
یہ صرف ایک مذہبی صفحہ نہیں
یہ حسینی شعور کا مرکز ہے۔

12/09/2026

جنگ کا اصل میدان
سید حسن

آج یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے صرف “حوثی بمقابلہ سعودی عرب” کہہ دینا انتہائی سطحی تجزیہ ہوگا۔

یہ دراصل مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے ایک بڑے معرکے کا حصہ ہے۔

ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سرپرستی میں قائم علاقائی طاقت کا ڈھانچہ ہے؛ دوسری طرف ایسی مزاحمتی قوتیں ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ خطے کے فیصلے واشنگٹن، تل ابیب یا خلیجی دارالحکومتوں میں نہیں بلکہ خود خطے کے عوام کو کرنے چاہئیں۔

اسی تناظر میں انصاراللہ کو سمجھنا ہوگا۔

آپ ان کے عقائد، سیاسی موقف یا عسکری حکمتِ عملی سے اختلاف کر سکتے ہیں۔

لیکن کسی پوری قوم یا تحریک کو “مجوسی، مشرک، کافر، ایرانی ایجنٹ” جیسے چند نعروں میں سمیٹ دینا تجزیہ نہیں، پروپیگنڈا ہے۔

کسی تحریک کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ پوچھنا پڑتا ہے:

وہ پیدا کیوں ہوئی؟
اس کی سیاسی تاریخ کیا ہے؟
اس کے دشمن کون ہیں؟
اس کے حامی کون ہیں؟
اس کی عوامی بنیاد کہاں ہے؟
اور سب سے بڑھ کر—وہ اپنے آپ کو کس مقصد کے لیے لڑنے والا سمجھتی ہے؟

اسرائیل کا سوال

یہاں آکر معاملہ مزید دلچسپ ہوجاتا ہے۔

فلسطین میں نسلوں سے جاری ظلم، غزہ کی تباہی، لبنان پر حملے، شام اور عراق میں امریکی و اسرائیلی کارروائیاں اور خطے میں مسلسل عسکری مداخلت نے مشرقِ وسطیٰ کے ایک بڑے حصے میں یہ تصور مضبوط کیا ہے کہ مسئلہ صرف “علاقائی تنازع” نہیں بلکہ ایک بڑے طاقت کے نظام کا حصہ ہے۔

انصاراللہ نے اسی ماحول میں فلسطین کو اپنے سیاسی و عسکری بیانیے کا مرکزی حصہ بنایا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مغربی طاقتوں کے لیے مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

کیونکہ اگر یمن جیسا نسبتاً کمزور ملک بحیرۂ احمر اور باب المندب جیسے عالمی تجارتی راستے کو اپنی جغرافیائی طاقت میں تبدیل کر دے تو یہ محض یمن کا مسئلہ نہیں رہتا۔

یہ عالمی طاقت کے توازن کا سوال بن جاتا ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ یمن کو سمجھنے کے لیے نقشے پر صرف یمن دیکھنا کافی نہیں۔

باب المندب دیکھیں۔
بحیرۂ احمر دیکھیں۔
سوئز کینال دیکھیں۔
فلسطین دیکھیں۔
اور پھر واشنگٹن اور تل ابیب کی پالیسی دیکھیں۔

تب تصویر قدرے واضح ہونا شروع ہوتی ہے۔

جدید ہتھیار بمقابلہ مزاحمت

دنیا نے عراق میں جدید ترین فوجی مشینری دیکھی۔

افغانستان میں دنیا کی طاقتور ترین فوجی اتحاد کو دیکھا۔

اور اب یمن ایک اور سبق دے رہا ہے:

ٹیکنالوجی جنگ جیت سکتی ہے، مگر ہمیشہ مزاحمت کو ختم نہیں کرسکتی۔

ایک طرف ڈرون، سیٹلائٹ، جنگی طیارے، جدید میزائل، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور اربوں ڈالر کا دفاعی بجٹ۔

دوسری طرف پہاڑوں میں لڑنے والا ایک ایسا جنگجو جس کی ظاہری شکل کسی سپر پاور کی فوج کے سپاہی جیسی نہیں۔

لیکن اگر اس کے ذہن میں یہ یقین بیٹھ جائے کہ:

“میں اپنے وطن، اپنی شناخت اور اپنے مقصد کے لیے لڑ رہا ہوں”

تو جنگ کا حساب بدل جاتا ہے۔

یہی وہ چیز ہے جسے جدید عسکری اصطلاح میں will to fight کہا جاتا ہے۔

اور تاریخ میں اکثر یہی فیصلہ کن ثابت ہوئی ہے۔

سعودی عرب کا المیہ

سعودی عرب کے پاس دولت ہے۔
جدید ترین اسلحہ ہے۔
دنیا کی بڑی طاقتوں سے تعلقات ہیں۔
جدید فضائی دفاع ہے۔

مگر سوال یہ ہے:

کیا صرف ہتھیار کسی قوم کو ناقابلِ شکست بنا دیتے ہیں؟

اگر ایسا ہوتا تو ویتنام کی تاریخ مختلف ہوتی۔

اگر ایسا ہوتا تو فلسطینی مزاحمت کئی دہائیاں پہلے ختم ہوچکی ہوتی۔

اور اگر ایسا ہوتا تو یمن کا باب بھی بہت پہلے بند ہوچکا ہوتا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی طاقت اور عوامی مزاحمت کی طاقت دو مختلف چیزیں ہیں۔

ریاست کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔

مزاحمت کے پاس رویہ، شناخت اور قربانی کا جذبہ۔

اور ہمارے “دانشور”؟

یہاں ہمارے پاکستانی دانشوروں کا ذکر بھی ضروری ہے۔

کل تک جو لوگ ہر مسلح گروہ کو “مجاہدینِ اسلام” قرار دے رہے تھے، وہ آج اپنے پسندیدہ بیانیے کے مطابق کسی کو مجاہد اور کسی کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔

کل تک جنہیں شام میں مزاحمت نظر آتی تھی، آج یمن میں مزاحمت نظر نہیں آتی۔

کیوں؟

کیونکہ مسئلہ علم کا نہیں، بیانیے کا ہے۔

معیار شخصیت یا جھنڈا نہیں ہونا چاہیے؛ معیار عدل، ظلم، آزادی، انسانی جان اور حق ہونا چاہیے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے جذبات سے ایک قدم آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا۔

محورِ مقاومت کا اصل مفہوم

ایران، لبنان، عراق، فلسطین اور یمن کی مختلف مزاحمتی قوتیں کا خطے کے فیصلوں میں امریکی و اسرائیلی بالادستی کو قبول نہ کرنا۔۔

یہی وہ چیز ہے جسے آج “محورِ مقاومت” کہا جاتا ہے۔

اور اسی لیے اس محور کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں لڑی جا رہی بلکہ

اس کے خلاف میڈیا وار بھی
اس کے خلاف مذہبی پروپیگنڈا بھی
اس کے خلاف فرقہ وارانہ بیانیہ بھی
اور سب سے مؤثر ہتھیار یہ ہے کہ مخالف کو عوام کے ذہن میں پہلے ہی “انسان” سے “دشمن” بنا دیا جائے۔

۔

پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟

میری رائے میں پاکستان کو اس پورے معاملے میں ایک ذمہ دار، خودمختار اور دور اندیش ریاست کا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایران اور امریکہ کے حالیہ تنازع میں پاکستان نے جس طرح جنگ کے بجائے مذاکرات، تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا، یہی طرزِ عمل یمن کے معاملے میں بھی برقرار رہنا چاہیے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ خود کہہ چکی ہے کہ تنازعات کا پائیدار حل مذاکرات اور سفارت کاری سے نکلتا ہے اور پاکستان علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے گا۔

یہی پاکستان کی اصل طاقت ہونی چاہیے۔

پاکستان کسی کا کرائے کا سپاہی نہیں

آخری بات

یمن ہمیں آج ایک بہت بڑا سبق دے رہا ہے۔

جنگ صرف اسلحے سے نہیں جیتی جاتی۔

جنگ جیتی جاتی ہے:

یقین سے،
حوصلے سے،
صبر سے،
قربانی سے،
قیادت سے،
اور سب سے بڑھ کر اپنے مقصد پر ایمان سے۔

چپل پہنے ہوئے ایک جنگجو کے پاس شاید جدید ٹینک نہ ہو۔

مگر اگر اس کے اندر لڑنے کا عزم زندہ ہے تو وہ ٹینک رکھنے والی فوج کو بھی برسوں الجھا سکتا ہے۔

اور یہی وہ حقیقت ہے جسے طاقتور دنیا بار بار بھول جاتی ہے:

آپ کسی قوم کے شہر تباہ کرسکتے ہیں،
اس کے گھر گرا سکتے ہیں،
اس کے انفراسٹرکچر کو مٹا سکتے ہیں،
لیکن اگر اس کے اندر مزاحمت کا یقین زندہ ہو
تو جنگ ختم نہیں ہوتی۔

یمن آج صرف یمن نہیں۔

یہ ایک سوال ہے۔

کیا مستقبل کی دنیا بندوق کی طاقت سے چلے گی یا ارادے کی طاقت سے؟

اور شاید اس سوال کا جواب آنے والے برسوں میں صرف یمن نہیں، بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ دے گا۔

معاویہ نے اپنے لشکر کے ساتھ وادی صفین کے کشادہ میدان میں نہر فرات کے کنارے آ کر پڑاؤ ڈالا اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ ...
12/08/2026

معاویہ نے اپنے لشکر کے ساتھ وادی صفین کے کشادہ میدان میں نہر فرات کے کنارے آ کر پڑاؤ ڈالا اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام بھی اسی وادی میں اترے، لیکن معاویہ نے اہلِ عراق کو نہر فرات کا ایک قطرہ بھی پینے سے روک دیا، جس سے امام علیہ السلام کے لشکر اور ان کے جانور شدید پیاس سے تکلیف میں مبتلا ہو گئے۔
جب امام علی ابن ابی طالب علیہ کی طرف سے صلح اور نرمی کے ذریعے پانی تک رسائی کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو آپؑ کو مجبوراً طاقت استعمال کرنی پڑی تاکہ اپنے ساتھ موجود ہزاروں لوگوں کو پیاس سے موت کے خطرے سے بچایا جا سکے۔
جب امام علیہ السلام نے پانی پر قبضہ حاصل کر لیا تو بعض اصحاب نے مشورہ دیا کہ آپؑ بھی معاویہ کے لشکر کے ساتھ وہی سلوک کریں جو انہوں نے کیا تھا۔ لیکن امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے یہ تجویز سختی سے رد کر دی اور معاویہ اور اس کے لشکر کو جنہوں نے چند گھنٹے پہلے ہی انہیں پیاس سے مرنے کی دھمکی دی تھی، اجازت دی کہ وہ آئیں اور اپنے جانوروں سمیت فرات سے سیراب ہوں۔
ایسا نہیں ہے کہ معاویہ نے اتنا بڑا لشکر فقط نہر فرات پر لگا دیا ہو بلکہ جس جانب امام علیہ السلام کا لشکر تھا اسی جانب قبضہ کیا تاکہ وہ پانی نہ لے سکیں۔

ابراہیمی مذاہب میں سور کا تصور: حقائق کا جائزہابراہیمی مذاہب (یہودیت، عیسائیت، اور اسلام) میں سور (Pig) کے حوالے سے متضا...
12/08/2026

ابراہیمی مذاہب میں سور کا تصور: حقائق کا جائزہ

ابراہیمی مذاہب (یہودیت، عیسائیت، اور اسلام) میں سور (Pig) کے حوالے سے متضاد رویے پائے جاتے ہیں۔ جہاں یہودیت اور اسلام میں اسے ناپاک اور اس کا گوشت حرام قرار دیا گیا ہے، وہیں مسیحیت کے ماننے والے عموماً اسے بلاجھجک کھاتے ہیں۔ اس جانور کے گرد گھومنے والے مذہبی احکامات، سائنسی حقائق اور لوک داستانوں کا تفصیلی اور تحقیقی جائزہ ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔

1. ابراہیمی مذاہب میں سور کے حوالے سے مختلف رویے کیوں؟

یہودیت (Judaism):
یہودیت میں جانوروں کے حلال (Kosher) ہونے کی دو بنیادی شرائط ہیں: جانور کے کھر پھٹے ہوئے ہوں (Cloven hooves) اور وہ جگالی (Chew the cud) کرتا ہو۔ تورات (کتابِ احبار / Leviticus 11) کے مطابق، سور کے کھر تو پھٹے ہوئے ہیں لیکن وہ جگالی نہیں کرتا، اس لیے اسے ناپاک (Unclean) قرار دیا گیا ہے۔

اسلام (Islam):
قرآن مجید میں (سورۃ البقرہ، المائدہ اور الانعام وغیرہ میں) سور کے گوشت (لحم خنزیر) کو واضح طور پر حرام اور 'رجس' (ناپاک) قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں اس کی ممانعت براہ راست حکمِ الٰہی کی بنیاد پر ہے، جس کے بعد مسلمانوں کے لیے اس کا کھانا یا اس سے کوئی بھی فائدہ اٹھانا ممنوع ہے۔

مسیحیت (Christianity):
عیسائیوں کے ہاں سور کا گوشت عام کھایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ نئے عہد نامے (New Testament) کی تعلیمات ہیں۔ انجیل میں حضرت عیسیٰؑ کی ایک تعلیم بیان کی گئی ہے کہ "جو چیز منہ میں جاتی ہے وہ انسان کو ناپاک نہیں کرتی، بلکہ جو منہ سے نکلتی ہے وہ ناپاک کرتی ہے" (متی 15:11)۔ اس کے علاوہ 'اعمال کی کتاب' (Acts 10) میں سینٹ پیٹر (پطرس) کے ایک خواب کا ذکر ہے جس کے بعد عیسائیت میں پرانے عہد نامے کے غذائی قوانین (Dietary Laws) کو منسوخ کر دیا گیا اور تمام جانوروں کو کھانے کے لیے پاک قرار دے دیا گیا۔

2. سور ہی کیوں؟ (تاریخی اور ماحولیاتی اسباب)

یہ سوال بہت اہم ہے کہ قدیم مشرقِ وسطیٰ میں سور ہی کو اتنی شدت سے کیوں ناپسند کیا گیا۔ ماہرینِ بشریات (Anthropologists)، خاص طور پر مارون ہیرس (Marvin Harris) نے اس حوالے سے ایک مشہور 'ماحولیاتی نظریہ' (Ecological Theory) پیش کیا ہے:

پانی اور سائے کی ضرورت:** سور کو زندہ رہنے اور خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بہت زیادہ پانی اور سائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ اور عرب کے صحرائی اور گرم ماحول میں سور پالنا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل تھا۔
* **انسان کا حریف (Competitor):** گائے، بھیڑ یا بکری گھاس اور پتے کھا کر گزارا کر سکتے ہیں جو انسان نہیں کھاتا۔ لیکن سور ایک ہمہ خور (Omnivore) جانور ہے اور اسے وہی اناج اور اجناس چاہیے ہوتے ہیں جو انسان کھاتے ہیں۔ قدیم دور میں جب خوراک کی کمی ہوتی تھی، تو سور کو اناج کھلانا معاشی طور پر ایک نقصان دہ عمل تھا۔
نتیجتاً، یہ ماحولیاتی اور معاشی ممانعت وقت کے ساتھ ساتھ ایک سخت مذہبی اور ثقافتی قانون (Taboo) میں تبدیل ہو گئی۔

3. کیا سور کا گوشت طبی لحاظ سے دوسرے جانوروں سے زیادہ خطرناک ہے؟

تاریخی اعتبار سے، اس کا جواب "ہاں" میں ہے۔

پیراسائٹس اور بیماریاں: سور کے کچے یا ادھ پکے گوشت میں ایک خطرناک طفیلی کیڑا *Trichinella spiralis* پایا جاتا ہے، جو انسانوں میں "ٹرائیکینوسس" (Trichinosis) نامی جان لیوا بیماری کا سبب بنتا ہے۔ چونکہ قدیم دور میں گوشت کو جانچنے کے جدید سائنسی طریقے یا پکانے کے لیے تھرمامیٹر موجود نہیں تھے، اس لیے سور کا گوشت کھانا واقعی ایک بڑا طبی خطرہ تھا۔
جدید سائنس کی رائے: آج کی جدید سائنس کے مطابق، اگر سور کے گوشت کو ایک مخصوص درجہ حرارت (کم از کم 145 سے 160 ڈگری فارن ہائیٹ) پر پکایا جائے تو یہ کیڑے مر جاتے ہیں۔ تاہم، سور چونکہ گندگی میں منہ مارنے والا جانور ہے، اس لیے یہ دیگر جانوروں کی نسبت زونوٹک بیماریوں (Zoonotic diseases جیسے سوائن فلو وغیرہ) کا ایک بڑا کیریئر بن سکتا ہے۔

4. کیا یہ واقعی ایسا گندا جانور ہے جو صرف فضلہ کھاتا ہے؟

یہ ایک عام غلط فہمی ہے جس میں کچھ سچائی اور کچھ حیاتیاتی مجبوریاں شامل ہیں:

کیچڑ میں لوٹنا (Mud Bathing): نسور کے جسم میں پسینے کے غدود (Sweat glands) فعال نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ گرمی میں اپنا جسم ٹھنڈا کرنے کے لیے پسینہ خارج نہیں کر سکتا۔ خود کو ہیٹ اسٹروک اور کیڑوں سے بچانے کے لیے اس کی مجبوری ہے کہ وہ کیچڑ یا پانی میں لوٹے۔ اگر کیچڑ نہ ملے تو وہ اپنے ہی پیشاب یا فضلے میں لیٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
فضلہ کھانا (Coprophagy): سور بنیادی طور پر 'ہمہ خور' (Omnivore) اور 'صفائی کرنے والا' (Scavenger) جانور ہے۔ اگر اسے قدرتی ماحول اور متوازن خوراک دی جائے تو وہ کبھی اپنا فضلہ نہیں کھاتا۔ درحقیقت، جنگلی سور اپنے سونے کی جگہ کو رفع حاجت کی جگہ سے دور رکھتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں تنگ ڈربوں میں بھوکا رکھا جائے، تو بقا کی خاطر وہ کچرا، مردار جانور، یا فضلہ (اپنا یا دوسروں کا) کھانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

5. نوح کی کشتی میں سور کی پیدائش والی روایت کی حقیقت کیا ہے؟

یہ روایت کہ سور کو حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں فضلہ صاف کرنے کے لیے پیدا کیا گیا، اسلامی یا یہودی تاریخ کی لوک داستانوں (Folklore) کا حصہ ہے، جس کا کوئی مستند ثبوت قرآن یا صحیح احادیث میں نہیں ملتا۔

روایت کیا ہے؟
ابنِ کثیر، الثعلبی، اور الکسائی جیسے مؤرخین نے اپنی کتب (جیسے 'قصص الانبیاء') میں کچھ روایات نقل کی ہیں (جو عموماً اسرائیلیات سے ماخوذ سمجھی جاتی ہیں)۔ ان کے مطابق:

"جب نوحؑ کی کشتی میں جانوروں اور انسانوں کا فضلہ بہت زیادہ جمع ہو گیا اور بدبو پھیلنے لگی، تو اللہ کے حکم سے نوحؑ نے ہاتھی کی سونڈ (یا دم) پر ہاتھ پھیرا۔ ہاتھی کو چھینک آئی اور اس کی ناک سے ایک جوڑا 'سور' کا پیدا ہوا، جس نے کشتی کا سارا فضلہ کھا کر اسے صاف کر دیا۔"

(اس کے بعد کی داستان میں یہ بھی آتا ہے کہ سور کو چھینک آئی تو چوہا پیدا ہوا، اور شیر کو چھینک آئی تو بلی پیدا ہوئی۔)

اس روایت کی حیثیت:
مسلم محققین اور علمائے حدیث متفق ہیں کہ یہ روایات **"اسرائیلیات" (Isra'iliyyat)** کے زمرے میں آتی ہیں۔ یہ قدیم لوک داستانیں ہیں جو نسل در نسل کہانیاں سنانے والوں نے گھڑ لی تھیں۔ یہ کہانیاں قدیم انسان کی اس حیرت کا نتیجہ تھیں کہ "اگر خدا نے ہر چیز کو ایک مقصد کے لیے بنایا ہے، تو اس نے کچرا اور گندگی کھانے والے جانوروں (جیسے سور) کو کیوں بنایا؟" ان سوالات کا جواب دینے کے لیے ایسی فرضی کہانیاں تخلیق کی گئیں۔

سور کے حوالے سے ابراہیمی مذاہب کے احکامات صرف اس کی ظاہری گندگی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے قدیم مشرق وسطیٰ کے معاشی حقائق، ماحولیاتی سختیاں، اور طبی خطرات کا ایک پورا پس منظر موجود ہے۔ اور جہاں تک کشتیِ نوح والی داستان کا تعلق ہے، وہ خالصتاً ایک دیومالائی یا لوک کہانی ہے جس کی کوئی مستند مذہبی بنیاد نہیں ہے۔

10/04/2026

جوانوں کو امام علیؑ کی ایک وصیت
یہ ہے کہ وہ اپنے اندر عزتِ نفس اور بزرگواری کی روح پیدا کریں ۔اس سلسلے میں آپ فرماتے ہیں :
أکرِم نَفسک عَن کُلِّ دَنیَّةٍ وَاِن ساقَتکَ اِلی الرَّغائب فَاِنَّک لَن تَعتاضَ بِما تَبذُلُ مِن نَفِسک عِوضاً ولا تکُن عبدَ غَیرک و قد جعلکَ اﷲ حُراً
اپنے نفس کو ہر قسم کی بے مائیگی اور پستی سے بلند تر رکھو'خواہ یہ پست و حقیر ہونا تمہیں پسندیدہ اشیا تک پہنچا ہی کیوں نہ دے۔ کیونکہ تم جو عزتِ نفس گنوائو گے اسکا کوئی بدل نہیں مل سکتا۔اور خبردار! کسی کے غلام نہ بن جانا 'اللہ نے تمہیں آزاد قرار دیا ہے ۔
نہج البلاغہ۔مکتوب٣١

ایک ایسی کتاب جو تعلیم و  تربیت کے حاصل کرنےوالوں سے زیادہ ان  کے لیی مفید ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ تعلیم یافتہ اور تربیت ...
04/10/2025

ایک ایسی کتاب جو تعلیم و تربیت کے حاصل کرنےوالوں سے زیادہ ان کے لیی مفید ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہیں اور اب دوسروں کی تربیت کر رہے ہیں یا کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
میرے جیسے افراد اس کے مطالعہ کے زیادہ حقدار ہیں جو اپنے ہر کام کرنے یا چھوڑنے کی تاؤیل (لوجیک ) بنانا جانتے ہیں۔

ہر اصلاح کا نقطہ آغاز انسان کی ذات سے شروع ہوتا ہے اور جب تک انسان اپنی تربیت نہ کرے وہ دوسروں کی تربیت نہیں کر سکتا۔ علم کا حصول آپ کیلئے خطر ناک ہے، بلکہ تمام چیزوں سے زیادہ خطر ناک۔ جب تک آپ نے تہذیب و تزکیہ نفس سے اپنے باطن کو آراستہ نہیں کیا ہے اس وقت تک مقام و منصب کا حصول آپ کیلئے خطر آور ہے اور آپ کو دنیا و آخرت کی ہلاکت سے دو چار کر سکتا ہے۔

ہماری تمام مشکلات اس لیے ہیں کہ ہم نے نہ تو اپنا تزکیہ نفس کیا ہے اور نہ ہی تربیت ۔ بہت سے لوگ عالم و دانشمند اور مفکر تو بن گئے مگر ان کی تربیت نہیں ہو سکی۔ ان کے افکار تو بہت گہرے ہیں لیکن تربیت کی خوبو سے بہت دور بشریت پر بے تربیت و بے تزکیہ عالم کی طرف سے آنے والی مشکلات و خطرات مغولوں کے حملوں سے زیادہ ہیں۔ انبیاء کے مبعوث ہونے کی غرض و غایت پہلے مرحلے پر یہی تزکیہ نفس ہے اور اس کے بعد تعلیم۔ اگر انسانی نفوس بغیر تزکیہ نفس اور تربیت، جہاں بھی جائیں اور جس علم کوبھی حاصل کریں خواہ وہ علم تو حید ہی کیوں نہ ہو یا معارف الہی کا عم ، وہ فلسفہ وفقہ ہو یا پھر سیاست کا میدان، وہ جس شعبہ زندگی میں قدم رکھیں گے، اگر اپنے شیطان باطنی سے رہائی حاصل نہ کر سکے تو ایسے افراد انسانیت کیلئے بہت مہلک ہیں۔

03/10/2025

روح کا سفر
جب اللہ سے مانگنے پر سب کچھ ملنے لگے حتیٰ بنا مانگے بھی بہت کچھ مل جاۓ اور پھر وہی سب کچھ آہستہ آہستہ اللہ سے دور (دنیاؤی کاموں میں بے تحاشہ مصروف) کرنے لگے تو سمجھ جانا چاہیے کہ ہم کسی کھائی میں گر چکے ہیں اور تزکیۂ نفس کے علاوہ کوئی واپسی کا رستہ نہیں۔۔۔۔

اس موقع پر علم انسان کو ایسے ایسے دلائل بنا کر دیتا ہے کہ اسے اپنے سب کام ٹھیک لگ رہے ہوتے ہیں جبکہ ایسی صورت میں راہِ حل نفس کی اصلاح ہے (کیونکہ ہر دو صورت جب میری روح پرواز نہیں کر رہی تو میں گھاٹے میں ہوں)

قرآن مجید میں بیان کیے گئے انسانی حقوق قرآن مجید تمام امور کے بارے میں حقوق، من جملہ انسانی حقوق کے بیان سے سرشار ہے؛ ان...
29/09/2025

قرآن مجید میں بیان کیے گئے انسانی حقوق

قرآن مجید تمام امور کے بارے میں حقوق، من جملہ انسانی حقوق کے بیان سے سرشار ہے؛ انسان کی بہ نسبت خداوند متعال کے حقوق، انبیا (علیہم السلام) کے حقوق اور حتی کہ لوگوں کی بہ نسبت خود قرآن مجید کے حقوق وغیرہ۔ انسانی حقوق اور ان کے عینی مصادیق کے چند نمونے ہیں، جن کے بارے میں قرآن مجید میں تاکید کی گئی ہے، اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسانی حقوق انہی چند مثالوں تک محدود ہیں اور اس کے علاوہ دوسرے مصادیق نہیں پائے جاتے ہیں:

١۔ زندگی کا حق
ایسا لگتا ہے کہ حیات کا حق، سب سے پہلا حق ہے، جو انسانوں کے لیے ثابت ہے اور یہی حق انسان کے دوسرے حقوق کا سر چشمہ ہوسکتا ہے۔ اگر اس حق کا فقدان ہو تو دوسرے حقوق کی بحث بے معنی رہتی ہے۔
طبیعی اور فطری حقوق میں سے جس حق پر حقوق کے فلاسفہ نے کافی توجہ دی ہے، وہ یہی حیات کا حق ہے۔ قرآن مجید میں حیات کو ایک الٰہی عطیہ کہا گیا ہے اور کسی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی سے اس حق کو چھین لے اور جسمانی اور روحانی طور پر کسی کو تکلیف پہنچائے۔
بہر حال انسان کے سب سے اہم اور بنیادی حقوق میں سے ایک، حق حیات ہے اور کوئی اس حق کو کسی سے چھین نہیں سکتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلامی قوانین میں کسی انسان کو قتل کرنا نا قابل عفوجرم کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے اور خداوند متعال نے اس حق کو چھیننے والے کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔
قرآن مجید کے مطابق کسی دوسرے کو قتل کرنا غیر قانونی عمل شمار کیا گیا ہے:
﴿وَ إِذَا الْمَوْؤُدَةُ سُئِلَتْ* بِأَي ذَنْبٍ قُتِلَت﴾[1]
”اور جب زندہ در گور لڑکی سے پوچھا جائے گا، کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی ؟“
﴿وَ لا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾[2]
”اور جس جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے، تم اسے قتل نہ کرو، مگر حق کے ساتھ۔“
﴿وَ لا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُمْ رَحیماً﴾[3]
”اور تم اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو،بے شک اللہ تم پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔“

۲۔ انسانی عظمت کا حق
انسان کے حقوق میں سے ایک اور بنیادی حق، انسانی عظمت و بزرگی کا حق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام انسان کو بلند اور قابل قدر مقام کا مالک جانتا ہے۔ دینی تعلیمات میں صرف انسان ہے جسے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے۔ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ خدا کی روح اس (انسان) میں پھونک دی گئی ہے اور تکریم و تعظیم کے لیے شائستہ، حتی کہ فرشتوں کے لیے سجدہ کرنے کا سبب اور زمین پر خدا کاجانشین یہی انسان قرار پایا ہے۔
﴿وَ لَقَدْ كَرَّمْنا بَني آدَمَ وَ حَمَلْناهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْناهُمْ مِنَ الطَّیباتِ وَ فَضَّلْناهُمْ عَلى‏ كَثیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنا تَفْضیلاً﴾[4]
”اور بتحقیق ہم نے اولاد آدم کو عزت و تکریم سے نوازا اور ہم نے انہیں خشکی اور سمندر میں سواری دی اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں بڑی فضیلت دی۔“

۳۔ عدل و انصاف کا حق
عدل و انصاف کا حق اور اس کا متحقق اور مستحکم ہونا، قرآن مجید کے حقوق پر مبنی قوانین میں سے ایک اور قانون ہے، یہاں تک کہ قرآن مجید میں انبیائے الٰہی کی رسالت اور پیغام رسانی کا مقصد عدل و انصاف بر قرار کرنا بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
﴿لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَيِّناتِ وَ أَنْزَلْنا مَعَهُمُ الْكِتابَ وَ الْميزانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾[5]
”بتحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تاکہ لوگ عدل قائم کریں۔“
﴿يَا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامينَ لِلَّهِ شُهَداءَ بِالْقِسْطِ وَ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى‏ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوىٰ﴾[6]
”اے ایمان والو! اللہ کے لیے بھرپور قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہاری بے انصافی کا سبب نہ بنے، (ہر حال میں) عدل کرو! یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے۔“

۴۔ امن و سلامتی کا حق
انسان کے لیے بیان کیے گئے حقوق کے دوسرے مصادیق میں سے ایک، ہر جہت سے امن و سلامتی کا حق ہے۔ کوئی اس حق کو انسان سے چھین کر اسے نفسیاتی اور اجتماعی طور پر نا امنیت میں قرار نہیں دے سکتا ہے۔ اس حق کی اس قدر اہمیت ہے کہ قرآن مجید نے مشرکین اور مخالفین کو بھی اس حق کا حقدار جانا ہے:
﴿وَ إِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكينَ اسْتَجارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ﴾[7]
”اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص آپ سے پناہ مانگے تواسے پناہ دے دیں تاکہ وہ کلام اللہ کو سن لے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دیں۔“
﴿وَ جَعَلْنا بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ الْقُرَى الَّتي‏ بارَكْنا فيها قُرىً ظاهِرَةً وَ قَدَّرْنا فيهَا السَّيْرَ سيرُوا فيها لَيالِيَ وَ أَيَّاماً آمِنينَ﴾ (سبأ:18)
”اور ہم نے ان کے اور جن بستیوں کو ہم نے برکت سے نوازا تھا، کے درمیان چند کھلی بستیاں بسا دیں اور ان میں سفر کی منزلیں متعین کیں، ان میں راتوں اور دنوں میں امن کے ساتھ سفرکیا کرو۔“

۵۔اولاد پر ماں باپ کا حق
﴿وَ قَضى‏ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً﴾ (اسراء: 23)
”اور آپ کے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو!“
﴿بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً﴾ والے جملے کا پہلے جملے پر عطف ہونے کے معنی یہ ہے کہ پروردگار عالم نے یوں حکم فرمایا ہے: ”اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو!“
اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرنے کا مسئلہ، مسئلہ توحید کے بعد، واجب ترین واجبات میں سے ہے۔ اسی طرح عقوق والدین کا مسئلہ خدا سے شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ اسی وجہ سے اس مسئلے کا مسئلہ توحید کے بعد اور دوسرے تمام احکام سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے ماں باپ کے حقوق کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔[8]

٦۔ دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے کا حق
یہ مسئلہ دو زاویوں سے قابل غور ہے: ایک حکام اور عوام کے درمیان معاملات کے طریقے کے بارے میں ہے اور دوسرا زاویہ لوگوں کے آپسی معاملات کے بارے میں ہے۔ خداوند متعال نے قرآن مجید میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا ہے:
﴿بِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلیظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُم﴾[9]
”(اے رسول!) یہ مہر الٰہی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تندخو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، پس ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے مغفرت طلب کریں۔“
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیرالمؤمنین امام علی )علیہ السلام( کی سیرت، اپنے مخالفوں حتی کہ اپنے دشمنوں کے ساتھ ہمیشہ عفو و بخشش ہوتی تھی، سوائے ان افراد کے جو کھلم کھلا اسلحہ لے کر اسلام کے ساتھ جنگ کرتے تھے اور لوگوں کے حقو ق کو پامال کرتے تھے۔

۷۔مساوات برقرار کرنے کا حق
مساوات کا حق، حق کی سب سے اہم مثالوں میں سے ایک ہے، جس کا قرآن مجید نے انسانی حقوق میں ذکر کیا ہے۔ تمام انسانوں کے درمیان حقوق کی مساوات ہے اور کسی انسان کو کسی دوسرے پر برتری اور فضیلت نہیں ہے تاکہ وہ دوسرے پر مسلط ہو جائے۔ اگر قرآن مجید نے امتیاز و برتری کو تقویٰ بیان کیا ہے، تو یہ ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی دنیا میں اپنی برتری جتلائے، کیونکہ تقویٰ ایک باطنی امر ہے اور اخروی امتیاز و اجر کا سبب بن جاتا ہے۔
مساوات کے حق کا یہ معنی ہے کہ کوئی شخص کسی بھی حالت میں اپنے آپ کو دوسرے پر برتر سمجھ کر اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا مظاہرہ نہیں کرسکتا ہے۔ اس لحاظ سے فطری طور پر کسی کو کسی پر ولایت کا حق نہیں ہے، لیکن اولاد پر والدین کی ولایت ان کے مفاد کی بنیاد پر انجام پاتی ہے اور جب ان کی اولاد بالغ اور عاقل بن جاتی ہے تو یہ ولایت بھی کافی محدود ہوتی ہے۔
جس مساوات کا قرآن مجید قائل ہے، وہ دو حصوں پر مشتمل ہے: اصل انسانیت میں مساوات اور قوانین و احکام کے نفاذ میں مساوات:
﴿يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنْثى‏ وَ جَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ﴾[10]
”اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک یقیناً وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔“

۸۔ دولتمندوں کے مال میں یتیموں اور محتاجوں کا حق
خدا وند متعال نے دولتمندوں کے مال میں سماج کے فقرا، یتیموں اور محتاجوں کے لیے کچھ حقوق قرار دیے ہیں اور قرآن مجید میں اس کی صراحت کی گئی ہے:
﴿وَ الَّذینَ فی‏ أَمْوالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ* لِلسَّائِلِ وَ الْمَحْرُومِ﴾[11]
”اور جن کے اموال میں معین حق ہے، سائل اور محروم کے لیے۔“
﴿وَ أَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْهَر﴾[12]
”اور سائل کو جھڑکی نہ دیں!“
”سائل“ کا حق یہ ہے کہ اگر انسان جانتا ہو کہ یہ سچ کہتا ہے تو اسے اپنی طاقت اور توانائی کے مطابق اس کی حاجت پوری کرنی چاہیے اور اسے اپنی حاجت روائی تک پہنچنے میں مدد کرنی چاہیے۔ اگر اس کی بات کے سچ ہونے میں شک کرے تو اسے ہوشیار رہنا چاہیے کہ کہیں اس کی بدظنی اور شک شیطان کے وسوسے کی وجہ سے تو نہیں ہے، جس کے ذریعے وہ اسے کارخیر انجام دینے اور خداوند متعال کا قرب حاصل کرنے سے محروم کرنا چاہتا ہو؟ بہرحال اگر انسان سائل کو محروم کرنا بھی چاہتاہو، تو اسے اس کی آبرو اور حیثیت کو مجروح نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے نیک الفاظ سے جواب دینا چاہیے۔[13]

۹۔ انسان کا اپنے آپ پر حق
ہر انسان کے اپنے آپ پر حق کا یہ معنی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر قسم کے خطرات اور مالی نقصان سے محفوظ رکھے۔ اس بنا پر انسان کو خود کشی کرنے یا اپنی جان کو کوئی نقصان پہنچانے کا حق نہیں ہے۔ خداوند متعال نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر خود کشی کی نہی کی ہے، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ لا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُمْ رَحيماً﴾[14]
”اور تم اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو،بے شک اللہ تم پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔“
اس کے علاوہ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ لا تُلْقُوا بِأَيْديكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾[15]
”اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو!“
اسی طرح انسان کو اپنی شخصیت کو نابود کرنے کے اسباب فراہم نہیں کرنےچاہییں، کیونکہ اس کی شخصیت اس کی معنوی حیات ہے۔

١۰۔ تعقل، تفکر اور شناخت کا حق
ہر فرد اس حق کا مالک ہے کہ اپنے اور جس ماحول میں وہ زندگی بسر کر رہا ہے، اس کے بارے میں علم و آگاہی حاصل کرے اور حق و باطل کی راہ کو پہچان لے۔ اس لحاظ سے علم و دانش میں رکاوٹ ڈالنا، انسان کے فطری حقوق سے چشم پوشی کرنے کے معنی میں ہے۔ کوئی معاشرہ کسی انسان سے شناخت و معرفت کے وسائل و امکانات سلب نہیں کرسکتا ، بلکہ علم و دانش حاصل کرنے کے لیے وسائل اور امکانات کی فراہمی لازم ہے۔
﴿إِنَّ في‏ خَلْقِ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَ النَّهارِ وَ الْفُلْكِ الَّتي‏ تَجْري فِي الْبَحْرِ بِما يَنْفَعُ النَّاسَ وَ ما أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّماءِ مِنْ ماءٍ فَأَحْيا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها وَ بَثَّ فيها مِنْ كُلِّ دابَّةٍ وَ تَصْريفِ الرِّياحِ وَ السَّحابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّماءِ وَ الْأَرْضِ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾[16]
”یقیناآسمانوں اور زمین کی خلقت میں، رات اور دن کے آنے جانے میں، ان کشتیوں میں جو انسانوں کے لیے مفید چیزیں لے کر سمندروں میں چلتی ہیں اور اس پانی میں جسے اللہ نے آسمانوں سے برسایا، پھر اس پانی سے زمین کو مردہ ہونے کے بعد (دوبارہ) زندگی بخشی اور اس میں ہر قسم کے جانداروں کو پھیلایا، اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں عقل سے کام لینے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“
﴿وَ أَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾[17]
”اور (اے رسول!) آپ پر بھی ہم نے ذکر اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو وہ باتیں کھول کر بتا دیں جو ان کے لیے نازل کی گئی ہیں اور شاید وہ (ان میں) غور کریں۔“

١١۔ آزادی کا حق
ایک اہم حق، جسے قرآن مجید انسان کے لیے بیان کرتا ہے، وہ آزادی کا حق ہے۔ چونکہ قرآن مجید کے نظریے کے مطابق انسان ایک مختار مخلوق ہے اور صرف خداوند متعال کے حضور مکلف اور جواب گو ہے، اس لیے وہ ہر لحاظ سے آزاد ہے۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَ لَوْ شاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَميعاً أَ فَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنينَ﴾[18]
”اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو تمام اہل زمین ایمان لے آتے، پھر کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر سکتے ہیں؟“
﴿إِنَّا هَدَیناهُ السَّبیلَ إِمَّا شاكِراً وَ إِمَّا كَفُوراً﴾[19]
”بےشک ہم نے اسے راستے کی ہدایت کر دی، خواہ شکر گزار بنے اور خواہ ناشکرا۔“

١۲۔ دین اور دینی مراسم انجام دینے کی آزادی
زندگی کے ابتدائی حقوق کے بعد انسان کے لیے سب سے اہم حق، اس کے ذاتی دین کا حق ہے۔ اس سلسلے میں ارشاد باری تعالی ہے:
﴿قُلْ يا أَيُّهَا الْكافِرُونَ * لا أَعْبُدُ ما تَعْبُدُونَ * وَ لا أَنْتُمْ عابِدُونَ ما أَعْبُدُ * وَ لا أَنا عابِدٌ ما عَبَدْتُّمْ * وَ لا أَنْتُمْ عابِدُونَ ما أَعْبُدُ * لَكُمْ دينُكُمْ وَ لِيَ دِينِ﴾[20]
”کہدیجیے: اے کافرو! میں ان (بتوں) کو نہیں پوجتا ہوں جنہیں تم پوجتے ہو۔ اور نہ ہی تم اس (اللہ) کی بندگی کرتے ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں۔ اور نہ ہی میں ان (بتوں) کی پرستش کرنے والا ہوں جن کی تم پرستش کرتے ہو۔ اور نہ ہی تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس میں عبادت کرتاہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین اورمیرے لیے میرا دین۔“

١۳۔ کار و کوشش سے بہرہ مند ہونے کا حق
﴿وَ أَنْ لَیْسَ لِلْإِنْسانِ إِلاَّ ما سَعیٰ﴾[21]
”اور انسان کے لیے صرف اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے۔“

١۴۔ تجارت کا حق
تجارت کا حق، عام لوگوں، من جملہ زن و مرد کے لیے ، انسان کے فطری حقوق میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے ہر شخص جائز مال و دولت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرسکتا ہے اور تجارت و کاروبار سے بہرہ مند ہوسکتا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:
﴿لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَ لِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ﴾[22]
”مردوں کو اپنی کمائی کا صلہ مل جائے گا اور عورتوں کو اپنی کمائی کا صلہ مل جائے گا۔“
صرف ناجائز کار، جو حقیقت میں دوسروں پر ظلم و ستم ہے، غلط اور ممنوع ہے اور یہ ایک فطری بات ہے۔[23]

١۵۔ ازدواج کا حق
انسان کے حقوق میں سے ایک، شریک حیات کا انتخاب اور خاندان تشکیل دینے کا حق ہے اور ہر مرد و زن کو، اپنے فکری، ثقافتی اور دینی حالات کے پیش نظر ازدواج کرنے کا حق ہے:
﴿فَانْكِحُوا ما طابَ لَكُمْ مِنَ النِّساءِ مَثْنى‏ وَ ثُلاثَ وَ رُباعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً﴾[24]
”جو دوسری عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین یا چار چارسے نکاح کر لو، اگر تمہیں خوف ہو کہ ان میں عدل نہ کر سکوگے تو ایک ہی عورت کافی ہے۔“
﴿وَ مِنْ آياتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْواجاً لِتَسْكُنُوا إِلَيْها وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَ رَحْمَةً﴾[25]
”اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے ازواج پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین محبت اور مہربانی پیدا کی۔“

١٦۔ سیر و سفر کا حق
شہروں اور ممالک میں قوموں اور ممالک کی تاریخ، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے بارے میں آشنائی حاصل کرنے کے لیے سیر و سفر کرنا ایک ایسا حق ہے، جس کو قرآن مجید نے انسان کے لیے بیان کیا ہے:
﴿قُلْ سيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الْمُكَذِّبينَ﴾[26]
”ان سے کہدیجیے : زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے؟“

١۷۔ صلہ رحم اور رشتہ داروں کا حق
ارشاد باری تعالی ہے:
﴿وَ أُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى‏ بِبَعْضٍ في‏ كِتابِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْ‏ءٍ عَليمٌ﴾[27]
”اور اللہ کی کتاب میں خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، بے شک اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے ۔“
قرآن مجید اس آیہ شریفہ میں تاکید کرتا ہے کہ دوسرے مؤمنین کی بہ نسبت رشتہ داروں کی ولایت و برتری قوی تر و جامع تر ہے، کیونکہ مسلمان رشتہ دار ایمان و ہجرت کی ولایت کے علاوہ رشتہ داری کی ولایت بھی رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے وراثت حاصل کرتے ہیں، جبکہ غیر رشتہ دار ایک دوسرے سے وراثت نہیں لیتے ہیں۔

١۸۔ عبادت و پرستش کا حق
﴿وَ ما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ إِلاَّ رِجالاً نُوحي‏ إِلَيْهِمْ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ﴾[28]
”اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مردان (حق) ہی کی طرف وحی بھیجی ہے، اگر تم لوگ نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو!“
”ذکر“ کا معنی آگاہی و اطلاع ہے اور اہل ذکر کا مفہوم ایک وسیع مفہوم ہے کہ مختلف جہات سے تمام آگاہ افراد اس میں شامل ہوتے ہیں۔[29] یعنی یہ آپ کا حق ہے کہ جو کچھ نہیں جانتے ہو، اس کے بارے میں آگاہ اور اہل علم سے سوال کرو۔

١۹۔ مالکیت کا حق
ہر فرد اپنی کمائی کا مالک ہے۔ دولت کمانے میں انسان جو کوشش کرتا ہے وہ کوشش اس کے لیے ایک خاص حق پیدا کرتی ہے، جسے مالکیت کاحق کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے انسان اپنے مال مویشی اور بنجر زمین کو زندہ کرکے اس کا مالک بن جاتا ہے اور اس سے بہرہ مند ہونے کا حق رکھتا ہے:
﴿مَتاعاً لَكُمْ وَ لِأَنْعامِكُمْ﴾ (النازعات:33)
”تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان زندگی کے طور پر۔“
قرآن مجید کے مطابق تمام لوگوں کے لیے خصوصی مالکیت کا حق ثابت ہے حتی کہ نابالغ افراد بھی اس سے بہرہ مند ہوتے ہیں.
﴿وَ ابْتَلُوا الْيَتامى‏ حَتَّى إِذا بَلَغُوا النِّكاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوالَهُمْ وَ لا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَ بِداراً أَنْ يَكْبَرُوا وَ مَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَ مَنْ كانَ فَقيراً فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَ كَفى‏ بِاللَّهِ حَسيباً﴾ (النساء،٦)
”اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ یہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ پھر اگر تم ان میں رشد عقلی پاؤ تو ان کے اموال ان کے حوالے کر دو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے (اور مال کا مطالبہ کریں گے) فضول اور جلدی میں ان کا مال کھا نہ جانا، اگر (یتیم کاسرپرست) مالدار ہے تو وہ (کچھ کھانے سے) اجتناب کرے اور اگر غریب ہے تو معمول کے مطابق کھاسکتا ہے، پھر جب تم ان کے اموال ان کے حوالے کرو تو ان پرگواہ ٹھہرایا کرو اور حقیقت میں حساب لینے کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے۔“

۲۰۔ طبیعی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کا حق
خداوند متعال قرآن مجید میں پہاڑ، صحرا، آسمان، زمین، چراگاہ جیسی اپنی نعمتوں کی توصیف کرنے کے بعد ان سب چیزوں کو انسان کے لیے متاع اور ان سے بہرہ مند ہونے کا حق بیان کرتا ہے اور مویشوں کو انسان کی خدمت میں جانتا ہے اور تمام لوگوں کے لیے طبیعی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کا حق جانتا ہے:
﴿وَ سَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَ ما فِي الْأَرْضِ جَميعاً مِنْهُ﴾[30]
”اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے مسخر کیا۔“
﴿وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهارَ﴾[31]
”اور کشتیوں کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے سمندر میں چلے اور دریاؤں کو بھی تمہارے لیے مسخر کیا۔“

[1] تکویر:8- 9
[2] الاسراء: 33
[3] النساء:29
[4] اسراء:70
[5] حدید: 25
[6] المائدۃ:8
[7] توبہ: 6
[8] ملاحظہ ہو: طباطبائی، سید محمد حسین، الميزان في تفسير القرآن: ج ‏13، ص 79، دفتر انتشارات اسلامی، قم، ۱۴۱۷ق
[9] آل عمران:159
[10] الحجرات: 13
[11] معارج:24- 25
[12] الضحیٰ:10
[13] ملاحظہ ہو: تکدی‌گری از نگاه قرآن و روایات، ۳۰۳۹۴
[14] النساء: 29
[15] البقرۃ:195
[16] البقرۃ:١٦۴
[17] النحل:44
[18] یونس:99
[19] انسان: 3
[20] الکافرون: 1-6
[21] نجم: ۳۹
[22] النساء: 32
[23] ملاحظہ ہو: بقرہ، آیت١۸۸و ۲۷۵و ۲۷۸
[24] النساء:3
[25] الروم:21
[26] الانعام:11
[27] انفال:75
[28] النحل:43
[29] ملاحظہ ہو: مکارم شیرازی، ناسر، تفسیر نمونہ، ج ١١،ص ۲۴١، دار الکتب الاسلامیہ، تہران، ١۳۷۴ش
[30] الجاثیہ:13
[31] ابراہیم:32

Address

اسلام آباد
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imamian Center "امامیہ عقائد، واقعات و شخصیات" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Imamian Center "امامیہ عقائد، واقعات و شخصیات":

Shortcuts

Share