12/09/2026
جنگ کا اصل میدان
سید حسن
آج یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے صرف “حوثی بمقابلہ سعودی عرب” کہہ دینا انتہائی سطحی تجزیہ ہوگا۔
یہ دراصل مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے ایک بڑے معرکے کا حصہ ہے۔
ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سرپرستی میں قائم علاقائی طاقت کا ڈھانچہ ہے؛ دوسری طرف ایسی مزاحمتی قوتیں ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ خطے کے فیصلے واشنگٹن، تل ابیب یا خلیجی دارالحکومتوں میں نہیں بلکہ خود خطے کے عوام کو کرنے چاہئیں۔
اسی تناظر میں انصاراللہ کو سمجھنا ہوگا۔
آپ ان کے عقائد، سیاسی موقف یا عسکری حکمتِ عملی سے اختلاف کر سکتے ہیں۔
لیکن کسی پوری قوم یا تحریک کو “مجوسی، مشرک، کافر، ایرانی ایجنٹ” جیسے چند نعروں میں سمیٹ دینا تجزیہ نہیں، پروپیگنڈا ہے۔
کسی تحریک کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ پوچھنا پڑتا ہے:
وہ پیدا کیوں ہوئی؟
اس کی سیاسی تاریخ کیا ہے؟
اس کے دشمن کون ہیں؟
اس کے حامی کون ہیں؟
اس کی عوامی بنیاد کہاں ہے؟
اور سب سے بڑھ کر—وہ اپنے آپ کو کس مقصد کے لیے لڑنے والا سمجھتی ہے؟
اسرائیل کا سوال
یہاں آکر معاملہ مزید دلچسپ ہوجاتا ہے۔
فلسطین میں نسلوں سے جاری ظلم، غزہ کی تباہی، لبنان پر حملے، شام اور عراق میں امریکی و اسرائیلی کارروائیاں اور خطے میں مسلسل عسکری مداخلت نے مشرقِ وسطیٰ کے ایک بڑے حصے میں یہ تصور مضبوط کیا ہے کہ مسئلہ صرف “علاقائی تنازع” نہیں بلکہ ایک بڑے طاقت کے نظام کا حصہ ہے۔
انصاراللہ نے اسی ماحول میں فلسطین کو اپنے سیاسی و عسکری بیانیے کا مرکزی حصہ بنایا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مغربی طاقتوں کے لیے مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔
کیونکہ اگر یمن جیسا نسبتاً کمزور ملک بحیرۂ احمر اور باب المندب جیسے عالمی تجارتی راستے کو اپنی جغرافیائی طاقت میں تبدیل کر دے تو یہ محض یمن کا مسئلہ نہیں رہتا۔
یہ عالمی طاقت کے توازن کا سوال بن جاتا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ یمن کو سمجھنے کے لیے نقشے پر صرف یمن دیکھنا کافی نہیں۔
باب المندب دیکھیں۔
بحیرۂ احمر دیکھیں۔
سوئز کینال دیکھیں۔
فلسطین دیکھیں۔
اور پھر واشنگٹن اور تل ابیب کی پالیسی دیکھیں۔
تب تصویر قدرے واضح ہونا شروع ہوتی ہے۔
جدید ہتھیار بمقابلہ مزاحمت
دنیا نے عراق میں جدید ترین فوجی مشینری دیکھی۔
افغانستان میں دنیا کی طاقتور ترین فوجی اتحاد کو دیکھا۔
اور اب یمن ایک اور سبق دے رہا ہے:
ٹیکنالوجی جنگ جیت سکتی ہے، مگر ہمیشہ مزاحمت کو ختم نہیں کرسکتی۔
ایک طرف ڈرون، سیٹلائٹ، جنگی طیارے، جدید میزائل، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور اربوں ڈالر کا دفاعی بجٹ۔
دوسری طرف پہاڑوں میں لڑنے والا ایک ایسا جنگجو جس کی ظاہری شکل کسی سپر پاور کی فوج کے سپاہی جیسی نہیں۔
لیکن اگر اس کے ذہن میں یہ یقین بیٹھ جائے کہ:
“میں اپنے وطن، اپنی شناخت اور اپنے مقصد کے لیے لڑ رہا ہوں”
تو جنگ کا حساب بدل جاتا ہے۔
یہی وہ چیز ہے جسے جدید عسکری اصطلاح میں will to fight کہا جاتا ہے۔
اور تاریخ میں اکثر یہی فیصلہ کن ثابت ہوئی ہے۔
سعودی عرب کا المیہ
سعودی عرب کے پاس دولت ہے۔
جدید ترین اسلحہ ہے۔
دنیا کی بڑی طاقتوں سے تعلقات ہیں۔
جدید فضائی دفاع ہے۔
مگر سوال یہ ہے:
کیا صرف ہتھیار کسی قوم کو ناقابلِ شکست بنا دیتے ہیں؟
اگر ایسا ہوتا تو ویتنام کی تاریخ مختلف ہوتی۔
اگر ایسا ہوتا تو فلسطینی مزاحمت کئی دہائیاں پہلے ختم ہوچکی ہوتی۔
اور اگر ایسا ہوتا تو یمن کا باب بھی بہت پہلے بند ہوچکا ہوتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی طاقت اور عوامی مزاحمت کی طاقت دو مختلف چیزیں ہیں۔
ریاست کے پاس وسائل ہوتے ہیں۔
مزاحمت کے پاس رویہ، شناخت اور قربانی کا جذبہ۔
اور ہمارے “دانشور”؟
یہاں ہمارے پاکستانی دانشوروں کا ذکر بھی ضروری ہے۔
کل تک جو لوگ ہر مسلح گروہ کو “مجاہدینِ اسلام” قرار دے رہے تھے، وہ آج اپنے پسندیدہ بیانیے کے مطابق کسی کو مجاہد اور کسی کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔
کل تک جنہیں شام میں مزاحمت نظر آتی تھی، آج یمن میں مزاحمت نظر نہیں آتی۔
کیوں؟
کیونکہ مسئلہ علم کا نہیں، بیانیے کا ہے۔
معیار شخصیت یا جھنڈا نہیں ہونا چاہیے؛ معیار عدل، ظلم، آزادی، انسانی جان اور حق ہونا چاہیے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے جذبات سے ایک قدم آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا۔
محورِ مقاومت کا اصل مفہوم
ایران، لبنان، عراق، فلسطین اور یمن کی مختلف مزاحمتی قوتیں کا خطے کے فیصلوں میں امریکی و اسرائیلی بالادستی کو قبول نہ کرنا۔۔
یہی وہ چیز ہے جسے آج “محورِ مقاومت” کہا جاتا ہے۔
اور اسی لیے اس محور کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں لڑی جا رہی بلکہ
اس کے خلاف میڈیا وار بھی
اس کے خلاف مذہبی پروپیگنڈا بھی
اس کے خلاف فرقہ وارانہ بیانیہ بھی
اور سب سے مؤثر ہتھیار یہ ہے کہ مخالف کو عوام کے ذہن میں پہلے ہی “انسان” سے “دشمن” بنا دیا جائے۔
۔
پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟
میری رائے میں پاکستان کو اس پورے معاملے میں ایک ذمہ دار، خودمختار اور دور اندیش ریاست کا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ایران اور امریکہ کے حالیہ تنازع میں پاکستان نے جس طرح جنگ کے بجائے مذاکرات، تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا، یہی طرزِ عمل یمن کے معاملے میں بھی برقرار رہنا چاہیے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ خود کہہ چکی ہے کہ تنازعات کا پائیدار حل مذاکرات اور سفارت کاری سے نکلتا ہے اور پاکستان علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے گا۔
یہی پاکستان کی اصل طاقت ہونی چاہیے۔
پاکستان کسی کا کرائے کا سپاہی نہیں
آخری بات
یمن ہمیں آج ایک بہت بڑا سبق دے رہا ہے۔
جنگ صرف اسلحے سے نہیں جیتی جاتی۔
جنگ جیتی جاتی ہے:
یقین سے،
حوصلے سے،
صبر سے،
قربانی سے،
قیادت سے،
اور سب سے بڑھ کر اپنے مقصد پر ایمان سے۔
چپل پہنے ہوئے ایک جنگجو کے پاس شاید جدید ٹینک نہ ہو۔
مگر اگر اس کے اندر لڑنے کا عزم زندہ ہے تو وہ ٹینک رکھنے والی فوج کو بھی برسوں الجھا سکتا ہے۔
اور یہی وہ حقیقت ہے جسے طاقتور دنیا بار بار بھول جاتی ہے:
آپ کسی قوم کے شہر تباہ کرسکتے ہیں،
اس کے گھر گرا سکتے ہیں،
اس کے انفراسٹرکچر کو مٹا سکتے ہیں،
لیکن اگر اس کے اندر مزاحمت کا یقین زندہ ہو
تو جنگ ختم نہیں ہوتی۔
یمن آج صرف یمن نہیں۔
یہ ایک سوال ہے۔
کیا مستقبل کی دنیا بندوق کی طاقت سے چلے گی یا ارادے کی طاقت سے؟
اور شاید اس سوال کا جواب آنے والے برسوں میں صرف یمن نہیں، بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ دے گا۔