Imamian Center "امامیہ عقائد، واقعات و شخصیات"

Imamian Center "امامیہ عقائد، واقعات و شخصیات" Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Imamian Center "امامیہ عقائد، واقعات و شخصیات", Religious Center, اسلام آباد, Islamabad.

تحقیق و دلیل کے ساتھ عقائدِ اہلِ بیتؑ، کربلا اور تاریخِ تشیع کی ترویج۔ ذاتی رائے اور غیر مستند نظریات کی گنجائش نہیں
یہ صرف ایک مذہبی صفحہ نہیں
یہ حسینی شعور کا مرکز ہے۔

10/04/2026

جوانوں کو امام علیؑ کی ایک وصیت
یہ ہے کہ وہ اپنے اندر عزتِ نفس اور بزرگواری کی روح پیدا کریں ۔اس سلسلے میں آپ فرماتے ہیں :
أکرِم نَفسک عَن کُلِّ دَنیَّةٍ وَاِن ساقَتکَ اِلی الرَّغائب فَاِنَّک لَن تَعتاضَ بِما تَبذُلُ مِن نَفِسک عِوضاً ولا تکُن عبدَ غَیرک و قد جعلکَ اﷲ حُراً
اپنے نفس کو ہر قسم کی بے مائیگی اور پستی سے بلند تر رکھو'خواہ یہ پست و حقیر ہونا تمہیں پسندیدہ اشیا تک پہنچا ہی کیوں نہ دے۔ کیونکہ تم جو عزتِ نفس گنوائو گے اسکا کوئی بدل نہیں مل سکتا۔اور خبردار! کسی کے غلام نہ بن جانا 'اللہ نے تمہیں آزاد قرار دیا ہے ۔
نہج البلاغہ۔مکتوب٣١

ایک ایسی کتاب جو تعلیم و  تربیت کے حاصل کرنےوالوں سے زیادہ ان  کے لیی مفید ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ تعلیم یافتہ اور تربیت ...
04/10/2025

ایک ایسی کتاب جو تعلیم و تربیت کے حاصل کرنےوالوں سے زیادہ ان کے لیی مفید ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہیں اور اب دوسروں کی تربیت کر رہے ہیں یا کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔
میرے جیسے افراد اس کے مطالعہ کے زیادہ حقدار ہیں جو اپنے ہر کام کرنے یا چھوڑنے کی تاؤیل (لوجیک ) بنانا جانتے ہیں۔

ہر اصلاح کا نقطہ آغاز انسان کی ذات سے شروع ہوتا ہے اور جب تک انسان اپنی تربیت نہ کرے وہ دوسروں کی تربیت نہیں کر سکتا۔ علم کا حصول آپ کیلئے خطر ناک ہے، بلکہ تمام چیزوں سے زیادہ خطر ناک۔ جب تک آپ نے تہذیب و تزکیہ نفس سے اپنے باطن کو آراستہ نہیں کیا ہے اس وقت تک مقام و منصب کا حصول آپ کیلئے خطر آور ہے اور آپ کو دنیا و آخرت کی ہلاکت سے دو چار کر سکتا ہے۔

ہماری تمام مشکلات اس لیے ہیں کہ ہم نے نہ تو اپنا تزکیہ نفس کیا ہے اور نہ ہی تربیت ۔ بہت سے لوگ عالم و دانشمند اور مفکر تو بن گئے مگر ان کی تربیت نہیں ہو سکی۔ ان کے افکار تو بہت گہرے ہیں لیکن تربیت کی خوبو سے بہت دور بشریت پر بے تربیت و بے تزکیہ عالم کی طرف سے آنے والی مشکلات و خطرات مغولوں کے حملوں سے زیادہ ہیں۔ انبیاء کے مبعوث ہونے کی غرض و غایت پہلے مرحلے پر یہی تزکیہ نفس ہے اور اس کے بعد تعلیم۔ اگر انسانی نفوس بغیر تزکیہ نفس اور تربیت، جہاں بھی جائیں اور جس علم کوبھی حاصل کریں خواہ وہ علم تو حید ہی کیوں نہ ہو یا معارف الہی کا عم ، وہ فلسفہ وفقہ ہو یا پھر سیاست کا میدان، وہ جس شعبہ زندگی میں قدم رکھیں گے، اگر اپنے شیطان باطنی سے رہائی حاصل نہ کر سکے تو ایسے افراد انسانیت کیلئے بہت مہلک ہیں۔

03/10/2025

روح کا سفر
جب اللہ سے مانگنے پر سب کچھ ملنے لگے حتیٰ بنا مانگے بھی بہت کچھ مل جاۓ اور پھر وہی سب کچھ آہستہ آہستہ اللہ سے دور (دنیاؤی کاموں میں بے تحاشہ مصروف) کرنے لگے تو سمجھ جانا چاہیے کہ ہم کسی کھائی میں گر چکے ہیں اور تزکیۂ نفس کے علاوہ کوئی واپسی کا رستہ نہیں۔۔۔۔

اس موقع پر علم انسان کو ایسے ایسے دلائل بنا کر دیتا ہے کہ اسے اپنے سب کام ٹھیک لگ رہے ہوتے ہیں جبکہ ایسی صورت میں راہِ حل نفس کی اصلاح ہے (کیونکہ ہر دو صورت جب میری روح پرواز نہیں کر رہی تو میں گھاٹے میں ہوں)

قرآن مجید میں بیان کیے گئے انسانی حقوق قرآن مجید تمام امور کے بارے میں حقوق، من جملہ انسانی حقوق کے بیان سے سرشار ہے؛ ان...
29/09/2025

قرآن مجید میں بیان کیے گئے انسانی حقوق

قرآن مجید تمام امور کے بارے میں حقوق، من جملہ انسانی حقوق کے بیان سے سرشار ہے؛ انسان کی بہ نسبت خداوند متعال کے حقوق، انبیا (علیہم السلام) کے حقوق اور حتی کہ لوگوں کی بہ نسبت خود قرآن مجید کے حقوق وغیرہ۔ انسانی حقوق اور ان کے عینی مصادیق کے چند نمونے ہیں، جن کے بارے میں قرآن مجید میں تاکید کی گئی ہے، اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسانی حقوق انہی چند مثالوں تک محدود ہیں اور اس کے علاوہ دوسرے مصادیق نہیں پائے جاتے ہیں:

١۔ زندگی کا حق
ایسا لگتا ہے کہ حیات کا حق، سب سے پہلا حق ہے، جو انسانوں کے لیے ثابت ہے اور یہی حق انسان کے دوسرے حقوق کا سر چشمہ ہوسکتا ہے۔ اگر اس حق کا فقدان ہو تو دوسرے حقوق کی بحث بے معنی رہتی ہے۔
طبیعی اور فطری حقوق میں سے جس حق پر حقوق کے فلاسفہ نے کافی توجہ دی ہے، وہ یہی حیات کا حق ہے۔ قرآن مجید میں حیات کو ایک الٰہی عطیہ کہا گیا ہے اور کسی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی سے اس حق کو چھین لے اور جسمانی اور روحانی طور پر کسی کو تکلیف پہنچائے۔
بہر حال انسان کے سب سے اہم اور بنیادی حقوق میں سے ایک، حق حیات ہے اور کوئی اس حق کو کسی سے چھین نہیں سکتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلامی قوانین میں کسی انسان کو قتل کرنا نا قابل عفوجرم کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے اور خداوند متعال نے اس حق کو چھیننے والے کے لیے سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔
قرآن مجید کے مطابق کسی دوسرے کو قتل کرنا غیر قانونی عمل شمار کیا گیا ہے:
﴿وَ إِذَا الْمَوْؤُدَةُ سُئِلَتْ* بِأَي ذَنْبٍ قُتِلَت﴾[1]
”اور جب زندہ در گور لڑکی سے پوچھا جائے گا، کہ وہ کس گناہ میں ماری گئی ؟“
﴿وَ لا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾[2]
”اور جس جان کا مارنا اللہ نے حرام کیا ہے، تم اسے قتل نہ کرو، مگر حق کے ساتھ۔“
﴿وَ لا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُمْ رَحیماً﴾[3]
”اور تم اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو،بے شک اللہ تم پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔“

۲۔ انسانی عظمت کا حق
انسان کے حقوق میں سے ایک اور بنیادی حق، انسانی عظمت و بزرگی کا حق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام انسان کو بلند اور قابل قدر مقام کا مالک جانتا ہے۔ دینی تعلیمات میں صرف انسان ہے جسے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے۔ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ خدا کی روح اس (انسان) میں پھونک دی گئی ہے اور تکریم و تعظیم کے لیے شائستہ، حتی کہ فرشتوں کے لیے سجدہ کرنے کا سبب اور زمین پر خدا کاجانشین یہی انسان قرار پایا ہے۔
﴿وَ لَقَدْ كَرَّمْنا بَني آدَمَ وَ حَمَلْناهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْناهُمْ مِنَ الطَّیباتِ وَ فَضَّلْناهُمْ عَلى‏ كَثیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنا تَفْضیلاً﴾[4]
”اور بتحقیق ہم نے اولاد آدم کو عزت و تکریم سے نوازا اور ہم نے انہیں خشکی اور سمندر میں سواری دی اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں بڑی فضیلت دی۔“

۳۔ عدل و انصاف کا حق
عدل و انصاف کا حق اور اس کا متحقق اور مستحکم ہونا، قرآن مجید کے حقوق پر مبنی قوانین میں سے ایک اور قانون ہے، یہاں تک کہ قرآن مجید میں انبیائے الٰہی کی رسالت اور پیغام رسانی کا مقصد عدل و انصاف بر قرار کرنا بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
﴿لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَيِّناتِ وَ أَنْزَلْنا مَعَهُمُ الْكِتابَ وَ الْميزانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ﴾[5]
”بتحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تاکہ لوگ عدل قائم کریں۔“
﴿يَا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامينَ لِلَّهِ شُهَداءَ بِالْقِسْطِ وَ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى‏ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوىٰ﴾[6]
”اے ایمان والو! اللہ کے لیے بھرپور قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہاری بے انصافی کا سبب نہ بنے، (ہر حال میں) عدل کرو! یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے۔“

۴۔ امن و سلامتی کا حق
انسان کے لیے بیان کیے گئے حقوق کے دوسرے مصادیق میں سے ایک، ہر جہت سے امن و سلامتی کا حق ہے۔ کوئی اس حق کو انسان سے چھین کر اسے نفسیاتی اور اجتماعی طور پر نا امنیت میں قرار نہیں دے سکتا ہے۔ اس حق کی اس قدر اہمیت ہے کہ قرآن مجید نے مشرکین اور مخالفین کو بھی اس حق کا حقدار جانا ہے:
﴿وَ إِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكينَ اسْتَجارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ﴾[7]
”اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص آپ سے پناہ مانگے تواسے پناہ دے دیں تاکہ وہ کلام اللہ کو سن لے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دیں۔“
﴿وَ جَعَلْنا بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ الْقُرَى الَّتي‏ بارَكْنا فيها قُرىً ظاهِرَةً وَ قَدَّرْنا فيهَا السَّيْرَ سيرُوا فيها لَيالِيَ وَ أَيَّاماً آمِنينَ﴾ (سبأ:18)
”اور ہم نے ان کے اور جن بستیوں کو ہم نے برکت سے نوازا تھا، کے درمیان چند کھلی بستیاں بسا دیں اور ان میں سفر کی منزلیں متعین کیں، ان میں راتوں اور دنوں میں امن کے ساتھ سفرکیا کرو۔“

۵۔اولاد پر ماں باپ کا حق
﴿وَ قَضى‏ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً﴾ (اسراء: 23)
”اور آپ کے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو!“
﴿بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً﴾ والے جملے کا پہلے جملے پر عطف ہونے کے معنی یہ ہے کہ پروردگار عالم نے یوں حکم فرمایا ہے: ”اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو!“
اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرنے کا مسئلہ، مسئلہ توحید کے بعد، واجب ترین واجبات میں سے ہے۔ اسی طرح عقوق والدین کا مسئلہ خدا سے شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے۔ اسی وجہ سے اس مسئلے کا مسئلہ توحید کے بعد اور دوسرے تمام احکام سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے ماں باپ کے حقوق کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔[8]

٦۔ دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے کا حق
یہ مسئلہ دو زاویوں سے قابل غور ہے: ایک حکام اور عوام کے درمیان معاملات کے طریقے کے بارے میں ہے اور دوسرا زاویہ لوگوں کے آپسی معاملات کے بارے میں ہے۔ خداوند متعال نے قرآن مجید میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا ہے:
﴿بِما رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلیظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُم﴾[9]
”(اے رسول!) یہ مہر الٰہی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تندخو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، پس ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے مغفرت طلب کریں۔“
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیرالمؤمنین امام علی )علیہ السلام( کی سیرت، اپنے مخالفوں حتی کہ اپنے دشمنوں کے ساتھ ہمیشہ عفو و بخشش ہوتی تھی، سوائے ان افراد کے جو کھلم کھلا اسلحہ لے کر اسلام کے ساتھ جنگ کرتے تھے اور لوگوں کے حقو ق کو پامال کرتے تھے۔

۷۔مساوات برقرار کرنے کا حق
مساوات کا حق، حق کی سب سے اہم مثالوں میں سے ایک ہے، جس کا قرآن مجید نے انسانی حقوق میں ذکر کیا ہے۔ تمام انسانوں کے درمیان حقوق کی مساوات ہے اور کسی انسان کو کسی دوسرے پر برتری اور فضیلت نہیں ہے تاکہ وہ دوسرے پر مسلط ہو جائے۔ اگر قرآن مجید نے امتیاز و برتری کو تقویٰ بیان کیا ہے، تو یہ ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی دنیا میں اپنی برتری جتلائے، کیونکہ تقویٰ ایک باطنی امر ہے اور اخروی امتیاز و اجر کا سبب بن جاتا ہے۔
مساوات کے حق کا یہ معنی ہے کہ کوئی شخص کسی بھی حالت میں اپنے آپ کو دوسرے پر برتر سمجھ کر اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا مظاہرہ نہیں کرسکتا ہے۔ اس لحاظ سے فطری طور پر کسی کو کسی پر ولایت کا حق نہیں ہے، لیکن اولاد پر والدین کی ولایت ان کے مفاد کی بنیاد پر انجام پاتی ہے اور جب ان کی اولاد بالغ اور عاقل بن جاتی ہے تو یہ ولایت بھی کافی محدود ہوتی ہے۔
جس مساوات کا قرآن مجید قائل ہے، وہ دو حصوں پر مشتمل ہے: اصل انسانیت میں مساوات اور قوانین و احکام کے نفاذ میں مساوات:
﴿يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنْثى‏ وَ جَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ﴾[10]
”اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک یقیناً وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔“

۸۔ دولتمندوں کے مال میں یتیموں اور محتاجوں کا حق
خدا وند متعال نے دولتمندوں کے مال میں سماج کے فقرا، یتیموں اور محتاجوں کے لیے کچھ حقوق قرار دیے ہیں اور قرآن مجید میں اس کی صراحت کی گئی ہے:
﴿وَ الَّذینَ فی‏ أَمْوالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ* لِلسَّائِلِ وَ الْمَحْرُومِ﴾[11]
”اور جن کے اموال میں معین حق ہے، سائل اور محروم کے لیے۔“
﴿وَ أَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْهَر﴾[12]
”اور سائل کو جھڑکی نہ دیں!“
”سائل“ کا حق یہ ہے کہ اگر انسان جانتا ہو کہ یہ سچ کہتا ہے تو اسے اپنی طاقت اور توانائی کے مطابق اس کی حاجت پوری کرنی چاہیے اور اسے اپنی حاجت روائی تک پہنچنے میں مدد کرنی چاہیے۔ اگر اس کی بات کے سچ ہونے میں شک کرے تو اسے ہوشیار رہنا چاہیے کہ کہیں اس کی بدظنی اور شک شیطان کے وسوسے کی وجہ سے تو نہیں ہے، جس کے ذریعے وہ اسے کارخیر انجام دینے اور خداوند متعال کا قرب حاصل کرنے سے محروم کرنا چاہتا ہو؟ بہرحال اگر انسان سائل کو محروم کرنا بھی چاہتاہو، تو اسے اس کی آبرو اور حیثیت کو مجروح نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے نیک الفاظ سے جواب دینا چاہیے۔[13]

۹۔ انسان کا اپنے آپ پر حق
ہر انسان کے اپنے آپ پر حق کا یہ معنی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر قسم کے خطرات اور مالی نقصان سے محفوظ رکھے۔ اس بنا پر انسان کو خود کشی کرنے یا اپنی جان کو کوئی نقصان پہنچانے کا حق نہیں ہے۔ خداوند متعال نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر خود کشی کی نہی کی ہے، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ لا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُمْ رَحيماً﴾[14]
”اور تم اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو،بے شک اللہ تم پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔“
اس کے علاوہ ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ لا تُلْقُوا بِأَيْديكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾[15]
”اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو!“
اسی طرح انسان کو اپنی شخصیت کو نابود کرنے کے اسباب فراہم نہیں کرنےچاہییں، کیونکہ اس کی شخصیت اس کی معنوی حیات ہے۔

١۰۔ تعقل، تفکر اور شناخت کا حق
ہر فرد اس حق کا مالک ہے کہ اپنے اور جس ماحول میں وہ زندگی بسر کر رہا ہے، اس کے بارے میں علم و آگاہی حاصل کرے اور حق و باطل کی راہ کو پہچان لے۔ اس لحاظ سے علم و دانش میں رکاوٹ ڈالنا، انسان کے فطری حقوق سے چشم پوشی کرنے کے معنی میں ہے۔ کوئی معاشرہ کسی انسان سے شناخت و معرفت کے وسائل و امکانات سلب نہیں کرسکتا ، بلکہ علم و دانش حاصل کرنے کے لیے وسائل اور امکانات کی فراہمی لازم ہے۔
﴿إِنَّ في‏ خَلْقِ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَ النَّهارِ وَ الْفُلْكِ الَّتي‏ تَجْري فِي الْبَحْرِ بِما يَنْفَعُ النَّاسَ وَ ما أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّماءِ مِنْ ماءٍ فَأَحْيا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها وَ بَثَّ فيها مِنْ كُلِّ دابَّةٍ وَ تَصْريفِ الرِّياحِ وَ السَّحابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّماءِ وَ الْأَرْضِ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ﴾[16]
”یقیناآسمانوں اور زمین کی خلقت میں، رات اور دن کے آنے جانے میں، ان کشتیوں میں جو انسانوں کے لیے مفید چیزیں لے کر سمندروں میں چلتی ہیں اور اس پانی میں جسے اللہ نے آسمانوں سے برسایا، پھر اس پانی سے زمین کو مردہ ہونے کے بعد (دوبارہ) زندگی بخشی اور اس میں ہر قسم کے جانداروں کو پھیلایا، اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں عقل سے کام لینے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“
﴿وَ أَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾[17]
”اور (اے رسول!) آپ پر بھی ہم نے ذکر اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو وہ باتیں کھول کر بتا دیں جو ان کے لیے نازل کی گئی ہیں اور شاید وہ (ان میں) غور کریں۔“

١١۔ آزادی کا حق
ایک اہم حق، جسے قرآن مجید انسان کے لیے بیان کرتا ہے، وہ آزادی کا حق ہے۔ چونکہ قرآن مجید کے نظریے کے مطابق انسان ایک مختار مخلوق ہے اور صرف خداوند متعال کے حضور مکلف اور جواب گو ہے، اس لیے وہ ہر لحاظ سے آزاد ہے۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَ لَوْ شاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَميعاً أَ فَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنينَ﴾[18]
”اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو تمام اہل زمین ایمان لے آتے، پھر کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر سکتے ہیں؟“
﴿إِنَّا هَدَیناهُ السَّبیلَ إِمَّا شاكِراً وَ إِمَّا كَفُوراً﴾[19]
”بےشک ہم نے اسے راستے کی ہدایت کر دی، خواہ شکر گزار بنے اور خواہ ناشکرا۔“

١۲۔ دین اور دینی مراسم انجام دینے کی آزادی
زندگی کے ابتدائی حقوق کے بعد انسان کے لیے سب سے اہم حق، اس کے ذاتی دین کا حق ہے۔ اس سلسلے میں ارشاد باری تعالی ہے:
﴿قُلْ يا أَيُّهَا الْكافِرُونَ * لا أَعْبُدُ ما تَعْبُدُونَ * وَ لا أَنْتُمْ عابِدُونَ ما أَعْبُدُ * وَ لا أَنا عابِدٌ ما عَبَدْتُّمْ * وَ لا أَنْتُمْ عابِدُونَ ما أَعْبُدُ * لَكُمْ دينُكُمْ وَ لِيَ دِينِ﴾[20]
”کہدیجیے: اے کافرو! میں ان (بتوں) کو نہیں پوجتا ہوں جنہیں تم پوجتے ہو۔ اور نہ ہی تم اس (اللہ) کی بندگی کرتے ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں۔ اور نہ ہی میں ان (بتوں) کی پرستش کرنے والا ہوں جن کی تم پرستش کرتے ہو۔ اور نہ ہی تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس میں عبادت کرتاہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین اورمیرے لیے میرا دین۔“

١۳۔ کار و کوشش سے بہرہ مند ہونے کا حق
﴿وَ أَنْ لَیْسَ لِلْإِنْسانِ إِلاَّ ما سَعیٰ﴾[21]
”اور انسان کے لیے صرف اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے۔“

١۴۔ تجارت کا حق
تجارت کا حق، عام لوگوں، من جملہ زن و مرد کے لیے ، انسان کے فطری حقوق میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے ہر شخص جائز مال و دولت حاصل کرنے کے لیے کوشش کرسکتا ہے اور تجارت و کاروبار سے بہرہ مند ہوسکتا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:
﴿لِلرِّجالِ نَصيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَ لِلنِّساءِ نَصيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ﴾[22]
”مردوں کو اپنی کمائی کا صلہ مل جائے گا اور عورتوں کو اپنی کمائی کا صلہ مل جائے گا۔“
صرف ناجائز کار، جو حقیقت میں دوسروں پر ظلم و ستم ہے، غلط اور ممنوع ہے اور یہ ایک فطری بات ہے۔[23]

١۵۔ ازدواج کا حق
انسان کے حقوق میں سے ایک، شریک حیات کا انتخاب اور خاندان تشکیل دینے کا حق ہے اور ہر مرد و زن کو، اپنے فکری، ثقافتی اور دینی حالات کے پیش نظر ازدواج کرنے کا حق ہے:
﴿فَانْكِحُوا ما طابَ لَكُمْ مِنَ النِّساءِ مَثْنى‏ وَ ثُلاثَ وَ رُباعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً﴾[24]
”جو دوسری عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو، تین تین یا چار چارسے نکاح کر لو، اگر تمہیں خوف ہو کہ ان میں عدل نہ کر سکوگے تو ایک ہی عورت کافی ہے۔“
﴿وَ مِنْ آياتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْواجاً لِتَسْكُنُوا إِلَيْها وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَ رَحْمَةً﴾[25]
”اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے ازواج پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے مابین محبت اور مہربانی پیدا کی۔“

١٦۔ سیر و سفر کا حق
شہروں اور ممالک میں قوموں اور ممالک کی تاریخ، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے بارے میں آشنائی حاصل کرنے کے لیے سیر و سفر کرنا ایک ایسا حق ہے، جس کو قرآن مجید نے انسان کے لیے بیان کیا ہے:
﴿قُلْ سيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الْمُكَذِّبينَ﴾[26]
”ان سے کہدیجیے : زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے؟“

١۷۔ صلہ رحم اور رشتہ داروں کا حق
ارشاد باری تعالی ہے:
﴿وَ أُولُوا الْأَرْحامِ بَعْضُهُمْ أَوْلى‏ بِبَعْضٍ في‏ كِتابِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْ‏ءٍ عَليمٌ﴾[27]
”اور اللہ کی کتاب میں خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، بے شک اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے ۔“
قرآن مجید اس آیہ شریفہ میں تاکید کرتا ہے کہ دوسرے مؤمنین کی بہ نسبت رشتہ داروں کی ولایت و برتری قوی تر و جامع تر ہے، کیونکہ مسلمان رشتہ دار ایمان و ہجرت کی ولایت کے علاوہ رشتہ داری کی ولایت بھی رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے وراثت حاصل کرتے ہیں، جبکہ غیر رشتہ دار ایک دوسرے سے وراثت نہیں لیتے ہیں۔

١۸۔ عبادت و پرستش کا حق
﴿وَ ما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ إِلاَّ رِجالاً نُوحي‏ إِلَيْهِمْ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ﴾[28]
”اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مردان (حق) ہی کی طرف وحی بھیجی ہے، اگر تم لوگ نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو!“
”ذکر“ کا معنی آگاہی و اطلاع ہے اور اہل ذکر کا مفہوم ایک وسیع مفہوم ہے کہ مختلف جہات سے تمام آگاہ افراد اس میں شامل ہوتے ہیں۔[29] یعنی یہ آپ کا حق ہے کہ جو کچھ نہیں جانتے ہو، اس کے بارے میں آگاہ اور اہل علم سے سوال کرو۔

١۹۔ مالکیت کا حق
ہر فرد اپنی کمائی کا مالک ہے۔ دولت کمانے میں انسان جو کوشش کرتا ہے وہ کوشش اس کے لیے ایک خاص حق پیدا کرتی ہے، جسے مالکیت کاحق کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے انسان اپنے مال مویشی اور بنجر زمین کو زندہ کرکے اس کا مالک بن جاتا ہے اور اس سے بہرہ مند ہونے کا حق رکھتا ہے:
﴿مَتاعاً لَكُمْ وَ لِأَنْعامِكُمْ﴾ (النازعات:33)
”تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان زندگی کے طور پر۔“
قرآن مجید کے مطابق تمام لوگوں کے لیے خصوصی مالکیت کا حق ثابت ہے حتی کہ نابالغ افراد بھی اس سے بہرہ مند ہوتے ہیں.
﴿وَ ابْتَلُوا الْيَتامى‏ حَتَّى إِذا بَلَغُوا النِّكاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوالَهُمْ وَ لا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَ بِداراً أَنْ يَكْبَرُوا وَ مَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَ مَنْ كانَ فَقيراً فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَ كَفى‏ بِاللَّهِ حَسيباً﴾ (النساء،٦)
”اور یتیموں کو آزماتے رہو یہاں تک کہ یہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ پھر اگر تم ان میں رشد عقلی پاؤ تو ان کے اموال ان کے حوالے کر دو اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے (اور مال کا مطالبہ کریں گے) فضول اور جلدی میں ان کا مال کھا نہ جانا، اگر (یتیم کاسرپرست) مالدار ہے تو وہ (کچھ کھانے سے) اجتناب کرے اور اگر غریب ہے تو معمول کے مطابق کھاسکتا ہے، پھر جب تم ان کے اموال ان کے حوالے کرو تو ان پرگواہ ٹھہرایا کرو اور حقیقت میں حساب لینے کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے۔“

۲۰۔ طبیعی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کا حق
خداوند متعال قرآن مجید میں پہاڑ، صحرا، آسمان، زمین، چراگاہ جیسی اپنی نعمتوں کی توصیف کرنے کے بعد ان سب چیزوں کو انسان کے لیے متاع اور ان سے بہرہ مند ہونے کا حق بیان کرتا ہے اور مویشوں کو انسان کی خدمت میں جانتا ہے اور تمام لوگوں کے لیے طبیعی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے کا حق جانتا ہے:
﴿وَ سَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَ ما فِي الْأَرْضِ جَميعاً مِنْهُ﴾[30]
”اور جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اس نے اپنی طرف سے تمہارے لیے مسخر کیا۔“
﴿وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهارَ﴾[31]
”اور کشتیوں کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے سمندر میں چلے اور دریاؤں کو بھی تمہارے لیے مسخر کیا۔“

[1] تکویر:8- 9
[2] الاسراء: 33
[3] النساء:29
[4] اسراء:70
[5] حدید: 25
[6] المائدۃ:8
[7] توبہ: 6
[8] ملاحظہ ہو: طباطبائی، سید محمد حسین، الميزان في تفسير القرآن: ج ‏13، ص 79، دفتر انتشارات اسلامی، قم، ۱۴۱۷ق
[9] آل عمران:159
[10] الحجرات: 13
[11] معارج:24- 25
[12] الضحیٰ:10
[13] ملاحظہ ہو: تکدی‌گری از نگاه قرآن و روایات، ۳۰۳۹۴
[14] النساء: 29
[15] البقرۃ:195
[16] البقرۃ:١٦۴
[17] النحل:44
[18] یونس:99
[19] انسان: 3
[20] الکافرون: 1-6
[21] نجم: ۳۹
[22] النساء: 32
[23] ملاحظہ ہو: بقرہ، آیت١۸۸و ۲۷۵و ۲۷۸
[24] النساء:3
[25] الروم:21
[26] الانعام:11
[27] انفال:75
[28] النحل:43
[29] ملاحظہ ہو: مکارم شیرازی، ناسر، تفسیر نمونہ، ج ١١،ص ۲۴١، دار الکتب الاسلامیہ، تہران، ١۳۷۴ش
[30] الجاثیہ:13
[31] ابراہیم:32

25 ربیع الاوّل 95 ہجری شہادتِ حضرت سعید بن جبیر (رض) 95 ہجری 25 ربیع الاول کے دن حجاج ابن یوسف ثقفی لعین نے مشہور تابعی،...
22/09/2025

25 ربیع الاوّل 95 ہجری شہادتِ حضرت سعید بن جبیر (رض)
95 ہجری 25 ربیع الاول کے دن حجاج ابن یوسف ثقفی لعین نے مشہور تابعی، عظیم فقیہ، عالم با عمل، حافظِ قرآن، معلِّم قران، متقی، زاہد و عبادت گزار شخصیت حضرت سعید ابن جبیر (رضی اللہ عنہ) کو بے جرم و بے خطا قتل کر دیا اور قتل کا سبب فقط یہ تھا کہ وہ محمد و آل محمد (علیہم السلام) کی محبت و ولایت سے سرشار تھے۔
اہل بیت (ع) کی نگاہ میں حضرتِ سعید بن جبیر کا مقام
حضرت سعید ابن جبیر کا شمار امام زین العابدین (علیہ السلام) کے باوفا اصحاب میں ہوتا ہے، جو امام (علیہ السلام) کے بہترین پیروکاروں میں سے تھے۔ خود امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے آپ کی تعریف و تصدیق فرمائی ہے۔ کتاب ”اختیار معرفۃ الرجال“ میں شیخ کشی نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی یہ حدیث امام نقل فرمائی ہے:
"أنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ كَانَ يَأْتَمُّ بِعَلِيِّ بْنِ اَلْحُسَيْنِ (عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ) وَ كَانَ عَلِيٌّ (عَلَيْهِ السَّلاَمُ) يُثْنِي عَلَيْهِ، وَ مَا كَانَ سَبَبُ قَتْلِ اَلْحَجَّاجِ لَهُ إِلاَّ عَلَى هَذَا اَلْأَمْرِ، وَ كَانَ مُسْتَقِيماً"۔
"بے شک سعید ابن جبیر علی ابن الحسین (زین العابدین علیہ السلام) کی پیروی کرتے تھے اور خود امام علی ابن الحسین بھی ان کی تعریف کرتے تھے۔ حجاج ابن یوسف نے انہیں فقط اسی (محبت و ولایت) کی وجہ سے قتل کیا، جبکہ سعید ابن جبیر بالکل درست عقیدے پر تھے۔"
علمائے اہل سنت اور حضرتِ سعید ابن جبیر (رض)
اہل سنت کے علما کے نزدیک بھی آپ (رضی اللہ عنہ) کو بہت قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، حتی کہ مذاہبِ اربعہ کے اماموں نے آپ کا شمار ماہر ترین علما میں کیا ہے اور آپ سے روایات بھی اپنی کتب میں نقل کی ہیں۔ صحیح بخاری ہو یا دوسری کتب، کوئی بھی جنابِ سعید بن جبیر کے علم سے بے نیاز نہیں۔ ہر ایک کی کتاب میں حضرت سعید بن جبیر کے فتاویٰ بھی ہیں اور انہیں ”شہید“ کے لقب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ ذہبی جیسا متشدد عالم اپنی کتاب میں میمون ابن مہران کا قول نقل کرتا ہے:
مات سعيد بن جبير وما على ظهر الارض رجل الا وهو يحتاج الى علمه۔
”جب سعید بن جبیر کا انتقال ہوا تو اس وقت زمین پر کوئی ایسا شخص نہ تھا جو ان کے علم کا محتاج نہ ہو۔“
بلکہ بعض علمائے اہل سنت نے حضرت سعید بن جبیر کی شہادت پر حجاج بن یوسف ثقفی کی بہت زیادہ مذمت کی ہے، حتی کہ حسنِ بصری جیسے (اہل بیت (علیہم السلام) کے مخالف) شخص نے بھی حجاج بن یوسف کو بددعائیں دی ہیں کہ سعید بن جبیر جیسی عظیم شخصیت کو قتل کردیا۔
حجاج کے دربار میں اہل بیت (علیہ السلام) کی حقانیت کی گواہی
روایات میں ملتا ہے کہ جناب سعید ابن جبیر کو حجاج ابن یوسف نے قید میں رکھا ہوا تھا اور طوق و سلاسل میں باندھ کر یہ کہا کہ تیرا عقیدہ یہ ہے کہ حسنؑ و حسینؑ نبیؐ کے بیٹے ہیں، نبیؐ کی ذریت سے ہیں۔ اگر ابھی قران سے دلیل نہیں دی تو تجھے قتل کر دوں گا۔ حضرت سعید ابن جبیر نے سوره الانعام آیت 84 ﴿وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَۚ كُلًّا هَدَيۡنَاۚ وَنُوحًا هَدَيۡنَا مِن قَبۡلُۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِۦ دَاوُۥدَ وَسُلَيۡمَٰنَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَٰرُونَۚ وَكَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلۡمُحۡسِنِينَ ﴾ اور 85 ﴿وَزَكَرِيَّا وَيَحۡيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلۡيَاسَۖ كُلّٞ مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ﴾ کی تلاوت کی جس میں اللہ نے کچھ انبیاؑ کو اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام )کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے شمار کیا۔ حضرت سعید ابن جبیر نے کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السّلام) کے باپ نہیں تھے اور اللہ نے انہیں ماں کے ذریعے اتنے واسطوں کے باجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں شامل کیا ہے تو صرف ایک واسطے سے حسنؑ و حسینؑ محمد مصطفی (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ) کی ذریت میں سے کیوں نہیں ہو سکتے؟
حجاج حیران ہو گیا کہ یہ کیسا جواب دے دیا، مجبوراً آزاد کرنا پڑا، بلکہ کتاب ”فاطمہ من المھد الی اللحد“ میں سید کاظم قزوینی نے روایت نقل کی ہے کہ:
فأمر له بعشرة آلاف دینار، و أمر أن یحملوه إلی داره و أذن له في الرجوع۔
”حجاج ابن یوسف نے نہ صرف آزاد کیا، بلکہ حکم دیا کہ دس ہزار دینار انعام کے طور پر دیے جائیں۔“
قابل غور بات یہ ہے کہ رات کے اندھیرے میں حجاج ابن یوسف نے سعید ابن جبیر کا انجام دکھانے کے لیے عامر الشعبی کو بھی بلایا تھا اور انہی کے سامنے یہ واقعہ پیش آیا۔ اب جب عامر الشعبی نے حضرت سعید بن جبیر کا علم و استدلال دیکھا تو حیران ہوگئے۔ وہ کہتے ہیں:
"فلما أصبحت قلت في نفسی: قد وجب علیَّ أن آتی هذا الشیخ فأتعلَّم منه معاني القرآن، لأني كنت أظن أني أعرفها، فإذا أنا لا أعرفها"۔
”جب صبح ہوئی تو میں نے اپنے دل میں کہا: مجھ پر لازم ہے کہ میں اس بزرگ کے پاس جاؤں اور ان سے قرآن کے معانی سیکھوں، کیونکہ میں یہ گمان کرتا تھا کہ میں ان کو جانتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں ان کو نہیں جانتا۔“
مسجد میں سعید ابن جبیر سے ملاقات کے لیے گئے تو دیکھا کہ لوگوں میں دینار دس دس کر کے تقسیم کرتے جارہے ہیں اور ساتھ ساتھ کہتے جا رہے ہیں:
"هذا كله ببركة الحسن و الحسین (علیہما السلام)"۔
”یہ سب کا سب حسن و حسین علیہما السّلام کی برکت سے ہے۔“ آؤ حسن اور حسین کی برکت سے یہ مال لے کر جاؤ !“
دوبارہ گرفتاری اور حجاج کے سوالات پر سعید بن جبیر (رض) کے حکیمانہ جوابات
لیکن حجاج اس کوشش میں تھا کہ کسی بہانے سے دوبارہ گرفتار کروں، کوئی ایسا الزام لگاؤں کہ لوگ بھی میرے مخالف نہ ہوں اور قتل بھی کر دوں، لہٰذا خلفا کا نام استعمال کیا کہ سعید ابن جبیر خلفا کے بارے میں غلط عقیدہ رکھتا ہے۔
امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی حدیث کے مطابق حجاج ابن یوسف نے جناب سعید ابن جبیر کو دربار میں بلایا تو نام بگاڑ کر پکارا اور سعید کی جگہ شقی کہا (سعید یعنی کامیاب اور شقی یعنی بدبخت)، مگر حضرت سعید ابن جبیر نے کہا: ”میری ماں میرے نام کو بہتر جانتی ہیں۔ انہوں نے میرا نام سعید رکھا ہے۔“
شیخ الکشی اپنی رجال کی کتاب میں روایت ذکر کرتے ہیں کہ حجاج ابن یوسف نے حضرت سعید بن جبیر سے سوالات کرنا شروع کیے۔
حجاج نے پہلا سوال کیا:
ما تقول فی أبی بکر و عمر هما فی الجنة أو فی النار؟
”ابوبکر اور عمر کے بارے میں کیا کہتے ہو کہ وہ جنت میں ہیں یا جہنم میں؟“
حضرت سعید ابن جبیر نے جواب دیا:
لو دخلت الجنة فنظرت أهلها لعلمت من فیها، و ان دخلت النار و رأیت أهلها لعلمت من فیها۔
اگر میں جنت میں داخل ہوا تو دیکھ لوں گا کہ کون کون جنتی ہے اور اگر جہنم میں گیا تو دیکھ لوں گا کہ کون کون جہنمی ہے۔“
حجاج نے سوال بدل کر پوچھا:
فما قولک فی الخلفاء؟
”تو خلفا کے بارے میں تیرا کیا کہنا ہے؟“
سعید (رحمہ اللہ عنہ) نے کہا:
لستُ عليهم بوكیل۔
”میں ان پر نگہبان نہیں ہوں۔“
حجاج نے پوچھا:
أيّهم أحبّ إليك؟
”ان میں سے کون سا تمہیں زیادہ پسند ہے؟“
سعید نے کہا:
أرضاهم لخالقي۔
”جو میرے خالق کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو۔“
حجاج نے کہا:
و أيّهم أرضى للخالق؟
”تو بتا وہ کون ہے جو خالق کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟“
سعید نے کہا:
"علمُ ذلك عند الذي يعلم سرّهم و نجواهم"۔
”یہ علم تو اُس کے پاس ہے جو ان کے رازوں اور ان کی سرگوشیوں کو بھی جانتا ہے۔“
حجاج نے کہا:
أبيتَ أن تصدّقني۔
"تو نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا۔"
سعید نے کہا:
بلی لم أحب أن اَکذِبَك.
”بالکل، میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ تم سے جھوٹ بولوں۔“
اس کے بعد حجاج ابن یوسف نے فوراً آپ کے قتل کا حکم دے دیا۔
سعید بن جبیر کی شہادت اور دعا : ”یا اللہ! میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ کرنا!“
حجاج نے سعید بن جبیر کو حق سے ہٹانے کے لیے ایک اور طریقہ اپنایا۔ اس نے انہیں مال و دولت اور دنیاوی لالچ دیا، لیکن سعید نے اسے سمجھا دیا کہ مال تو اصل میں اعمال کی اصلاح اور آخرت کی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے۔
حجاج: ”ویل ہو تجھ پر اے سعید!“
سعید: ”ویل تو اس کے لیے ہے جسے جنت سے دور کر کے دوزخ میں ڈال دیا جائے۔“
حجاج: ”بتا، میں تجھے کس طرح ماروں؟“
سعید: ”حجاج! اپنے لیے خود ہی چن لے، کیونکہ تو مجھے جس طرح بھی قتل کرے گا، میں قیامت کے دن تجھے سو بار ویسے ہی قتل کروں گا۔“
حجاج: ”کیا تو چاہتا ہے کہ میں تجھے معاف کر دوں؟“
سعید: ”اگر معافی ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، جہاں تک تیرا تعلق ہے تو نہ تیرے لیے برائت ہے نہ ہی عذر۔“
حجاج: ”اسے لے جاؤ اور قتل کر دو!“
جب وہ لوگ انہیں قتل کے لیے لے گئے تو ان کے بیٹے نے یہ منظر دیکھ کر رونا شروع کر دیا۔ سعید نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: ”بیٹا! کیوں روتے ہو؟ تمہارے باپ نے اس دنیا میں اور کتنا باقی رہنا ہے جبکہ اس نے ستاون سال گزار لیے؟“
پھر ان کا ایک دوست بھی رونے لگا۔ سعید نے پوچھا: ”تو کیوں روتا ہے؟“
دوست: ”جو کچھ تیرے ساتھ پیش آیا ہے، اس پر۔“
سعید: ”مت رو! یہ تو اللہ کے علم میں تھا کہ ایسا ہونا ہے۔“
پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی:
﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا ۚ﴾[1]
پھر سعید ہنسنے لگے۔ لوگ تعجب کرنے لگے اور یہ بات حجاج تک پہنچائی۔ حجاج نے انہیں دوبارہ بلایا اور پوچھا: ”تجھے ہنسنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“
سعید: ”مجھے تیری اللہ پر جرأت اور اللہ کا تجھ پر حلم دیکھ کر تعجب ہوا۔“
حجاج: ”اسے قتل کر دو!“
جب قتل کرنے والا آپ کو قتل کرنے لگا تو آپ کا رخ قبلہ کی طرف تھا اور آپ نے آیت کی تلاوت شروع کی:
﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾[2]
حجاج: ”اس کا رُخ قبلہ سے ہٹا دو!“
سعید: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾[3]
حجاج: ”اسے اوندھا کر زمین پر گرا دو!“
سعید: ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ﴾[4]
حجاج: ”اسے ذبح کر دو!“
سعید: أما أنا فأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدًا عبده ورسوله، خذها مني يا حجاج حتى تلقاني بها يوم القيامة، ثم دعا سعيد ربه فقال: اللهم لا تسلطه على أحد يقتله بعدي۔
”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ “
پھر کہا: ”اے حجاج! یہ کلمہ مجھ سے لے لے تاکہ قیامت کے دن مجھ سے اس کے ساتھ ملاقات کرے۔“
پھر سعید نے دعا کی:
”اے اللہ! اسے میرے بعد کسی پر مسلط نہ کرنا کہ یہ اسے قتل کرے۔“
اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کی۔
الکامل فی التاریخ میں مذکور ہے کہ شہادت سے قبل حضرت سعید بن جبیرؓ نے جو دعا مانگی تھی، اس کا یہ اثر ہوا کہ قتل کرنے کے بعد حجاج کی حالت یہ ہو گئی کہ عقل و شعور کھو بیٹھا، وہ بار بار چیخ کر کہتا: ”قُیودنا! قُیودنا!“ (ہماری بیڑیاں، ہماری زنجیریں) لوگوں نے سمجھا کہ وہ صرف زنجیریں مانگ رہا ہے، لہٰذا انہوں نے سعید بن جبیر کے دونوں پاؤں آدھی پنڈلی سے کاٹ کر بیڑیاں نکال لیں۔
اس کے بعد جب بھی حجاج سوتا تو خواب میں سعید بن جبیر کو دیکھتا کہ وہ اس کے کپڑوں کو پکڑ کر کہہ رہے ہیں:
يا عدو الله فيما قتلتني؟
”اے خدا کے دشمن! تو نے مجھے کس جرم میں قتل کیا؟“
حجاج بیداری میں بھی یہی چلّاتا رہتا:
”مجھے سعید بن جبیر سے کیا واسطہ ہے! مجھے سعید بن جبیر سے کیا واسطہ ہے!“
وہ ہر رات اپنی خواب گاہ سے ہراساں اٹھ کھڑا ہوتا۔ خوف و دہشت نے اس کے وجود کو جکڑ لیا تھا۔ وہ چیختا اور پکارتا:
”مجھے سعید بن جبیر سے کیا واسطہ ہے! میں جب بھی سونے لگتا ہوں سعید مجھے پیروں سے گھسیٹ لیتا ہے، میرے آرام کو بیڑیوں میں جکڑ لیتا ہے۔“
یوں چالیس روز کے بعد حجاج واصل جہنم ہوگیا اور کسی اور کو ظلم کا نشانہ نہ بنا سکا۔
ابن الأثير نے ”الکامل“ میں روایت کیا ہے:
جب حجاج کے حکم پر سعید بن جبیر کی گردن تن سے جدا کی گئی، تو لوگوں نے دیکھا کہ ان کا سر زمین پر گرا، اور اس پر ایک سفید ٹوپی جمی ہوئی تھی۔ لیکن منظر یہیں ختم نہ ہوا، جیسے ہی وہ مقدس سر زمین سے ٹکرایا، توحید کی صدا بلند ہوئی۔
تین مرتبہ ”لا إله إلا الله“ کی گونج اٹھی— ایک مرتبہ واضح اور صاف آواز میں، اور دو مرتبہ لبوں کی ہلچل سے، گویا کٹے ہوئے جسم کے باوجود زبانِ توحید خاموش نہ ہوئی ۔
یہ شہادت کا وہ لمحہ تھا جہاں دنیا والوں کو دکھا دیا گیا کہ جو پوری زندگی اہلِ بیتؑ کی حمایت اور قرآن کی حقانیت پر ڈٹا رہے، اس کی زبان موت کے بعد بھی اللہ کی وحدانیت کی گواہ رہتی ہے۔

مدفن سعید بن جبیر
آپ کا مدفن محافظہ واسط قرار پایا جوعراق کے شہر الکوت میں واقع ہے۔
[1] الحديد: 22
[2] الأنعام: 79
[3] البقرة: 115
[4] طٰہٰ: 55

روایت میں وارد ہوا ہے:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ : يَا عَلِيُّ...
22/09/2025

روایت میں وارد ہوا ہے:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ : يَا عَلِيُّ أَنْتَ حُجَّةُ اللَّهِ وَ أَنْتَ بَابُ اللَّهِ وَ أَنْتَ الطَّرِيقُ إِلَى اللَّهِ وَ أَنْتَ النَّبَأُ الْعَظِيمُ وَ أَنْتَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ وَ أَنْتَ الْمَثَلُ الْأَعْلَى يَا عَلِيُّ أَنْتَ إِمَامُ الْمُسْلِمِينَ وَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ وَ خَيْرُ الْوَصِيِّينَ وَ سَيِّدُ الصِّدِّيقِينَ يَا عَلِيُّ أَنْتَ الْفَارُوقُ الْأَعْظَمُ وَ أَنْتَ الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ يَا عَلِيُّ أَنْتَ خَلِيفَتِي عَلَى أُمَّتِي وَ أَنْتَ قَاضِي دَيْنِي وَ أَنْتَ مُنْجِزُ عِدَاتِي يَا عَلِيُّ أَنْتَ الْمَظْلُومُ بَعْدِي يَا عَلِيُّ أَنْتَ الْمُفَارِقُ بَعْدِي يَا عَلِيُّ أَنْتَ الْمَحْجُورُ بَعْدِي أُشْهِدُ اللَّهَ تَعَالَى وَ مَنْ حَضَرَ مِنْ أُمَّتِي أَنَّ حِزْبَكَ حِزْبِي وَ حِزْبِي حِزْبُ اللَّهِ وَ أَنَّ حِزْبَ أَعْدَائِكِ حِزْبُ الشَّيْطَانِ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے حضرت علیؑ سے فرمایا:
"یا علی! تم اللہ کی حجت ہو، اور تم اللہ کا دروازہ ہو، اور تم اللہ تک پہنچنے کا راستہ ہو، اور تم وہ نبأ عظیم ہو، صراطِ مستقیم تم ہو، اور تم اعلیٰ مثال ہو۔
یا علی! تم مسلمانوں کے امام ہو، اور مومنین کے امیر ہو، اور وصیوں میں سب سے بہتر ہو، اور سچوں کے سردار ہو۔
یا علی! تم ہی فاروق اعظم ہو، اور تم ہی صدیق اکبر ہو۔
یا علی! تم میری امت پر میرے خلیفہ ہو، اور میرا قرض ادا کرنے والے ہو، اور میرے وعدوں کو پورا کرنے والے ہو۔
یا علی! تم میرے بعد مظلوم ہو گے،
یا علی! تم میرے بعد الگ کیے جاؤ گے،
یا علی! تم میرے بعد روکے جاؤ گے۔
میں اللہ تعالی کو اور اپنی امت کے حاضرین کو گواہ بناتا ہوں کہ تمہارا گروہ میرا گروہ ہے، اور میرا گروہ اللہ کا گروہ ہے، اور تمہارے دشمنوں کا گروہ شیطان کا گروہ ہے۔
(عيون اخبار الرضا عليه السلام ج ۲، ص ۶۔تذکرۃ الخواص،ج1،ص119)

Address

اسلام آباد
Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Imamian Center "امامیہ عقائد، واقعات و شخصیات" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Imamian Center "امامیہ عقائد، واقعات و شخصیات":

Share