20/07/2026
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی زندگی عدل و انصاف، عاجزی اور ذمہ داری کے ان گنت خوبصورت واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ ان کا ایک مشہور اور سبق آموز واقعہ درج ذیل ہے:
رات کا پہرا اور بھوکے بچوں کا واقعہ
خلافت کے دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ رات کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کیا کرتے تھے تاکہ رعایا کے حالات کا خود جائزہ لے سکیں۔
ایک رات، اپنے خادم حضرت اسلم رضی اللہ عنہ کے ساتھ گشت کرتے ہوئے آپ مدینہ کے ایک کونے میں پہنچے تو دیکھا کہ ایک خیمے کے پاس ایک عورت بیٹھی ہے اور اس کے پاس چند بچے شدید بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں۔ چولہے پر ایک ہانڈی چڑھی ہوئی تھی جس میں پانی اور کچھ پتھر ابل رہے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ قریب گئے اور سلام کر کے پوچھا: "اے اللہ کی بندی! یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟"
عورت نے جواب دیا: "یہ بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔"
حضرت عمر نے پوچھا: "ہانڈی میں کیا ہے؟"
عورت نے کہا: "اس میں پانی اور کچھ پتھر ڈال رکھے ہیں تاکہ بچوں کو تسلی دی ہو کہ کھانا بن رہا ہے، شاید اس انتظار میں یہ سو جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اور عمر کے درمیان فیصلہ کرے کہ اس نے ہماری خبر نہیں لی۔"
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ نے بے ساختہ کہا: "اللہ تم پر رحم کرے، عمر کو تمہارے حالات کا کیا پتہ؟"
آپ فوراً واپس بیت المال (سرکاری خزانہ) دوڑے گئے، وہاں سے آٹے کا ایک بھاری تھیرا، کچھ گھی اور کھجوریں اپنے کندھے پر اٹھائیں۔ خادم حضرت اسلم نے عرض کیا: "امیرالمومنین! یہ بوجھ میں اٹھا لیتا ہوں۔"
حضرت عمر نے فرمایا: "اسلم! قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا؟ یہ بوجھ مجھے ہی اٹھانے دے۔"
آپ خود وہ سارا سامان اٹھا کر اس خیمے تک لائے۔ اپنے ہاتھوں سے چولھا جلایا، آٹا گوندھا اور کھانا تیار کیا۔ جب کھانا پک گیا تو بچوں کو پیٹ بھر کر کھلایا، یہاں تک کہ بچے سیر ہو کر کھیلنے لگے۔ وہ عورت بہت متاثر ہوئی اور کہنے لگی: "خدا کی قسم! خلیفہ بننے کے زیادہ حقدار آپ ہیں نہ کہ عمر۔"
حضرت عمر نے مسکرا کر اسے تسلی دی اور کچھ رقم بھی دی، اور فرمایا کہ کل صبح تم میرے پاس آنا، میں تمہارا مزید وظیفہ مقرر کر دوں گا۔