سید میر کمال الدین الزیدی ترمذی رض الحسینی چشتی ثم کیتھلی

  • Home
  • Pakistan
  • Islamabad
  • سید میر کمال الدین الزیدی ترمذی رض الحسینی چشتی ثم کیتھلی

سید میر کمال الدین الزیدی ترمذی  رض الحسینی چشتی ثم کیتھلی میر سید کمال۔الدین ترمڈی رضی اللہ عنہ سید میر کمال الدین الزیدی ترمذی الحسینی چشتی ثم کیتھلی

Manzar karbala 9 Moharram mazar Imam Ali Raza (A.S)
29/07/2023

Manzar karbala 9 Moharram mazar Imam Ali Raza (A.S)

7 MOHARRAM haye haye Qasim Mehendi Imam Qasim
29/07/2023

7 MOHARRAM haye haye Qasim Mehendi Imam Qasim

labaik ya Hussain A.S Haye Haye QASIM MEHENDI IMAM QASIM A.S

Mir Anees babr Ali Lakhnawi About Mola Ghazi Abbas by Peer Syed Naseer ud din Naseer | Khud Sheer ha
29/07/2023

Mir Anees babr Ali Lakhnawi About Mola Ghazi Abbas by Peer Syed Naseer ud din Naseer | Khud Sheer ha

Mir Anees Kia Kahta han Mola Ghazi Abbas ka bara ma kahta han explained by peer Naseer ud Din Naseer ...

Syeda Fatima A S sub Afzal Hain ? By Peer Syed Naseer Ud Din Naseer Glora Shreef Pakistan
29/07/2023

Syeda Fatima A S sub Afzal Hain ? By Peer Syed Naseer Ud Din Naseer Glora Shreef Pakistan

01/05/2023

زکر الشجاع، غازی بالحجارلزیت و باخمری

سید ابو یحییٰ عیسی موتم الاشبال بن امامزادہ زید الشھید ؏

آپ کا نام عیسیٰ لقب موتم اشبال اور کنیت ابو یحیٰی تھی ۔آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 109ہجری کو شام میں ہوئی ۔آپ کی ولادت باسعادت کے بارے میں بیان ھے کے جب امامزادہ زید الشھید؏ ہشام اموی کے دور میں اپنی زوجہ محترمہ جن کام نام سکن تھا اور ان کا تعلق نوبہ سے تھا۔ ان کے ہمراہ مدینہ منورہ سے شام کی طرف سفر پر تھے تو راستے میں ایک عیسائی راہب کی عبادت گاہ کے نزدیک قیام کیا۔ اسی رات عیسیٰ موتم اشبال بن زید الشھید؏ کی ولادت ہوئی اسی مناسبت سے آپ کا نام عیسیٰ رکھا گیا۔ بعض نے جیسے نسابہ ابو الحسن عمری نے آپ کی والدہ کا نام ام الولدصون لکھا ھے ۔
آپ کو موتم اشبال اس لیے کہتے ہیں کے ایک شیر جس کے بچے تھے اس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا ۔ اس شیر کو عیسیٰ بن زید الشھید؏ نے قتل کردیا جس کی وجہ سے آپ کا لقب موتم اشبال یعنی شیر کے بچوں کو یتیم کرنے والا ۔ عیسیٰ موتم اشبال بن زید الشھید محمد نفس الزکیہ کے ساتھیوں میں سے تھے اور آپ ابرہیم باخمری کے وصی اور جنگ باخمر کے دن لشکر کے علمدار تھے ۔اور سید ابرہیم باخمری کی شہادت کے بعد کوفہ میں روپوش ہوگئے ۔جن دنوں حضرت عیسیٰ موتم اشبال بن زید الشھید ؏ روپوش تھے۔ یحییٰ بن حسین ذوالدمعہ بن زید الشھید؏ نے اپنے والد گرامی سے کہاں کے مجھے میرے چچا کے بارے میں بتائیں کہ وہ کہاں ھے میں ان سے ملاقات کرنا چاہتا ہو، حسین ذوالدمعہ بن زید الشھید؏ نے کہاں بیٹا مجھے ڈر ہیں اگر میں تجھے اس بارے میں بتا دو تو کہیں میرا بھائی مصیبت میں نا پڑ جائے یا اسے اپنا ٹھکانہ تبدیل نا کرنا پڑ جائے ۔جب سید یحییٰ بن حسین ذوالدمعہ بن زید الشھید؏ نے اصرار کیا تو حسین ذوالدمعہ بن زید الشھید؏ نے کہا کے اگر تو چاہتا ھے اپنے چچا سے ملاقات کرے تو مدینہ منورہ سے کوفہ کی طرف سفر کر وہاں پہنچے تو محلہ حئ پوچھ جب اس کا پتا چل جائے تو گلی کی صفت بیان کی اور گھر کی نشان دہی بیان کی اور کہاں کے تو اپنے چچا کے گھر کے دروازے پر نا بیٹھنا بلکے گلی کے اگلے حصے پر مغرب تک بیٹھنا اس وقت تجھے ایک بزرگ شخص ملے گا جو بہت خوبصورت دراز قامت ہو گا اسکی پیشانی پر سجدوں کے نشاں ہو گے ۔اور اس کی آنکھوں سے آنسوں جاری رہے گے ،اور اونٹ کو آگے چلا رہا ہو گا وہ ماشکی کے کام سے واپسی پر لوٹے گا اور قدم قدم پر ذکر خدا کرتا ہو گا ۔وہی شخص تیرا چچا عیسیٰ ھے جب اُسے دیکھے تو سلام کرنا اور گلے سے لگانا اور اپنا تعارف کروانا مگر زیادہ دیر اس کے پاس نا بیٹھنا نہیں تو وہ تم سے بھی چھپ جائے گا۔۔ یحییٰ بن حسین ذوالدمعہ بن زید الشھید؏ نے ایسا ہی کیا اور جب آپ نے اپنے چچا عیسیٰ بن زید الشھید؏ کو گلے لگایا تو آپ حیران و پریشاں ہوگئے۔ تو جب یحییٰ بن حسین ذوالدمعہ بن زید الشھید ؏ نے اپنا تعارف کروایا تو عیسیٰ بن زید الشھید؏ نے آپ کو سینے سے لگایا اور رونے لگے اور آپ نے اپنے بھتیجے سے ایک ایک کر کے تمام گھر والوں کے حالات معلوم کیے ۔اور اپنے بارے میں بیان کرتے ہیں کے میں ایک کرایہ پر اونٹ لے کر لوگوں کے گھروں میں سقائی کا کام کرتا ہو جو پیسے ملتے ہیں اونٹ کا کرایہ ادا کرتا ہو اور بقیہ پیسوں سے اپنے گھر کا گزارہ کرتا ہو اور یہاں تک کہ میں نے اپنا نسب اور اپنے حالات لوگوں سے بھی چھپا رکھے ہیں اور جس دن کسی وجہ سے پانی بھرنے نا جاسکوں تو اس دن میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا اور میں کوفہ سے باہر صحرا کے طرف جاتا ہو اور بے کار سبزیاں جو لوگ دور پھینک دیتے میں اس کو جمع کر کے اپنی خوراک بنا لیتا ہو اور جب سے میں روپوش ہوا ہو اسی مکان میں رہتا ہو اور صاحب مکان بھی مجھے نہیں جانتا جب کچھ عرصہ یہاں رہا تو اس نے اپنی بیٹی سے میری شادی کروا دی جس کے بطن سے میری ایک بیٹی پیدا ہوئی جب وہ حد بلوغ پہنچی تو اس کی ماں نے مجھے کہاں کے اسے فلاں ماشکی کے بیٹے سے بیاہ دو میں نے کوئی جواب نہیں دیا میری بیوی نے بہت اصرار کیا مگر میں نے خاموشی اختیار کی مجھ میں حوصلہ نا تھا کے میں اس کو اپنا نسب بیان کرو اور اس کو خبر دو کے میری بیٹی اولادِ رسول ﷺ ھے اور اس کا کفو اور ہمسر فلاں شخص نہیں میری بیوی نے اس سلسلے میں بہت مبالغہ کیا حتیٰ کے میں عاجز آہ گیا اور اپنے خدا سے مدد طلب کی اور اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کی اور چند دنوں بعد میری بیٹی انتقال کر گئیں ۔اے میرے بھتیجے مجھے ایک بات کا دکھ ھے کے جب تک میری بیٹی زندہ رہی میں اس کو یہ نہیں بتا سکا کے وہ اولاد رسول ﷺ ھے وہ اپنی شان و قدر پہنچانے بغیر ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئی ۔حضرت عیسیٰ موتم اشبال بن زید الشھید؏ نے اپنے بھتیجے یحییٰ بن حسین ذوالدمعہ بن زید الشھید ؏ کو رخصت کیا اور قسم دی کے پھر وہ دوبار ان سے ملنے نہ آۓ۔ درود و سلام ہو محمد ﷺ‎ اور آل محمد ﷺ‎ پر۔
(عمدۃ الطالب) بعض ایک روایت میں لکھا ھے کہ محمد بن محمد بن زید الشھید؏ اپنے چچا عیسیٰ موتم اشبال بن زید الشھید؏ سے ملنے کوفہ گیے ۔

ابوالفرج اصفہانی خصیب وبشی
جو حضرت زید الشھید؏ بن امام زین العابدین علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے اور عیسیٰ موتم اشبال بن زید الشھید ؏ کے مخصوص افراد میں سے تھے۔ جو بیان کرتے ھے کے جس زمانے میں عیسیٰ موتم اشبال روپوش تھے ہم کبھی کبھار ان سے ملنے چلے جاتے تو بعض اوقات وہ صحرا میں ماشکی کا کام کر رہے ہوتے۔
چند افراد ہی تھے جو آپ سے با خبر تھے ان میں سے ابن علاق صیرنی ، حاضر ،صباح زعفرانی ، حسن بن صالح ۔ مہدی عباسی ان افراد کے درپے تھا کے اگر عیسیٰ موتم اشبال نا ملے تو کم سے کم ان اشخاص میں سے کوئی مل جائے تاکے عیسیٰ موتم اشبال کی خبر حاصل کی جا سکے حتیٰ کہ حاضر کو گرفتار کیا گیا اور اس سے تفتیش کی مگر کوئی معلومات فراہم نا ہوئی تو اسی وجہ سے حاضر کو شہید کردیا گیا۔ سید عیسیٰ موتم اشبال بن زید الشھید ؏ ابرہیم باخمری کے بعد پوشیدہ ہؤے اور منصور مہدی اور ہادی کے ایام تک پوشیدہ ہی رہے ۔
شیخ طوسی نے بہت سی روایات اپنے رسالہ تہذیب میں عیسیٰ موتم اشبال بن زید الشھید؏ سے نقل کی جو آپ امام جعفر الصادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں۔
آپ اپنے دور کے بڑے دانشمند عظیم عالم متقی پرہیز گار انسان تھے۔ آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے آپ کے چند اشعار کا تذکرہ کتاب معجم شعراء الطالبیین میں ملتا ھے ۔
آپ کا وصال مبارک 60 سال کی عمر میں 169 ہجری جو مہدی عباسی کے دور میں کوفہ میں ہوا۔ آپ کو حسن بن صالح نے پوشیدگی کی حالت میں دفن کیا۔

آپ کی اولاد میں چار صاحبزادیاں تھی 1 رقیہ 2 رقیہ الکبریٰ 3 زینب 4 فاطمہ فاطمہ کی ولادت روپوشی کے زمانےمیں ہوئی۔
نسابہ ابوالحسن عمری کے بقول آپ کے 8 بیٹے تھے۔
جعفر ، حسن، احمد ، زید ، محمد ، حسین ، عمر ، یحیٰی ،
ان میں سے عمر اور یحییٰ درج فوت ہوئے۔
جعفر بن عیسیٰ موتم اشبال کی نسل منقرض ہوگئی۔ اور حسن بن عیسیٰ کی ایک بیٹی تھی۔
جمہور نسابین کے نزدیک آپ کی اولاد چار بیٹوں سے چلی۔
1 احمدالمحثفی 2 زید 3 ،محمد 4 حسین غضارۃ

تحقیق و تحریر
سید یاسر عباس الزیدی الحسینی

01/05/2023
18/04/2023

غازی بالحجار الزیت
السیَّد ابو عبداللہ حسین المدنی المعروف ذوالدمعہ ع بن امامزادہ السیَّدنا ابو الحسین زید الشہید ع

بقول نسابہ ابو الحسن عمری کے آپ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔آپ کی ولادت باسعادت تقریباً 115 ہجری کے لگ بھگ ہوئی۔
آپ کی والدہ سیدہ رقیہ بنت سید عبدااللہ المحض بن امام زادہ حسن مثنیٰ بن امام سبز قبا سیدنا حسن المجتبیٰ علیہ السلام تھی

آپ کا لقب ذوالدمعہ صاحب اشک آنسو والا اس بابت دو روایات ھے ایک کے آپ اپنے والد امام زادہ زید الشھید کی دردناک شہادت پر اکثر گریہ زاری کرتے تھے۔ اور دوسری نماز شب میں خوف خدا میں زیادہ رونے اور گریہ کرنے کی وجہ سے ذو الدمعہ آنسو والا مشہورِ ہوے آپ زیاہ رونے اور گریہ کرنے کی وجہ سے اپنی عمر کی آخری حصے میں اپنی بینائی سے بھی محروم ہوگئے تھے۔
جب امام زادہ زید الشھید کی شہادت ہوئی تو آپ کی عمر سات سال تھی جس کی وجہ سے امام جعفر الصادق علیہ السلام آپ کو اپنے گھر لے آے۔ آپ کی پرورش اور تربیت امام جعفر الصادق علیہ السلام نے کی اور آپ نے ظاہری و باطنی علوم بھی امام جعفر الصادق علیہ السّلام سے سیکھے ۔آپ امام جعفر الصادق علیہ السّلام کے اصحاب میں شمار ہوتے ھے ۔
ابن ابی عمیر امام جعفر الصادق علیہ السلام اور امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے روایت کرتا ھے اور یونس بن عبدالرحمن اس سے روایت کرتا ھے اور تاج الدین ابن زہرہ حلبی بیان کرتا ھے کے حضرت زید الشہید کے خاندان میں عظیم افراد میں سے سید حسین ذوالدمعہ تھے اپنے خاندان کے جلیل القدر شخصیت اور بنی ہاشم کے مخصوص افراد میں سے تھے زبان و بیان علم زہد فضل اور علم الانساب کے لحاظ سے وہ لوگوں کے حالات کا احاطہ رکھتے تھے۔
بقول نسابہ ابو الحسن عمری کے اور ابوالفرج اصفہانی نے بھی نقل کیا ھے کے آپ سید حسین ذوالدمعہ سید محمد نفس الزکیہ اور ابرہیم باخمری ابنان سید عبداللہ محض بن حسن مثنیٰ کی جنگ جو ابو جعفر منصور سے ہوئی اس میں شامل تھے ۔
آپ کا وصال مبارک 76 سال کی عمر میں تقریباً 190 ہجری کے لگ بھگ ہوا ۔آپ جنت البقیع مدینہ منورہ میں مدفن ھے ۔
بعض نے آپ کا وصال 135 یا 140 ہجری لکھا جو درست نہیں ھے ۔کیوں کے آپ جنگ مدینہ اور باخمر میں شریک تھے جو 145 ہجری میں ہوئی اس لیے آپ کی سن وفات 135 ہجری یا 140 ہجری نہیں ہو سکتی ۔
اولاد میں آپ کی 9 بیٹیاں تھی.
1 میمونہ 2 ام الحسن 3 کلثوم 4 فاطمیہ 5 سکینہ 6 علیہ 7 خدیجہ 8 زینب 9 عاتکہ
اور 18 بیٹے
1 یحییٰ 2 علی الاکبر 3 علی 4 حسین 5 زید 6 ابرہیم 7 محمد 8 عقبہ 9 یحییٰ الاصغر 10 احمد 11 اسحاق 12 القاسم 13 حسن 14 محمد الاصغر 15 عبداللہ 16 جعفر 17 عمر 18 جعفر الاصغر تھے۔
بقول نسابہ ابو الحسن عمری کے ان میں 9 بیٹے جعفر الاصغر عمر ،جعفر ، محمد الاصغر ، احمد ، یحییٰ الاصغر ، زید ، ابراہیم ، عقبہ کی اولاد نا تھی

بقیہ بیٹوں میں عبداللہ ،حسن، قاسم ، اسحاق ، محمد ، اور علی الاکبر
ان کی اولاد منقرض ہو گئی۔

جمہور نسابین کے نزدیک سید حسین ذوالدمعہ بن امام زادہ زید الشھید کی اولاد تین پسران۔
1 علی الشبیہ 2 حسین القعدد
3 ابو الحسین یحییٰ المحدث سے باقی رہی۔

تحقیق و تحریر
السید یاسر عباس الزیدی الحسینی

سیدنا ابو الحسین زید الشهید بن امام سیدنا زین العابدین علی السجاد عولادت با سعادتآپ کی ولادت باسعادت امام زین العابدین ع...
13/04/2023

سیدنا ابو الحسین زید الشهید بن امام سیدنا زین العابدین علی السجاد ع

ولادت با سعادت
آپ کی ولادت باسعادت امام زین العابدین علیہ السلام کے بیت الشرف واقع مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپکی تاریخ ولادت پرمختلف مورخین کے درمیان اختلاف راۓ موجود ہے ۔ مشہور محقق ابن عساکر نے ان کی تاریخ ولادت 78 ہجری جبکہ ایک اور مورخ محلی ان کی تاریخ ولادت 75 ہجری لکھتے ہیں۔چند مورخین کے مطابق ان کی تاریخ ولادت 80 ہجری بنتی ہے۔ ابن عساکر نے اپنی کتاب تھذیب تاریخ دمشق الکبیر کی جلد 6 کے صفحہ 18 پر لکھا کہ آپ کی شھادت 42 سال کی عمر میں سن 120ق میں ہوئی اس حساب سے آپ کا سال ولادت با سعادت 78ھ ہی بنتا ہے۔ لیکن شیخ مفید اپنی کتاب مسارالشیعتہ میں ان کا سال شھادت اول ماہ صفر 121ھ لکھا۔ مشہور کتاب مسند امام زید جو کہ حضرت زید بن علی کی شرح احوال کے بارے میں ہے اس میں آپ کا سال ولادت با سعادت 76 ھ جبکہ سال شھادت 122ھ د رج ہے۔اس طرح آپ کی عمر 46 سال بنتی اور زیدی سادات اس کو درست تسلیم کرتے ہیں اور یہی تاریخ قرین قیاس ہے۔
ابن عساکر جلد ٤ ص ١١٨
الروض النضیر جلد ١ ص ٥٨

آپکی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی حوریہ یا غزالہ تھا۔جنھیں جناب مختار نے امام زین العابدین (ع) کی خدمت میں پیش کیا تھا ۔ جنکا تعلق سندھ کی سر زمین سے تھا ۔ انکے بارے میں طبری میں روایت ہے کہ جناب فاطمہ بنت الحسین ع نے اپنے فرزند سید عبداللہ المحض سے فرمایا کہ زید کی ماں غیر کفو بیبیبوں میں سے سب سے بہترین خاتون تھیں

آپکے اسم گرامی زید أور آپکی شہادت کی خبر حضور اکرم ﷺ نے دی
جناب حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ص نے زید بن حارثہ کی طرف دیکھ کر فرمایا : خدا کی راہ میں قتل ہونے والا ، میری امت میں سولی پر لٹکنے والا ، میرے اھلبیت میں ایک مظلوم کا یہی نام ہو گا ۔
اور رسول اللہ ص نے زید بن حارثہ سے فرمایا اے زید ! ذرا میرے قریب آنا ، تمہارے نام نے میری محبت کو ذیادہ کر دیا ہے ، تم میرے اھلبیت کے محبوب فرد کے ہمنام ہو ۔

بحار الانوار ، جلد ششم ، اردو ، ص 224 ، مستطرفات السرائر

آپکا نقش خاتم یہ تھا
( ’’إصبر توجر اصدق تنجح‘‘ صبر کر اجر ملے گا،) سچ بول نجات پائے گا۔

آپ بہت خوبصوت اور پر وقار شخصیت کے مالک تھے۔ بلند قامت ، آنکھیں بڑی اور سیاہ جبکہ ابرو کشیدہ جس سے آپ کی شخصیت دوسروں سے نمایاں نظر آتی تھی۔ بچپن ہی سے بہت ذہین اور لائق تھےآپ روحانی کمالات و معنوی جمال کے ساتھ ساتھ شجاعت حیدر کرّار کے بھی وارث تھے۔

امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزندوں میں امام محمد باقر (ع) کے بعد سب سے زیادہ نمایاں حیثیت جناب زید شہید کی تھی ۔انہوں نے اپنے والد گرامی اور بھائی کے زیر سایہ علم و معرفت کی منازل طے کیں۔تیرہ سال کی عمر میں قرآنی علوم میں دسترس حاصل کی اور "حلیف القرآن" کا لقب حاصل کیا۔ آپ نے دین مبین کی سر بلندی کے لیے حجاز ،شام اور عراق کا سفر کیا۔
علمی امتیاز کا یہ مقام تھا کہ اہلسنت فقیہ ابو حنیفہ رح کا قول ہے کہ
’’ میں نے حضرت زید کو دیکھا جیسا ان کے اہل بیت کو دیکھا پس میں نے ان کے زمانے میں ان سے بڑا فقیہ ، صاحب علم، حاضر جواب اور روشن بات کہنے والا نہ دیکھا۔‘‘

معلون اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک کا دور حکومت 105 ہجری سے 125 ہجری تک 20 سال قائم رہا اور جس قدر ظلم کا امکان تھا آل محمد (ص) پر ظلم کیا گیا ۔ جناب زید بن علی بن الحسین (ع) کی شہادت اسی کے دور کا المیہ ہے ۔

آپ ﺭﺻﺎﻓﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﺸﺎﻡ لعین ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮧ ﻣﻠﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﻠﺲ ﮐﮯ ﺍٓﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ :

ﺍﮮ ہشام ! ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻘﻮﯼٰ ﺳﮯ ﺑﺰﺭﮔﺘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻘﻮﯼٰ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ۔
ﮨﺸﺎﻡ لعین ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﻭٔ ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﺗﻮ ﮐﻨﯿﺰ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺧﻼﻓﺖ ﮐﮯ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟

جناب ﺯﯾﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺍﮮ ہشام ! ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺳﺨﺖ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﮐﮩﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮐﮩﻮ ﺗﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮ ﺟﺎﻭٔﮞ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺗﻢ ﮐﮩو
آپ نے فرمایا
ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﺪﻑ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯿﮟ، ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ع ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﻣﺎﺩﺭ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﺻﻠّﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮩﻤﺎ ﮐﯽ ﮐﻨﯿﺰ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭼﯿﺰ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺎﻧﻊ ﻧﮧ ﺑﻨﯽ ﮐﮧ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﺍﺳﮯ ﻧﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻗﻮﻡ ﻋﺮﺏ ﮐﺎ ﺑﺎﭖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯﺳﻠﺐ ﺳﮯ ﺧﯿﺮ ﺍﻟﺒﺸﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺍٓﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺋﯿﮟ۔ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﻭ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮩﻤﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺎ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﮨﻮﮞ۔
ﭘﮭﺮ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺷﻌﺮ ﭘﮍﮬﮯ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﺎ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ : ‏

« ﺧﻮﻑ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺯﺑﻮﮞ ﺣﺎﻝ ﻭ ﺍٓﻭﺍﺭﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﮈﺭﮮ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ،ﻟﺮﺯﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﺧﺎﮎ ﭘﺮ ﭘﭩﺦ ﺩﮮ ﮔﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻮﺕ ﺍٓﺳﺎﺋﺶ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺧﺪﺍ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺩﮮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﺎﮐﺴﺘﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ ‏»
ﭘﮭﺮ آپ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ کے لیے علم حق بلند فرمایا

قیام زید شہید کے اسباب
• ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﭘﯿﺎﻣﺒﺮ ص ﺍﻭﺭ ﺁﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﺕ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻇﻠﻢ ﺳﺘﻢ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ
• ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﺧﻮﻥ ﺷﮩﯿﺪﺍﻥ ﮐﺮﺑﻼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
• ﺧﺪﺍ ﺍ ﻭﺭ ﭘﯿﺎﻣﺒﺮ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﺮﻭﯾﺞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
• ﺍﻣﺮ ﺑﺎﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﻭ ﻧﮩﯽ ﻋﻦ ﺍﻟﻤﻨﮑﺮ ، ﻭ ﺍﺻﻼﺡ ﻭﺿﻊ ﺟﺎﻣﻊ ﻣﺴﻠﻤﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ
• ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﮐﮯ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ

جب آپ نے ہشام کے مظالم کے خلاف علم حق بلند فرمایا ۔ فقیہ اہلسنت ابو حنیفہ رح نے ان کا ساتھ دیا ۔ اور ان کی حمایت میں فتوی دیا
اس زمانہ سلطنت میں ملک میں سیاسی خلفشار بہت زیادہ ہوچکا تھا . مظالم بنی امیہ کے انتقام کا جذبہ تیز ہورہا تھا اور بنی فاطمہ میں سے متعدد افراد حکومت کے مقابلے کے لیے تیار ہوگئے تھے , ان میں نمایاں ہستی آپ ع کی تھی آپکی عبادت زہد و تقویٰ کا بھی ملک عرب میں شہرہ تھا . مستند اور مسلّم حافظ ُ قران تھے . بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آکر آپ نے میدانِ جہاد میں قدم رکھا . امام جعفر صادق علیہ السّلام کے لیے یہ موقع نہایت نازک تھا مظالم بنی امیہ سے نفرت میں ظاہر ہے کہ آپ زید(رض) کے ساتھ متفق تھے پھر جناب زید(رض) آپ کے چچا بھی تھے جن کا احترام آپ پر لازم تھا مگر آپ کی دوررس نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ یہ اقدام کسی مفید نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا . اس لیے عملی طور پرآپ ان کاساتھ دینامناسب نہ سمجھتے تھے مگر یہ واقعہ ہوتے ہوئے بھی خود ان کی ذات سے آپ کو انتہائی ہمدردی تھی . آپ نے مناسب طریقہ پر انھیں مصلحت اندیشی کی دعوت دی مگر اہل عراق کی ایک بڑی جماعت کے اقرار اطاعت ووفاداری نے جناب زید(رض) اندر کامیابی کی توقعات پیدا کردیں

آپکے ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﺍﻭﻝ ﺻﻔﺮ ﺳﺎﻝ 121 ﻗﻤﺮﯼ ﺗﮭﯽ . ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻃﺒﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﮯ 40 ﮨﺰﺍﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺑﯿﻌﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ لیکن یہ وہی اہل کوفہ تھے جنہوں نے آپکے جد بزرگوار امیر المومنین ع اور شہید کربلا مولا حسین ع کے ساتھ بدعہدی کی تھی پھر کس طرح آپکی بیعت کو برقرار رکھ پاتے عین جنگ کے وقت ٤٠ ہزار میں سے 217 ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﺗﮭﮯ
روایت ہے کہ
ﯾﻮﺳﻒ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ لع ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺟﻨﮓ ﻋﺮﻭﺝ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺯﯾﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﮭﺎﮒ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﺎﺻﻞ ﺭﮨﺎ
ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺨﺖ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻤﺜﯿﻞ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﭘﮍﮪ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ
« ﮐﻴﺎ ﺣﯿﺎﺕ ﻭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺫﻟّﺖ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻭﮞ ﯾﺎﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﻋﺰّﺕ ﮐﻮ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ‏»
آپ ﺑﮍﯼ ﺟﻮﺍﻧﻤﺮﺩﯼ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ۔ﭘﮭﺮ ﺩﻭ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﮑﯽ ﺣﺎﺋﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ، ﺟﺐ ﮐﮧ آپ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺯﺧﻢ ﻟﮕﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ آپﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮ پیوست تھا، آپکے فرزند یحیی اور آپکے اصحاب آپکو کو ایک گھر میں اٹھا لے گئے کوفہ سےایک سندھی غلام یحیی ابن صنعا حجام کو بلایا گیا تاکہ وہ آپکی پیشانی سےتیر نکالےﺍﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﻣﺨﻔﯿﺎﻧﮧ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﺮﮮ جیسے ہی اس نے تیر نکالا تو آپ ع کی روح پر فتوح پرواز کرگئی اور آپ نے جام شہادت نوش کیا

اسی وقت آپکا جنازہ اٹھایا گیا اور ایک ﻧﮩﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ایک باغ میں ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺧﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺧﺸﮏ ﮔﮭﺎﺱ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔تاکہ آپکا مرقد مخفی رہے اور اس حجام یحیی ابن صنعا سےعہد و پیمان لیا گیا کہ وہ یہ بات ظاہرنہیں کرے گا جب صبح ہوئی تو ملعون حجام انعام کے لالچ میں یوسف بن عمرثقفی لع کے پاس گیا اور آپکے مدفن کی نشاندہی کردی لعین ابن عمر ثقفی نے آپکی مرقد اطہر کھدوا کر آپ کے جسد اطہر کو باہر نکالا
کیونکہ لعین ہشام اموی نےابن عمر ثقفی لع کو خط لکھا کہ آپکا کا لاشہ برہنہ کرکے اسےسولی پر لٹکا دیا جائے
تاریخ ابن الوردی میں ہے کہ ابن عمر ثقفی ملعون کا جذبہِ انتقام اتنے ہی پر ختم نہیں ہوا بلکہ آپکی تدفین کے بعد آپکے جسد اطہر کو مرقد سے نکالا اور سر کو جدا کرکے ہشام بن عبد الملک کے پاس بطور تحفہ بھیجا گیا ۔
ایک روایت کے مطابق ہشام لعین نے سر زید شہید کے بدلے دس ہزار درہم انعام کے طور پر دیۓ ہشام معلون کے حکم سے آپکا سر اقدس دمشق کے صدر دروازے پر آپکے ساتھیوں کے سروں کے ساتھ معلق کر دیا گیا ۔پھر ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻻﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﺠﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﺘﺼﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻗﺪﯾﻢ ﺳﻠﻄﻨﺘﯽ ﺷﺎﮨﺮﺍﮦ ﭘﺮ ﻭﺍﻗﻊ ﻣﻮﺗﮧ ﮐﮯ ﺷﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ 22 ﮐﻠﻮ ﻣﯿﭩﺮ ﮐﮯ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﻗﺪﯾﻢ ﺷﮩﺮ ﺭﻭﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻗﻊ ﻗﺼﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺎﺏ ﺯﯾﺪ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﮯﺩﻓﻦ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ " ﺭﺑﮧ " ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺣﺠﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﺘﺼﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻗﺪﯾﻢ ﺳﻠﻄﻨﺘﯽ ﺷﺎﮨﺮﺍﮦ ﮔﺰﺭﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ ﻧﺼﺐ ﺍﯾﮏ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﺗﺨﺘﯽ ﭘﺮ ﮐﻨﺪﮦ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻗﺒﺮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺯﯾﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﻦ ﺣﺴﯿﻦ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺣﻘﯿﺮ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﻧﮯ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯿﺎ۔ ﯾﮧ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﺳﻞ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺷﮩﺪﺍﺀ ﻣﻮﺗﮧ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﻣﯿﻮﺯﯾﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﺍﺏ ﺗﻠﮏ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻣﻌﺘﺒﺮ ﺗﻮﺍﺭﯾﺦ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﺮ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﭘﮩﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﻥ ﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﻣﻘﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ﺟﮩﺎﮞ ﺍﺏ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﺩﻓﻦ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺼﺪﻗﮧ ﺣﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻓﺎﻃﻤﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﻋﮩﺪ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺭﻭﺿﮧ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺗﺠﺪﯾﺪ ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﻧﮯ ﮐﯽ۔

جبکہ آپ کے جسد اطہر کو کناسہ کے بازار میں ایک کجھور کےدرخت پہ مصلوب کر دیا گیا ۔ اور کامل چار برس تک آپکا برہنہ جسد اطہر کناسہ کے بازار میں مصلوب رہا ۔تو اس حالت میں بھی آپ کے جسم اطہر سے کرامات کا ظہور ہوا ۔دشمنوں نے جب آپ کے جسد اطہرکو سولی پر چڑھایا تو یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوۓ کہ آپ کا بدن قبلہ رو موڑ جاتا جتنی بار وہ تبدیل کرتے اتنی با وہ قبلہ کی طرف ہو جاتا۔
تاریخ خمیس میں ہے کہ جب آپ کا برہنہ جسد اطہر مصلوب کیا گیا بحکم خداواندی ایک غیرت مند مکڑی نے جالا تن کر آپ کی ستر پوشی کی۔جب بھی جلا اتارہ جاتا مکڑی پھر جالا بنا لیتی۔

امام جعفر صادق ع نے اپنے صحابی ابو ولاد کاہلی سے پوچھا تم نے میرے چچا زید بن علی ع کو دیکھا تھا ؟
صحابی نے کہا : جی ہاں میں نے زید بن علی ع کو سولی پر لٹکے ہوئے دیکھا تھا ، کچھ لوگ انکو سولی پر دیکھ کر خوش ہو رہے تھے اور کچھ رنجیدہ و ملول تھے ۔
صادق آل محمد ع نے فرمایا : جو لوگ رنجیدہ تھے اور گریہ کر رہے تھے ، وہ جناب زید شہید کے ساتھ جنت میں ہوں گے ، اور جو خوش تھے وہ قتل جناب زید میں شریک تھے ۔
کشف الغمہ ، جلد 2 ، صفحہ 442
ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻻﻧﻮﺍﺭ ، ﺟﻠﺪ ﺷﺸﻢ ، ﺍﺭﺩﻭ ، ﺹ 225

ﺍﮨﻠﺴﻨﺖ ﻋﺎﻟﻢ ﺩﯾﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻦ ﮨﺠﺮ ﻣﮑﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
حضرت جریر بن حازم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خواب میں فرماتے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید کے جسم سے پشت مبارک لگائے فرما رہے ہیں: اے لوگو! میرے فرزند کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو ؟

کتاب امالی میں نقل ہے کہ بلدہی نامی ایک شخص بلنجر سے جب کوفہ پہنچا اور حضرت زید شھید کے بدن کو سولی پر دیکھ کر ہرزہ سرائی کرنے لگا لیکن زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ دونوں آنکھوں سے نابینا ہو گیا۔
کتاب «الحدائق الورد یہ» میں رقم ہے کہ دو لوگ کناسیہ سے کوفہ پہنچے اور زید شھید ع کے بدن کو سولی پر دیکھ کر رک گۓ ایک سولی پر ہاتھ رکھ کر کر ہرزہ سرائی کرنے لگا جوں ہی ہاتھ اٹھایا تو ہاتھ کے شدید درد میں مبتلا ہو گیا اور کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص مرض میں مبتلا ہو کر مر گیا۔

کتاب «الحدائق الورد یہ» میں ہی نقل ہے کہ طایفہ اسدی میں سے عزرمہ نامی ایک شخص حضرت زید شھید کے بدن کو دار پر دیکھ کر ہرزہ سرائی کی اور جسارت کرتے ہوۓ آپ کی جسد مبارک پر پتھر پھنکا اسماعیل بن یسمع عامری کے مطابق خدا گواہ موت کے وقت عزرمہ کی آنکھیں دو بلوری شیشوں کی طرح وحشتناک طریقے سے باہر نکلی ہوئیں تھیں۔

کتاب «الحدائق الورد یہ» میں ہی نقل ہے کہ ایک خاتون نے جب حضرت زید شھید کے برہنہ بدن کو سولی پر دیکھ کر اپنا نقاب آپ کے برہنہ بدن کی طرف اچھال دیا خدا کے حکم سے آپ کے بدن نے یہ لباس کی صورت پہن لیا.

چار سال بعد ہشام ملعون نے یوسف بن عمر ملعون کو لکھا کہ حضرت زید کی لاش کو آگ میں جلایا جائے اور انکی خاک فضا میں بکھیر دی جائے- اس لعین نے اس پہ عمل کیا جب آپکے جسد اطہر کو جلاکر فرات کے پانی میں بہایا گیا تو دیکھا کہ ان کے بدن کی راکھ سے ایک نور کا ہالہ چمک رہا ہے.

آپکا عظیم الشان روضہ حلہ عراق میں مرجع خلاٸق ہے

آپ نے ٤ عقد فرماۓ دو مدینہ میں دو کوفہ میں
ان میں سے پہلا عقد
ﺳﯿﺪﮦ ﺭﯾﻄﮧ بنت ﺍﺑﻮ ﮨﺎﺷﻢ ﻋﺒﺪﺍللہ بن ﻣﺤﻤﺪ ﺣﻨﯿﻔﮧ ﺑﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ ع سے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ۔ جن کے بطن اطہر سے ١٠٧ ہجری میں سید ابو الحسین یحیی الشہید تولد ہوۓ کہ جن کو بنی امیہ کے گماشتوں نے ١٢٥ ہجری جوزجان خراسان میں اسی طرح شھید کرکے مصلوب کر دیا جس طرح آپکے والد بزرگ کو کیا تھا بعد ازاں ابو مسلم خراسانی نے انکے جسد اطہر کو صلیب سے اتار کر غسل و کفن دے کر دفن کیا جوزجان میں آپکا روزہ مرجع خلاٸق ہے
انکی والدہ
جناب ﺭﯾﻄﮧ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮨﺎﺷﻤﯽ ﮐﯽ ﻣﻌﺰﺯ ﺍﻭﺭﻣﺤﺘﺮﻡ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺯﯾﺪ ﺑِﻦ ﻋﻠﯽ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﻣﻌﻈﻤﮧ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﮯ ﻇﺎﻟﻢ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﺑﺮ ﺣﺎﮐﻢ ﯾﻮﺳﻒ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﻇﺎﻟﻢ ﺣﺎﮐﻢ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺯﯾﺪ ﮐﯽ ﺫﻭﺟﮧ ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ ﭘﺮ ﮐﻮﮌﮮ ﺑﺮﺳﺎﮰ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ ﮐﺘﺐ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺎﮰ ﮔﮱ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮩﻮﻟﮩﺎﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮧ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ۔ ﯾﻮﮞ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺑﻨﯽ ﮨﺎﺷﻢ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﮉﺭ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍﭘﻨﮯﺍﺟﺪﺍﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﺎﻣﺪﺍﺭﺣﻀﺮﺕ ﺯﯾﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﮰ ﺩﯾﻦ ﺣﻖ ﮐﯽ ﺑﻘﺎ ﮐﮯ ﻟﮱ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺭﺗﺒﮧ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﺋﯿﮟ ۔

آپکا دوسرا عقد سیدہ رقیہ بنت سید عبداللہ المحض بن امامزادہ سید حسن مثنی بن امام سبز قبا سیدنا حسن المجتبی ع سے ہوا جن کے بطن اطہر سے ٣ فرزندان تولد ہوۓ
١جد من
سید ابو عبدللہ حسین ذوالدمعہ مدفون حلہ، عراق
جد اعلی سادات زیدیہ الحسینیہ ہند و پاک
٢ سید ابو یحیی عیسی موتم اشبال مدفون کوفہ ، عراق
جد اعلی سادات زیدیہ الواسطیہ بارہہ ہندو پاک
٣ سید محمد الشجاع

عقد سوم بنت یعقوب بن عبداللہ السلمی الفرقدی سے ہوا
عقد چہارم بنت عبداللہ بن ابی العنس الاذدی سے ہوا ان دونوں ازواج میں سے ایک کے بطن سے آپ کی ایک دختر بھی تولد ہوٸ بقول صاحب انوار السادات سید ظفر یاب حسین ترمذی انکا نام سیدہ سعادة الحمیدہ تھا اور کم عمری میں وصال فرما گٸ اور بقول ڈاکڑ علامہ سید ضمیر اختر نقوی الگردیزی انکا نام سیدہ زینب ع تھا اور یہ مصر میں مدفون ہیں واللہ اعلم
جبکہ دو ام ولد کنیزوں ام سکن نوبیہ اور ام ولد سندھیہ کا بھی ذکر ملتا ہے

ﺣﺴﯿﻨﯿﺖ ﮐﯽ ﺑﻘﺎ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﺎﺏِ ﺯﯾﺪِ ﺷﮩﯿﺪؑ
ﯾﺰﯾﺪﯾﺖ ﮐﯽ ﻓﻨﺎ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﺎﺏِ ﺯﯾﺪِ ﺷﮩﯿﺪؑ
شہید ہوتے رہے یوں تو اس گھرانے میں
لقب یہ جنکا ہوا ، تھے ﺟﻨﺎﺏِ ﺯﯾﺪِ ﺷﮩﯿﺪؑ
سید ﺳﺒﻂِ ﺟﻌﻔﺮ ﺯﯾﺪﯼ

ﺷﺎﻥِ ﺯﯾﺪ ﺍﺑﻦ ﻋﻠﯽ ﻟﮑﮭﯽ ﻗﻠﻢ ﻧﮯﺟﺲ ﺩﻡ
ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﻣﺼﺎﻋﺪ ﻟﮑﮭﺎ
ﭘﮍﮪ ﮐﮯ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﻧﮑﺎﻻ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﮨﺮ ﻣﻮﺭﺥ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺪ ﮐﻮ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﻟ

طالب دعا
سید یاسر عباس الزیدی الحسینی

09/04/2023
08/04/2023

اک محمد دشمنی کیاکیا قیامت ڈھا گئ بدر کی حد بڑھتے بڑھتے کربلا تک آگئی
پیر سید نصیر الدین رحمت اللہ علیہ

Address

Islamabad

Telephone

+923008662396

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سید میر کمال الدین الزیدی ترمذی رض الحسینی چشتی ثم کیتھلی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to سید میر کمال الدین الزیدی ترمذی رض الحسینی چشتی ثم کیتھلی:

Share