Dr Adnan Shahzad Official

Dr Adnan Shahzad Official In this page
I will discuss the basics of Islamic studies and other Religious Studies. The Quran And Hadith with interpretation. Islamic History.

The life of the Prophet Muhammad (PBUH). Islamic business and finance. Ethic and Moralities (آداب و اخلاق)

15/03/2025

اچھے تعلقات میں چالاکی ایک بڑی خامی ہے۔ الفاظ کو گھمانا ہر کوئی جانتا ہے، لیکن ہر موقع پر ایسا کرنا مناسب نہیں ہوتا۔ بعض اوقات نقصان اٹھا لینا بھی بہتر ہوتا ہے کیونکہ سمجھداری ہر جگہ کام نہیں آتی۔ ہر انسان کسی کے بغیر جی سکتا ہے، مگر اچھے تعلقات ہی زندگی کی حقیقی خوبصورتی ہیں۔ ہمیں اپنے قریبی رشتوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اس دنیا میں اگرچہ خودغرضی عام ہے، لیکن پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں سنبھال کر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ دولت اور مقام وقتی چیزیں ہیں، جو ایک دن اپنی وقعت کھو دیتی ہیں، اور جب انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے صرف خالی تعلقات نظر آتے ہیں۔ تب جا کر اسے احساس ہوتا ہے کہ اصل کامیابی اور ناکامی کا مفہوم کیا ہے۔

16/02/2025

ماشاءاللہ

01/01/2025

رجب المرجب 1146 ہجری 2 جنوری بروز جمعرات
سے شروع ہے اور ساتھ ہی ساتھ رمضان المبارک قریب آرہا ہے۔

رجب اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے اور اسے حرمت والے مہینوں میں شامل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:

"إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ"
(سورہ التوبہ: 36)
ترجمہ: "بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔"
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"السنة اثنا عشر شهرا منها أربعة حرم ثلاثة متواليات ذو القعدة وذو الحجة والمحرم ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان"
ترجمہ: "سال بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں: ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب، جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔"
(صحیح بخاری: 4662)

گویا رجب ان چار حرمت والے مہینوں میں شامل ہے جنہیں "اشہرِ حرم" کہا جاتا ہے۔ ان مہینوں میں جنگ و جدل سے اجتناب کرنے اور نیکیوں میں اضافہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"الدعاء لا يرد بين الأذان والإقامة ولا في الأشهر الحرم"
(مسند احمد)
ترجمہ: "حرمت والے مہینوں میں دعا رد نہیں کی جاتی۔"

لہذا، ہمیں رجب کے مہینے کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی دعاؤں میں خلوص پیدا کرنا چاہیے۔

رجب اور شعبان رمضان کی تیاری کے مہینے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس مہینے میں اپنے اعمال کا محاسبہ کریں اور رمضان کے لیے ذہنی و روحانی تیاری کریں۔

اللہ ہمیں رجب کی برکتوں کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

29/10/2024
12/09/2024

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فجر کی نماز میں سورہ روم کی تلاوت شروع کی تو قرأت میں اختلاط و نسیان واقع ہونے لگا، نماز سے فراغت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مجھے دوران نماز تلاوت قرآن میں اختلاط ونسیان ہو رہا تھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ کچھ لوگ ہمارے ساتھ نمازادا کرتے ہیں لیکن وہ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، جو شخص ہمارے ساتھ نماز ادا کرے اسے چاہیے کہ وہ اچھی طرح وضو کرے۔"

ایک دوسری روایت میں ہے کہ :

’’ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، لیکن اچھی طرح سے وضو نہیں کرتے ہیں، ان کی وجہ سے ہمیں نماز میں قرآن پڑھتے ہوئے التباس ہوجاتا ہے۔‘‘

لہٰذا ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باجماعت نماز میں مقتدیوں کے اچھی طرح سے وضو کیے بغیر شریک ہونے کا اثر امام پر پڑتا ہے اور ان کی وجہ سے امام سے غلطی واقع ہوتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ امام سے غلطی مقتدیوں کے ناقص وضو کی وجہ سے ہی ہو، بلکہ امام کی نماز میں توجہ نہ ہونے کی وجہ سے یا ویسے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔

مسند أحمد مخرجًا (25/ 208):

’’ حدثنا إسحاق بن يوسف، عن شريك، عن عبد الملك بن عمير، عن أبي روح الكلاعي، قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة، فقرأ فيها سورة الروم، فلبس بعضها، قال: «إنما لبس علينا الشيطان، القراءة من أجل أقوام يأتون الصلاة بغير وضوء، فإذا أتيتم الصلاة فأحسنوا الوضوء».‘‘

مسند أحمد مخرجًا (25/ 210):

’’ حدثنا أبو سعيد، مولى بني هاشم، حدثنا زائدة، حدثنا عبد الملك بن عمير، قال: سمعت شبيبا أبا روح، من ذي الكلاع،، أنه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم الصبح فقرأ بالروم، فتردد في آية فلما انصرف قال: «إنه يلبس علينا القرآن، أن أقواما منكم يصلون معنا لا يحسنون الوضوء، فمن شهد الصلاة معنا فليحسن الوضوء».‘‘

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 353):

’’ وعن شبيب بن أبي روح - رضي الله عنه - «عن رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الصبح فقرأ الروم فالتبس عليه، فلما صلى، قال: ما بال أقوام يصلون معنا لا يحسنون الطهور؟ ! وإنما يلبس علينا القرآن أولئك» . رواه النسائي.

8 ستمبر کو "یومِ بحریہ" کے طور پر منایا جاتاہے جوکہ پاکستان نیوی کے لئے بہت اہم دن ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد سن 65 اور س...
08/09/2024

8 ستمبر کو "یومِ بحریہ" کے طور پر منایا جاتاہے جوکہ پاکستان نیوی کے لئے بہت اہم دن ہے۔اس دن کو منانے کا مقصد سن 65 اور سن 71 کی پاک-بھارت جنگوں کے دوران شہدا اور غازیوں کی جرات وبہادری کی لازوال داستانوں کوخراج تحسین پیش کرناہے۔

آج 7 ستمبر ہے اور بابا جی اشفاق احمد کی وفات 7ستمبر 2004 کو ہوئی۔  آج ان کی برسی کچھ ان کی خدمات کا تذکرہ کرنا بنتا ہے۔ا...
07/09/2024

آج 7 ستمبر ہے اور بابا جی اشفاق احمد کی وفات 7ستمبر 2004 کو ہوئی۔ آج ان کی برسی کچھ ان کی خدمات کا تذکرہ کرنا بنتا ہے۔

اشفاق احمد (23 اگست 1925-7 ستمبر 2004) پاکستان کے مشہور ادیب، ڈرامہ نگار، افسانہ نگار اور دانشور تھے۔ آج ان کا یوم وفات ہے، اور ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کے ادب اور معاشرتی افکار کو سراہا جاتا ہے۔

اشفاق احمد نے اپنی زندگی میں اردو ادب کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ ان کے افسانے، ناول اور ڈرامے آج بھی بہت مقبول ہیں۔ ان کا مشہور ڈرامہ سیریل "ایک محبت سو افسانے" اور "توتا کہانی" بہت پسند کیے گئے۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کے لیے بھی متعدد ڈرامے لکھے جنہوں نے انہیں ایک مقبول مصنف کے طور پر متعارف کرایا۔

اشفاق احمد کی تحریریں انسانیت، محبت، اور صوفیانہ افکار پر مبنی ہوتی تھیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے لوگوں کو معاشرتی اصلاحات اور خود شناسی کی طرف راغب کیا۔ ان کا فلسفہ انسان کی داخلی اصلاح اور سادگی پر مبنی تھا۔

اشفاق احمد نے "زاویہ" کے نام سے ایک ٹی وی پروگرام بھی کیا، جس میں وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے اور لوگوں کو اپنے خیالات سے مستفید کرتے۔ اس پروگرام نے لوگوں کے دلوں میں خاص جگہ بنائی اور ان کی باتیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

اشفاق احمد کو حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں "پرائڈ آف پرفارمنس" اور "ستارۂ امتیاز" جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا۔ ان کی موت اردو ادب اور معاشرتی دانشوروں کے لیے ایک بڑا نقصان تھی، لیکن ان کا ادب اور افکار ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

آج 7 ستمبر ہے7 ستمبر 1974:  عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے ایک تاریخی دن ہے، اس دن کو آج پوری دنیا میں "یوم تحفظ ختم نبوت"کے...
06/09/2024

آج 7 ستمبر ہے

7 ستمبر 1974: عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے ایک تاریخی دن ہے، اس دن کو آج پوری دنیا میں "یوم تحفظ ختم نبوت"کے طور پر منایا جارہا ہے۔

نوجوانوں کے لیے مختصر تعارف پیش خدمت ہے

7 ستمبر 1974 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم اور یادگار دن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس دن پاکستانی پارلیمان نے قادیانی جماعت کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا تھا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی، سماجی اور مذہبی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت تھا۔

پاکستان کی تشکیل کے بعد سے ہی مختلف مذہبی اور سیاسی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ قادیانی جماعت، جسے احمدی بھی کہا جاتا ہے، نے اپنی مخصوص مذہبی عقائد کی وجہ سے مختلف مواقع پر تنازعات کو جنم دیا۔ ان کے عقائد کو مسلمانوں کی اکثریت نے اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم سمجھا۔

7 ستمبر 1974 کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک تاریخی فیصلہ کیا گیا۔ اس دن پاکستان کی اسمبلی نے متفقہ طور پر آئین میں ترمیم کی، جس کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ اس فیصلے سے قبل پارلیمان میں طویل بحث ہوئی، جس میں علماء، سیاستدان اور قانونی ماہرین نے حصہ لیا۔

اس فیصلے کے بعد پاکستان میں قادیانی جماعت کے حوالے سے مختلف قوانین متعارف کرائے گئے۔ انہیں مسلمان کہلانے، اپنی عبادات کو اسلامی شعائر سے ملانے اور دیگر اسلامی رسومات کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی۔ اس فیصلے نے پاکستانی معاشرے میں مذہبی تشخص اور اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

7 ستمبر 1974 کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن کیے گئے فیصلے نے نہ صرف پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کو تقویت دی بلکہ عالمی سطح پر بھی اس مسئلے کو اجاگر کیا۔
یہ دن پاکستان کے آئینی اور قانونی سفر میں ایک اہم موڑ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

6 ستمبر" یوم دفاع پاکستان"آج 6 ستمبر ہے اگر چہ کچھ لوگ ناخوش ہیں کہ آفیشلی کوئی چھٹی کا اعلان نہیں کیا گیا ، لیکن اس کا ...
05/09/2024

6 ستمبر" یوم دفاع پاکستان"
آج 6 ستمبر ہے اگر چہ کچھ لوگ ناخوش ہیں کہ آفیشلی کوئی چھٹی کا اعلان نہیں کیا گیا ، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس دن کی اہمیت کو بھول جائیں اور ہمیں اور ہمارے آنے والی نسلوں بھی اس کے بارے کوئی علم نہ رہے ، عظیم قومیں ہمیشہ اپنا ماضی یادرکھتی ہیں اور اس سے سبق حاصل کرتی ہیں ۔
6 ستمبر 1965کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک جنگ شروع ہوئی، جس کی بنیادی وجوہات میں کشمیر کا تنازعہ شامل تھا۔ بھارت نے کشمیر پر قبضہ جمانے کے لئے جارحانہ اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں پاکستان نے اپنی سرحدوں کی حفاظت اور کشمیری عوام کی مدد کے لیے جوابی کارروائی کی۔
اس لئے ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان بھر میں یوم دفاع پاکستان بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1965ء کی جنگ کے دوران پاکستان کی بہادری، قربانی اور اتحاد کی داستان کو یاد کرتا ہے۔
6 ستمبر کو بھارت نے پاکستانی سرحدوں پر حملہ کیا، لیکن پاکستانی افواج نے نہایت جرات اور شجاعت کے ساتھ اس حملے کا جواب دیا۔ پاکستانی فوج نے بھارت کی فوجی پیش قدمی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی دفاعی حکمت عملی کے ذریعے بھارتی فوج کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ لاہور، سیالکوٹ، اور دیگر اہم مقامات پر ہونے والی جھڑپوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری صلاحیت کو اجاگر کیا۔
یوم دفاع پاکستان صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ یہ دن ہمارے قومی جذبے، اتحاد، اور وطن پرستی کی تجدید کا بھی دن ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنا، فوجی حوصلے کو بلند کرنا، اور قوم کو اس بات کی یاد دہانی کرانا ہے کہ ہم سب مل کر کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
یوم دفاع پاکستان ہمیں یہ سبق سکھاتا ہے کہ اتحاد، عزم، اور حب الوطنی کے ذریعے ہر مشکل سے نکلنا ممکن ہے۔ یہ دن ہمارے شہداء کی قربانیوں کی یادگار ہے اور ہمیں اپنے وطن کی قدر کرنے اور اس کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس دن ہمیں اپنی فوج کی بے پناہ قربانیوں اور قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے ایک نئی عزم کے ساتھ وطن کی خدمت کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔
پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت، قومی یکجہتی، اور قومی وقار کو برقرار رکھنے کے عزم کے ساتھ، یوم دفاع پاکستان ہمارے دلوں میں ہمیشہ تازہ رہے گا۔
عدنان شہزاد

23/08/2024

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ھو رھا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رھا تھا۔
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا:
"سردی نہیں لگ رھی؟"
دربان نے جواب دیا: "بہت لگتی ھے حضور۔ مگر کیا کروں، گرم وردی ھے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ھے۔"
"میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ھی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ھوں تمہیں۔"
دربان نے خوش ھو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا،
لیکن بادشاہ جیسے ھی گرم محل میں داخل ھوا، دربان کے ساتھ کیا ھوا وعدہ بھول گیا۔
صبح دروازے پر اُس بوڑے دربان کی اکڑی ھوئی لاش ملی اور قریب ھی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی:
"بادشاہ سلامت،
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رھا تھا
مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔"
*سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے جینا شروع کیجیے۔**۔
سہاروں کی بساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیے!
منقول

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Adnan Shahzad Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Dr Adnan Shahzad Official:

Share