ISLAM - راہ حـــق

ISLAM - راہ حـــق This Page is all about Islam and History of Islam..
یہ پیــج مکمل اسلام اور تا?

28/01/2026

🕋🕌🕌🕋 | SHARE ♥️ |
FB | Ajmer Blind Folded Artist

28/01/2026

خود بھی سن لو
اور باقی مسلمانوں کو بھی سنا دیں۔
شاید ہماری ایک شئیر کی وجہ سے کسی کے دل میں گھر کرکے گناہوں سے بچ جائیں۔ جزاک اللہ

25/01/2026

اس بھائی نے بہت بڑی بات کہہ دی
اور واقعی عقل والو کیلئے بہت بڑا سبق ہیں

15/01/2026

Dusron Ki Zamino Per Qabza Karny Walo!
Best Video |

08/01/2026

Kiya Ai Quran Majid Ki Traha Koye Ayat Bana Sakta Hai? listen the answer 👊👊

Haqeeqat 😳😢
05/01/2026

Haqeeqat 😳😢

پاکستان ایک اسلامی ملک ہےپاکستان اسلام کا قلعہ ہے !!!
04/01/2026

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے
پاکستان اسلام کا قلعہ ہے !!!

𝗧𝗼𝗱𝗮𝘆 𝗕𝗲𝘀𝘁 𝗤𝘂𝗼𝘁𝗲𝘀 | 🌿⚘️••••••••●●●■◇■●●●•••••••••
06/12/2025

𝗧𝗼𝗱𝗮𝘆 𝗕𝗲𝘀𝘁 𝗤𝘂𝗼𝘁𝗲𝘀 | 🌿⚘️
••••••••●●●■◇■●●●•••••••••



18+اورل سیکس۔ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ ہمیں جانوروں کے بہت سارے افعال اختیار کرنے سے روکا ہے‘مثلاً : آپ ﷺنے ارشاد فرمایا  ...
04/12/2025

18+
اورل سیکس۔

ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ ہمیں جانوروں کے بہت سارے افعال اختیار کرنے سے روکا ہے‘مثلاً : آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے ہاتھوں کو کتے کے ہاتھ پھیلا کر بیٹھنے کی طرح نہ پھیلائے“ (سنن ابی داؤد)۔ اور ’’ آپﷺ نے کتے کے بیٹھنے کی طرح بیٹھنے سے منع فرمایا “ (سنن ابن ماجہ) ۔ اور ” آپﷺنے کوے کے چونچ مارنے کی طرح ‘ درندوں کے پاؤں بچھانے کی طرح‘ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح افعال اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے‘‘(سنن ابی داؤد)۔

مذکورہ بالا احادیث میں غور کیا جائے تو آپ ﷺ نے جب انسانوں کو جانوروں کے عام افعال کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، پھر جو قبیح اور گھٹیا افعال ہیں، مثلاً : ’’علی الاعلان مجامعت کرنا اور ایک دوسرے کی شرمگاہ کو چاٹنا‘‘ ان میں جانوروں کی مشابہت کو کیسے گوارا کیا جاسکتا ہے؟

جانوروں سے انسان نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ عقل سلیم رکھنے والوں نے اچھائی اور عقل سقیم والوں نے برائی سیکھا اور اسے اپنایا۔ صدیوں پہلے جب انسان نے دیکھا کہ بعض جانور اپنے منہ اور زبان سے ایک دوسرے کی شرم گاہ چاٹتے ہیں تب بعض مریض ذہنیت کے لوگوں نے اورل سیکس یعنی شرم گاہ چاٹنے کا قبیح طریقہ اپنایا جسے کوئی سلیم الفطرت انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا یا ہے۔

میڈیا کی فحاشی پھیلانے کی وجہ کر آج زیادہ تر لوگ اس فعل قبیح سے آگاہ ہیں اور بعض مسلمان ہونے کے باوجود اس طریقے سے اپنی جنسی تشنگی مٹاتے ہیں۔ اہل مغرب شراب کے نشے میں دھت ہوکر ایک دوسرے کی شرم گاہ جانوروں کی طرح چوستے اور چاٹتے ہیں اور ان سے نکلنے والی گندگی کھا پی جاتے ہیں لیکن اہل مغرب میں بھی سلیم الفطرت لوگ اس فعل قبیح سے دور رہتے ہیں۔ افسوس کہ آج کے ان مسلمانوں کو دنیا کی لذت کتنی محبوب ہوگئی ہے کہ جس منہ اور زبان سے اللہ کا پاک کلام پڑھتے ہیں‘ اللہ کا پاک نام لیتے ہیں‘ اللہ کا ذکر کرتے ہیں‘ نبی کریم ﷺ کا نام لیتے ہیں اورآپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں‘ اسی منہ اور زبان کو جانوروں کی طرح گندگی چوسنے‘ چاٹنے اور کھانے پینے میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اس قبیح فعل کا جو انجام سامنے آیا ہے اسے دیکھتے ہوئے اب اہل مغرب اپنی نسل کو اس سے دور رہنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اس فعل قبیح کا انجام دنیا میں مندرجہ ذیل بیماریوں کا تحفہ ہے:

اعضائے تناسل کی ہرپیس۔Ge***al Herpes
اعضائے تناسل کی وارٹس ۔ Ge***al Warts
اندام نہانی کی سوزش ۔Bacterial Vaginosis
ہیومن پیپیلوما وائرس ۔ HPV
سوزاک۔ Gonorrhea
آتشک ۔ Syphlis
کلیمیڈیا ۔ Chlamydia
کینسر ۔Cancer
وائرل ہیپا ٹائٹس ۔ Hepatitis A, B and C
ٹرائکو مونیاسس۔ Trichomoniasis
انسانی جسم کے طفیلیے ( جیسےجووئیں‘ چچڑیاں وغیرہ)۔Public Lice
ایچ آئی وی انفیکشن اور ایڈز۔ HIV Infection and AIDS
وغیرہ وغیرہ

انیل سیکس یعنی دبر میں وطی کا تحفہ بھی یہ سب اور ان جیسی دیگر امراض ہیں۔

اب جس کی خواہش ناجائز لذت حاصل کرنا ہو تو وہ چند لمحوں کی لذت کی خاطر ان بیماریوں میں اپنے آپ کو اور اپنی بیوی کو برسوں کیلئے مبتلا کرنا چاہے تو کرے۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ’’ ہمارے خالق نے ہمیں دنیا میں لذت حاصل کرنے کیلئے نہیں بھیجا بلکہ اپنی عبادت کیلئے بھیجا ہے‘‘۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾۔۔ سورة الذاريات
’’ اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے‘‘۔

لذت حاصل کرنا ایک فطری ضرورت ہے اور اسے فطری طریقے سے ہی حاصل کرنا چاہئے۔ جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۲۲۲ میں اللہ تعالٰی کا حکم ہے:

فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّـهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ﴿٢٢٢﴾ سورۃ البقرہ
’’پھر جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس اس طرح جاؤ جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے۔ یقیناً اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (۲۲۲)

اب اللہ نے یہ حکم کہاں دیا ہے؟ تو اللہ نے اس حکم کو انسانی فطرت میں ودیت کر دیا ہے کہ بیوی سے لذت کیسے اور کہاں سے حاصل کرنا چاہئے اور پھر اگلی آیت (نمبر ۲۲۳) میں اسے مزید واضح کر دیا:

نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ ۔۔۔۔﴿٢٢٣﴾ سورة البقرة
’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ‘ نیز اپنے لئے نیک اعمال کو آگے بھیجو‘‘۔۔۔۔(۲۲۳)

فرمایا’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں‘‘ یعنی مرد کسان ہے اور بیوی اس کی کھیت ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ایک کسان کی کھیت ہی اس کی سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اپنی کھیت سے ہی اسے سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے کیونکہ کھیت کی پیداوار سے ہی اس کی زندگی کی ساری رونقیں ہیں۔ اب غور کریں کہ کسان اپنی کھیت میں کس لئے اور کس طرح جاتا ہے؟ تو کسان اپنی کھیت کی دیکھ بھال کرنے‘ جھاڑ جھنکاڑ صاف کرنے‘ اس میں کاشت کرنے ‘ ضرورت کے مطابق پانی اور کھاد دے کر بہتر فصل اُگانے کیلئے جاتا ہے۔ وہ فصلوں کو روندتا ہوا نہیں جاتا بلکہ فصلوں کو بچاتے ہوئے جاتا ہے۔

اسی طرح ایک انسان کی بیوی ہی اس کی سب سے قیمتی سرمایہ ہے جو اس کی زندگی کی رونق‘ راحت‘ چین و سکون اور لذت کی ضامن ہے اور بیوی سے حاصل ہونے والی اولاد اس کی دنیا و آخرت کی فصلیں ہیں۔ لہذا نسل انسانی کی اس کھیت کی دیکھ بال اور اسے تندرست رکھنے اور اس کھیتی میں نسل انسانی کی فصلیں اُگانے کیلئے ہی اللہ کا حکم ہے ’’ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ‘‘ تو ان کے پاس اس طرح جاؤ جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے جو کہ ف*ج یعنی سامنے کی شرمگاہ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ لہذا اورل سیکس یعنی شرم گاہ چاٹنے کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ ناجائز ہے۔

مشت زنی‘ اینل سیکس (دبر میں وطی) ‘ اورل سیکس (شرم گاہ چاٹنا) ‘ ہم جنس پرستی وغیرہ کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ 1000 ء تک عیسائیت میں انہیں بد ترین گناہ سمجھا جاتا تھا اور ان پر سخت تریں سزائیں مقرر تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عیسائی مذہب میں تبدیلی آئی اور چرچ میں ہی یہ گناہیں ہونے لگی۔

الیکٹرونک میڈیا اور انٹر نیٹ سے سے پہلے مسلمانوں میں بہت کم لوگوں کو ان سب کا علم تھا اور جنہیں معلوم تھا وہ بھی زبان پر انہیں نہیں لاتے تھے۔ لیکن اب ہر دوسرا بندہ بلا جھجک ان کے بارے میں سوال کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ان قبیح افعال کو جائز قرار دے دیا جائے۔

اصحاب رسول اللہ ﷺ میں کوئی ایسا نہیں تھا جو اورل سیکس یعنی شرم گاہ چاٹنے کے بارے میں سوچتا لیکن جو غیر فطری عمل آپ ﷺ کے سامنے آگیا ‘ آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔ جس طرح انیل سیکس یعنی دبر میں وطی کرنے والے پر آپ ﷺ نے پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے: ’’ ایسا شخص ملعون ہے جو عورت کی پچھلی شرمگاہ میں ج**ع کرتا ہے‘‘ ۔ امام احمد 2/479 نے اسے روایت کیااور یہ حدیث صحيح الجامع 5865 میں بھی ہے۔ اور بھی بہت ساری احادیث اس بارے میں ہے۔

اورل سیکس یعنی شرم گاہ چاٹنا بھی اینل سیکس یعنی دبر میں وطی کی طرح لذت حاصل کرنے کی غیر فطری‘ غیر مہذب‘ شرم و حیا سے عاری ایک قبیح فعل ہے جس میں سوائے غلاظت اور بیماریوں کے کچھ بھی نہیں جو انسان کے جسم ‘ ذہن اور روح تک کو گندا اور بیمار کر دیتا ہے۔
اب جو چاہے گندگی میں لت پت ہو اور جو چاہے پاکیزگی اختیار کرے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری ذریت کو پاکیزگی اور پاکیزہ زندگی عطا کرے۔ آمین

26/11/2025

کیوں علمائے کرام ہمیں بار بار کہتے ہیں کہ اتنا کچھ سیکھ لو کہ باپ ،ماں یا کسی رشتہ دار کا جنازہ خود پڑھ لو۔ کیونکہ بیٹے کی والدین کے لیے دل سے دعا نکلتی ہیں اور والدین کا اپنی اولاد کےلیے۔ اس بچے کو زرا دیکھ اور سن لیں! 🤲💔🤲

کراچی میں گلشن اقبال پولیس نے خیرپورکے ہیئر پلانٹ ڈاکٹر مہمیر تنیو کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا۔  ڈاکٹر مہمیر سرجری میں ...
02/11/2025

کراچی میں گلشن اقبال پولیس نے خیرپورکے ہیئر پلانٹ ڈاکٹر مہمیر تنیو کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا۔ ڈاکٹر مہمیر سرجری میں استعمال ہونے والا سامان خریدنے کے لیے 14 سے 15 لاکھ روپے لے کر کراچی آیا تھا، ورثا کے مطابق پولیس نے پیسے ہتھیانے کے لیے جعلی مقابلے میں قتل کردیا۔

نوشہرو فیروز کے رہائشی 46 سالہ ڈاکٹر مہمیر علی تنیو تعلقہ کنڈیارو کے گاؤں تنیا بقا شاہ کے رہائشی تھے اور خیرپور میں "فیؤ ہیئر سینٹر" کے نام سے ہیئر ٹرانسپلانٹ کا کام کرتے تھے۔ ان کے لواحقین کے مطابق وہ اپنے کلینک کے لیےتقریبا 15 لاکھ روپے مالیت کے آلات خریدنے کراچی گئے تھے۔ دو دن اپنے بھائی الہوسایو کے پاس جوہر کمپلیکس میں قیام کے بعد وہ سامان خریدنے کے لیے شہر گئے — مگر واپس نہ لوٹے۔
اہل خانہ کے مطابق گلشن اقبال پولیس نے معمول کی چیکنگ کے دوران ڈاکٹر مہمیر کے پاس بڑی رقم دیکھی تو پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر رشوت طلب کی۔ انکار پر پولیس نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ لواحقین کو اطلاع دینے کے بجائے پولیس نے لاش کو ایدھی سینٹر، سہراب گوٹھ میں لاوارث کے طور پر جمع کرا دیا۔
بعد ازاں ایدھی سینٹر انتظامیہ نے خود ڈاکٹر مہمیر کے گھر والوں سے رابطہ کیا اور بتایا کہ پولیس کی جانب سے ایک لاش ہمارے حوالے کی گئی ہے۔ لواحقین 21 اکتوبر کو ایدھی سینٹر پہنچے تو عملے نے تصدیق کی کہ لاش گلشن اقبال تھانے کی پولیس نے دی تھی۔ جب مقتول کے اہل خانہ تھانے پہنچے اور واقعے کی وضاحت مانگی تو پولیس نے روایتی بیان دیا کہ ڈاکٹر مہمیر ایک ڈکیتی کے دوران پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
تاہم لواحقین نے پولیس کے اس مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مہمیر کبھی کسی مقدمے میں نامزد نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کا کوئی جرائم پیشہ پس منظر تھا۔ ان کے مطابق پولیس نے رقم ہتھیانے کے لیے جعلی مقابلے کا ڈرامہ رچایا۔
شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈاکٹر مہمیر علی تنیو کے قتل کا فوری اور شفاف نوٹس لیں، واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں، تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور کسی اور ماں کی گود پولیس کے ظلم سے خالی نہ
🫡🫵_____اسلامی اور باقی معلومات کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور سبسکرائب کریں.شکریہ ___👇⬇️

https://whatsapp.com/channel/0029Va8QBd65PO0silSR5I3R

26/10/2025

Address

Islamabad
27000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ISLAM - راہ حـــق posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share