Ahlulbait Tweet 14

Ahlulbait Tweet 14 A page for lovers of Ahlebait؀& those who Love him are welcome to join us.please like this Page.❤️🙏

20/08/2026

نہ جانے کس خیال میں کھو جاتی تھی بیبی رُبابۜ
خالی جھولا جھلانے لگتی تھی کبھی کبھی رُبابۜ💔😭😭

‏وہ ماں چل بسی جو اپنی اولاد کے بعد ساۓ میں نہیں بیٹھی 😭😭

جناب ربابۜ نے سب دیکھا 💔😭
جناب سکینہۜ کا قبر میں جانا بھی
اور جناب علی اصغر۴ کا قبر سے باہر آنا بھی 😭😭

6 ربیع الاول شب شھادت ام وفا ام ربابۜ جو دس محرم کے بعد نہ چھاوں میں بیٹھی ہیں نہ ٹھندا پانی پیا 💔😭😭
بیبی ام ربابۜ بنت امرؤ القیس بن عدی، امام حسینؑ علیہ السلام کی زوجہ ‏جناب سکینہۜ و علیؑ اصغرؑ (عبداللہ رضیع) کی مادر ہیں۔ آپۜ کو اہل علم اور اہل فصاحت و بلاغت کہا گیا ہے۔ بیبی ام ربابۜ واقعہ کربلا میں موجود تھیں اور اسیروں کے ہمراہ شام کا سفر بھی کیا۔ 💔
آپۜ کی وفات عاشورا کے بعد ہوئی اور اس کی وجہ شدید مصائب کہا گیا ہے 💔😭😭

اے میرے لال کہاں، راہ تکتی ہے یہ ماں 💔😭
آگ خیموں میں لگی راکھ پہ بیٹھی ہے یہ ماں 💔😭
اب نہ آباد کبھی ہو گئی یہ اُجڑی ہوئی گود 💔😭
مانگ سونی میری میری سونی ہوئی گود 💔😭
ایسے اُجڑے نہ ہوئی جیسے کے اُجڑی ہے یہ ماں 💔😭
میرا سلام ہو اُس ماں پر ! جسے اللہ نے دو نور عطا کیے ایک باب الحوائج شہزادہ علی اصغر۴ اور ایک پاک شہزادی رقیہۜ بنتِ الحسین۴

جب امام حسین۴ علے اصغر۴ کی قبر کھود رہے تھے تو اُم ربابۜ ساتھ دفنا رہی تھی 💔😭😭

اور جب امام سجاد۴ شہزادی بنتِ الحسین۴ کی قبر کھود رہے تھے تب بھی اُم ربابۜ ساتھ تھی 💔😭😭

یہ راز کھلا بعد از وفاتِ اُمِّ ربابؑ،ساری زندگی پلو میں باندھے رکھیں وہ راکھ،جو علی اصغرؑ کے جھولے کی لکڑیوں کی تھی۔💔🥺🙏
20/08/2026

یہ راز کھلا بعد از وفاتِ اُمِّ ربابؑ،
ساری زندگی پلو میں باندھے رکھیں وہ راکھ،جو علی اصغرؑ کے جھولے کی لکڑیوں کی تھی۔

💔🥺🙏

Laanat ber aale Marvaan 🖐️🖐️
19/08/2026

Laanat ber aale Marvaan 🖐️🖐️

آٹھ ربیع الاول، یومِ شہادتِ امام حسن عسکریؑ؛ پرسہ داروں کے قافلے سامرہ کی جانب رواں دواں    #کربلاءٹوڈے
19/08/2026

آٹھ ربیع الاول،

یومِ شہادتِ امام حسن عسکریؑ؛ پرسہ داروں کے قافلے سامرہ کی جانب رواں دواں

#کربلاءٹوڈے

اے اہلِ یثرب! تمہارے امام قتل کر دیے گئے!جب امام زین العابدینؑ کا قافلہ مدینہ کے قریب پہنچا تو امامؑ نے وہاں قیام فرمایا...
18/08/2026

اے اہلِ یثرب! تمہارے امام قتل کر دیے گئے!

جب امام زین العابدینؑ کا قافلہ مدینہ کے قریب پہنچا تو امامؑ نے وہاں قیام فرمایا، اپنا خیمہ نصب کیا اور اپنی اہلِ حرم کو اتارا۔ پھر امامؑ نے بشیر بن حذلم سے فرمایا:

’’اے بشیر! اللہ تمہارے والد پر رحم فرمائے، وہ شاعر تھے۔ کیا تم ان کے اشعار میں سے کچھ کہہ سکتے ہو؟‘‘

بشیر نے عرض کیا:
’’جی ہاں، اے فرزندِ رسولِ خدا ﷺ! میں بھی شاعر ہوں۔‘‘

امامؑ نے فرمایا:

’’پس مدینہ میں داخل ہو جاؤ اور ابا عبداللہ الحسینؑ کی شہادت کی خبر لوگوں کو پہنچاؤ۔‘‘

بشیر کہتے ہیں:

میں اپنی سواری پر سوار ہوا اور تیزی سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب مسجدِ نبوی ﷺ میں پہنچا تو بلند آواز سے گریہ کیا اور یہ اشعار پڑھنے لگا:

اے اہلِ یثرب! اب تمہارے لیے یہاں قیام کی کوئی گنجائش نہیں،
حسینؑ قتل کر دیے گئے، پس میرے آنسو مسلسل برس رہے ہیں۔

ان کا جسم کربلا میں خون میں رنگا ہوا پڑا ہے،
اور ان کا سر نیزے پر بلند کر کے پھرایا جا رہا ہے۔

پھر میں نے پکار کر کہا:

’’اے اہلِ مدینہ! یہ علی بن الحسینؑ ہیں، اپنی پھوپھیوں اور بہنوں کے ہمراہ تمہارے پاس آ پہنچے ہیں۔ انہوں نے تمہارے درمیان قیام کیا ہے اور تمہارے دروازوں پر اترے ہیں۔ میں ان کا فرستادہ ہوں اور تمہیں ان کی آمد کی اطلاع دینے آیا ہوں۔‘‘

بشیر کہتے ہیں:

پھر مدینہ میں کوئی پردہ نشین عورت ایسی نہ رہی جو اپنے گھر سے باہر نہ نکلی ہو۔ عورتیں اپنے گھروں سے نکل آئیں اور واویلا کرتے ہوئے گریہ و ماتم کرنے لگیں۔

مدینہ میں ہر طرف گریہ و فریاد کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ کوئی شخص ایسا نہ تھا جو اس غم میں شریک نہ ہوا ہو۔

بشیر کہتے ہیں:

’’میں نے کسی دن اتنے زیادہ لوگوں کو روتے ہوئے نہیں دیکھا، اور رسولِ خدا ﷺ کی وفات کے بعد مسلمانوں پر اس سے زیادہ تلخ اور غمناک دن بھی نہیں دیکھا۔‘‘

مدینہ منورہ میں اہلِ بیتؑ کی اسیری کے بعد آمد —بشیر بن حَذْلَم بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے گھوڑے کو تیز دوڑاتا ہوا امام زی...
18/08/2026

مدینہ منورہ میں اہلِ بیتؑ کی اسیری کے بعد آمد —

بشیر بن حَذْلَم بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے گھوڑے کو تیز دوڑاتا ہوا امام زین العابدینؑ کے پاس پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ لوگوں نے راستے اور جگہیں گھیر رکھی ہیں۔ میں گھوڑے سے اترا اور لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا خیمے کے دروازے کے قریب پہنچا۔

علی بن الحسینؑ خیمے کے اندر تشریف فرما تھے۔ پھر آپؑ باہر تشریف لائے، آپؑ کے ہاتھ میں ایک کپڑا تھا جس سے آپ اپنے آنسو پونچھ رہے تھے۔ آپؑ کے پیچھے ایک خادم کرسی اٹھائے ہوئے تھا۔ اس نے کرسی رکھی اور امامؑ اس پر تشریف فرما ہوئے، مگر آپؑ شدتِ گریہ سے اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکے۔

لوگوں کے رونے کی آوازیں بلند ہوگئیں۔ عورتوں اور کنیزوں کے سسکیاں بھرنے کی آوازیں ہر طرف سے آنے لگیں اور لوگ مختلف سمتوں سے امامؑ کی خدمت میں تعزیت کے لیے جمع ہونے لگے۔ اس جگہ پر ایک شدید آہ و بکا برپا ہوگئی۔

امام زین العابدینؑ نے اپنے دستِ مبارک سے خاموش رہنے کا اشارہ فرمایا تو لوگوں کی آوازیں تھم گئیں۔

پھر امامؑ نے فرمایا:

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے، نہایت رحم کرنے والا، بے حد مہربان اور روزِ جزا کا مالک ہے۔ وہ تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ اپنی بلندی کی وجہ سے بلند ترین آسمانوں سے بھی بلند ہے اور اپنی قربت کے اعتبار سے بندوں کی سرگوشیوں کا گواہ ہے۔

ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں ان عظیم مصیبتوں پر جو ہم پر نازل ہوئیں، ان دردناک حوادث پر جو زمانے نے ہم پر ڈھائے، ان جانکاہ صدموں پر، ان تلخ مصیبتوں پر اور اس عظیم سانحے پر جس نے ہمیں توڑ کر رکھ دیا۔

اے لوگو! اللہ تعالیٰ، جس کے لیے تمام حمد ہے، نے ہمیں ایسی عظیم مصیبت میں مبتلا کیا ہے جس نے اسلام میں ایک بہت بڑا شگاف پیدا کردیا ہے۔ ابو عبداللہ الحسینؑ اور ان کے اہلِ بیتؑ کو شہید کردیا گیا، ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا، اور ان کے مقدس سر کو نیزے کی نوک پر مختلف شہروں میں پھرایا گیا۔ یہ ایسی مصیبت ہے جس کی کوئی مثال نہیں۔

اے لوگو! اب تم میں کون سا مرد ایسا ہے جو حسینؑ کی شہادت کے بعد خوش رہ سکے؟ اور تم میں کون سی آنکھ ایسی ہے جو اپنے آنسو روک سکے اور انہیں بہنے سے باز رکھ سکے؟

یقیناً ان کی شہادت پر ساتوں آسمان روئے، سمندر اپنی موجوں کے ساتھ روئے، آسمان اپنے ستونوں سمیت روئے، زمین اپنے اطراف کے ساتھ روئی، درخت اپنی شاخوں سمیت روئے، سمندروں کی گہرائیوں میں مچھلیاں روئیں، مقرب فرشتے روئے اور تمام آسمانوں کے رہنے والے روئے۔

اے لوگو! کون سا دل ایسا ہے جو حسینؑ کی شہادت پر پھٹ نہ جائے؟ کون سا دل ایسا ہے جو ان کی محبت میں بے قرار نہ ہو؟ اور کون سا کان ایسا ہے جو اسلام میں پڑنے والے اس عظیم شگاف کی خبر سنے اور بہرا نہ ہوجائے؟

اے لوگو! ہم آج جلاوطن، بے گھر اور دربدر ہوچکے ہیں، ہمیں ہمارے شہروں اور وطن سے اس طرح دور کردیا گیا ہے گویا ہم ترک یا کابل کے باشندے ہوں۔ حالانکہ ہم نے نہ کوئی جرم کیا، نہ کوئی برائی کی اور نہ اسلام میں کوئی رخنہ ڈالا۔

ہم نے ایسا واقعہ اپنے آباؤ اجداد کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا۔

خدا کی قسم! اگر رسولِ خدا ﷺ نے ان لوگوں کو ہمارے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ہوتا، جس طرح آپ ﷺ نے انہیں ہمارے ساتھ وفاداری اور ہماری رعایت کا حکم دیا تھا، تو وہ ہمارے ساتھ اس سے زیادہ کچھ نہ کرتے جو انہوں نے کیا۔

پس ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

یہ کیسی عظیم، دردناک، غم انگیز، ہولناک، تلخ اور ناقابلِ برداشت مصیبت ہے! ہم اپنے اوپر آنے والی اس مصیبت کا اجر اللہ ہی کے ہاں طلب کرتے ہیں۔ بے شک وہ غالب ہے اور بدلہ لینے پر قادر ہے۔

راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد صوحان بن صعصعہ بن صوحان اٹھے۔ چونکہ وہ معذور تھے اور ان کے پاؤں میں عذر تھا، اس لیے انہوں نے امام زین العابدینؑ سے اپنی معذوری کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکنے پر معذرت کی۔

امامؑ نے ان کی معذرت قبول فرمائی، ان کے بارے میں حسنِ ظن کا اظہار کیا، ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے والد کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔

حوالہ:
اللہوف، ص 115
بحار الأنوار، ج 45، ص 147
تحقیق و ترجمہ: مرکز سید الشہداءؑ للبحوث الاسلامیہ

18/08/2026
سامرہ! شہادتِ امام حسن عسکریؑ کی مناسبت سے لاکھوں زائرین کی متوقع آمد کے پیشِ نظر حرمِ مطہر امامین عسکریینؑ نے زائرین کی...
18/08/2026

سامرہ! شہادتِ امام حسن عسکریؑ کی مناسبت سے لاکھوں زائرین کی متوقع آمد کے پیشِ نظر حرمِ مطہر امامین عسکریینؑ نے زائرین کی خدمت کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

اسی سلسلے میں زائرین کی پیاس بجھانے کے لیے بڑی مقدار میں صاف اور ٹھنڈے پینے کے پانی کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ حرمِ مطہر کے صحن اور اطراف میں پانی کی فراہمی کے متعدد مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

یہ اقدامات زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے، آمد و رفت کو منظم رکھنے اور ایامِ شہادت کے دوران ان کے لیے پرسکون اور بہتر ماحول یقینی بنانے کے لیے حرمِ عسکریؑ کی جامع خدماتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔

Haye Haye Um e Rubab ص 🥹🫀💔-دیکھ کر دھوپ میں آئ ہے جنازے سب کےاب عمر بھر کبھی ساۓ میں نہ بیٹھے گی ربابؐ 💔          🖤💯✨
17/08/2026

Haye Haye Um e Rubab ص 🥹🫀💔
-
دیکھ کر دھوپ میں آئ ہے جنازے سب کے
اب عمر بھر کبھی ساۓ میں نہ بیٹھے گی ربابؐ 💔

🖤💯✨

Address

Islamabad
ISLAMABAD.PUNJAB

Telephone

+923348964171

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahlulbait Tweet 14 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Ahlulbait Tweet 14:

Shortcuts

Share