23/06/2026
🚨 وضاحتی پیغام
کیا 10 محرّم اور جمعہ ایک ساتھ آنے پر قیامت آئے گی؟
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ افواہ بہت گردش کرتی ہے کہ "اگر 10 محرّم (عاشورہ) اور جمعہ کا دن ایک ساتھ آ جائیں تو اسی دن قیامت قائم ہو جائے گی"۔ بہت سے لوگ خوف یا لاعلمی کی وجہ سے اسے آگے شیئر بھی کرتے ہیں۔
آئیے احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں اس بات کی شرعی حقیقت جانتے ہیں:
قیامت جمعہ کے دن آئے گی (مستند بات):
صحیح احادیث سے یہ بات بالکل ثابت ہے کہ قیامت کا وقوع جمعہ کے دن ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے... اور اسی دن قیامت قائم ہو گی" (صحیح مسلم)۔
2️⃣ 10 محرّم کا مخصوص ہونا (بے بنیاد بات):
یہ دعویٰ کہ وہ جمعہ لازمی طور پر 10 محرّم کا ہی ہوگا، شرعی طور پر بالکل بے بنیاد ہے۔ قرآن و حدیث میں کہیں بھی قیامت کے لیے محرّم کی تاریخ یا کسی مخصوص مہینے کا تعین نہیں کیا گیا۔ یہ محض عوامی افواہیں اور من گھڑت باتیں ہیں۔
3️⃣ تاریخ کا علم صرف اللہ کے پاس ہے:
قرآنِ مجید میں واضح ہے کہ قیامت کا سال، مہینہ یا مخصوص تاریخ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "آپ فرما دیجیے کہ اس کا علم تو صرف میرے رب ہی کے پاس ہے" (سورہ الاعراف: 187)
حقیقت کیا ہے؟
تاریخِ اسلام میں کئی سو بار ایسا ہوا ہے کہ 10 محرّم اور جمعہ کا دن ایک ساتھ آئے ہیں، اور مستقبل میں بھی ایسا ہوتا رہے گا۔ قیامت کب آئے گی، اس کا وقت صرف اللہ عزوجل جانتا ہے۔
اس معلوماتی پیغام کو اپنے دوستوں اور دیگر گروپس میں ضرور شیئر کریں تاکہ لوگوں کی اصلاح ہو سکے اور افواہیں رک سکیں۔ جزاک اللہ خیراً!
ربانیین قرآن اکیڈمی