23/05/2026
منبر کا جھوٹ بمقابلہ قرآن کا متن: فیصلہ اب لکیر کے فقیر نہیں، صریح الفاظ کریں گے!
ہم سب نے بچپن سے ایک روایتی پٹی پڑھی ہے کہ: "اللہ تعالیٰ نے چار کتابیں نازل کیں؛ تورات، زبور، انجیل اور قرآن۔" لیکن اگر آپ اس روایتی چشمے کو اتار کر خود قرآنِ مجید کے صریح، صاف اور دو ٹوک الفاظ کو پڑھیں، تو حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔
آج ذرا گرامر اور لغت کی روشنی میں قرآن کا وہ سچ دیکھیں جو لکیر کے فقیروں کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
1۔ قرآن نے تورات، زبور اور انجیل کو "کتاب" نہیں کہا!
اگر آپ پورے قرآن مجید کی ایک ایک آیت کو چھان ماریں، تو آپ کو پورے قرآن میں ایک بھی ایسی آیت نہیں ملے گی جہاں اللہ تعالیٰ نے "تورات"، "زبور" یا "انجيل" کے ناموں کے ساتھ جوڑ کر، صریح الفاظ میں انہیں "کتاب" کہا ہو۔
زبور کے لیے قرآن کے صریح الفاظ:
وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْراً
"اور ہم نے داؤد کو زبور دی۔" (سورہ النساء، آیت: 163)
پورے قرآن میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ "زبور ایک کتاب ہے"۔
تورات اور انجیل کا معاملہ:
پورے قرآن میں کسی ایک جگہ بھی یہ الفاظ موجود نہیں ہیں کہ "تورات کتاب ہے" یا "انجیل کتاب ہے"۔ جہاں "کتاب" کا لفظ آیا، وہاں ان کا نام (تورات یا انجیل) موجود نہیں ہے۔ اور جہاں تورات اور انجیل کا نام آیا، وہاں ان کے ساتھ "کتاب" کا لفظ غائب ہے۔
بغیر کسی بیرونی لنکنگ اور تاویل کے، قرآن کے اپنے صریح اور دو ٹوک الفاظ اس روایتی دعوے پر بالکل خاموش ہیں!
2۔ "قرآن" اور "کتاب" دو الگ چیزیں ہیں!
چلیے، دوسروں کو تو ہم نے خارج کر دیا، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا "قرآن" تو پکا پکا "کتاب" ہی ہے۔ ذرا قرآن کا بالکل گرامر کے مطابق، صاف ترجمہ دیکھیے؛ جہاں اللہ نے ان دونوں کا نام ایک ساتھ لیا، وہاں بیچ میں لفظ "اور" (واؤ عطف) لگا کر ان دونوں کو الگ کر دیا:
تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ
"یہ آیات ہیں قرآن کی اور واضح کتاب کی۔" (سورہ النمل، آیت: 1)
عربی گرامر کا پکا اصول ہے کہ "اور" (واؤ عطف) دو الگ الگ چیزوں کے درمیان ہی آتا ہے۔ اگر قرآن ہی کتاب ہوتی، تو اللہ یہ نہ فرماتا کہ "قرآن کی اور کتاب کی"۔ اللہ کے اپنے الفاظ میں یہ دونوں الگ حقیقتیں ہیں۔
3۔ "ذٰلِكَ الْكِتٰبُ" کا گرامر کے مطابق حقیقی ترجمہ
ہم بچپن سے سورہ البقرہ کی پہلی آیت کا ترجمہ غلط پڑھتے اور سنتے آ رہے ہیں کہ "یہ کتاب"۔👇