Islam & Science

Call Directions

Islam & Science All about Quran and Science 🔭🧪 ℹ️nformation about Quran 📖, Ahadees 📜 and Science 🧪

ملحدوں کے ساتھ زیادہ بحث نہ کریں صرف اتنا پوچھیں کہ تمھارے آبا و اجداد (بندر) ننگے گھوم رہے ہیں اور آپ سوٹڈ بوٹڈ کیوں؟ ب...
17/09/2026

ملحدوں کے ساتھ زیادہ بحث نہ کریں صرف اتنا پوچھیں کہ تمھارے آبا و اجداد (بندر) ننگے گھوم رہے ہیں اور آپ سوٹڈ بوٹڈ کیوں؟ بلکہ پوری کائنات میں انسان کے سوا سب ننگو گھومتے ہیں، تمہیں یہ شعور کہا سے ملا؟ اگر تم لوگ سمجھتے ہو کہ تمہارے آبا و اجداد بندر ہے تو ان کی طرح ننگے گھوموں، کم از کم اپنے آبا و اجداد کی پیروی تو کرو۔ یہ لباس مذہبی لوگوں کی ایجاد ہے، دنیا کے ہر مذہبی کتاب میں انسان کو لباس پہننے کی تلقین ہے اور تم لوگ مذہب کو نہیں مانتے لحاظ ننگے گھوموں اور اپنے نظریے کو بچاؤ۔
#سچائی #مذہب #الحاد

کیا ہم جو مچھلی کھاتے ہیں، وہ قرآن پاک کی سخت شرائط کے مطابق کیسے حلال بن سکتی ہے؟ ایک غور طلب قرآنی نکتہ​جب ہم قرآن کری...
30/07/2026

کیا ہم جو مچھلی کھاتے ہیں، وہ قرآن پاک کی سخت شرائط کے مطابق کیسے حلال بن سکتی ہے؟ ایک غور طلب قرآنی نکتہ
​جب ہم قرآن کریم کے احکامات کو بالکل سیدھے اور صاف الفاظ میں دیکھتے ہیں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے حلال اور حرام ہونے کے لیے بڑے واضح اصول مقرر فرمائے ہیں۔ قرآن میں عام جانوروں کے بارے میں یہ سخت حکم موجود ہے کہ جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا جائے، اس کا گوشت کھانا حرام اور نافرمانی ہے، جیسا کہ سورۃ الانعام کی آیت 121 میں ارشاد باری تعالی ہے:
​"اور جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے مت کھاؤ، بے شک یہ نافرمانی ہے۔"
​قرآنی شرائط اور مچھلی کا معاملہ
​اس کے علاوہ سورۃ المائدہ کی آیت 3 میں اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو حرام قرار دیا ہے جو کسی تکلیف یا چوٹ سے مر جائیں۔ ان میں "المنخنقتہ" یعنی گلا گھٹنے یا دم گھٹنے سے مرنے والے جانور بھی شامل ہیں۔
​اس حقیقت پر غور کیا جائے تو جب مچھلی کو پانی سے باہر نکالا جاتا ہے، تو وہ ہوا میں سانس نہ لے سکنے کی وجہ سے تڑپتی ہے اور بالآخر دم گھٹنے سے مر جاتی ہے۔ عام طور پر اسے پکڑتے وقت یا مارتے وقت اللہ کا نام بھی نہیں لیا جاتا۔ بظاہر یہ عمل قرآن کریم کی ان دو بنیادی شرائط—ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا اور دم گھٹ کر نہ مرنا—کے خلاف محسوس ہوتا ہے، کیونکہ بازار سے خریدی جانے والی عام مچھلی ان شرائط پر پوری اترتی نظر نہیں آتی۔
​حل اور درست طریقہ
​اگر ہم قرآن کے ان تمام اصولوں اور اس کے مزاج کو گہرائی سے مدنظر رکھیں، تو اس کا صحیح اور شرعی حل یہی بنتا ہے کہ جب سمندر یا پانی سے مچھلی کا شکار کیا جائے، تو پانی سے نکالنے کے فوراً بعد جب وہ زندہ حالت میں ہو، اس وقت اس پر اللہ کا نام لے کر اس کا ذبیحہ یا شرعی طریقہ اپنایا جائے۔ اس عمل سے مچھلی دم گھٹنے کی حالت سے نکل کر قرآن کے بیان کردہ اصولوں پر پوری اترتی ہے اور مکمل طور پر اطمینان بخش طریقے سے حلال بن جاتی ہے۔

😉​  ​ ​ ​ ​ ​  ​ ​ #منافقت​ ​ ​ #دانشور
11/06/2026

😉
​ ​
​
​
​
​ ​
​ #منافقت
​
​
​ #دانشور

🧐۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
04/06/2026

🧐
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔

۔
۔

جہالت کو دین کا نام دینا بند کرو! 🔥نہ قرآن میں حکم، نہ اسلام سے تعلق۔ لاؤڈ سپیکروں پر یہ شورِ قیامت صرف اور صرف ذہنی اذی...
03/06/2026

جہالت کو دین کا نام دینا بند کرو! 🔥
نہ قرآن میں حکم، نہ اسلام سے تعلق۔ لاؤڈ سپیکروں پر یہ شورِ قیامت صرف اور صرف ذہنی اذیت کا باعث ہے۔ یہ ملوکیت اور جاہلانہ رویے اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔
🗣️ خدا کا کلام انسانوں کے سکون کے لیے ہے، جاہلوں کی دکان چمکانے کے لیے نہیں!

سورۃ محمد، آیت ۲۴:​"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا"تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں ک...
02/06/2026

سورۃ محمد، آیت ۲۴:
​"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا"
تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ یا (ان کے) دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟

#قران

قرآن کے سامنے انسانی تصانیف کی حیثیت: ایک ناقابلِ تردید شرعی مقدمہ​جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم کو سمجھنے یا د...
01/06/2026

قرآن کے سامنے انسانی تصانیف کی حیثیت: ایک ناقابلِ تردید شرعی مقدمہ
​جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم کو سمجھنے یا دینِ اسلام کو مکمل کرنے کے لیے خدا کے کلام کے علاوہ بھی کسی انسانی کتاب، روایت یا مجموعے کی ضرورت ہے، وہ دراصل قرآنِ مجید کے کھلے اعلانات کی نفی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں حق اور باطل کے درمیان واضح حدیں قائم کر دی ہیں:
​1۔ دینِ اسلام کی تکمیل کا الہامی اعلان
​روایتی ذہن کا اصرار ہے کہ انسانی روایات کے بغیر دین ادھورا ہے۔ لیکن کائنات کا مالک سورہ المائدہ میں اعلان فرما چکا ہے کہ اس کے نازل کردہ نظام کو کسی متبادل یا اضافی ضمیمے کی ضرورت ہی نہیں:
​اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا (سورہ المائدہ، 5:3)
​عینِ لفظی با محاورہ ترجمہ: "آج کے دن مکمل کر دیا میں نے تمہارے لیے تمہارا دین، اور تمام (پورا) کر دیا میں نے تم پر اپنا انعام، اور پسند کر لیا میں نے تمہارے لیے اسلام کو بطورِ دین۔"
​مفہوم و ضرب: جب پروردگارِ عالم خود فرما رہا ہے کہ دین "مکمل" ہو چکا، تو اس کے بعد کسی بھی انسان کی لکھی ہوئی کتاب کو دین کی تکمیل کے لیے شرط قرار دینا، خالقِ کائنات کے دعوے کی صریح تکذیب ہے۔
​2۔ قرآنِ مجید ہر امر کا واضح بیان ہے
​اگر کوئی یہ عذر پیش کرتا ہے کہ قرآن میں تفصیلات موجود نہیں ہیں اور اس کے لیے بیرونی کتب کا محتاج ہونا پڑے گا، تو وہ سورہ النحل کی اس آیت کا انکار کرتا ہے:
​وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ (سورہ النحل، 16:89)
​عینِ لفظی با محاورہ ترجمہ: "اور نازل کی ہم نے آپ پر یہ کتاب جو ہر چیز کا کھول کر واضح بیان ہے، اور سراسر ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے فرماں برداروں کے لیے۔"
​مفہوم و ضرب: جو کلام خود کو "ہر چیز کا واضح بیان" قرار دے رہا ہو، اسے مبہم، نامکمل یا انسانی تشریح کا محتاج کہنا دراصل اس کی مقتدر حیثیت کو چیلنج کرنا ہے۔ خدا کا کلام کسی انسانی تاریخ کا محتاج نہیں۔
​3۔ خدائی کلام کی تفصیلی حیثیت
​بعض لوگوں کا گمان ہے کہ قرآنِ کریم صرف اجمالی اشارے دیتا ہے اور تفصیل باہر سے لانی پڑتی ہے۔ قرآن اس خود ساختہ مفروضے کو بھی جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے:
​أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا (سورہ الانعام، 6:114)
​عینِ لفظی با محاورہ ترجمہ: "تو کیا اللہ کے علاوہ میں تلاش کروں کوئی اور فیصلہ کرنے والا؟ حالانکہ وہی ہے جس نے نازل کی تمہاری طرف یہ کتاب پوری تفصیل کے ساتھ۔"
​مفہوم و ضرب: کائنات کے سب سے بڑے حاکم کا فیصلہ اجمالی نہیں بلکہ "مُفَصَّلًا" یعنی مکمل تفصیل شدہ ہے۔ جب خدا نے تفصیل خود ہی نازل کر دی، تو انسانوں کے لکھے ہوئے مجموعوں میں دین کی تفصیلات ڈھونڈنا صریح گمراہی ہے۔
​4۔ سب سے بڑی کاٹ دار حجت
​ان تمام دلائل کے بعد، خدا انسانی ذہنوں کو جھنجھوڑنے کے لیے یہ حتمی اور گرجدار سوال قائم کرتا ہے:
​تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ (سورہ الجاثیہ، 45:6)
​عینِ لفظی با محاورہ ترجمہ: "یہ اللہ کی آیات ہیں، ہم تلاوت کر رہے ہیں ان کی آپ پر بالکل حق کے ساتھ؛ پس اللہ اور اس کی آیات کے بعد یہ کون سی حدیث (بات) پر ایمان لائیں گے؟"
​مفہوم و ضرب: یہاں خالق نے دو ٹوک فیصلہ سنا دیا ہے کہ خدا کی سچی آیات کے سامنے کائنات کی کوئی دوسری "حدیث" یا بات قابلِ قبول ہی نہیں ہے۔
​حاصلِ کلام
​میرا موقف اور بیانیہ بالکل واضح ہے:
جب خدا کا دین مکمل ہے، اس کا کلام مفصل ہے، اور وہ ہر چیز کا واضح بیان ہے؛ تو پھر کسی دوسرے انسان کی لکھی ہوئی کتاب—خواہ اسے کتنا ہی معتبر مانا جاتا ہو—دین کے معاملے میں کوئی حیثیت اور وجود نہیں رکھتی۔
​روزِ محشر خدا اپنے کلام کا حساب لے گا، انسانوں کے بنائے ہوئے متبادل قوانین کا نہیں۔ فیصلہ بالکل صاف ہے: یا تو انسان خدا کی نازل کردہ آیات پر سرِ تسلیم خم کرے، یا پھر انسانوں کی لکھی ہوئی احادیث کے پیچھے بھاگے۔

منبر کا جھوٹ بمقابلہ قرآن کا متن: فیصلہ اب لکیر کے فقیر نہیں، صریح الفاظ کریں گے!ہم سب نے بچپن سے ایک روایتی پٹی پڑھی ہے...
23/05/2026

منبر کا جھوٹ بمقابلہ قرآن کا متن: فیصلہ اب لکیر کے فقیر نہیں، صریح الفاظ کریں گے!
ہم سب نے بچپن سے ایک روایتی پٹی پڑھی ہے کہ: "اللہ تعالیٰ نے چار کتابیں نازل کیں؛ تورات، زبور، انجیل اور قرآن۔" لیکن اگر آپ اس روایتی چشمے کو اتار کر خود قرآنِ مجید کے صریح، صاف اور دو ٹوک الفاظ کو پڑھیں، تو حقیقت اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔
​آج ذرا گرامر اور لغت کی روشنی میں قرآن کا وہ سچ دیکھیں جو لکیر کے فقیروں کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
​1۔ قرآن نے تورات، زبور اور انجیل کو "کتاب" نہیں کہا!
​اگر آپ پورے قرآن مجید کی ایک ایک آیت کو چھان ماریں، تو آپ کو پورے قرآن میں ایک بھی ایسی آیت نہیں ملے گی جہاں اللہ تعالیٰ نے "تورات"، "زبور" یا "انجيل" کے ناموں کے ساتھ جوڑ کر، صریح الفاظ میں انہیں "کتاب" کہا ہو۔
​زبور کے لیے قرآن کے صریح الفاظ:
​وَاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْراً
"اور ہم نے داؤد کو زبور دی۔" (سورہ النساء، آیت: 163)
پورے قرآن میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ "زبور ایک کتاب ہے"۔
​تورات اور انجیل کا معاملہ:
پورے قرآن میں کسی ایک جگہ بھی یہ الفاظ موجود نہیں ہیں کہ "تورات کتاب ہے" یا "انجیل کتاب ہے"۔ جہاں "کتاب" کا لفظ آیا، وہاں ان کا نام (تورات یا انجیل) موجود نہیں ہے۔ اور جہاں تورات اور انجیل کا نام آیا، وہاں ان کے ساتھ "کتاب" کا لفظ غائب ہے۔
​بغیر کسی بیرونی لنکنگ اور تاویل کے، قرآن کے اپنے صریح اور دو ٹوک الفاظ اس روایتی دعوے پر بالکل خاموش ہیں!
​2۔ "قرآن" اور "کتاب" دو الگ چیزیں ہیں!
​چلیے، دوسروں کو تو ہم نے خارج کر دیا، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا "قرآن" تو پکا پکا "کتاب" ہی ہے۔ ذرا قرآن کا بالکل گرامر کے مطابق، صاف ترجمہ دیکھیے؛ جہاں اللہ نے ان دونوں کا نام ایک ساتھ لیا، وہاں بیچ میں لفظ "اور" (واؤ عطف) لگا کر ان دونوں کو الگ کر دیا:
​تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ
"یہ آیات ہیں قرآن کی اور واضح کتاب کی۔" (سورہ النمل، آیت: 1)
​عربی گرامر کا پکا اصول ہے کہ "اور" (واؤ عطف) دو الگ الگ چیزوں کے درمیان ہی آتا ہے۔ اگر قرآن ہی کتاب ہوتی، تو اللہ یہ نہ فرماتا کہ "قرآن کی اور کتاب کی"۔ اللہ کے اپنے الفاظ میں یہ دونوں الگ حقیقتیں ہیں۔
​3۔ "ذٰلِكَ الْكِتٰبُ" کا گرامر کے مطابق حقیقی ترجمہ
​ہم بچپن سے سورہ البقرہ کی پہلی آیت کا ترجمہ غلط پڑھتے اور سنتے آ رہے ہیں کہ "یہ کتاب"۔عربی گرامر کے مسلمہ قواعد کی رو سے، پاس کی چیز کے لیے "ھٰذَا" (یہ) استعمال ہوتا ہے، جبکہ دُور کی چیز کے لیے "ذٰلِكَ" (وہ) استعمال ہوتا ہے۔ اللہ نے یہاں "ھٰذَا" نہیں، بلکہ "ذٰلِكَ" فرمایا ہے۔ بغیر کسی بریکٹ اور اضافے کے، اس کا خالص گرامر کے مطابق ترجمہ یہ ہے:
​ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيْهِ
"وہ کتاب، کوئی شک نہیں اس میں۔" (سورہ البقرہ، آیت: 2)
​یہ دُور کا اشارہ (وہ) صاف ثابت کرتا ہے کہ یہاں اشارہ دنیا میں سامنے رکھی ہوئی کسی چیز کی طرف نہیں ہے۔
​اب سوال یہ ہے کہ پھر "الکتاب" ہے کیا، جس کا قرآن ذکر کرتا ہے؟
​جب قرآن، تورات، زبور اور انجیل مستقل طور پر "کتاب" کے عنوان سے خارج ہو گئے، تو اب ہمیں قرآن کے اپنے متن میں ڈھونڈنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ "الکتاب" کس چیز کے لیے استعمال کیا ہے۔
​آئیں مفسرین کی عینک اتارے بغیر، قرآن کی وہ واضح آیات دیکھیں جہاں لفظ "کتاب" کا اصل تصور خود اللہ نے واضح اور لفظ بہ لفظ ترجمے کے ساتھ بیان کیا ہے:
​الف: "الکتاب" تمام انبیاء کے لیے ایک ہی مشترکہ غیبی ہدایت ہے
​قرآن کے صریح الفاظ بتاتے ہیں کہ "الکتاب" کسی ایک نبی کی الگ کتاب کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک ہی مرکزی قانون ہے جو ہر نبی کو ساتھ دے کر بھیجا گیا:
​فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ
"تو بھیجا اللہ نے نبیوں کو خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر اور نازل کی ان کے ساتھ کتاب حق کے ساتھ۔" (سورہ البقرہ، آیت: 213)
​ب: "الکتاب" اور "تورات و انجیل" الگ الگ چیزیں ہیں
​سورہ آل عمران کی یہ آیت بلا شبہ پورا سچ سامنے لا کھڑا کرتی ہے، جہاں اللہ نے "الکتاب" کو تورات اور انجیل سے بالکل الگ کر کے گنایا ہے:
​وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ
"اور وہ سکھائے گا اس کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل۔" (سورہ آل عمران، آیت: 48)
(غور کیجیے! اگر کتاب کا مطلب تورات یا انجیل ہوتا، تو اللہ "کتاب اور تورات اور انجیل" کیوں فرماتا؟ یہ عطف صاف بتا رہا ہے کہ الکتاب ان سب سے الگ کوئی مرکزی علم ہے)۔
​ج: "الکتاب" کائنات کا وہ غیبی ریکارڈ ہے جس میں سب کچھ درج ہے
​قرآن نے واضح کر دیا کہ کائنات کی ہر حرکت جس چیز کے اندر لکھی ہوئی ہے، اسے "کتاب" کہا گیا ہے:
​وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ
"اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک مگر ایک واضح کتاب میں ہے۔" (سورہ الانعام، آیت: 59)
​وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ
"اور ہمارے پاس کتاب ہے حفاظت کرنے والی۔" (سورہ ق، آیت: 4)
​سبق آموز خلاصہ:
​قرآن مجید کے صریح الفاظ کے مطابق، نہ تورات، نہ زبور، نہ انجیل اور نہ ہی خود قرآن—ان چاروں ناموں میں سے کسی ایک کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے "کتاب" کا لفظ بطورِ نام استعمال نہیں کیا۔
​اللہ کے ہاں اصل "الکتاب" وہ غیبی نظام، مرکزی الٰہی قانون اور علم کا وہ محفوظ ریکارڈ ہے جو آسمان پر ہے۔ اسی اصل کتاب سے تمام انبیاء کو احکامات دیے گئے اور اسی کا ایک حصہ دنیا میں "قرآن" کی شکل میں پڑھنے کے لیے اتارا گیا۔
​ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے صدیوں سے سنی سنائی باتوں پر اپنے عقیدے کھڑے کر لیے اور قرآن کے اپنے واضح، لغوی اور صریح الفاظ کو پسِ پشت ڈال دیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں ان ناموں کو "کتاب" نہیں کہا، تو ہم اپنی طرف سے یہ لیبل لگانے والے کون ہوتے ہیں؟ قرآن کو پڑھنا شروع کیجیے، مفسرین کی عینک اور خود ساختہ بریکٹس سے نہیں، بلکہ اللہ کے اپنے دو ٹوک اور صاف الفاظ کی روشنی میں!

There is not a single statement in complete bible where Jesus pbuh himself says that he is God or where he says worship ...
31/05/2023

There is not a single statement in complete bible where Jesus pbuh himself says that he is God or where he says worship me... These pastor misguiding people.
Jesus pbuh is the messenger of God (Allah Almighty).

Address

Islamabad

Telephone

+923169131963

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam & Science posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share