24/05/2026
**فلسفۂ قربانی، ایثار و ہمدردی اور عیدالاضحیٰ کا حقیقی پیغام**
**تحریر: صاحبزادہ مفتی محمد ابوبکر فاروقی...
**تمہید**
عیدالاضحیٰ محض ایک تہوار یا رسمی خوشی کا نام نہیں، بلکہ یہ اس عظیم الشان تاریخ کی یادگار ہے جس نے انسانیت کو بندگی، اطاعت اور جانثاری کا وہ اعلیٰ معیار عطا کیا جس کی مثال تاریخِ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ دن ہمیں اس جلیل القدر پیغمبر سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزندِ ارجمند سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اس بے مثال قربانی کی یاد دلاتا ہے، جس نے رہتی دنیا تک کے لیے "تسلیم و رضا" کی ایک ایسی شمع روشن کر دی جس کی ضیا پاشیوں سے اجالے آج بھی ایمان والوں کے دلوں کو منور کر رہے ہیں۔ عیدالاضحیٰ کا پیغام دراصل اپنی عزیز ترین متاع کو حکمِ الٰہی پر نچھاور کر دینے اور نفس کی ہر خواہش کو رضائے مولیٰ کے سامنے ذبح کر دینے کا نام ہے۔
**قربانی کا لغوی و شرعی مفہوم**
لفظِ "عید" عربی زبان میں "عود" سے ماخوذ ہے، جس کے معنی بار بار لوٹ کر آنے کے ہیں۔ چونکہ یہ دن ہر سال خوشی اور مسرت کے ساتھ لوٹ کر آتا ہے، اس لیے اسے عید کہا جاتا ہے۔ [1]
> "عیدین عید کا تثنیہ ہے عود سے ماخوذ ہے، چونکہ عید ہر سال لوٹ کر آتی ہے یا اس لئے کہ اس سے عوائد الہیہ لوٹتی ہیں اللہ کی نعمتیں یا سرور لوٹتا ہے اس لئے اس کو عید کہا جاتا ہے۔"
(الفیض الجاری شرح صحیح بخاری، شیخ الحدیث مفتی محمد انور صاحب، جلد 5، صفحہ 260)
شرعی اصطلاح میں قربانی (اضحیہ) اس جانور کو کہتے ہیں جو ایامِ نحر میں اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کی نیت سے ذبح کیا جائے۔ اسے "اضحیہ" اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا وقت "ضحیٰ" (یعنی سورج کے بلند ہونے) کے وقت سے شروع ہوتا ہے۔ [2]
> "عیاض: سميت بذلك؛ لأنها تفعل في الضحى، وهو ارتفاع النهار فسميت بزمن فعلها ۔"
(اوجز المسالک الی موطا امام مالک، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی، جلد 10، صفحہ 342)
**فلسفۂ قربانی: خون کی نہیں، تقویٰ کی پکار**
قربانی کا اصل فلسفہ جانور کا خون بہانا نہیں، بلکہ اس کے پیچھے چھپا ہوا وہ جذبہِ تقویٰ اور خلوص ہے جو بندے کو اپنے خالق کے قریب کر دیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے واشگاف الفاظ میں اعلان کر دیا کہ اللہ کو نہ تو تمہارے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ [3]
> "اللہ کے پاس ان کے گوشت اور خون ہر گز نہیں پہنچتے لیکن اللہ کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔"
(الفیض الجاری شرح صحیح بخاری، شیخ الحدیث مفتی محمد انور صاحب، جلد 7، صفحہ 56)
-
نبی کریم ﷺ نے قربانی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
«مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ»
(ترجمہ: یومِ نحر (عید کے دن) ابنِ آدم کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب نہیں ہے)۔ [4]
(جامع ترمذی، ابواب الاضاحی، باب ما جاء فی فضل الاضحیۃ، حدیث نمبر 1541)
اس حدیث کی تشریح میں علماء لکھتے ہیں کہ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا اور اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں مقامِ قبولیت پا لیتا ہے۔ [5]
(سنن ابن ماجہ، کتاب الاضاحی، باب ثواب الاضحیہ، حدیث نمبر 3126)
**حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت و تسلیم**
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی امتحانات اور آزمائشوں کا ایک مسلسل تسلسل تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑھاپے میں بیٹا عطا فرمایا، اور پھر اسی بیٹے کی قربانی کا خواب دکھایا۔ یہ محض خواب نہیں تھا بلکہ وحیِ الٰہی تھی، کیونکہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں۔ [6]
> "فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّابِرِينَ"
(الفیض الجاری شرح صحیح بخاری، شیخ الحدیث مفتی محمد انور صاحب، جلد 9، صفحہ 50)
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ذرہ برابر تاخیر کیے بغیر حکمِ الٰہی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ یہ عمل اس بات کی علامت تھا کہ اللہ کے سچے خلیل کے نزدیک اپنے رب کے حکم کے مقابلے میں اولاد کی محبت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ بندگی کا تقاضا یہی ہے کہ جب اللہ کا حکم آ جائے تو عقل و جذبات کو پسِ پشت ڈال کر صرف اطاعت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ [7]
> "ایمان مکمل انقیاد ظاهری اور تمام واجبات کی بجا آوری اور ترک جمیع ممنوعات کو مقتضی ہے۔"
(انوار الباری، مولانا سید احمد رضا بجنوری، جلد 3، صفحہ 77)
:
**حضرت اسماعیل علیہ السلام کا جذبۂ ایثار**
قربانی کے اس واقعے میں جہاں والد کی عظیم اطاعت نظر آتی ہے، وہیں فرزندِ ارجمند سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا بے مثال ایثار بھی نمایاں ہے۔ جب والد نے خواب کا ذکر کیا تو بیٹے نے یہ نہیں کہا کہ "آپ مجھے کیوں ذبح کرنا چاہتے ہیں؟" بلکہ برجستہ جواب دیا: "اے ابا جان! وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔" [8]
> "قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ۔"
(فتح الباری شرح صحیح بخاری، حافظ ابن حجر عسقلانی، جلد 12، صفحہ 501)
سورس لنک: فتح الباری بشرح البخاري - ط السلفية - جـ ١٢-
تحقیق کے مطابق ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی تھے، اور اہل کتاب نے تورات میں تحریف کر کے اسحاق علیہ السلام کا نام شامل کیا۔ [9]
> "قَالَ يَا یہ خطاب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہے ، یہی قول صحیح ہے کہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں، اہل کتاب نے تورات کے اندر تغییر کی اور اسماعیل کی جگہ اسحاق لکھ دیا لیکن یہ قول غلط ہے۔"
(الفیض الجاری شرح صحیح بخاری، شیخ الحدیث مفتی محمد انور صاحب، جلد 9، صفحہ 51)
**قربانی اور معاشرتی ہمدردی**
اسلام محض عباداتِ بدنیہ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ "مواسات" یعنی باہمی ہمدردی اور خیر خواہی کا دین ہے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم اسی معاشرتی ہمدردی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ حکم یہ ہے کہ قربانی کے گوشت میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ۔ [3]
> "پھر جب وہ اپنے پہلو کے بل گر جائیں تو ان میں کھاؤ اور سائل و غیر سائل حاجت مند کو کھلاؤ۔"
(الفیض الجاری شرح صحیح بخاری، شیخ الحدیث مفتی محمد انور صاحب، جلد 7، صفحہ 56)
-
علماء نے مستحب قرار دیا ہے کہ گوشت کے تین حصے کیے جائیں: ایک تہائی اپنے لیے، ایک تہائی رشتہ داروں کے لیے اور ایک تہائی فقراء و مساکین کے لیے۔ [10]
> "ما نحب له أن يتصدق بأقل من الثلث وأن تصدق بأقل منه جاز۔"
(موطا امام مالک بروایت امام محمد، جلد 2، صفحہ 665)
یہ عمل معاشرے میں معاشی مساوات تو نہیں مگر "مواسات" یعنی غم خواری کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے، جہاں مالدار اپنی خوشی میں غریبوں کو شریک کرتا ہے۔ [11]
> "شریعت اسلامی کی نظر میں تمام انسانی ضروریات کا تکفل درجہ بدرجہ مالداروں پر لازم ہے... مواسات اور باہمی ہمدردی کو نہایت ضروری سمجھتا ہے۔"
(انوار الباری، مولانا سید احمد رضا بجنوری، جلد 4، صفحہ 215)
-
**عیدالاضحیٰ کا روحانی، اخلاقی اور سماجی پیغام**
عیدالاضحیٰ کا پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے نفس کے بتوں کو ذبح کریں۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہر اس رکاوٹ کو دور کر دیا جو اللہ اور ان کے درمیان حائل تھی (یہاں تک کہ شیطان کو کنکریاں مار کر بھگا دیا)، ہمیں بھی اپنی زندگی میں آنے والے شیطانی وسوسوں اور نفسانی خواہشات کو رد کرنا ہوگا۔ [12]
> "أَنَّهُ سَدَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ الطَّرِيقَ إِلَى الْمَنْحَرِ، فَأَمَرَهُ جِبْرِيلُ أَنْ يَرْمِيَهَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ عِنْدَ كُلِّ جَمْرَةٍ۔"
(فتح الباری شرح صحیح بخاری، حافظ ابن حجر عسقلانی، جلد 12، صفحہ 529)
سورس لنک: فتح الباری بشرح البخاري - ط السلفية - جـ ١٢
اخلاقی طور پر یہ عید ہمیں عفو و درگزر، صلہ رحمی اور سچائی کا سبق دیتی ہے۔ [13]
> "اللہ ن اللہ تعالٰی آپ کو خاتم الانبیاء بنانا چاہتے تھے اس لئے پہلے ہی سے اخلاق عالیہ سے متصف کیا ہے۔"
(الفیض الجاری شرح صحیح بخاری، شیخ الحدیث مفتی محمد انور صاحب، جلد 1، صفحہ 156)
سماجی طور پر یہ عید امتِ مسلمہ کے اتحاد اور اخوت کی علامت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خطبہِ حجۃ الوداع میں مسلمانوں کی جان، مال اور آبرو کو ایک دوسرے پر اسی طرح حرام قرار دیا جس طرح اس دن، اس شہر اور اس مہینے کی حرمت ہے۔ [14]
> "فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا۔"
(الفیض الجاری شرح صحیح بخاری، شیخ الحدیث مفتی محمد انور صاحب، جلد 7، صفحہ 108)
-
**موجودہ دور میں قربانی کے عملی تقاضے**
آج کے دور میں قربانی محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہے، جہاں گوشت کی بہتات اور نمود و نمائش کا غلبہ ہے۔ ہمیں اس رسم سے نکل کر اس کی اصل روح کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اللہ کے حکم پر اپنی انانیت، کینہ، بغض اور حسد کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں؟ [15]
> "اگر تم سے ہو سکے کہ صبح و شام اس طرح گزار دو کہ تمہارے دل میں کسی ایک شخص کی طرف سے بھی دل میں کدورت نہ ہو تو ضرور ایسا ہی کرو۔"
(انوار الباری، مولانا سید احمد رضا بجنوری، جلد 4، صفحہ 212)
ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ قربانی کی کھالیں اور اس کا نفع ان اداروں اور افراد تک پہنچے جو دین کی خدمت اور انسانیت کی فلاح میں مصروف ہیں۔ [16]
> "ہدی کی کھال کو صدقہ کر دینا مستحب ہے۔.. اس کے شمن کو استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کرنا پڑے گا۔"
(الفیض الجاری شرح صحیح بخاری، شیخ الحدیث مفتی محمد انور صاحب، جلد 7، صفحہ 85)
**اختتامیہ**
خلاصہِ کلام یہ کہ عیدالاضحیٰ اور سنتِ ابراہیمی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مومن کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ ہماری نماز، ہماری قربانی، ہمارا جینا اور ہمارا مرنا صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہو۔ عید کے اس موقع پر ہمیں اپنی اصلاح، امت کے اتحاد اور ایثار و ہمدردی کا نیا عہد کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قربانیوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں دینِ فطرت پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔ [17]
> "اسلام دین فطرت ہے... اس مقصد کا یقینی حصول اسی وقت ہو سکتا ہے کہ حق تعالے کے بھیجے ہوئے دین فطرت کو اس کے رسول معظم کے اعتماد و اطمینان پر قبول کر لیا جائے۔"
(انوار الباری، مولانا سید احمد رضا بجنوری، جلد 4، صفحہ 172)