Guidance Wazaif

Directions

Guidance Wazaif "Authentic Islamic Duas, Wazaif & Spiritual Guidance. رزق، صحت، برکت اور سکون قلب کے لیے مستند وظائف اور دعائیں۔"

07/08/2026

Darood sharif

07/08/2026

Surah Al-Kahf | Beautiful Quran Recitation | Dil Ko Sukoon Dene Wali Tilawat

Surah Al-Kahf ki khoobsurat aur pur-sukoon Quran recitation suniye aur Allah ke kalaam ki roohani mithaas mehsoos kijiye. ❤️🕋

Surah Al-Kahf Jumu'ah ke din parhne ki fazeelat rakhti hai. Is tilawat ko sukoon ke saath suniye, apne dil ko Quran ki roshni se munawwar kijiye aur apne azeezon ke saath bhi share karein.

🤲 Allah Ta'ala humein Quran Pak parhne, samajhne aur us par amal karne ki taufeeq ata farmaye. Ameen.

📖 Surah: Al-Kahf
🎧 Beautiful Quran Recitation
🕌 Peaceful & Heart-Touching Tilawat

Agar aapko ye Quran recitation pasand aaye to video ko Like 👍, Share 📲 aur Subscribe 🔔 zaroor karein.

06/08/2026

Surah Mulk

04/07/2026

جو شخص نمازِ فجر کے بعد یہ ذکر تین مرتبہ پڑھیں۔ انشاءاللہ موت تک کوئی بیماری نہیں لگے گی اور اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں کرے گا

23/02/2026

تحقیقی حقیقت

حدیث کی معتبر کتابوں (صحاح ستہ: بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ) میں یہ الفاظ موجود نہیں۔

محدثین کے نزدیک اس عبارت کی کوئی صحیح یا حسن سند ثابت نہیں۔

اس طرح کے جملے عموماً واعظانہ یا اصلاحی کلام کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں، مگر انہیں حدیث کہہ کر نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔

یہ جملہ:“میر ا بستر سمیٹ دو، اب میرے آرام کے دن ختم ہو گئے”نبی اکرم ﷺ کی طرف درست اور ثابت حدیث کے طور پر منسوب نہیں ہے۔...
23/02/2026

یہ جملہ:

“میر ا بستر سمیٹ دو، اب میرے آرام کے دن ختم ہو گئے”

نبی اکرم ﷺ کی طرف درست اور ثابت حدیث کے طور پر منسوب نہیں ہے۔

تحقیقی حقیقت

حدیث کی معتبر کتابوں (صحاح ستہ: بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ) میں یہ الفاظ موجود نہیں۔

محدثین کے نزدیک اس عبارت کی کوئی صحیح یا حسن سند ثابت نہیں۔

اس طرح کے جملے عموماً واعظانہ یا اصلاحی کلام کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں، مگر انہیں حدیث کہہ کر نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔

غلط فہمی کیوں پھیلتی ہے؟

نبی ﷺ کی سخت محنت، مسلسل دعوت، جہاد، عبادت اور امت کی فکر کو بیان کرنے کے لیے بعض مقررین ایسے جملے استعمال کر لیتے ہیں۔

مفہوم کے اعتبار سے بات درست لگتی ہے، مگر الفاظ نبی ﷺ کے نہیں ہیں۔

نبی ﷺ کی اصل تعلیم

البتہ یہ حقیقت ہے کہ:

آپ ﷺ نے دنیا کی آسائشوں سے بے رغبتی اختیار فرمائی

راتوں کو عبادت میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ پاؤں سوج جاتے

فرمایا:

“کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

نتیجہ

✅ مفہوم نصیحت آموز ہے
❌ مگر اسے حدیث یا نبی ﷺ کا قول کہنا درست نہیں

یہ بات “کسی صحابیؓ کی داڑھی کے ایک ہی بال پر فرشتوں کا کھیلنا” عوام میں مشہور ہے، لیکن تحقیق کے مطابق اس کی کوئی مستند ش...
23/02/2026

یہ بات “کسی صحابیؓ کی داڑھی کے ایک ہی بال پر فرشتوں کا کھیلنا” عوام میں مشہور ہے، لیکن تحقیق کے مطابق اس کی کوئی مستند شرعی بنیاد موجود نہیں۔

تحقیقی حقیقت

قرآنِ کریم میں اس طرح کا کوئی ذکر نہیں۔

صحاحِ ستہ (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ) اور معتبر کتبِ حدیث میں
اس مضمون کی کوئی صحیح یا حسن روایت موجود نہیں۔

محدثین کے نزدیک یہ روایت:

یا تو بے سند ہے

یا ضعیف / من گھڑت (موضوع) روایات میں شمار ہوتی ہے۔

یہ بات کہاں سے پھیلی؟

یہ جملہ زیادہ تر:

وعظ و بیان

سوشل میڈیا پوسٹس

غیر مستند کتابچوں
میں بغیر حوالہ کے نقل ہوتا رہا ہے۔

اکثر کسی صحابیؓ کا نام بھی واضح نہیں کیا جاتا، جو خود اس کے غیر معتبر ہونے کی علامت ہے۔

اہم اصول (یاد رکھیں)

صحابیؓ کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے جھوٹی یا غیر ثابت بات بیان کرنا بھی درست نہیں
(امام مسلم، مقدمہ)

درست عقیدہ کیا ہے؟

تمام صحابہؓ بے حد عظمت و فضیلت والے ہیں، یہ بات:

قرآن

صحیح احادیث
سے ثابت ہے۔

مگر ایسی باتیں جو نبی ﷺ سے ثابت نہ ہوں، انہیں دین کا حصہ بنانا درست نہیں۔

خلاصہ

✅ صحابہؓ کی عزت و محبت واجب ہے
❌ داڑھی کے ایک بال پر فرشتوں کے کھیلنے والی بات ثابت نہیں
⚠️ ایسی باتیں بیان کرنے سے اجتناب ضروری ہے

یہ واقعہ عوام میں مشہور ایک حکایتی قصہ ہے، مگر حدیث، مستند تاریخ یا معتبر اسلامی کتب میں اس کی کوئی سند کے ساتھ اصل موجو...
23/02/2026

یہ واقعہ عوام میں مشہور ایک حکایتی قصہ ہے، مگر حدیث، مستند تاریخ یا معتبر اسلامی کتب میں اس کی کوئی سند کے ساتھ اصل موجود نہیں۔

یعنی:

❌ یہ واقعہ صحیح حدیث نہیں
❌ کسی معتبر حدیث کی کتاب (بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) میں موجود نہیں
❌ کسی مستند مؤرخ یا محدث نے سند کے ساتھ نقل نہیں کیا

📌 مشہور قصہ (خلاصہ)

لوگوں میں یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ:

ایک یہودی نے مسلمانوں سے استنجا بیٹھنے کی سنت کے بارے میں سنا
اس نے ویسے ہی بیٹھ کر استنجا کرنا شروع کیا
ایک دن اس کے دشمن نے پیچھے سے رسہ پھینک کر گلا گھونٹنا چاہا
مگر چونکہ وہ سنت کے مطابق بیٹھا ہوا تھا اس لیے بچ گیا
پھر وہ مسلمان ہو گیا

➡️ یہ مکمل قصہ بے سند اور غیر مستند ہے۔

✅ شرعی و تحقیقی حقیقت
1️⃣ استنجا بیٹھ کر کرنا سنت ہے

یہ بات درست اور ثابت ہے کہ:

نبی ﷺ:

بیٹھ کر قضاء حاجت فرماتے تھے
اور آدابِ طہارت کی مکمل تعلیم دی

یہ بات احادیث سے ثابت ہے۔

2️⃣ مگر یہودی کے مسلمان ہونے والا واقعہ

یہ:

❌ نہ حدیث ہے
❌ نہ آثارِ صحابہ میں ہے
❌ نہ معتبر تاریخ میں ہے
❌ نہ سند موجود ہے

یہ صرف:
📚 واعظانہ قصہ
📚 من گھڑت حکایت
📚 عوامی بیان
📚 اسرائیلیات نما روایت

ہے۔

⚖️ علماء کا اصول

علماء فرماتے ہیں:

"جو واقعہ سند کے بغیر ہو،
وہ بیان کرنے کے لائق نہیں ہوتا،
چاہے کتنا ہی اچھا لگے۔"

✨ درست طرزِ بیان

یوں کہنا درست ہے:

✅ استنجا بیٹھ کر کرنا سنت ہے
✅ سنت میں برکت ہے
❌ یہودی کے بچنے اور مسلمان ہونے والا واقعہ ثابت نہیں

🕌 خلاصہ
بات حیثیت
استنجا بیٹھ کر کرنا ✅ سنت ثابت
اس پر حفاظت ہونا ⚠️ عمومی برکت کا عقیدہ
یہودی کا مسلمان ہونا ❌ من گھڑت قصہ
دشمن کا رسہ ڈالنا ❌ بے اصل روایت

❌ حضرت بلالؓ کی قسم سے سحری کے وقت کے ختم ہو جانے کا واقعہمستند احادیث اور معتبر تاریخی کتب سے ثابت نہیں۔یہ بات عوام میں...
23/02/2026

❌ حضرت بلالؓ کی قسم سے سحری کے وقت کے ختم ہو جانے کا واقعہ

مستند احادیث اور معتبر تاریخی کتب سے ثابت نہیں۔
یہ بات عوام میں بطور قصہ یا واعظانہ روایت مشہور ہو گئی ہے، لیکن صحیح، حسن یا معتبر ضعیف حدیث میں بھی یہ واقعہ اس انداز سے موجود نہیں کہ:

حضرت بلالؓ نے قسم کھا کر کہا ہو کہ ابھی فجر نہیں ہوئی اور اسی وجہ سے سحری کا وقت ختم ہو گیا ہو۔

لہٰذا اس واقعے کو حقیقت یا ثابت شدہ واقعہ سمجھنا درست نہیں۔

✅ صحیح اور ثابت شدہ بات کیا ہے؟

صحیح بخاری و مسلم میں بالکل واضح اور مستند حدیث موجود ہے:

📖 حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بلالؓ رات کو اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابنِ اُمِّ مکتومؓ اذان دیں۔"
(صحیح بخاری: 617، صحیح مسلم: 1092)

اس کا مطلب:

حضرت بلالؓ کی اذان فجر سے پہلے ہوتی تھی (تہجد کے وقت)

حضرت ابنِ اُمِّ مکتومؓ نابینا تھے، وہ سچی فجر کے بعد اذان دیتے تھے

سحری کا اختتام ابنِ اُمِّ مکتومؓ کی اذان پر ہوتا تھا

❗ غلط فہمی کہاں سے پیدا ہوئی؟

بعض واعظین نے وقت کی اہمیت سمجھانے کے لیے یہ قصہ بیان کر دیا

پھر یہ بات بغیر تحقیق کے پھیلتی چلی گئی

حالانکہ قسم، سحری ختم ہونا، یا کسی کو نقصان ہونا — یہ سب اضافی اور غیر ثابت چیزیں ہیں

📌 خلاصہ

❌ حضرت بلالؓ کی قسم سے سحری ختم ہونے کا واقعہ ثابت نہیں

✅ صحیح بات: بلالؓ فجر سے پہلے اذان دیتے تھے

✅ سحری کا وقت فجرِ صادق پر ختم ہوتا ہے

⚠️ دین کے معاملے میں قصوں کے بجائے مستند حدیث پر اعتماد ضروری ہے

23/02/2026

⚠️ اہم نصیحت
شبِ برات کی حقیقت
فضائل، مسائل، مسنون اعمال اور بدعات کی مکمل وضاحت
شب برات کے حوالے سے پروپیگنڈا اور حقیقت
مفتی تقی عثمانی صاحب

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Guidance Wazaif posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share