Masjid Imam Nasai

Masjid Imam Nasai Masjid Imam Nasai is an Islamic Center in H-9/3 Islamabad.

12/07/2026
احرام باندھنے کے مقامات، جہاں سے بغیر احرام باندھے گذرنا جائز نہیں۔حج اور عمرہ کے مقدس سفر پر جانے والوں کے لیئے راہنما ...
12/07/2026

احرام باندھنے کے مقامات، جہاں سے بغیر احرام باندھے گذرنا جائز نہیں۔
حج اور عمرہ کے مقدس سفر پر جانے والوں کے لیئے راہنما تحریر۔
محترم المقام جناب الشیخ عبد الصبور، مدینہ۔

میقات: لغوی، شرعی مفہوم اور اسلامی اہمیت

میقات عربی زبان کا ایک جامع اور اہم شرعی لفظ ہے، جو اپنے اندر وقت، مقام اور حدود کے معنی سموئے ہوئے ہے۔ یہ لفظ (و، ق، ت) سے نکلا ہے اور اسمِ ظرف ہے، جو مِفعال کے وزن پر آتا ہے۔ اصل لفظ مِوْقَات تھا، لیکن قواعدِ صرف کے مطابق واو، ماقبل کے کسرہ کی وجہ سے یاء سے بدل گئی اور میقات بن گیا۔
لغت میں میقات کے معنی ہیں: مقرر وقت، مقرر جگہ یا متعین حد؛ یعنی وہ وقت یا مقام جسے کسی خاص مقصد کے لیے مقرر کر دیا گیا ہو۔

قرآن کریم میں یہ لفظ مختلف مقامات پر وقت اور مقررہ حدود کے معنی میں استعمال ہوا ہے، مثلاً:
«﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾
(سورۃ النساء: 103)
ترجمہ: "بے شک نماز اہلِ ایمان پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔"»

اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«﴿إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا﴾
(سورۃ النبأ: 17)
ترجمہ: "بے شک فیصلے کا دن ایک مقررہ وقت ہے۔"»

اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
«﴿وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا﴾
(سورۃ الأعراف: 143)
ترجمہ: "اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت اور مقام پر آئے۔"»

شریعت میں میقات سے مراد وہ مخصوص اوقات یا مقامات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خصوصاً حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے مقرر فرمایا ہے۔
میقات دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ اب بندہ عام زندگی سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کی طرف جا رہا ہے، لہٰذا اسے احرام باندھ کر عاجزی، خشوع اور اطاعت کی کیفیت اختیار کرنی چاہیے۔

میقات کی دو اقسام

1- میقاتِ زمانی
وہ مہینے جن میں حج کا احرام باندھا جا سکتا ہے، یعنی:
- شوال
- ذوالقعدہ
- ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن

2- میقاتِ مکانی
وہ مخصوص مقامات جہاں سے گزرنے والے ہر بیرونی زائر کے لیے، اگر وہ حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو، احرام باندھنا واجب ہے۔

میقات کا تعین
میقاتوں کا تعین توقیفی ہے، یعنی یہ رسول اللہ ﷺ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
- اہلِ مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ
- اہلِ شام کے لیے جحفہ
- اہلِ نجد کے لیے قرن المنازل
- اہلِ یمن کے لیے یلملم
کو میقات مقرر فرمایا، اور ارشاد فرمایا:
«"یہ میقات ان علاقوں کے رہنے والوں کے لیے بھی ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو وہاں سے گزریں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اور جو ان حدود کے اندر رہتے ہیں وہ اپنے اپنے مقام سے احرام باندھیں۔"»
(صحیح البخاری: 1526، صحیح مسلم: 1181)

بعد میں جب عراق فتح ہوا تو حضرت عمر بن خطابؓ نے اہلِ عراق کی سہولت کے لیے ذاتِ عِرق کو ان کا میقات مقرر فرمایا۔
(صحیح البخاری: 1531)

پانچ مشہور میقات

1۔ ذوالحلیفہ (مسجد الشجرہ / ابیار علی)
- سمت: شمال
- مکہ سے فاصلہ: تقریباً 410–450 کلومیٹر
- اہلِ مدینہ اور شمالی علاقوں کے لیے۔

2۔ الجحفہ (آج کل رابغ کے قریب)
- سمت: شمال مغرب
- فاصلہ: تقریباً 180–190 کلومیٹر
- اہلِ شام، مصر اور شمالی افریقہ کے لیے۔

3۔ قرن المنازل (السيل الكبير)
- سمت: مشرق
- فاصلہ: تقریباً 80–90 کلومیٹر
- اہلِ نجد، خلیجی ممالک، پاکستان اور ہندوستان سے آنے والوں کے لیے۔

4۔ یلملم (السعدیہ)
- سمت: جنوب
- فاصلہ: تقریباً 100 کلومیٹر
- اہلِ یمن، انڈونیشیا، ملائیشیا اور جنوبی افریقہ کے لیے۔

5۔ ذاتِ عِرق (الضريبہ)
- سمت: شمال مشرق
- فاصلہ: تقریباً 90 کلومیٹر
- اہلِ عراق، ایران اور وسطی ایشیا کے لیے۔

چند اہم مسائل

▪︎ جو شخص حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے میقات سے بغیر احرام آگے بڑھنا جائز نہیں۔
¤ مکہ کے رہنے والے حج کے لیے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔
☆ البتہ مکہ میں موجود شخص اگر عمرہ کرنا چاہے تو اسے حدودِ حرم سے باہر (حل) جانا ہوگا، جس کے لیے سب سے مشہور مقام تنعیم (مسجدِ عائشہؓ) ہے، جہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا جاتا ہے۔

میقات اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ وہ مبارک حد ہے جہاں سے بندہ دنیاوی مشاغل کو پیچھے چھوڑ کر احرام کی پاکیزہ حالت میں اپنے رب کے گھر کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔ یہی میقات مسلمانوں کو اللہ کی عظمت، حرم کی حرمت اور عبادت کے ادب و احترام کا عملی درس دیتی ہے۔

بصد شکریہ
محترم المقام الشیخ عبد الصبور مدینہ کی پوسٹ۔

11/07/2026

"أَجْرَؤُكُمْ عَلَى الْفُتْيَا أَجْرَؤُكُمْ عَلَى النَّارِ" 🔥(تم میں سے جو فتویٰ دینے میں جرأت (بے باکی) کرتا ہے، وہ جہنم کی آگ (میں جانے) کی جرأت كرتا ہے)آج کے سوشل میڈیا کے دور میں یہ جملہ ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے!
سوشل میڈیا کا المیہ:آج کل فیس بک، واٹس ایپ یا ٹک ٹاک پر کوئی بھی دینی مسئلہ سامنے آئے، تو ہم میں سے ہر شخص فوراً "مفتی" بن جاتا ہے۔ بغیر تحقیق، بغیر علم اور بغیر تصدیق، اور دلیل کی معرفت کے ہم حلال و حرام کے فیصلے سنانا شروع کر دیتے ہیں۔
اس بات کی حقیقت کیا ہے؟
حدیث کی حیثیت: محدثین کے مطابق یہ روایت سند کے لحاظ سے "مرسل" ہے، لیکن اس کا مفہوم بالکل سچ اور قرآن و سنت کے عین مطابق ہے۔
مطلب کیا ہے؟ جو شخص کسی مسئلہ کی دلیل کے علم کے بغیر، صرف اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر دین میں اپنی رائے دیتا ہے، وہ دراصل اپنے لیے جہنم کا راستہ صاف کر رہا ہوتا ہے۔
فتویٰ دینا کھیل نہیں ہے:مفتی دراصل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کا ترجمان ہوتا ہے۔صحابہ کرام اور سلف صالحین علم کا سمندر ہونے کے باوجود فتویٰ دینے سے ڈرتے تھے اور ایک دوسرے کی طرف مسئلہ ریفر (Refer) کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور جس بات کا تمہیں علم نہ ہو، اس کے پیچھے مت پڑو۔" (الاسراء: 36)
ہمارے لیے پیغام:اگر کسی مسئلے کا علم نہ ہو، تو خاموشی اختیار کرنا یا "مجھے نہیں معلوم" کہنا بھی آدھا علم ہے۔ دین کے معاملات میں اپنی آخرت داؤ پر لگانے سے بچیں اور مستند علماء کرام سے رجوع کریں۔ #تحقیق

23/06/2026

يوم عاشوراء (يعنى محرم كی دس تاریخ) کا روزہ۔

قدم النبي صلى الله عليه وسلم فرأى اليهود يصومون يوم عاشوراء فقال لهم: ما هذا اليوم الذي تصومونه؟ فقالوا: هذا يوم صالح، هذا يوم نجى الله فيه بني إسرائيل من عدوهم، فصامه موسى عليه السلام، فقال: "أنا أحق بموسى منكم"، فصامه صلى الله عليه وسلم، وأمر بصيامه.
•متفق عليه•

قال عليه الصلاة والسلام: "لئن بقيت إلى قابل لأصومنَّ التاسع" •مسلم•

عن أبي قتادة رضي الله عنه: أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن صيام عاشوراء ؟ فقال صلى الله عليه وسلم: "أحتسب على الله أن يكفِّر السنة التي قبله" •مسلم•
ان احادیث کا ترجمہ:
1. پہلی حدیث (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
ترجمہ:
> نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (مدینہ) تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ (10 محرم) کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: "یہ کون سا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟" انہوں نے جواب دیا: "یہ ایک مبارک دن ہے؛ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات دی تھی، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے (شکرانے کے طور پر) اس دن کا روزہ رکھا تھا۔" اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "موسیٰ (علیہ السلام) کی موافقت کرنے کا تم سے زیادہ حقدار میں ہوں۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن کا روزہ رکھا اور (مسلمانوں کو بھی) اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

2. دوسری حدیث (صحیح مسلم)
ترجمہ:
> رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اگر میں باقی رہا (یعنی اگلے سال) تک زندہ رہا، تو (عاشورہ کے ساتھ) نویں تاریخ کا روزہ بھی ضرور رکھوں گا۔"

3. تیسری حدیث (صحیح مسلم)
ترجمہ:
> حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ تعالیٰ سے پختہ امید رکھتا ہوں کہ یہ (روزہ) پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا (یعنی پچھلے سال کے گناہوں کی معافی کا ذرہعہ بن جائیگا)۔"
___
ان احایث سے واضح ھو رھا ھے کہ جس روزے کی فضیلت بیان ھوئی وہ یوم عاشوراء یعنی دسویں محرم کا روزہ ھے۔
اور یھودیوں کی مخالفت کے لیئے ساتھ نو محرم کے روزے کا عزم ھے۔
شذوذ کے شائقین کچھ نیا لا کر فیمس اور مشھور ھونے کے شوق میں نئی نئی آراء پیش کر کے لوگوں کو کنفیوز کرنے مکروہ کوشش میں لگے رھتے ھیں، ان کی باتوں میں نہ آئیں، اور حدیث کے الفاظ "یوم عاشوراء" پر نظر مرکوز رکھیں، کوئی آپ کو بہکا نہیں سکے گا۔
وفقنا الله جميعا لما يحبه ويرضاه
آمــــــيـــــــن

21/06/2026

خوشحالى اور سعادتمندى كا راز؟ ہر شخص خوشحال ہونا چاہتا ہے مگر خوشحالى كو تلاش وہاں سے كر رہاہے جہاں سے وہ مل نہيں سكتى كيوں كہ وہاں وہ ہوتى نہيں جہاں سے اسے پانے كى كوشش كى جاتى ہے تو كيسے مل ميسر آئے گى ؟

18/05/2026

15-5-2025خطبة جمعة، عشرة ذي الحجة، فضيلت أهميت، أعمال

15/05/2026

یومِ عرفہ کا روزہ: فضیلت، اہمیت اور وقت کا تعین
​اسلامی سال کے مہینوں میں ذوالحجہ کا مہینہ اپنی برکات کے لحاظ سے منفرد مقام رکھتا ہے، اور اس میں بھی 'یومِ عرفہ' (9 ذوالحجہ) وہ عظیم دن ہے جس کی فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
​یومِ عرفہ کی فضیلت اور احادیثِ مبارکہ
​نبی کریم ﷺ نے اس دن کے روزے کی بہت زیادہ ترغیب دلائی ہے۔ چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:
​گناہوں کا کفارہ: صحیح مسلم کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ سے یومِ عرفہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
​"یہ گزرے ہوئے ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔" (صحیح مسلم: 1162)
​جہنم سے آزادی: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
​"اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اور دن بندوں کو آگ سے آزاد نہیں فرماتا۔" (صحیح مسلم)
​روزہ کب رکھا جائے؟ (یومِ عرفہ بمقابلہ 9 ذوالحجہ)
​ایک اہم فقہی بحث یہ ہے کہ کیا یہ روزہ ہر ملک کی اپنی 9 ذوالحجہ کو رکھا جائے یا اس دن جب حجاج کرام میدانِ عرفات میں جمع ہوتے ہیں؟ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے درج ذیل نکات نہایت اہمیت کے حامل ہیں:
​1. مناطِ حکم (حکم کی بنیاد)
​نبی کریم ﷺ نے جب محرم کے روزے (عاشورہ) کا ذکر کیا تو اسے تاریخ (10 محرم) کے ساتھ جوڑا، اور یہ تاریخ ہر ملک میں اپنے چاند کے حساب سے آتی ہے۔ لیکن جب عرفہ کے روزے کا ذکر کیا، تو اسے تاریخ کے بجائے 'یومِ عرفہ' (عرفہ کا دن) سے منسوب کیا۔
​عرفہ ایک خاص جگہ کا نام ہے: عرفہ دنیا میں صرف ایک ہی جگہ ہے اور وہاں حجاج کا جمع ہونا ہی اس دن کو "یومِ عرفہ" بناتا ہے۔
​حکم کو "یومِ عرفہ" سے جوڑنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا تعلق اس عالمی اجتماع سے ہے، نہ کہ صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ سے۔
​2. تاریخ اور یومِ عرفہ کا فرق
​اگر آپ ﷺ کا مقصد صرف نو ذی الحجہ کی تاریخ ہوتی، تو آپ ﷺ اسے واضح طور پر "تاسوعاء" یا "نو ذوالحجہ" کے الفاظ سے بیان فرماتے (جیسے عاشورہ کے لیے دس تاریخ کا تعین کیا)۔ آپ ﷺ کا حکم کو یومِ عرفہ سے مربوط کرنا ایک گہری حکمت رکھتا ہے، جو اس دن کی عالمی وحدت کو ظاہر کرتا ہے۔
​3. تقدم علی اللہ و رسولہ سے اجتناب
​جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ایک حکم کو ایک خاص دن (عرفات میں وقوف کے دن) کے ساتھ جوڑ دیا ہے، تو اسے زبردستی اپنے اپنے ملک کی نو تاریخ پر منطبق کرنا "تقدم علی اللہ و رسولہ" (اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنا) کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ یہ دن تمام دنیا کے لیے ایک ہی ہے کیونکہ میدانِ عرفات دنیا میں ایک ہی مقام پر واقع ہے۔
​وقت کا فرق اور جدید استدلال
​بعض لوگ اس پر دن اور رات کے اختلاف یا بین الاقوامی خطِ وقت (Time Zone) سے استدلال کرتے ہیں۔ تاہم، یومِ عرفہ کی روحانیت اور اس کے روزے کی فضیلت اس خاص وقت سے جڑی ہے جب اللہ تعالیٰ کی رحمتیں میدانِ عرفات میں نازل ہو رہی ہوتی ہیں۔ لہٰذا، عالمی سطح پر اس ایک ہی دن کی پیروی کرنا زیادہ قرینِ قیاس اور سنت کے مقاصد کے قریب معلوم ہوتا ہے۔
​نزاع سے بچنے کا بہترین حل: عشرہ ذوالحجہ کے روزے
​دین ہمیں جوڑنے کے لیے آیا ہے، توڑنے کے لیے نہیں۔ اس علمی اختلاف کی وجہ سے آپس میں لڑنے جھگڑنے یا ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے بجائے سنت کا وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جس میں سب کا بھلا ہے:
​نو روزے رکھنا: احادیث میں ذوالحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزوں کی بہت فضیلت آئی ہے۔ نبی کریم ﷺ ذوالحجہ کے نو ایام کے روزے رکھا کرتے تھے۔
​اگر کوئی مسلمان یکم ذوالحجہ سے نو ذوالحجہ تک روزے رکھتا ہے، تو وہ تمام اختلافات سے بالاتر ہو کر 'یومِ عرفہ' کا روزہ بھی پا لیتا ہے اور عشرہ ذوالحجہ کی برکات بھی سمیٹ لیتا ہے۔
​خلاصہ کلام:
یومِ عرفہ کا روزہ اس دن رکھنا زیادہ موزوں ہے جب حجاج میدانِ عرفات میں ہوتے ہیں، کیونکہ حکم کی اصل بنیاد وہی دن اور مقام ہے۔ تاہم، احتیاط اور زیادہ ثواب کی خاطر اول ذوالحجہ سے نویں تک روزے رکھنا بہترین عمل ہے تاکہ کسی بھی شک و شبہ کے بغیر اس عظیم نعمت کو حاصل کیا جا سکے۔
تحرير: عبد اللطيف ساجد

11/05/2026

8-5-2025خطبة جمعة، سلسلة أحكام الحج، 1- اخلاص نيت اور اصلاح نيت كى أهميت اور ضرورت

11/05/2026

🌙 قربانی کی قبولیت اور عوامی جائیداد کا تحفظ: ایک اہم لمحہ فکریہ!
​عید الاضحیٰ قریب ہے اور ہم سب سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے پرجوش ہیں۔ لیکن کیا ہم نے سوچا ہے کہ جس عظیم عبادت کے لیے ہم لاکھوں روپے خرچ کر رہے ہیں، کہیں ہماری ایک چھوٹی سی غلطی اسے غارت نہ کر دے؟
​☆ کیا آپ کا جانور "چوری" کا چارہ کھا رہا ہے؟
​اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ لوگ قربانی کے جانور تو خرید لیتے ہیں، مگر ان کے چارے کے لیے پبلک پارکس، سڑکوں کے کنارے لگی ہریالی اور خوبصورتی کے لیے لگائے گئے درختوں کی ٹہنیاں بے دردی سے توڑ دیتے ہیں۔ یاد رکھیے:
​پبلک پارک عوامی ملکیت ہیں: یہ کسی ایک فرد کی جاگیر نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ پراپرٹی ہیں۔ ان کو نقصان پہنچانا "حقوق العباد" کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
​چارے کا حلال ہونا شرط ہے: جس طرح قربانی کا جانور حلال کمائی سے ہونا ضروری ہے، بالکل اسی طرح اس کے پیٹ میں جانے والا چارہ بھی حلال اور جائز طریقے سے حاصل کردہ ہونا چاہیے۔ کسی کی ملکیت یا عوامی درختوں کو نقصان پہنچا کر کھلایا گیا چارہ شرعاً ناجائز ہے۔
​☆شرعی نصوص کی روشنی میں:
​ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَالْعُدْوَانِ..}
"اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔" (سورۃ المائدہ: 2)
عوامی درختوں کو اجاڑنا صریحاً زمین میں فساد اور گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔
​فرمانِ رسول اللہ ﷺ ہے:
"المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده"
"مسلم وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (بخاری و مسلم)
کیا ہمارے ہاتھ سے ٹوٹنے والی ٹہنیاں اور اجڑتے ہوئے پارکس دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث نہیں؟
​⚠️ قربانی کے ضائع ہونے کا اندیشہ!
​علمائے کرام فرماتے ہیں کہ عبادت کی قبولیت کے لیے تقویٰ شرط ہے۔ اگر ہم ایک طرف اللہ کی راہ میں خون بہا رہے ہیں اور دوسری طرف اسی اللہ کے بندوں کا حق مار رہے ہیں یا سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، تو ایسی قربانی کی روح زخمی ہو جاتی ہے۔
​درخت صدقہ جاریہ ہیں: نبی کریم ﷺ نے شجرکاری کی ترغیب دی ہے۔ ان درختوں کو کاٹنا گویا ایک جاری رہنے والے صدقے کو تباہ کرنا ہے۔
​خوبصورتی کو نہ اجاڑیں: عید تک شہر کے پارکس اور ہریالی کو ویران کر دینا اسلامی تہذیب کے بالکل خلاف ہے۔
​✅ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
​اپنے جانور کے لیے چارے کا انتظام پہلے سے خرید کر کریں۔
​گلی محلوں اور پارکس کے درختوں کی حفاظت کریں۔
​اگر کسی کو ایسا کرتے دیکھیں تو اسے پیار سے روکیں کہ "بھائی! حرام چارے سے قربانی کا ثواب خطرے میں نہ ڈالیں"۔
​آئیے عہد کریں! ہم اپنی قربانی کو ہر قسم کی آلودگی اور غصب (دوسرے کا حق مارنے) سے پاک رکھیں گے۔
​اس پیغام کو صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئر کریں تاکہ ہماری قربانی مکمل طور پر اللہ کی رضا کا ذریعہ بنے۔
تحرير: عبد اللطيف ساجد
​ #قربانی

09/05/2026

قرض بھی... اور فرض بھی! 💔
​جب ہم چھوٹے تھے، ہماری کتنی ہی ضدیں، کتنی ہی بدتمیزیاں اور ہٹ دھرمیاں ہمارے والدین نے ہنس کر برداشت کیں۔ ہم نے ان کے کپڑے خراب کیے، ان کی نیندیں حرام کیں، ان کے سکون کو غارت کیا، مگر انہوں نے کبھی ماتھے پر بل نہیں لایا۔ وہ صرف ایک جملہ کہہ کر مسکرا دیتے تھے: "بچہ ہے، ناسمجھ ہے!"
​آج ہم جوان ہوئے تو وہ بوڑھے ہو گئے۔ قدرت کا اصول ہے کہ جس کو لمبی عمر دی جائے، وہ دوبارہ بچپن کی حالت کی طرف لوٹ جاتا ہے:
​"وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ..."
(اور جسے ہم لمبی عمر دیتے ہیں، اسے تخلیق میں اوندھا کر دیتے ہیں یعنی دوبارہ بچہ بنا دیتے ہیں۔)
​آج اگر ان کا ہاتھ کانپتا ہے، اگر وہ ایک بات دس بار پوچھتے ہیں، اگر وہ کسی بات پر بچگانہ ضد کرتے ہیں... تو کیا ہمارا رویہ وہی ہے جو ان کا ہمارے بچپن میں تھا؟
​ذرا سوچیے!
والدین نے ہماری پرورش کسی "احسان" کے بدلے میں نہیں کی تھی۔ انہوں نے ہمیں پالتے وقت یہ نہیں سوچا تھا کہ ہم نے ان پر کوئی نیکی کی ہے اس لیے وہ ہم پر مہربان ہیں۔ وہ تو ایک بے غرض، خالص اور خدائی محبت تھی۔
​لیکن آج ہماری باری ہے تو ہم پر تو ان کے احسانات کا بوجھ ہے۔ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ بھی کچھ ہو سکتا ہے؟
​"هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ"
​کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے بوڑھے والدین کی "بچپنے والی معصوم حرکتوں" پر چڑ جاتے ہیں، جو انہیں بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ یاد رکھیں! آپ کی جنت آپ کے گھر کے ایک کونے میں، ایک نحیف سی آواز اور تھرتھراتے ہاتھوں کی صورت میں موجود ہے۔
​کاش ہم سمجھ سکیں کہ کل ہم نے بھی اسی دہلیز پر دستک دینی ہے۔ آج اپنے والدین کے قدموں کو تھام لیں، ان کی پیشانی کو چومیں، اس سے پہلے کہ وہ مٹی کی چادر اوڑھ کر ہمیں اکیلا چھوڑ جائیں۔
​خدا کے لیے! انہیں وہ "بچپن" لوٹا دیں جو انہوں نے آپ کی خاطر قربان کر دیا تھا۔
​"والدین کا بچپن ان کی جوانی کی قربانیوں کے بعد آتا ہے، اسے 'بوجھ' نہیں 'برکت' سمجھیں۔"
​"وہ باپ جو کبھی تمہاری انگلیاں پکڑ کر چلنا سکھاتا تھا، آج اگر تمہارے سہارے کا طالب ہے تو یہ تمہارے لیے امتحان نہیں، جنت پانے کا شارٹ کٹ ہے۔"
​"جس طرح انہوں نے تمہاری نادانیوں کو 'بچپن' کہہ کر معاف کیا، تم بھی ان کی کمزوریوں کو 'بچپن' سمجھ کر گلے لگا لو۔"
​اللّٰہ پاک ہم سب کو اپنے والدین کا فرمانبردار بنائے اور ان کا سایہ سلامت رکھے۔ آمین۔

Address

H-9/3 Islamabad
Islamabad
44100

Telephone

+923335143155

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Masjid Imam Nasai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share