Masjid Imam Nasai

Masjid Imam Nasai Masjid Imam Nasai is an Islamic Center in H-9/3 Islamabad.

13/03/2026

خطبہ جمعة 13 مارچ2026 بمطابق23 رمضان1447ھ موضوع رمضان المبارک كا صبر و دعاء كے ساتھ تعلق۔

08/03/2026
07/03/2026

پٹرول 55 روپے بڑھنے پر سب سے زیادہ وہ لوگ آگ بگولہ ہو رہے ہیں جو ہر وقت طعنہ دیتے ہیں کہ پاکستان اسرائیل پر حملہ کیوں نہیں کرتا؟
پاکستان امریکہ سے ٹکر کیوں نہیں لے رہا؟
فوج ایران کے دفاع کا کھلم کھلا اعلان کیوں نہیں کر رہی؟
یہ سارے عسکری ماہرین اور امت کا درد رکھنے والے لوگ 55 روپے برداشت نہیں کر پا رہے،،،،،حالانکہ جنگیں تو لہو مانگتی ہیں،،،، قربانیاں چاہتی ہیں،،،،، تب جا کر فتح نصیب ہوتی ہے۔
بات سمجھ آئی؟؟
جذبات الگ چیز ہیں اور حقیقت کا سامنا کرنا اور اس سے بصیرت و بصارت کے ساتھ نمٹنا ایک الگ حکمتِ عملی چاہتا ہے۔
نوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔پٹرول کی قیمت بڑھنے سے ھمیں بھی اتنی ھی تکلیف کاسامنا ھے جتنا ان لوگوں کومگرواویلا اس لئے نہیں کہ جنگ میں حالات بھی جنگی ھی ھوتے ھیں
ڈاکٹر عبد الوحید صاحب کے پیج سے منقول

07/03/2026

خطبہ جمعة 6 مارچ2026 بمطابق 16 رمضان1447ھ موضوع رمضان المبارک كے آخرى عشرے كى آمد آمد اور اس کی فضیلت۔

06/03/2026

‏زمانہ قدیم کی بات نہیں بس یہی دو دہائیاں پیچھے تلک رمضان کا مہینہ عجب مگر مانوس رونق لیے آیا کرتا تھا۔ گلیوں میں سحری کے وقت خوب رونق ہوتی تھی اور افطار کے وقت گھروں میں سادگی کی چاپ۔ ناچ گانا رضاکارانہ بند ہو جاتا تھا۔اشتہارات محدود اور عبادت نمایاں ہو جاتی تھی۔اب رمضان آتا نہیں اب رمضان ریسٹورانٹس تا ٹی وی چینلز کمرشل برانڈنگ میں لانچ ہوتا ہے۔

پہلے بزرگ اسے سالانہ تربیتی ورکشاپ کہتے تھے۔ نفس کی تربیت، خواہشات کی تراش خراش، دل کی صفائی اور روح کی بھرائی۔ بھوک اس لیے رکھی جاتی تھی کہ دوسرے کی بھوک سمجھ میں آئے۔ پیاس اس لیے سہی جاتی تھی کہ کسی اور کی پیاس کا احساس پیدا ہو۔اب لگتا ہے کہ رمضان دراصل کیلوریز جمع کرنے اور کاروباری منافع بڑھانے کا نام ہے۔ سحر سے پہلے معدے کو ایسے بھرا جاتا ہے جیسے پورا دن نہیں گزارنا بلکہ پورا سال قحط پڑنے والا ہو۔ افطار ایسے کی جاتی ہے جیسے روزہ نہیں کھولنا غذا سے مقابلہ کرنا ہے ۔ تزکیہ نفس کم، بندوبست زیادہ۔

بزرگ بتایا کرتے تھے کہ رمضان میں شیطان قید ہو جاتا ہے تاکہ انسان اپنی اصل آزمائش میں کامیاب ہو۔ اب لگتا ہے کہ شیطان قید تو ہے مگر ٹی وی کے کھانچے میں اور اشتہاری وقفوں میں، مذہبی پروگراموں میں عالمانہ سوانگ بھرتا ہے اور ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ تزکیۂ نفس اور نفسا نفسی میں زیادہ فرق نہیں۔

پہلے متوسط گھروں میں افطار یوں تیار ہوتی تھی کہ آدھی خاموشی سے ہمسائے کے دروازے تک پہنچ جائے۔ در کھٹکھٹانے والا ضرورت مند خالی نہ لوٹے۔ بچوں کو سمجھایا جاتا تھا کہ شریف لوگ گھر یا مسجد میں روزہ کھولتے ہیں۔اب روزہ رکھنے کا بنیادی مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی ریسٹورنٹ میں کھولا جائے۔ افطار پارٹیوں کی چمک دمک میں جتنے متمول چہرے، اتنی واہ واہ۔ نادار چہرے موڈ خراب کر دیتے ہیں اس لیے انہیں ہوٹل سے باہر رکھا جاتا ہے۔

تراویح کبھی قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر سننے کا سالانہ موقع ہوتی تھی۔ امام صاحب کی قرأت لفظ کی ادائیگی اور مفہوم کے ادراک کا ذریعہ بنتی تھی۔ اب “وقت ہی قیمت ہے” کے اصول پر تیز رفتار تراویح ہوتی ہے۔ قاری صاحب بلٹ ٹرین کی طرح گزرتے جاتے ہیں۔ مقتدی کو سمجھ آئے یا نہ آئے، تراویح تو ہو جاتی ہے۔باقی قرآن کو پھر کبھی دیکھ لیں گے۔

اعتکاف بھی کبھی خاموش عبادت کا نام تھا۔ جس مسجد میں جگہ ملی وہیں بیٹھ گئے۔ اب ایگزیکٹو اور وی وی آئی پی اعتکاف کا دور ہے۔ آخری عشرے میں ٹریول ایجنٹس کے فون بند نہیں ہوتے۔لوکیشن زیادہ اہم ہے۔ مسجدِ نبوی میں بیٹھ کر بھی خدا کو کم اور سوشل میڈیا کو زیادہ وقت دیا جاتا ہے۔ اعتکافی سیلفیاں اور سٹیٹس اپ ڈیٹس گواہ ہیں کہ ہم عبادت بھی شیئرنگ کے بغیر مکمل نہیں سمجھتے۔پہلے ان حرکتوں کو ریاکاری کہا جاتا تھا اب اسے کچھ نہیں کہا جاتا۔پہلے افطار کے دسترخوان کی تصویر کھینچنا بے ادبی اور شوہدا پن سمجھا جاتا تھا۔ اب تصویر نہ ہو تو افطار ادھوری محسوس ہوتی ہے۔

مگر بے شمار مسلمان اب بھی خاموشی سے خیرات و اعتکاف و انتیس یا تیس روزہ تراویح پر یقین رکھتے ہیں۔ عباداتی اشتہار بازی سے کوسوں دور یہی تو لوگ ہیں جو رمضان کی آبرو ہیں۔ اب بھی کئی لوگ ایسے ہیں جو خاموشی سے خیرات کرتے ہیں۔ اب بھی کہیں کوئی گھر ایسا ہے جہاں افطار کی پلیٹ چپ چاپ ہمسائے تک پہنچتی ہے۔ اب بھی کوئی مسجد ایسی ہے جہاں تراویح میں لفظ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب بھی کوئی اعتکاف ایسا ہے جہاں موبائل فون بند رہتا ہے۔ اب بھی کچھ لوگ ہیں جو ریاکاری سے دور عبادت میں مگن سارا ماہ گزار دیتے ہیں۔ یہی وہ ستون ہیں جن پر نظامِ کائنات ٹکا ہوا ہے اور انہی کے ہونے سے ابھی صورِ اسرافیل پھونک کر نظام کو لپیٹنے کا وقت نہیں آیا۔ایسوں کے بارے احمد نوید کا شعر ہے

کیا فقر ہے کہ نانِ جویں توڑتے ہوئے
لرزے جو اُس کا ہاتھ، لرز جائے کائنات

منقول

05/03/2026

بسم الله الرحمن الرحیم

فزکس کا ایک سخت اصول ہے
انرجی کبھی ختم نہیں ہوتی

لیکن غلط جگہ لگ جائے تو ضائع محسوس ہوتی ہے۔
جب کوئی مشین زیادہ گرم ہو جائے
جب رگڑ حد سے بڑھ جائے
جب سسٹم درست نہ ہو تو دی گئی انرجی آگے بڑھنے کے بجائے
حرارت ، شور اور تھکن بن جاتی ہے
زندگی میں بھی یہی ہوتا ہے
بہت سے لوگ دن رات محنت کرتے ہیں
لیکن پھر بھی آگے نہیں بڑھ پاتے
کیوں؟
کیونکہ ان کی انرجی ضائع ہو رہی ہوتی ہے
غلط لوگوں کو خوش کرنے میں
بے مقصد بحثوں میں
اوور تھنکنگ میں
ہر چیز ایک ساتھ کرنے میں
یہ سب انرجی لاس ہے۔
آپ تھکے ہوتے ہیں لیکن مطمئن نہیں ہوتے۔ مصروف ہوتے ہیں لیکن نتیجہ نہیں نکلتا
فزکس ہمیں سکھاتی ہے بہترین سسٹمز وہ ہوتے ہیں
جہاں انرجی لاس کم سے کم ہو
زندگی میں اس کا مطلب ہے
واضح ترجیحات
غیر ضروری چیزوں کو “نہیں” کہنا
اپنی حدیں مقرر کرنا
اور ایک وقت میں ایک سمت میں چلنا
یاد رکھیں: کم انرجی کے ساتھ مستقل آگے بڑھنا
زیادہ انرجی کے ساتھ بھٹکنے سے بہتر ہے
اگر آج آپ کو لگتا ہے
“میں سب کچھ کر رہا ہوں پھر بھی کچھ نہیں ہو رہا ”
تو مسئلہ آپ کی محنت نہیں، مسئلہ انرجی کے بہاؤ کا ہے
انرجی درست سمت میں ڈالیں
نتائج خود بننے لگتے ہیں۔
محترم محمد اشرف آزاد صاحب کی پوسٹ سے منقول

01/03/2026

سنن ابی داؤد کی قراءۃ کے دوران ہمارے شیخ ٬ استاذ گرامی ابو سیف حافظ جمیل احمد حفظہ اللہ نے یہ واقعہ بیان کیا:کسی شخص نے محدث گوندلوی رحمہ اللہ سے پوچھا:ہمیں جب کوئی علمی مشکل آتی ہے تو ہم رہنمائی کے لیے آپ کے پاس چلے آتے ہیں۔ لیکن آپ کو جب کسی مسئلے میں مشکل پیش آتی ہے تو آپ کیا کرتے ہے ؟ محدث گوندلوی رحمہ اللہ نے فرمایا:میں اس دعا کا کثرت سے اہتمام کرتا ہوں:
اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ ؛ إِنَّكَ أَنْتَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ".

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:ایک مفتی کو کثرت سے اس دعا کا اہتمام کرنا چاہیے ٬ ساتھ فرماتے ہیں: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اسے کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔(أعلام الموقعين ١٩٨/٤)

✍️حافظ عبدالرحمن المعلمي
بشكریہ جناب الشیخ عطاء الرحمن صاحب حفظہ اللہ

20/02/2026

خطبہ جمعة 20 فروري 2026 بمطابقق 2 رمضان1447ھ موضوع رمضان المبارك كے روزوں كى فضيلت مگر كن كے ليئے ؟؟؟

15/02/2026

خطبہ جمعة 13 فروري 2026 بمطابقق 24 شعبان 1447ھ موضوع استقبال رمضان المبارك

اگر کتا تمہیں اپنی بھونکنے کی آواز کے سوا کوئی نقصان نہ پہنچا سکے، تو اسے قیامت کے دن تک بھونکنے کے لیے چھوڑ دو۔1- کم ظر...
07/02/2026

اگر کتا تمہیں اپنی بھونکنے کی آواز کے سوا کوئی نقصان نہ پہنچا سکے، تو اسے قیامت کے دن تک بھونکنے کے لیے چھوڑ دو۔
1- کم ظرف لوگوں کی باتوں پر توجہ دینے کے بجائے انہیں نظر انداز کریں اور سکون سے اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں، یہی دانشمندی ہے!
2- اگر کوئی شخص آپ کو صرف زبان سے برا بھلا کہتا ہے یا آپ پر تنقید کرتا ہے لیکن وہ آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا، تو اس سے الجھنا اپنا وقت ضائع کرنا ہے۔
3- شور مچانے والوں کو جواب دینے کے بجائے اپنی راہ پر چلتے رہنا ہی اصل کامیابی ہے، ان کے لیے آپ کی خاموشی بہترین جواب ہے!
منقول محترم الاخ الفاضل ظھیر شگری کی پوسٹ۔۔۔

14/11/2025

14-نومبر2025،خطبه جمعة ، موضوع؛ يهودي تاريخ كے آئينہ ميں، قسط 4

Address

H-9/3 Islamabad
Islamabad
44100

Telephone

+923335143155

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Masjid Imam Nasai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share