Masjid Imam Nasai

Call Directions

Masjid Imam Nasai Masjid Imam Nasai is an Islamic Center in H-9/3 Islamabad.

23/09/2026

علم کی ایک شمع جلانے میں ہمارا ساتھ دیں!

مسجد امام نسائیؒ، اسلام آباد میں ایک اسلامی لائبریری کی تعمیر کا منصوبہ زیرِ تکمیل ہے۔
ایسی لائبریری جہاں
● قرآن و علومِ قرآن کی کتب ہوں
●حدیث و علومِ حدیث کا علمی ذخیرہ ہو
●طلبۂ علومِ اسلامیہ اور تشنگانِ علم استفادہ کریں
●درسِ قرآن اور درسِ حدیث کی کلاسز منعقد ہوں
●نئی نسل کے لیے مطالعہ، تحقیق اور دینی رہنمائی کا مستقل مرکز قائم ہو
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ...»
(صحیح مسلم)
آپ کا آج کا تعاون، کل کسی طالبِ علم کے علم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ایک کتاب…
ایک کرسی…
ایک الماری…
ایک اینٹ…
یا اپنی استطاعت کے مطابق کوئی بھی تعاون کیجیئے۔
ممکن ہے آپ کا دیا ہوا یہی معمولی سا حصہ علمِ نافع اور صدقۂ جاریہ کا ذریعہ بن جائے۔
آئیے! اس علمی مرکز کی تکمیل میں اپنا حصہ شامل کریں۔
زرِ تعاون و ڈونیشن کے لیئے:
اکاؤنٹ نمبر
57340010009909540010
IBAN
PK09ABPA0010009909540010
/ایزی پیسہ:
03335143155
رابطہ:
ڈاکٹر عبد اللطیف ساجد۔
جنرل سیکرٹری
03335143155

📢 اس پیغام کو آگے پہنچائیں۔
ہو سکتا ہے آپ کی ایک شیئر کسی دوسرے شخص کو اس کارِ خیر میں حصہ لینے کا ذریعہ بن جائے۔

مسجد امام نسائیؒ، اسلام آباد
علم کی شمع — نسلوں کے لیے روشنی

25/08/2026

ھمارا یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ساتھ شیئر کر کے اجر میں حصہ دار بنیں۔
🕌مسجد کی تعمیر و مرمت — آپ کے تعاون کی منتظر
اسلام آباد، سیکٹر ایچ نائن تھری، مسجد امام نسائی، جہاں سجدے ہوتے ہیں، قرآن پڑھا جاتا ہے، علم بانٹا جاتا ہے اور دل اللہ سے جڑتے ہیں۔
لیکن اس وقت ہماری مسجد آپ کی توجہ اور تعاون کی شدید محتاج ہے۔
●کئی سالوں سے مسجد کی چھت لیک ہے۔ بارش کے دنوں میں پانی ٹپکتا ہے اور مسجد کے اندرونی حصے، کتابوں اور دیگر سامان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے۔
لیکج کی وجہ سے اکثر لوگ ٹپکتی ھوئی چھت کے نیچے ھی نماز ادا کرنے پر مجبور ھوتے ھیں۔
●اسی کے ساتھ مسجد میں ایک مناسب لائبریری کی اشد ضرورت ہے، جہاں قرآن و حدیث، فقہ، سیرت اور اسلامی علوم کی کتابیں جمع کی جائیں اور طلبہ، ائمہ، خطباء اور عام نمازیوں کے لیے علم حاصل کرنے کا ایک مستقل مرکز قائم ہو۔
●مزید یہ کہ خطیب و امام کی رہائش گاہ کی تعمیر بھی ناگزیر ہے، تاکہ مسجد کا امام دین کی تعلیم و ترویج، لوگوں کے دینی مسائل کے حل کے لیئے اور یکسوئی کے ساتھ مسجد، نمازیوں اور دینی و تعلیمی خدمات کے لیے اپنا وقت وقف کر سکے۔
🌿 یہ صرف تعمیر نہیں… صدقۂ جاریہ ہے
ذرا سوچئے!
آپ کے دیے ہوئے ایک ایک روپے سے اگر ●مسجد کی چھت محفوظ ہوتی ہے،
●کوئی شخص قرآن پڑھتا ہے،
●کوئی طالب علم حدیث کی کتاب سے علم حاصل کرتا ہے،
●کوئی نمازی سکون سے نماز ادا کرتا ہے،
●اور کوئی مسلمان دین کی بات سیکھ کر اپنی زندگی بدل لیتا ہے…
تو اس نیکی میں آپ کا حصہ بھی شامل ہوگا، ان شاء اللہ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ»
"جس شخص نے اللہ کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناتا ہے۔"
🤲 آئیے! اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالیں
یہ مسجد آپ کی بھی مسجد ہے۔
اس کی چھت کی مرمت،
اس کی لائبریری کی تعمیر،
اور امام و خطیب کی رہائش گاہ کا قیام—
یہ سب آپ کے تعاون کے منتظر ہیں۔
ضروری نہیں کہ آپ پوری تعمیر کا خرچ اٹھائیں۔
آپ جتنا آسانی سے دے سکتے ہیں، اتنا ہی دے دیں۔
کسی کا ایک ہزار، کسی کے دس ہزار، کسی کے پچاس ہزار، اور کسی کا ایک لاکھ…
اللہ کے ہاں رقم کی بڑائی نہیں، نیت کی قدر ہوتی ہے۔
آج آپ کا دیا ہوا مال ایک تعمیر میں لگے گا،
کل وہی تعمیر آپ کے لیے اجر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
آئیے، مسجد کو صرف آج کے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے آباد کریں۔
🌹 آپ کا تعاون — آپ کے لیے صدقۂ جاریہ
اللہ تعالیٰ آپ کے مال، جان، اولاد اور کاروبار میں برکت عطا فرمائے، آپ کی مشکلات آسان فرمائے اور آپ کے اس تعاون کو دنیا و آخرت میں آپ کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے۔ آمین۔
مسجد کی تعمیر و مرمت کے اس مقدس کام میں اپنا حصہ ضرور شامل کیجیے۔
رابطہ / چندہ جمع کروانے کی تفصیلات:
ڈاکٹر عبد اللطیف ساجد، جنرل سیکیرٹری مسجد ھذا۔
موبائل نمبر:03335143155
جناب حافظ عبد الجلیل صاحب، صدر و خزانچی مسجد ھذا:۔
موبائل نمبر: 03334242911
جناب ملک محمد جواد صاحب، رکن کمیٹی مسجد ھذا:۔
موبائل نمبر: 03335642174

20/08/2026

پريشانيوں اور خطرات ميں انسانى رويئے
خطرات اور پریشانیوں سے بچنے کے لحاظ سے انسانوں کی 4 اقسام.
دنیا اس وقت سیاسی، معاشی، جنگی اور قدرتی آفات کے شدید بین الاقوامی بحرانوں کی زد میں ہے۔ عالمی تبدیلیاں ہوں یا ہماری ذاتی زندگی کے مسائل، ان خطرات سے نپٹنے اور خود کو محفوظ رکھنے کے لحاظ سے انسانوں کو بنیادی طور پر 4 اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1- پہلی قسم: بصیرت رکھنے والے (اولیاء اللہ اور صاحبِ ایمان)
یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالی کی دی ہوئی صلاحیتوں (آنکھ، کان، عقل اور باطنی بصیرت) کو استعمال کرتے ہوئے آنے والے خطرات کو پہلے ہی محسوس کر لیتے ہیں اور قبل از وقت تدارک کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے حواس کو صراطِ مستقیم پر چلا دیتا ہے۔
حدیث قدسی میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ قَالَ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ"(صحیح بخاری)
> ترجمہ: "اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہوں... اور جب میں اپنے بندے سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور دیتا ہوں، اور پناہ مانگے تو پناہ دیتا ہوں..."
عالمی تناظر:
الله والے یہ لوگ عالمی بحرانوں (مثلاً جنگوں، معاشی کساد بازاری یا وبائی امراض) کے دور میں افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے بصیرت اور تقویٰ کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں، جس سے ان کے لیے مشکلات سہنا آسان ہو جاتا ہے۔
2- دوسری قسم: دوسروں کی غلطیوں سے سیکھنے والے (عقل مند و دانا)
یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں پر گزرے حالات سے سبق حاصل کرتے ہیں اور خود کو کسی بڑی تباہی سے بچا لیتے ہیں۔ قرآن کریم نے گزری ہوئی امتوں کے احوال اور ان کی ہلاکت کے اسباب اسی لیے بیان فرمائے ہیں تاکہ ہم ان سے عبرت حاصل کریں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ" (سورة الحشر: 2)
ترجمہ: "پس اے بصیرت رکھنے والو! عبرت حاصل کرو۔"
عالمی تناظر:
عقلمند اقوام اور افراد وہ ہیں جو دوسرے ممالک کے معاشی زوال، سیاسی بدامنی یا جنگی تباہ کاریوں کو دیکھ کر اپنے رویوں اور پالیسیوں کی اصلاح کر لیتے ہیں، دوست اور دشمن كى خوب پہچان كرليتے ہيں اور خود کو اسی آگ میں جلنے سے بچاتے ہیں۔
3- تیسری قسم: اپنے تجربات سے سیکھنے والے (متنبہ ہونے والے)
یہ وہ لوگ ہیں جو خود پر پڑنے والی کسی مصیبت یا نقصان کے بعد بیدار ہوتے ہیں اور آئندہ کے لیے ان اسباب سے دور رہتے ہیں جو مشکلات کا باعث بنے تھے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ" (سورة السجدة: 21)
ترجمہ: "اور ہم انہیں بڑے عذاب (آخرت) سے پہلے چھوٹے عذاب (دنیا کی تکالیف) کا مزہ ضرور چکھائیں گے تاکہ وہ (ہماری طرف) لوٹ آئیں۔"
عالمی تناظر:
جب انسان یا قوم کسی زلزلے، معاشی جھٹکے یا باہمی اختلاف کا شکار ہوتی ہے تو یہ دراصل اللہ کی طرف سے ایک چھوٹا تنبیہی اشارہ ہوتا ہے تاکہ وہ سنبھل جائے اور بڑی تباہی سے بچ جائے۔
4- چوتھی قسم: بے حس اور غافل لوگ (حیوانوں سے بھی بدتر)
یہ وہ لوگ ہیں جو دل کے اندھے ہوتے ہیں۔ منطق، لاجک، دوسروں کا انجام اور خود پر پڑنے والی آفتیں بھی انہیں بیدار نہیں کر پاتیں۔ ان كا خيال ہوتا ہے كہ لوگ تو مرجاتے ہيں ميں نے كہاں مرنا ہيں ؟، دوسرے تو تباہ ہو گئے ہيں ميں تباہ نہيں ہوسكتا، ایسے لوگ انسانیت کے درجے سے گر کر چوپائے بن جاتے ہیں۔ بلكہ حيوانوں سے بھى گرے ہوئے اور عقل سے مكمل تہى دامن ہوتے ہيں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ" (سورة الأعراف: 179)
ترجمہ: "اور ہم نے جنوں اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں؛ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سمجھتے نہیں، آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں، اور کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ چوپایوں(حيوانوں اور جانوروں) کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بہكے ہوئے ہیں، یہی لوگ غافل ہیں۔"
نیز فرمایا:
"أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا" (سورة الفرقان: 44)
ترجمہ: "کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ یہ تو بس چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ راستے سے اس سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔"
عالمی تناظر:
آج کا جدید انسان تمام تر ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کے باوجود عالمی جنگوں کے خطرات اور اخلاقی تنزلی کو دیکھ کر بھی سبق نہیں سیکھ رہا، جو کھلم کھلا غفلت کی علامت ہے۔
بہت ہى اہم اور فکر انگیز سوال:
اپنى ذاتى زندگى كے حالات اور موجودہ عالمی حالت، بحرانوں کو سامنے رکھتے ہوئے ذرا سوچیے... ہمارا ان چار اقسام ميں سے كس قسم ميں شمار ہوتاہے ؟
اللہ تعالیٰ ہمیں صاحبِ بصیرت بنائے اور عبرت حاصل کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ (آمین)
تحرير/ عبد اللطيف ساجد

#بصیرت


#تربیت

01/08/2026

خبردار/ محتاط
​🚨 نسلِ نو (Gen Z) کے نام ایک اہم ترین تنبیہ! 🚨
​مصنوعی ذہانت (AI) اور مستقبل کے افکار پر نادیدہ حملہ
​عصرِ حاضر میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال محض ایک سہولت نہیں بلکہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جس ٹیکنالوجی سے ہم معلومات حاصل کر رہے ہیں، اس کا باطن کتنا شفاف ہے؟
​مستقبل قریب میں دینی، مذہبی اور تاریخی حقائق کو انتہائی چالاکی کے ساتھ آلودہ اور زہر آلود کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر (خاص طور پر صیہونی اور اسلام مخالف لابیوں کی جانب سے) لاکھوں ایسی ویب سائٹس اور ڈیٹا بیس تیار کیے جا چکے ہیں جو AI کو مسخ شدہ، جھوٹی اور من گھڑت معلومات فیڈ (Feed) کر رہے ہیں۔
​مقصد بالکل واضح ہے:
آنے والی نسلوں کی فکر اور ذہنی ساخت کو بدلنا، حق کو باطل اور باطل کو حق، ظلم کو عدل اور عدل کو ظلم ثابت کرنا، اور حقائق کو مسخ کر کے مظلوم کو مجرم اور ظالم کو معصوم بنا کر پیش کرنا۔
​🛡️ ہمیں کیا کرنا ہوگا؟ (Action Plan)
​اگر ہم نے AI پر اندھا اعتماد شروع کر دیا اور خود تحقیق کی عادت چھوڑ دی، تو یہ انسانیت کی فکری تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ اس لیے چند باتوں پر عمل انتہائی ضروری ہے:
●​تخصص (Field of Expertise) کے مطابق استعمال:
مصنوعی ذھانت (AI) کو صرف اپنے متعلقہ شعبے یا تخصص کے مطابق استعمال کریں تاکہ آپ اس کی دی ہوئی معلومات کا علمی اور تحقيقي جائزہ (Re-check) لے سکیں۔
​اندھے اعتماد کی بجائے تحقیق (Research vs Dependency):
مصنوعی ذھانت(AI) کے فراہم کردہ مواد پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اس کی اصل ماخذ سے تصدیق کریں۔
​مصنوعی ذھانت (AI) کی اصلاح اور درست ڈیٹا کی فیڈنگ:
جہاں بھی AI آپ کو دینی یا تاریخی غلط معلومات دے، خاموش نہ رہیں! اسے متنبہ (Prompt) کریں، غلطی کی نشاندہی کریں اور درست حقائق و مستند حوالاجات فیڈ کریں۔
​ٹیکنالوجی میں مہارت اور دانشمندی:
اے آئی (AI) کا بائیکاٹ حل نہیں، بلکہ اس میں کامل مہارت حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ہم باطل بیانیے کا مقابلہ انہی کے ہتھیار سے علمی میدان میں کر سکیں۔
​💡 یاد رکھیے!
اگر اجالے پھیلانے والے خاموش ہو جائیں، تو تاریکی کو سچ مان لیا جاتا ہے۔ اپنی سوچ کو بیدار رکھیے اور AI کو بطورِ خادم استعمال کریں، اپنا آقا نہ بننے دیں!
نسل نو کی اصلاح اور انسانیت کی خیر خواھی کے جذبے سے، صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئر کریں، اور اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پھیلائیں، آپ کے لیئے باعث اجر و ثواب ھوگا۔
تحریر: عبد اللطیف ساجد
​

01/08/2026

خبردار/ محتاط
​🚨 نسلِ نو (Gen Z) کے نام ایک اہم ترین تنبیہ! 🚨
​مصنوعی ذہانت (AI) اور مستقبل کے افکار پر نادیدہ حملہ
​عصرِ حاضر میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال محض ایک سہولت نہیں بلکہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جس ٹیکنالوجی سے ہم معلومات حاصل کر رہے ہیں، اس کا باطن کتنا شفاف ہے؟
​مستقبل قریب میں دینی، مذہبی اور تاریخی حقائق کو انتہائی چالاکی کے ساتھ آلودہ اور زہر آلود کیا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر (خاص طور پر صیہونی اور اسلام مخالف لابیوں کی جانب سے) لاکھوں ایسی ویب سائٹس اور ڈیٹا بیس تیار کیے جا چکے ہیں جو AI کو مسخ شدہ، جھوٹی اور من گھڑت معلومات فیڈ (Feed) کر رہے ہیں۔
​مقصد بالکل واضح ہے:
آنے والی نسلوں کی فکر اور ذہنی ساخت کو بدلنا، حق کو باطل اور باطل کو حق، ظلم کو عدل اور عدل کو ظلم ثابت کرنا، اور حقائق کو مسخ کر کے مظلوم کو مجرم اور ظالم کو معصوم بنا کر پیش کرنا۔
​🛡️ ہمیں کیا کرنا ہوگا؟ (Action Plan)
​اگر ہم نے AI پر اندھا اعتماد شروع کر دیا اور خود تحقیق کی عادت چھوڑ دی، تو یہ انسانیت کی فکری تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ اس لیے چند باتوں پر عمل انتہائی ضروری ہے:
●​تخصص (Field of Expertise) کے مطابق استعمال:
مصنوعی ذھانت (AI) کو صرف اپنے متعلقہ شعبے یا تخصص کے مطابق استعمال کریں تاکہ آپ اس کی دی ہوئی معلومات کا علمی اور تحقيقي جائزہ (Re-check) لے سکیں۔
​اندھے اعتماد کی بجائے تحقیق (Research vs Dependency):
مصنوعی ذھانت(AI) کے فراہم کردہ مواد پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اس کی اصل ماخذ سے تصدیق کریں۔
​مصنوعی ذھانت (AI) کی اصلاح اور درست ڈیٹا کی فیڈنگ:
جہاں بھی AI آپ کو دینی یا تاریخی غلط معلومات دے، خاموش نہ رہیں! اسے متنبہ (Prompt) کریں، غلطی کی نشاندہی کریں اور درست حقائق و مستند حوالاجات فیڈ کریں۔
​ٹیکنالوجی میں مہارت اور دانشمندی:
اے آئی (AI) کا بائیکاٹ حل نہیں، بلکہ اس میں کامل مہارت حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ہم باطل بیانیے کا مقابلہ انہی کے ہتھیار سے علمی میدان میں کر سکیں۔
​💡 یاد رکھیے!
اگر اجالے پھیلانے والے خاموش ہو جائیں، تو تاریکی کو سچ مان لیا جاتا ہے۔ اپنی سوچ کو بیدار رکھیے اور AI کو بطورِ خادم استعمال کریں، اپنا آقا نہ بننے دیں!
تحریر: عبد اللطیف ساجد
​

12/07/2026
احرام باندھنے کے مقامات، جہاں سے بغیر احرام باندھے گذرنا جائز نہیں۔حج اور عمرہ کے مقدس سفر پر جانے والوں کے لیئے راہنما ...
12/07/2026

احرام باندھنے کے مقامات، جہاں سے بغیر احرام باندھے گذرنا جائز نہیں۔
حج اور عمرہ کے مقدس سفر پر جانے والوں کے لیئے راہنما تحریر۔
محترم المقام جناب الشیخ عبد الصبور، مدینہ۔

میقات: لغوی، شرعی مفہوم اور اسلامی اہمیت

میقات عربی زبان کا ایک جامع اور اہم شرعی لفظ ہے، جو اپنے اندر وقت، مقام اور حدود کے معنی سموئے ہوئے ہے۔ یہ لفظ (و، ق، ت) سے نکلا ہے اور اسمِ ظرف ہے، جو مِفعال کے وزن پر آتا ہے۔ اصل لفظ مِوْقَات تھا، لیکن قواعدِ صرف کے مطابق واو، ماقبل کے کسرہ کی وجہ سے یاء سے بدل گئی اور میقات بن گیا۔
لغت میں میقات کے معنی ہیں: مقرر وقت، مقرر جگہ یا متعین حد؛ یعنی وہ وقت یا مقام جسے کسی خاص مقصد کے لیے مقرر کر دیا گیا ہو۔

قرآن کریم میں یہ لفظ مختلف مقامات پر وقت اور مقررہ حدود کے معنی میں استعمال ہوا ہے، مثلاً:
«﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾
(سورۃ النساء: 103)
ترجمہ: "بے شک نماز اہلِ ایمان پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔"»

اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«﴿إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا﴾
(سورۃ النبأ: 17)
ترجمہ: "بے شک فیصلے کا دن ایک مقررہ وقت ہے۔"»

اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
«﴿وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا﴾
(سورۃ الأعراف: 143)
ترجمہ: "اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت اور مقام پر آئے۔"»

شریعت میں میقات سے مراد وہ مخصوص اوقات یا مقامات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خصوصاً حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے مقرر فرمایا ہے۔
میقات دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ اب بندہ عام زندگی سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کی طرف جا رہا ہے، لہٰذا اسے احرام باندھ کر عاجزی، خشوع اور اطاعت کی کیفیت اختیار کرنی چاہیے۔

میقات کی دو اقسام

1- میقاتِ زمانی
وہ مہینے جن میں حج کا احرام باندھا جا سکتا ہے، یعنی:
- شوال
- ذوالقعدہ
- ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن

2- میقاتِ مکانی
وہ مخصوص مقامات جہاں سے گزرنے والے ہر بیرونی زائر کے لیے، اگر وہ حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو، احرام باندھنا واجب ہے۔

میقات کا تعین
میقاتوں کا تعین توقیفی ہے، یعنی یہ رسول اللہ ﷺ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
- اہلِ مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ
- اہلِ شام کے لیے جحفہ
- اہلِ نجد کے لیے قرن المنازل
- اہلِ یمن کے لیے یلملم
کو میقات مقرر فرمایا، اور ارشاد فرمایا:
«"یہ میقات ان علاقوں کے رہنے والوں کے لیے بھی ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو وہاں سے گزریں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اور جو ان حدود کے اندر رہتے ہیں وہ اپنے اپنے مقام سے احرام باندھیں۔"»
(صحیح البخاری: 1526، صحیح مسلم: 1181)

بعد میں جب عراق فتح ہوا تو حضرت عمر بن خطابؓ نے اہلِ عراق کی سہولت کے لیے ذاتِ عِرق کو ان کا میقات مقرر فرمایا۔
(صحیح البخاری: 1531)

پانچ مشہور میقات

1۔ ذوالحلیفہ (مسجد الشجرہ / ابیار علی)
- سمت: شمال
- مکہ سے فاصلہ: تقریباً 410–450 کلومیٹر
- اہلِ مدینہ اور شمالی علاقوں کے لیے۔

2۔ الجحفہ (آج کل رابغ کے قریب)
- سمت: شمال مغرب
- فاصلہ: تقریباً 180–190 کلومیٹر
- اہلِ شام، مصر اور شمالی افریقہ کے لیے۔

3۔ قرن المنازل (السيل الكبير)
- سمت: مشرق
- فاصلہ: تقریباً 80–90 کلومیٹر
- اہلِ نجد، خلیجی ممالک، پاکستان اور ہندوستان سے آنے والوں کے لیے۔

4۔ یلملم (السعدیہ)
- سمت: جنوب
- فاصلہ: تقریباً 100 کلومیٹر
- اہلِ یمن، انڈونیشیا، ملائیشیا اور جنوبی افریقہ کے لیے۔

5۔ ذاتِ عِرق (الضريبہ)
- سمت: شمال مشرق
- فاصلہ: تقریباً 90 کلومیٹر
- اہلِ عراق، ایران اور وسطی ایشیا کے لیے۔

چند اہم مسائل

▪︎ جو شخص حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے میقات سے بغیر احرام آگے بڑھنا جائز نہیں۔
¤ مکہ کے رہنے والے حج کے لیے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔
☆ البتہ مکہ میں موجود شخص اگر عمرہ کرنا چاہے تو اسے حدودِ حرم سے باہر (حل) جانا ہوگا، جس کے لیے سب سے مشہور مقام تنعیم (مسجدِ عائشہؓ) ہے، جہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا جاتا ہے۔

میقات اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ وہ مبارک حد ہے جہاں سے بندہ دنیاوی مشاغل کو پیچھے چھوڑ کر احرام کی پاکیزہ حالت میں اپنے رب کے گھر کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔ یہی میقات مسلمانوں کو اللہ کی عظمت، حرم کی حرمت اور عبادت کے ادب و احترام کا عملی درس دیتی ہے۔

بصد شکریہ
محترم المقام الشیخ عبد الصبور مدینہ کی پوسٹ۔

Address

H-9/3 Islamabad
Islamabad
44100

Telephone

+923335143155

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Masjid Imam Nasai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share