12/07/2026
احرام باندھنے کے مقامات، جہاں سے بغیر احرام باندھے گذرنا جائز نہیں۔
حج اور عمرہ کے مقدس سفر پر جانے والوں کے لیئے راہنما تحریر۔
محترم المقام جناب الشیخ عبد الصبور، مدینہ۔
میقات: لغوی، شرعی مفہوم اور اسلامی اہمیت
میقات عربی زبان کا ایک جامع اور اہم شرعی لفظ ہے، جو اپنے اندر وقت، مقام اور حدود کے معنی سموئے ہوئے ہے۔ یہ لفظ (و، ق، ت) سے نکلا ہے اور اسمِ ظرف ہے، جو مِفعال کے وزن پر آتا ہے۔ اصل لفظ مِوْقَات تھا، لیکن قواعدِ صرف کے مطابق واو، ماقبل کے کسرہ کی وجہ سے یاء سے بدل گئی اور میقات بن گیا۔
لغت میں میقات کے معنی ہیں: مقرر وقت، مقرر جگہ یا متعین حد؛ یعنی وہ وقت یا مقام جسے کسی خاص مقصد کے لیے مقرر کر دیا گیا ہو۔
قرآن کریم میں یہ لفظ مختلف مقامات پر وقت اور مقررہ حدود کے معنی میں استعمال ہوا ہے، مثلاً:
«﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا﴾
(سورۃ النساء: 103)
ترجمہ: "بے شک نماز اہلِ ایمان پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔"»
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«﴿إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا﴾
(سورۃ النبأ: 17)
ترجمہ: "بے شک فیصلے کا دن ایک مقررہ وقت ہے۔"»
اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
«﴿وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا﴾
(سورۃ الأعراف: 143)
ترجمہ: "اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت اور مقام پر آئے۔"»
شریعت میں میقات سے مراد وہ مخصوص اوقات یا مقامات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خصوصاً حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے مقرر فرمایا ہے۔
میقات دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ اب بندہ عام زندگی سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کی طرف جا رہا ہے، لہٰذا اسے احرام باندھ کر عاجزی، خشوع اور اطاعت کی کیفیت اختیار کرنی چاہیے۔
میقات کی دو اقسام
1- میقاتِ زمانی
وہ مہینے جن میں حج کا احرام باندھا جا سکتا ہے، یعنی:
- شوال
- ذوالقعدہ
- ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن
2- میقاتِ مکانی
وہ مخصوص مقامات جہاں سے گزرنے والے ہر بیرونی زائر کے لیے، اگر وہ حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو، احرام باندھنا واجب ہے۔
میقات کا تعین
میقاتوں کا تعین توقیفی ہے، یعنی یہ رسول اللہ ﷺ کی مقرر کردہ حدود ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
- اہلِ مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ
- اہلِ شام کے لیے جحفہ
- اہلِ نجد کے لیے قرن المنازل
- اہلِ یمن کے لیے یلملم
کو میقات مقرر فرمایا، اور ارشاد فرمایا:
«"یہ میقات ان علاقوں کے رہنے والوں کے لیے بھی ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو وہاں سے گزریں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اور جو ان حدود کے اندر رہتے ہیں وہ اپنے اپنے مقام سے احرام باندھیں۔"»
(صحیح البخاری: 1526، صحیح مسلم: 1181)
بعد میں جب عراق فتح ہوا تو حضرت عمر بن خطابؓ نے اہلِ عراق کی سہولت کے لیے ذاتِ عِرق کو ان کا میقات مقرر فرمایا۔
(صحیح البخاری: 1531)
پانچ مشہور میقات
1۔ ذوالحلیفہ (مسجد الشجرہ / ابیار علی)
- سمت: شمال
- مکہ سے فاصلہ: تقریباً 410–450 کلومیٹر
- اہلِ مدینہ اور شمالی علاقوں کے لیے۔
2۔ الجحفہ (آج کل رابغ کے قریب)
- سمت: شمال مغرب
- فاصلہ: تقریباً 180–190 کلومیٹر
- اہلِ شام، مصر اور شمالی افریقہ کے لیے۔
3۔ قرن المنازل (السيل الكبير)
- سمت: مشرق
- فاصلہ: تقریباً 80–90 کلومیٹر
- اہلِ نجد، خلیجی ممالک، پاکستان اور ہندوستان سے آنے والوں کے لیے۔
4۔ یلملم (السعدیہ)
- سمت: جنوب
- فاصلہ: تقریباً 100 کلومیٹر
- اہلِ یمن، انڈونیشیا، ملائیشیا اور جنوبی افریقہ کے لیے۔
5۔ ذاتِ عِرق (الضريبہ)
- سمت: شمال مشرق
- فاصلہ: تقریباً 90 کلومیٹر
- اہلِ عراق، ایران اور وسطی ایشیا کے لیے۔
چند اہم مسائل
▪︎ جو شخص حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے میقات سے بغیر احرام آگے بڑھنا جائز نہیں۔
¤ مکہ کے رہنے والے حج کے لیے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔
☆ البتہ مکہ میں موجود شخص اگر عمرہ کرنا چاہے تو اسے حدودِ حرم سے باہر (حل) جانا ہوگا، جس کے لیے سب سے مشہور مقام تنعیم (مسجدِ عائشہؓ) ہے، جہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا جاتا ہے۔
میقات اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ وہ مبارک حد ہے جہاں سے بندہ دنیاوی مشاغل کو پیچھے چھوڑ کر احرام کی پاکیزہ حالت میں اپنے رب کے گھر کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔ یہی میقات مسلمانوں کو اللہ کی عظمت، حرم کی حرمت اور عبادت کے ادب و احترام کا عملی درس دیتی ہے۔
بصد شکریہ
محترم المقام الشیخ عبد الصبور مدینہ کی پوسٹ۔