LET,s read Quran online

LET,s read Quran online hard working and trust

21/09/2024

اجتماعی شادی پروگرام میں درخواست جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اگر غربت کی وجہ سے کسی کی بہن بیٹی کی شادی نہیں ہو رہی تو ان کو اجتماعی شادی کے بارے میں بتائیں اور انہیں کہیں کہ درخواست جمع کروائیں۔ جلد از جلد درخواست جمع کروائیں ۔
برائے رابطہ....
03008608974

17/08/2023
01/04/2023

50 Likes, 2 Comments - ‎جائزة التحبير للقرآن الكريم () on Instagram‎‎: "مشاركة (ذوھیب علیم) بفئة الترتيل في �..."‎

11/11/2022

I have come to thank my captors"*
I have never seen this strange scene in my life when a prisoner is thanking his master.
This hijab woman is British journalist Mary Ivan Radley.
who came to cover in war-torn Afghanistan in 2001 and was arrested by the Afghan Taliban. After her arrest, Maryam understood what these "war lords fighters" would do with her.
He remembered all the stories his friends used to tell about the Afghan Taliban.
All those terrible stories were reawakened in his hearing, in which perhaps he too had to play a role.
She was starting to feel the warmth of many lustful eyes on her body.
She was imprisoned by the warriors and was waiting for the time to come.
This waiting was more painful than the painful moments, she screamed and shouted, after which the Taliban came to her in such a way that their eyes were fixed on the ground and they did not look at her. .
He was surprised how these warriors have a beautiful young woman in their reach and they are not even looking at her.
She knew that she had been away from her women for months but still kept a distance from her.
What is the reason for it?
And then he realized that these people whom the world calls religious fanatics. Here, according to them, there is a non-mahram woman. Their religion forbids them from touching her.
And then the prison remained as safe as in the four walls of his house.
And after some time he was released.
She reached Britain from there but left her heart there.
She was curious about Islam.
She started studying Islam.
He started looking through the books. Started testing.
And finally Mary Ivan Radley became a Muslim.
In the photo released today, this is the same Maryam Ivan Radley who came to Afghanistan today to thank the kidnappers in 2001.
Maryam Ivan Ridley said in her speech that "I came to Afghanistan in 2001 and after being arrested by the Taliban, I studied Islam with a cold heart and mind and finally accepted Islam. She said that the purpose of my coming to Afghanistan was to help the Afghans." Thank you for the great favor that has been bestowed upon him since 2001

11/11/2022

میں اپنے گرفتار کرنے والوں کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں‘‘*
یہ عجیب منظر میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا جب ایک قیدی اپنے صیاد کا شکریہ ادا کر رہا ہو ۔۔۔۔۔
یہ باحجاب خاتون برطانوی صحافی مریم ایوان ریڈلی ہیں ۔۔۔۔۔
جو 2001 میں جنگ زدہ افغانستان میں کوریج کرنے آئیں اور افغان طالبان کے ہاتھوں گرفتار ہوگئیں۔۔۔۔اپنی گرفتاری کے بعد مریم سمجھ چکی تھی کہ اب اسکے ساتھ یہ "وار لارڈز جنگجو" کیا کریں گے۔۔۔۔
اسے وہ سارے قصے یاد آنے لگے جو اس کے دوست افغان طالبان کے بارے میں سناتے رہتے تھے۔۔۔۔
وہ ساری خوفناک کہانیاں اسکی سماعتوں میں پھر سے جاگ اٹھی تھیں جس کا شائد اسے بھی اک کردار ہوجانا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے جسم پر ابھی سے بہت سی ہوسناک نظروں کی تپش محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔
وہ جنگجوؤں کی قید میں تھی اور آنے والے وقت کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
یہ انتظار اس کرب ناک لمحوں سے زیادہ تکلیف دہ تھا وہ چیخ اٹھی اور چلاتی رہی جس پر کچھ دیر میں طالبان اسکے پاس اس طرح سے آئے کہ ان کی نظریں زمین میں گڑی ہوئی تھیں وہ اسکی جانب نظر اٹھا کر نہیں دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
اسے حیرت ہوئی کہ یہ کیسے جنگجو ہیں ایک خوبصورت جوان عورت ان کی دسترس میں ہے اور وہ اسے دیکھ بھی نہیں رہے۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ یہ مہینوں اپنی عورتوں سے دور رہے ہیں لیکن اسکے باوجود اس سے فاصلہ رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔
آخر اسکی وجہ کیا ہے۔۔۔۔۔؟
اور پھر اسے معلوم ہوا کہ یہ لوگ جنہیں دنیا مذہبی جنون کہتی ہے۔۔۔۔۔ یہاں ان کے نزدیک ایک غیر محرم عورت ہے ان کے مذہب نے اسے ہاتھ کیا لگانا نظر ڈالنے سے بھی منع کیا ہے۔۔۔۔
اور پھر قید ایسی محفوظ رہی جیسے اپنے گھر کی چار دیواری میں۔۔۔۔
اور کچھ عرصے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔۔۔۔
وہ وہاں سے برطانیہ پہنچ گئی لیکن اپنا دل وہیں چھوڑ آئی۔۔۔۔۔۔
وہ اسلام کے لئے متجسس ہوچکی تھی۔۔۔۔
وہ اسلام کا مطالعہ کرنے لگی۔۔۔۔
کتابیں کھنگالنے لگی کھوجنے۔۔۔ پرکھنے لگی۔۔۔۔
اور بلاخر مریم ایوان ریڈلی مسلمان ہو گئیں۔۔۔۔
آج جاری کی گئی تصویر میں یہ وہی مریم ایوان ریڈلی ہیں جو 2001 میں اغواء کرنے والوں کا آج شکریہ ادا کرنے افغانستان آئی اسکی آج وزیر تعلیم مولوی نور اللہ منیر سے ملاقات ہوئی
مریم ایوان ریڈلے نے اپنی گفتگو میں کہا کہ "2001 میں افغانستان آئی اور یہاں طالبان کے ہاتھوں گرفتار ہوئی رہائی کے بعد میں نے ٹھنڈے دل ودماغ سے اسلام کا مطالعہ کیا اور بالآخر اسلام قبول کرلیا۔ انہوں نے کہا میرے افغانستان آنے کا مقصد افغانوں کے عظیم احسان کا شکریہ ادا کرنا ہے جو2001 کے بعد انہیں کی بدولت انہیں نصیب ہوا۔

*’’میں اپنے گرفتار کرنے والوں کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں‘‘*یہ عجیب منظر میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا جب ایک قیدی...
11/11/2022

*’’میں اپنے گرفتار کرنے والوں کا شکریہ ادا کرنے آئی ہوں‘‘*
یہ عجیب منظر میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا جب ایک قیدی اپنے صیاد کا شکریہ ادا کر رہا ہو ۔۔۔۔۔
یہ باحجاب خاتون برطانوی صحافی مریم ایوان ریڈلی ہیں ۔۔۔۔۔
جو 2001 میں جنگ زدہ افغانستان میں کوریج کرنے آئیں اور افغان طالبان کے ہاتھوں گرفتار ہوگئیں۔۔۔۔اپنی گرفتاری کے بعد مریم سمجھ چکی تھی کہ اب اسکے ساتھ یہ "وار لارڈز جنگجو" کیا کریں گے۔۔۔۔
اسے وہ سارے قصے یاد آنے لگے جو اس کے دوست افغان طالبان کے بارے میں سناتے رہتے تھے۔۔۔۔
وہ ساری خوفناک کہانیاں اسکی سماعتوں میں پھر سے جاگ اٹھی تھیں جس کا شائد اسے بھی اک کردار ہوجانا تھا۔۔۔۔
وہ اپنے جسم پر ابھی سے بہت سی ہوسناک نظروں کی تپش محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔۔۔
وہ جنگجوؤں کی قید میں تھی اور آنے والے وقت کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
یہ انتظار اس کرب ناک لمحوں سے زیادہ تکلیف دہ تھا وہ چیخ اٹھی اور چلاتی رہی جس پر کچھ دیر میں طالبان اسکے پاس اس طرح سے آئے کہ ان کی نظریں زمین میں گڑی ہوئی تھیں وہ اسکی جانب نظر اٹھا کر نہیں دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
اسے حیرت ہوئی کہ یہ کیسے جنگجو ہیں ایک خوبصورت جوان عورت ان کی دسترس میں ہے اور وہ اسے دیکھ بھی نہیں رہے۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ یہ مہینوں اپنی عورتوں سے دور رہے ہیں لیکن اسکے باوجود اس سے فاصلہ رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔
آخر اسکی وجہ کیا ہے۔۔۔۔۔؟
اور پھر اسے معلوم ہوا کہ یہ لوگ جنہیں دنیا مذہبی جنون کہتی ہے۔۔۔۔۔ یہاں ان کے نزدیک ایک غیر محرم عورت ہے ان کے مذہب نے اسے ہاتھ کیا لگانا نظر ڈالنے سے بھی منع کیا ہے۔۔۔۔
اور پھر قید ایسی محفوظ رہی جیسے اپنے گھر کی چار دیواری میں۔۔۔۔
اور کچھ عرصے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔۔۔۔
وہ وہاں سے برطانیہ پہنچ گئی لیکن اپنا دل وہیں چھوڑ آئی۔۔۔۔۔۔
وہ اسلام کے لئے متجسس ہوچکی تھی۔۔۔۔
وہ اسلام کا مطالعہ کرنے لگی۔۔۔۔
کتابیں کھنگالنے لگی کھوجنے۔۔۔ پرکھنے لگی۔۔۔۔
اور بلاخر مریم ایوان ریڈلی مسلمان ہو گئیں۔۔۔۔
آج جاری کی گئی تصویر میں یہ وہی مریم ایوان ریڈلی ہیں جو 2001 میں اغواء کرنے والوں کا آج شکریہ ادا کرنے افغانستان آئی اسکی آج وزیر تعلیم مولوی نور اللہ منیر سے ملاقات ہوئی
مریم ایوان ریڈلے نے اپنی گفتگو میں کہا کہ "2001 میں افغانستان آئی اور یہاں طالبان کے ہاتھوں گرفتار ہوئی رہائی کے بعد میں نے ٹھنڈے دل ودماغ سے اسلام کا مطالعہ کیا اور بالآخر اسلام قبول کرلیا۔ انہوں نے کہا میرے افغانستان آنے کا مقصد افغانوں کے عظیم احسان کا شکریہ ادا کرنا ہے جو2001 کے بعد انہیں کی بدولت انہیں نصیب ہوا۔

03/10/2022
27/03/2022

Pleas think about this

Address

E. 11/3
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LET,s read Quran online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share